آخرت کی طلب ، حج مبرور کی علامت

ابوعکاشہ نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏اکتوبر، 19, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    آخرت کی طلب ، حج مبرور کی علامت
    شیخ منیرقمر(الخبر)
    نبی اکرم ﷺ نے حج کو افضل ترین اعمال میں سے ایک شمارفرمایا ہے چنانچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا"الإيمان بالله ورسوله" قيل: ثم ماذا؟ قال:"الجهاد في سبيل الله" قيل: ثم ماذا؟ قال:"حج مبرور" متفق عليه'' سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟''آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' اللہ اور اس کے رسول ﷺ پرایمان لانا '' کہاگیا اس کے بعد ؟''تو ارشاد ہوا '' اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ''پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد؟تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ''حج مقبول''حج وعمرہ سے حاصل ہونے والی سعادتوں ، کامرانیوں اور فضائل وبرکات کا یہ عالم ہے کہ تمام گناہوں کے کفارے کے ساتھ ساتھ جنت کی خوشخبریاں بھی کانوں میں رس گھولتی ، دلوں میں ایمان جگاتی اور روح کو بالیدگی و تازگی بخشتی ہیں چنانچہ صحیح بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں نبی آخر الزماں ﷺ کا ارشاد گرامی ہے''العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة" '' ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے تمام گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے ''
    علمائے کرام نے ''حج مبرور'' کی شرح بیان کرتے ہوئے متعدد آراء کا اظہار کیا ہے چنانچہ شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی '' القری قاصدام القری'' کے حوالے سے لکھتے ہیں :
    1-بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ حج ہے جس کے دوران کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیاگیا ہوـ
    2- بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ حج ہے جو کہ عنداللہ مقبول ہو جائے ـ
    3-بعض کا کہنا ہے کہ اس مراد وہ حج ہے جس میں ریاکاری و شہرت ، فحاشی اورلڑائی ، جھگڑا نہ کیا گیا ہوـ
    4-کچھ اہل عل کا کہنا ہے کہ حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ اس سے آدمی پہلے کی بہ نسبت بہتر ہوکر لوٹے اور گناہ کی کوشش نہ کرے ـ
    5-حسن بصری فرماتے ہیں کہ ایسا حج جس کے بعد انسان دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا طلبگار بن جائے ـ
    حقیقت تو یہ ہے کہ حج کے مفہوم مں یہ سبھی امور شامل ہیں
    یہاں چند ایسے اہم امور کی طرف نشاندہی کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جن کو حجاج بیت اللہ کو یہ صرف حج سے قبل بلکہ حج کے بعد بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ حج کے مقبول و مبرور ہونے میں ان امور کا گہرا دخل ہے اور وہ درج ذیل ہیں ـ
    شکر::
    اس عظیم عبادت حج وعمرہ کی توفیقِ ادائیگی پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکرا ادا کریں کم ہے ـ شکر ادا کرنے والوں کو اللہ اور زیادہ دیتا ہے چنانچہ سورہ ابراھیم کی آیت 7 میں ارشادِ الہی ہےلَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ''اگر تم شکرگزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں اور زیادہ دونگا'' آئندہ سال دوبارہ حج کرنے کی نیت اور عزم کریں ، اگر حج نہ بھی کرسکیں تو کم ازکم نیت کے ثواب سے محروم نہ ہوں ـ

    تقوی::
    ہرحاجی کو چاہیے کہ اللہ سے ڈرتا رہے ، تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرے اور مقدور بھر کو کرے کہ جس طرح پورے سفر حج اور ادائے مناسک کے دوران اور حج کے بعد بھی کئی ایسے کام کا ارتکاب نہ کرنے پائے جسے عام حالات میں بالعموم بحالتِ احرام بالخصوص اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ممنوع قراردیا ہے ـ مثلا: بیہودہ اور شہوانی افعال ، لڑائی ، جھگڑ اور دیگرفسق و فجور کیونکہ سورہ بقرہ آیت 197 میں ارشاد الہی ہےالْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (197) '' حج کے مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے تو شہوت کی باتیں ، گناہ اور جھگڑا نہ کرے جو نیک کام تم کرو اللہ کو معلوم ہو جائے گا '' ایسے ہی صحیح بخاری و مسلم میں بھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے "من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه" جس نے حج کیا اور اس دوران اس سے کوئی شہوانی امر اور گناہ کا کام سرزد نہ ہو تو وہ شخص گناہوں سے ایسے پاک ہو کر لوٹا کہ گویا آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے '' ارشاد نبوی ﷺ سے بھی معلوم ہوا کہ دوران حج ان افعال کا ارتکاب کرنا نہ صرف منع ہے بلکہ کفارہ ذنوب و سیئات کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بھی ہے ـ حج کے مقبول و مبرور ہونے میں ایک مانع کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر حج کرلینے بعد حاجی ان امور کا ارتکاب کرنے لگے تو اسکا معنی یہ ہوگا کہ اس کا حج مقبول و مبرور نہیں ہوا ـ

    توبہ ::
    ہر حاجی کو چاہیے کہ جس طرح سفر پرروانگی سے قبل اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے سابقہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگے اور خلوصِ نیت کے ساتھ توبہ کرلے کیونکہ سورہ نور میں آیت 31 میں ارشاد الہی ہےوَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ '' ائے ایمان والو! تم سب اللہ کی طرف تائب ہو جاؤ تاکہ تم فلاح پاؤ''اسی طرح ادائے حج و عمرہ کے بعد بھی اپنی توبہ پر قائم رہے کیونکہ حج کے قبول ہونے کی علامات میں سے ہے کہ واپسی کے بعد نیک کاموں کی پابندی اختیار کرے اور محرمات سے پرہیز کرے ـ

    یاد رہے کہ پرخلوص توبہ وہی ہوتی ہے جس میں گناہوں سے کلی و فوری اجتناب کیا جائے ، آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہدِ مصمم اور عزم جازم و پختہ ارادہ کیاجائے اور سابقہ گناہوں پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کیا جائے ـ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ والندم توبة '' ندامت توبہ ہے ''(ابن ماجہ) اگر توبہ کرلینے کےبعد اپنے آپ کو ان امور پر سختی سے پابند پائے تو سمجھ لے کہ اس کی توبہ اور حج وعمرہ کو اللہ کی ذاتِ غفاری نے قبول کرلیا ہے اور اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کردئیے ہیں ـ اس بات کی گواہی سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے '' گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو''
    حقوق وامانات کی ادائیگی::
    جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہرعازم حج اللہ کے گھر کی طرف روانگی سے پہلے دوسرے لوگوں کے حقوق اور امانتیں ادا کردے ـ کسی پر کوئی ظلم و زیادتی کی ہو تو اس سے معافی مانگے ـ کسی سے کوئی قرضہ لیا ہوا ہو اور تاحال واجب الادا ہو تو وہ دے کر جائے یا کم ازکم لکھ کر یا ویسے ہی اپنے گھروالوں کو اچھی طرح سجھا دے کہ فلاں شخص کی فلاں چیز میرے پاس امانت ہے یا اس کا میں نے اتنا قرضہ لیا ہے تاکہ بوقت ضرورت و مہلت وہ ادا کرسکیں ـ اس سلسلے میں سورہ نساء آیت 58 میں اشادِ الہی ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا'' اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو واپس لٹادو '' اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ حج و عمرہ کی ادائیگی سے فراغت کے بعد اپنی آئندہ زندگی میں یہ عہد کئے رہے کہ وہ کسی کمزور و زیردست پر کبھی ظلم وزیادتی نہیں کرے گا کیونکہ قرآن و سنت کی بکثرت نصوص کی بناء پرظلم و زیادتی اور جبرو و استبداد ہمیشہ ہی منع ہے ـ نہ کسی مزدور و ملازم کی حق تلفی کرے گا کیونکہ یہ بھی ظلم ہی کی ایک شکل ہے اور اگر اسکے پاس کسی نے کوئی امانت رکھی تو اس کی حفاظت کرے گا اسے ہضم نہیں کرجائے گا کیونکہ امانت میں خیانت کرنا کسی مسلمان و مومن کا شیوہ ہرگزنہیں ہوسکتابلکہ یہ تو ایک صحیح حدیث کی رو سے منافق کی نشانی ہے جیساکہ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ '' منافق کی تین علامتیں ہیں ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اسکے پاس امانت رکھی جائے تو امانت میں خیانت کرے '' اور ایک روایت میں ہے کہ '' جب جھگڑے تو گالی گلوچ بکے ''

    خلوص و للّٰہیت ::
    جس طرح سفرِ حج پر روانگی کے وقت حاجی کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہے کہ وہ اپنے اندر خلوص و للّٰہیت پیدا کرے ویسے ہی اسے حج کےبعدبھی اپنا شعار بنائے رکھنا چاہیے کیونکہ تمام اعمال میں ہی اخلاص و قبولیت عمل کی بنیادی شرط ہے ـ خصوصا حج و عمرہ کے اس جلیل القدر عمل کو ریاکاری ، شہرت اور فخرو مباہات کا ذریعہ مرکز نہیں بنانا چاہیے جیساکہ بعض لوگ یہ غلط روش اختیار کرتے ہیں کہ گھروں کو جھنڈوں سے سجایا جاتا ہے ، دروازوں پر محرابیں بنائی جاتی ہیں ـ انہیں رنگ و روغن کیا جاتا ہے اور دروازے پر ''حج مبارک '' اور تاریخ وغیرہ لکھ دی جاتی ہے ـ یہ سب نمودونمائش ، ریا ، دکھاو اور فخرومباہات نہیں تو اور کیا ہے ـ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کے متعدد مقامات پر ایسے افعال سے روکا اور اخلاص کی تعلیم دی ہے ـ ارشادِ الہی ہےوَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ '' لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بندگی کریں ـ اطاعت کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے ''(البینہ ، 5)

    خلوص فی العمل کی برکات نہ صرف آخرت بلکہ اس کے ثمرات تو انسان دنیا میں ہی دیکھ لیتا ہے ـ صحیح بخاری ومسلم میں ان تین آدمیوں کا واقعہ مذکور ہے جو ایک پہاڑی غار میں بند ہوگئے اور انہوں نے خالص اللہ کے لئے سرانجام دئیے گئے اپنے عمل کو یاد کرکے اللہ سے دعا مانگی تھی تو غار کے منہ سے چٹان سرک گی اور انہیں اس جگہ سے نجات مل گئی تھی جبکہ ریاکاری حج میں ہو یا کسی بھی عمل میں اسے تو نبی ﷺ نے شرک خفی اور دجال کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا ہے (ابن ماجہ) ـ ایک حدیث میں اسے شرک اصغر قرار دیا گیا ہے (مسنداحمد) صحیح مسلم ، ترمذی اور نسائی میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے میدانِ حشر میں شہید ، عالم وقاری اور سختی کو لایا جائے گا اور انکی ریاکاری کی وجہ سے انہیں منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ـ (مسلم ، ترمذی )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • اعلی اعلی x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    للرفع . .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    743
    آج اس مضمون کی ضرورت پڑی تو یہ مضمون مجھے ملا، بہترین معلومات ہیں ، جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    وایاک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں