سعودی داعی کی محنت سے افریقی قبیلے میں جاری جاہلانہ رسم کا خاتمہ

dani نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏نومبر 7, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    سعودی عالم دین کی تبلیغ سے افریقی قبیلے میں صدیوں سے رائج ایک جاہلانہ رسم کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
    امت کی رپورٹ کے مطابق تنزانیہ میں بسنے والے ایک بت پرست قبیلے میں صدیوں سے رواج چلا آ رہا تھا کہ جب تک کوئی نوجوان شیر کا شکار نہیں کرتا اسے شادی کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے نوجوان زندگی بھر رشتے سے محروم ہو کر کنوارے مر جاتے ہیں۔ بہت سوں نے لوگوں کے طعنے سن کر خودکشی بھی کر لی۔
    سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین کل توکل حسین ان دنوں ایک تبلیغی پروگرام کے تحت تنزانیہ میں تبلیغ کیلئے موجودہیں۔ انہوں نے یہاں پر محنت جاری رکھی اور قبیلے کے لوگوں کواس رسم کو چھوڑنے پر آمادہ کر لیا۔ ان کی باتوں سے متاثر ہو کر درجنوں قبائلی اسلام بھی لا چکے ہیں انہوں نے توکل حسین کو اس شرط کے بغیر پہلا داماد بنانے کا اعزاز بھی دیا ہے۔

    سعودی مبلغ نے افریقی قبیلے کے نوجوانوں کی شادی آسان بنادی شادی کیلئے شیر کے شکار کی شرط ختم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں