دینی رہنماوں سے چند سوالات (جمہوریت کے متعلق)

طالب علم نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏نومبر 9, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    دینی رہنماوں سے چند سوالات

    1۔ کیا شرعی نقطہء نظر سے کرسی کی آرزو کرنا، پھر اس کے لئے درخواست دینا اور اپنی کامیابی کے لئے کنویسنگ ، لمبے چوڑے اخراجات اور دوسرے جائزو ناجائز ذرائع استعمال کرنا جائز ہے؟

    2۔کیا اسلام میں سیاسی پارٹیوں بالخصوص حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی گنجائش ہے جبکہ مغربی جمہوری نظام کی گاڑی ان کے بغیرچل ہی نہیں سکتی۔

    3۔نیز کیا یہ سیاسی پارٹیاں اسی تفرقہ بازی کی تعریف میں نہیں آتیں، جو علاقائی اور لسانی تعصبات کی بنیاد پر قائم ہوتی یں اور جن سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور اس کام کو کفر و شرک تک کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے؟

    4۔ کیا ایک فاسق اور بے دین آدمی ایک اسلامی ریاست کے کسی منصب کے انتخاب میں ووٹ دے سکتا ہے؟ نیز کیا وہ خود اس انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے

    5۔کیا ایک جاہل آدمی اور ایک عالم دین، متقی اور دیندار کے ووٹ کی قیمت برابر ہو سکتی ہے؟

    6۔کیا آپ اپنے ذاتی معاملات میں ہرکس و ناکس سے رائے لیتے یا مشورہ کرتے ہیں؟اگر اس کا جواب نفی میں ہو تو ملکی امور میں یہ کسیے گوارا کر لیا جاتا ہے؟ بالخصوص اس صورت میں‌کہ قرآن کی رو سے بھی اور ہمارے مشاہدہ کی رو سےبھی معاشرہ کی اکثریت جاہل اورفاسق لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

    7۔کیا عورت کو سیاسی سرگرمیوں میں ازروئے شرع حصہ لینے کی اجازت ہے کہ وہ انتخاب لڑ کی اسمبلیوں‌تک بھی پہنچ سکتی ہے بالخصوص ایسے حالات میں جبکہ اختلاط مردوزن پر کوئی پابندی ن ہو؟ بکہ اسے ناروا اور عورت کا حق چھیننے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہو اور اس اختلاط اور فحاشی کی ہر سطح پر سرپرستی کی جارہی ہو؟

    8۔ کیا قران اول میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ عورتیں کسی قابل ذکر منصب پر فائز رہی ہوں؟

    9۔ کیا اسمبلیوں میں غیرمسلموں کی شمولیت ازروئے اسلام برداشت کی جاسکتی ہے؟

    10۔موجودہ جمہوری نظام میں صدراور وزیراعظم کے اختیارات میں جو کمی بیشی اور تصادم ہوتا رہتا ہے اس کی مثال خلافت راشدہ کے دور میں‌ملتی ہے؟ بالفاظ دیگر اس دور میں امیر کے علاوہ کسی اور منصب کا بھی کبھی انتخاب ہوا ہے؟

    11۔ کیااکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ضروری ہے؟ اگر یہ ضروری ہے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کرنے کا اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے سریہ اسامہ کی روانگی اور مانعین زکوٰۃ سے جنگ کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا تھا۔ جبکہ شوریٰ میں سے کوئی بھی ان کا حامی نہ تھا؟

    12۔ بعض جمہوریت پسند اسمبلی کو شوریٰ کا نعم البدل قرار دیتے ہیں جبکہ شوریٰ میں غیرمسلموں اور عورتیوں کی شمولیت کے علاوہ ان ہر دو کے ممبران کی اہلیت، طریق مشورہ اور طریق فیصلہ میں فرق اور تضاد ہے۔ ان تمام امور کی موجودگی میں کیا ہم پارلیمینٹ کو شوریٰ کا متبادل یا نعم البدل قرار دے سکتے ہیں؟

    13۔ جمہوری نظام کا ڈھانچہ ہی ایساہے جو عوام کی حکومت پر منتج ہوتا ہے۔ کیا اس ڈھانچہ کو تبدیل کئے بغیر اللہ کی حاکمیت کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ اور اگر کیا جا سکتا ہے تو کیسے؟

    14۔فرض کیجئے ہماری اسمبلی شریعت بل کو جوں کا توں اور پورے کا پورا منظور کرلیتی یے۔ اس صورت میں بالادستی اسمبلی کی ہوگی یا شریعت کی؟ کیا آپ یہ پسند فرمائیں گے کہ شریعت اسلامیہ اپنے نفاذ کے لئے اسمبلی کی محتاج ہو؟

    15۔ اسلام سےپیشتر دنیا میں جمہوریت کا تجربہ ہو چکاتھا۔ اگر یہ کوئی اچھی چیزتھی تو اسلام نے اس کی سرپرستی کیوں نہیں کی؟ اور عوام کی حکومات کی بجائے اللہ کی حاکمیت پر کیوں زوردیا گیا ہے؟


    حوالہ کتاب: خلافت و جمہوریت
    مصنف: شیخ عبدالرحمٰن کیلانی رحمتہ اللہ علی
    صفحہ نمبر:315۔317
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    شیخ محترم عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ سے ہمارا ایک ہی سوال !!!!!

    کیا قرون اولیٰ سے ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ عوام الناس یا علماء ''دینی رہنماؤں '' سے اس طرح کے سوالات کرتے ہوں؟

    عوام الناس = تابعین
    علماء = صحابہ کرامؓ
    دینی رہنماء= صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین

    خیرالقرونی قرنی ثم الذين يلونهم ...!!
     
  3. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    شیخ عبدالرحمٰن کیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک مضمون سے ہی ان کے ان 'سوالات' اور مذکورہ بالا کتاب کی وجہ تالیف پتا چلتی ہے۔
    ----- یہ اقتباس شیخ عبدالرحمٰن کیلانی کی مذکورہ بالا کتاب میں بھی موجود ہے----

    سببِ تالیف | اگست 1981ء (89۔90) | شمارہ جات



    علاوہ ازیں شیخ عبدالرحمٰن کیلانی کی دوسری کتب جیسا کہ آئینہ پرویزیت میں انکار حدیث کا ذہن رکھنے والوں سے سوالات کئے گئے ہیں اور شریعت و طریقت کے آخر میں بھی موضوع کتاب پر سیر حاصل بحث کرنے کے بعد مشائخ کرام سے پندرہ سوالات کئے گئے ہیں۔
    اسی طرح یہ سوالات ان 'دینی رہنماوں' سے ہیں جو کہ جمہوریت کے کسی نہ کسی پہلو پر اظہار پسندیدگی کرتے رہے تھے یا ہیں۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    آپ کے دوسرے اقتباس میں کی گئی گفتگو الگ بحث ہے ۔ پہلی پوسٹ میں علماء سے سوالات کیے گئے ہیں‌۔ اس لیے اس کتاب کےبعض حصہ متنازعہ ہیں اور جماعت اسلامی کے نظریے سے مستعار لیے گئے ہیں
    شیخ کیلانی کا اصل مقصود یہ تھا ۔
    پاکستان کے وجود پر اعتراض !! ۔جماعت اہل حدیث کے جید علماء کے کرداروں پر بھی شک کرنا چاہے ، کیونکہ ان میں سے بعض اس تحریک میں کسی نہ کسی حوالے سے شامل تھے ۔ پاکستان کے آئین پر جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا جواب مجلس پر موجود ہے، تلاش کر کے پڑھ لیں ۔
     
  5. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    بھائی دوبارہ پڑھیں، یہ شیخ کیلانی مرحوم کے اپنے الفاظ نہیں بلکہ انہوں نے quote کیا ہے البتہ انہوں نے کہنے والے یا والوں کا نام ذکر نہیں کیا۔

    اور کسی کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ:

    اگر یہ طرزِ انتخاب غیر شرعی ہے تو پاکستان کے وجود کے متعلق کیا خیال ہے جو اِسی طرزِ انتخاب کے تحت وجود میں آیا؟ یا ۱۹۷۳؁ء کے آئین کا کیا بنے گا؟



    ---- جاری ہے ۔ ۔ ۔۔۔ ۔
     
  6. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    بھائی شیخ عبدالرحمٰن کیلانی جماعت اسلامی کے نظریہ جموریت اور سیاست کے حق میں نہیں تھے بلکہ انہوں نے کئی جگہوں پر جماعت اسلامی کے موقف کا رد کیا جیسا کہ:

    بنی نوع انسان کے لیے قراآن کریم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بہتر دستورناممکن ہے اور قرآن کریم کی تبلیغ کے لیے جو ان تھک اور جان توڑ کوششیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائیں دوسرا کوئی نہیںکرسکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائیں دوسرا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاں نثار اور مخلص پیروکاروں کی ایک جماعت بھی مہیا ہو گئی جو اسلام کے عملی نفاذ کے لیے صرف تبلیغ و اشاعت اور پروپیگینڈا پر ہی انحصار نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنی پوری پوری زندگیاں اس قالب میںڈھال لی تھیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین کی جماعت گویا قرآنی تعلیمات کے چلتے پھرتے نمونے تھے لیکن تیرہ سال کی انتھک کوششوں کے باوجود یہ تو نہ ہوسکا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اسلامی ریاست قائم کرلیتے۔
    جب ایک بہترین دستور بھی موجود ہو اوراس کو عملا نافذ کرنے والی جماعت بھی مثالی کردار کی مالک ہو۔ وہ تو اس دستور کو کثرت رائے کے ذریعہ نافذ کر سکی تو آج کے دور میں یہ کیونکر ممکن ہے؟
    اسلامی نظام کی ترویج کے لیے اقتدارکی ضرورت سے انکار نہیں۔ لیکن رائے عامہ کوصرف تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنا اور اس طرح اسلامی انقلاب برپا کرنا خیال خام ہے۔ اس کے لیے ہجرت، جہاد اور دوسرے ذریعے ہی اختیار کرنے پڑیں گے جیسا کہ انبیاء اور مجاہدین اسلام کا دستور رہا ہے۔
    جماعت اسلامی پوری نیک نیتی سے اسلامی نظام کی داعی ہے اور جب سے اس جماعت نے عملا سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ہے مندرجہ بالا نظریہ کے مطابق نیک امیدوارکھڑے کرتی رہی ہے۔ لیکن ہر الیکشن میں ہمیشہ پٹتی ہی رہی ہے۔ 1970ء میں جب یحیٰ خان نے انتخابات کرائے اور غالبا پاکستان کی پوری تاریخ میں یہی انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوئے تھے۔۔۔ تو انتخابات سے ایک دو روز قبل تک تمام سیاسی مبصرین اور اخبارات کی یہی رائے تھی کہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کا انتخابی مقابلہ برابر کی چوٹ ہے لیکن جب نتیجہ نکلا تو پیپلزپارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی جب کہ جماعت اسلامی کو صرف چار نشستیںمل سکیں۔
    ایسے مایوس کن نتائج کی وجہ یہی ذہنی مٍغالطہ تھا کہ عوام الناس کو محض وعظ و تبلیغ سے نیک بنایا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی زیادہ سے زیادہ یہ کچھ کر سکتی تھی کہ اسمبلی کی پوری نشستوں کے لیے اتنے ہی بڑے نیک اور صالح نمائندے کھڑے کرے لیکن انھین ووٹ دینا تو عوام کا کام ہے۔ اس مقام پر جماعت کی پوری کارکردگی بے بسی کا شکار ہو جاتی ہے۔
    (بحوالہ خلافت و جمہوریت، صفحہ: 218-219)



    دوسری طرف ہم جماعت اسلامی کے طرز عمل کو دیکھیں توایک وقت تھا کہ جب مولانا مودودی رح جمہوریت کو مکھن سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوریت کی مثال ایسے ہے کہ جیسا دودھ کو بلو کر مکھن نکالا جاتا ہے اگر دودھ زہریلا ہو تو مکھن اس سے بھی زہریلا نکلتا ہے۔ اور مولانا موصوف جمہوریت کے بہت بڑے ناقد تھے۔لیکن وہ آمریت کو اس قدر برا جانتے تھے کہ جب ایوب خان کے مقابلے میں ایک خاتون جن کی دینی حیثیت بس واجبی سی تھی کی حمایت کی ۔ آمریت کو اس قدر برا جانا کہ اس سے کمتر برائی یعنی جمہوریت اور عورت کی حکمرانی کی حمایت کرنے پر مجبور ہو گئے

    ہاں میں‌یہ ضرور مانتا ہوں کہ مولانا کیلانی اپنی کتابوں میں مولانا موودودی کے اقتباسات کو اپنی تائید میں‌لاتے ہیں لیکن وہ ان سے اختلاف بھی کرتے ہیں‌جیسا کہ انہوں‌نے اپنی کتاب آئینہ پرویزیت یا خلافت و جمہوریت میں‌کیا۔

    ---- جاری ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    السلام علیکم !!
    بھائی آپ کا یہ دفاع کرنا وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ، سب کے علم میں ہے کہ شیخ کیلانی کا ''خلافت و جمہوریت'' لکھنے کا مقصد کیا تھا ۔ اگرآپ کے علم میں نہیں‌تو بحث کرنے کی بجائےکسی جید عالم سے سوال کریں ۔ جماعت اسلامی کا منہج بھی یہی تھا ۔ اورآپ کے دئیے ہوئے اقتباس سے واضح ہے ۔
    یعنی وہ مانتے ہیں کہ جماعت اسلامی اسلام نظام کی داعی ہے ، لیکن انہوں نے جو سیاست میں حصہ لیا ، وہ اس کے مخالف ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابتداء میں جماعت اسلامی بھی جمہوریت کی مخالف تھی اوربعد میں اپنے ہی اصولوں سے انحراف کیا ۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جماعت اسلامی کے انہی اصولوں کو بعض اہل حدیث علماء نے لیا اور اس پرکتابیں ہی لکھ ڈالیں-
    ملوکیت ، خلافت یا جمہوریت کوئی بھی نظام مستقل کبھی اسلام کی ضرورت نہیں رہی اور نہ ہی خلافت سے تبدیلی آسکتی ہے اور نہ ہی انبیاء کو خلافت قائم کرنے اور نظام تبدیل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ تبدیلی لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور صراط مستقیم پر لے جانے سے آسکتی ہے ۔ نظام کوئی بھی رہے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ لہذا اس غلط نظریے کی آڑ میں‌ دینی رہنماؤں پر رد کرنا اور ان سے سوالات کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے ۔
     
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    نوٹ: نیچے پیش کردہ اقتباسات برائے بحث نہیں ہیں بلکہ میں مناسب سمجھتا ہوں‌کہ اپنے موقف کی تائید میں چند اقتباسات پیش کردوں۔ ان شاء اللہ جید علماء دین سے ضرور استفسار کروں گا اس موضوع پر۔

    بحوالہ: خلافت و ملوکیت کی شرعی حیثیت، مصنف: حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ، صفحہ: 91

    بحوالہ: خلافت و ملوکیت کی شرعی حیثیت، مصنف: حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ، صفحہ: 536

    بحوالہ کتاب : خلافت و جمہوریت، مصنف: عبدالرحمٰن کیلانی، ٹائیٹل کا بیک پیج

     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    آپ کا موقف کیا ہے ، وضاحت سے لکھیں ؟
    یا
    ہم آپ کا وہی موقف سمجھیں جو کہ شیخ عبدالرحمن کیلانی کا ہے ؟
     
  10. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    بھائی میں ملوکیت یا خلافت کے خلاف نہیں البتہ جمہوریت کے خلاف ضرور ہوں اور اس کی وجہ وہ بیش بہا دلائل ہیں جو کثیر تعداد میں متبع قرآن و سنت علماء نے دئیے ہیں۔ کئی علماء جمہوریت کو کفر کا نظام سمجھتے ہیں اور صرف بامر مجوری الیکشنز میں حصہ لینے کو جائز قرار دیتے ہیں۔

    اس کے علاوہ جمہور کی حکمرانی کا تجربہ قبل از اسلام یونان میں ہو چکا تھا اور یہ ناکام بھی ہوا ۔ اس نظام کی تائید میں ہمیں کتاب و سنت سے کوئی دلیل نہیں ملتی بلکہ اس کے برعکس کافی دلائل ملتے ہیں۔ جب کہ ملوکیت اور خلافت کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔جمہوریت کے خلاف دلائل کو میں محض اس بنیاد پر رد نہٰیں کرنا چاہوں گا کہ قطبی یا تکفیری بھی جمہوریت کے خلاف ہیں۔

    اگر جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جاسکتا ہے تو اسی طرز پر سوشلزم، کمیونزم اور کیپیٹلزم کو بھی مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے۔

    جمہوریت کے مخالف یا موافق علماء کے نام ذکر کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ آپ سے پہلے بھی اس موضوع پر اسی فورم پر بات ہو چکی ہے اور آپ مجھ سے زیادہ ان علماء یا ان کے دلائل سے آگاہ ہوں گے۔

    باقی ان شاء اللہ میں اس معاملے پر مزید علماء کی رائے دریافت کروں گا، ان شاء اللہ


    ----- میری بات تمام ہوئی ۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    کسی چیز کا ناپسندیدہ ہونا الگ معاملہ ہے ، بہت سے علماء کے نزدیک یہ ناپسندیدہ ہے ۔ یہ موقف درست ہے ، اپنے آپ کو متبع سنت کہنے والا ہر عالم متبع نہیں‌ہوتا ،کئی علماء جو جمہوریت کو کفریہ نظام کہتے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو متبع قرآن و سنت ہی کہتے ہیں‌۔ لیکن اس نظریے کو منتشرکرنا یا کسی بھی قسم کی معاونت کرنا فتنہ اور فساد کے زمرے آتا ہے ۔ چاہے یہ قلم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ۔اس کی مثال شیخ کیلانی صاحب ہیں‌۔ حالانکہ موصوف اقامت دین پرجماعت اسلامی سے متفق ہے ، لیکن آپ ان کا قصور نہیں مان رہے بلکہ اپنی موقف کی تائید میں انہی کے دلائل دے رہے ہیں‌، شاید اتنے بڑے نام کے ظواہرپرحکم لگانا مشکل لگ رہا ہے ۔ امید ہے کہ ظاہرپرحکم لگانے کی تعریف آپ کے علم میں آگئی ہوگی ان شاء اللہ ۔
    ملوکیت اور خلافت اسلام میں موجود اور وجود بھی ہے ، میرا صرف اتنا اعتراض ہے کہ کیا کوئی بھی نظام اسلام کی ضرورت رہا ہے یا نہیں‌، یا اس کے نفاذ کے لیے جہدوجہد کرنی چاہے یا نہیں‌، اس کے دلائل ابھی تک نہیں ملے؟؟؟،رہی بات جمہوریت کے رد کی ، اگریہ قطبی اور تکفیری نہ ہوتے یہ کام بھی بہت سے لوگوں نے کرلینا تھا ، لیکن مجبور ہیں اگر علی الاعلان بات کرتے ہیں‌ تومشکوک ہوجاتے ہیں ۔ اللہ ہمیں ثابت قدم رکھے ۔
     
  12. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962
    ان شاء اللہ کچھ عرصہ تک میں اس موضوع پر تفصیلی مواد لے کر حاضر ہوں گا، جن میں کچھ علماء سے استفسار بھی شامل ہو گا۔

    جزاک اللہ!
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    تفصیلی مواد پیش کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کی کوشش کیجئے گا ۔ تاکہ جو چیزآپ اپنے لیے حلال سمجھتے ہیں‌، دوسروں کے لیے حرام نہ سمجھیں‌۔

    اسی طرح اپنے من پسند علماء سے استفسار کرنے کی کوشش کرنا بے کار ہے ، کیونکہ اس طرح کا مواد باقی مذاہب اور شعیہ بھی پیش کرتے ہیں‌۔ ایسی صورت میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں