سیرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ از طالب الہاشمی (1)

عفراء نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏نومبر 10, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    نام و نسب
    نام
    زمانۂ جاہلیت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل نام کیا تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ کسی روایت میں ان کا نام عبدِ شمس (عبد الشمس) آیا ہے، کسی میں عبد ِنہم، کسی میں عبدِ غنم ، کسی میں عبد اللہ اور کسی میں عمیر آیا ہے۔ بعض نے کچھ اور نا م بھی لیے ہیں۔ لیکن قول راجح کے مطابق ان کا خاندانی نام عبد ِ شمس (عبد الشمس) تھا۔ قبول اسلام کے چند سال بعد جب وہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جاہلی نام بدل کر اسلامی نام عبد الرحمٰن رکھا۔ بعض روایتوں میں ان کا اسلامی نام عمیر اور عبد اللہ بھی بتایا گیا ہے ، لیکن انہوں نے اپنی کنیت "ابوہریرہ" سے شہرت پائی اور ان کا اصل نام نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ کنیت " ابوہریرہ " پر سب کا اتفاق ہے۔
    سلسلۂ نسب
    "طبقات ابن سعدؒ " میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
    ابوہریرہ عبدالرحمٰن (عمیر۔عبداللہ) بن عامر بن عبد ذی الشّریٰ بن طریف بن غیاث بن ہنیہ بن سعد بن ثعلبہ بن سلیم بن فہم بن غنم بن دوس۔ (طبقات ابن سعد جز 4 ق 6- ص 52)
    ابن اثیرؒ نے خلیفہ بن خیاط اور ہشام بن کلبی کے حوالے سے ان کا شجرہء نسب یوں بیان کیا ہے:
    عمیر بن عامر بن عبد ذی الشّریٰ بن طریف بن عتاب بن ابو ضعب بن منبہ بن سعد بن ثعلبہ بن سلیم بن فہم بن غنم بن دوس۔ (اُسُدُالغابہ ترجمہ ابوہریرہؓ )
    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض ناموں میں تصحیف ہو گئی ہے۔
    ایک روایت میں ان کے والد کا نام عبدِ عمرو بن عبدِ غنم آیا ہے اور ایک میں صخر ۔ ایک اور روایت میں عبدِ عمرو بن غنم بھی بیان کیا گیا ہے۔ لیکن جمہور ارباب سیر نے عامر بن عبد ذی الشّریٰ کو ترجیح دی ہے۔
    والدہ کا نام امیمہ یا میمونہ بنت صبیح بن حارث تھا۔ طبقات ابن سعدؒ کی ایک روایت کے مطابق خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی والدہ کا نام امیمہ بتایا ہے۔ یہ روایت اس طرح ہے:
    "ایک دفعہ (امیر المؤمنین ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اپنے عہد خلافت میں) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (کسی جگہ کا) امیر بنانا چاہامگر انہوں نے انکار کر دیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ، آپ امارت کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ یوسف علیہ السلام نے جو آپ سے بہتر تھے ، اس کے لیے اپنی خواہش ظاہر کی تھی۔
    یہ سن کر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ، یوسف علیہ السلام نبی ابن نبی تھے اور میں امیمہ کا بیٹا ابو ہریرہ ہوں۔ میں پانچ باتوں کی وجہ سے امیر بننا پسند نہیں کرتا اور عہدہ امارت سے ڈرتا ہوں، وہ پانچ باتیں یہ ہیں:
    1. میں علم کے بغیر کوئی بات نہیں کہنا چاہتا ۔
    2. عقل و دانش کے بغیر فیصلہ صادر نہیں کر سکتا۔
    3. میں ڈرتا ہوں کہ مجھے پیٹا جائے گا۔
    4. مجھے ڈر ہے کہ مجھ سے مال چھینا جائے گا۔
    5. مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھے برا بھلا کہیں گے۔ (طبقات ابن سعد جلد 2 ص 61)
    حافظ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کا انکار اور اس کی توجیہ کو یوں بیان کیا ہے:
    "حضرت یوسف علیہ السلام تو خود نبی تھے اور نبی کے بیٹے تھے۔ میں امیمہ کا بیٹا ابو ہریرہ ہوں ۔ میں یہ عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔ میں دو اور تین سے ڈرتا ہوں۔"
    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
    "دو اور تین کا کیا مطلب ہے پانچ کیوں نہیں کہا؟"
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا :
    دو چیزیں یہ ہیں کہ کہیں لاعلمی اور نا واقفیت کی بنا پر کوئی بات کروں یا بغیر غور و فکر کے کوئی فیصلہ کروں، تین چیزیں یہ ہیں کہ میری پیٹھ پر کوڑے پڑیں، میرا مال ضبط کر لیا جائے یا مجھے رسوا کیا جائے ۔"
    (البدایہ والنّہایہ ج 8 ص 111)
    تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عہد فاروقی میں ک و بیش ایک سال تک بحرین کے امیر (گورنر ) رہے۔ انکار کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو دوبارہ بحرین کی امارت پر فائز کرنا چاہا۔ اس کی تفصیل آئندہ صفحات میں مناسب مقام پر آئے گی۔
    حافظ ابن حجر ؒنے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کا نام میمونہ بتایا ہے (الاصابہ ج 4 ص 414) لیکن جب وہ خود اپنی والدہ کا نام امیمہ بتاتے ہیں تو پھر اسی کو صحیح سمجھنا چاہیے۔


    جاری ہے۔۔۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں