تفسیرقرآن کاتعارف

زبیراحمد نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏نومبر 27, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    قرآن کریم اللہ تعالی کی جانب سے نازل کردہ ہدایت نامہ ہے،جس میں ساری انسانیت کے لیے رہنمائی ہے،جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشادہے:
    إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
    (الحجر:۹)
    حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر(یعنی قرآن)ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ
    (بنی اسرائیل:۹)
    حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راستہ دِکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔

    لہذا جو شخص بھی اس کو اپنائے گا اس کواللہ کی جانب سے صحیح راستہ دکھایا جائے گا اور جو اس سے اعراض کرےگا تو اس کے لیے دنیاوی زندگی بھی تنگ کردی جائیگی اور آخرت میں تو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑےگا۔

    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
    فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَایَضِلُّ وَلَا یَشْقَیo وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی"۔
    (طٰہٰ:۱۲۴،۱۲۳)
    جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ مشکل میں گرفتار ہوگااور جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔

    الغرض رب کائنات کی جانب سے انسان کی رہبری کے لیے قرآن ایک مکمل دستوراور ضابطۂ حیات ہے اور اس کتاب کے بغیر انسانیت نامکمل ہے۔

    تفسیرقرآن کریم

    جب یہ کتاب رہبری کے لیے نازل کی گئی تو اس کو آسان کرنا بھی ضروری ہے؛ جیسا کہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ "۔
    (القمر:۱۷)
    اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کونصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے ،اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے۔

    اِسی سورت میں یہ آیت چار جگہ پر آئی ہے؛ نیز اس کو آسان کرنے کی مختلف شکلیں حق تعالیٰ نے واضح فرمائی ہیں، مثلاً سورۂ قیامہ میں فرمایا:
    " اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗoفَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗoثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہ"۔
    (القیامۃ:۱۷۔۱۹)
    یقین رکھو کہ اس کو یاد کروانا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے،پھر جب ہم اسے(جبرئیل کے واسطے سے) گویا اس کوپڑھ رہے ہوں تو تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔

    تفسیر کا اولین حق اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ہی حاصل ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق (فداہ ابی وامی)ﷺ کے ذریعہ واضح کیا؛ چنانچہ فرمایا:
    "وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ"۔
    (النحل:۴۴)
    اور (اے پیغمبر!)ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کردو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔

    آیت شریفہ میں "الذکر" سے مراد قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی تبیین وتفسیر کی ذمہ داری آپ ﷺ پر ہے اور پھر اس کے بعد عوام پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس پر غور وفکر سے کام لیں؛ الغرض یہ ہے تفسیر وتاویل وتبیین۔

    تفسیر کی تعریف

    یہ لفظ "فسر" سے مشتق ہے جس کے معنی کھولنے کے آتے ہیں؛ چونکہ اس کے ذریعہ قرآن کے معانی ومفاہیم کھول کر بیان کئے جاتے ہیں اس لیے اس کو علم تفسیر سے تعبیر کیا جاتا ہے، قرآن مجید میں اس کے لیے دوسرے الفاظ بھی آتے ہیں، تفسیر، تاویل بیان تبیان، تبیین، جو تقریباً ہم معنی ہیں؛ لیکن بعض اہل علم کے مابین ان الفاظ میں کچھ جزوی فرق بھی ہے، جس کی تفصیل ایک مستقل مضمون کے ذیل میں آئےگی۔

    تفسیر کی اصطلاحی تعریفیں بھی بیان کی گئی ہیں؛ چنانچہ علامہ زرکشی رحمہ اللہ نے اس کی مختصر تعریف یوں نقل کی ہے:
    "ھُوَعِلْمٌ یُعْرَفُ بِہٖ فَھْمُ کِتَابِ اللہِ الْمُنَزَّلِ عَلیٰ نَبِیِّہَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَیَانُ مَعَانِیْہِ وَاسْتَخْرَاج أَحْکَامِہٖ وَحِکَمِہٖ"۔
    (البرھان فی علوم القرآن:۱۳۱)

    وہ ایسا علم ہے جس سے قرآن کریم کی سمجھ حاصل ہو اور اس کے معانی کی وضاحت اور اس کے احکام اور حکمتوں کو نکالا جاسکے اورعلامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تعریف میں مزید عموم پیدا کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    "ھُوَعِلْمٌ يُبْحَثُ فِيْهِ عَنْ كَيْفِيَّةِ النُّطْقِ بِأَلْفَاظِ الْقُرْآنِ، وَمَدْلُوْلَاتِهَا، وَأَحْكَامِهَا الْإِفْرَادِيَّةِ وَالتَّرْكِيْبِيَّةِ، وَمَعَانِيْهَا الَّتِيْ تُحْمَلُ عَلَيْهَا حَالَۃِ التَّرْكِيْبِ، وَتَتِمَّاتُ لِذَلِك"۔
    (روح المعانی:۴/۱)
    وہ علم ہے کہ جس میں قرآن کریم کے الفاظ کی ادائیگی کے طریقے اور ان کے مفہوم اور ان کے افرادی اور ترکیبی احکام اور اُن معانی سے بحث کی جاتی ہو جو کہ ان الفاظ سے جوڑنے کی حالت میں مراد لیے جاتے ہیں اور ان معانی کا تکملہ جو ناسخ ومنسوخ اور شان نزول اور غیرواضح مضمون کی وضاحت میں بیان کیا جائے۔

    تفسیر کے اصول

    چونکہ ہرکام کی ایک اصل ہوتی ہے اور اصول کے ساتھ ہونے والے کام کو کام کہا جاتا ہے ،بے اصولی تو کسی بھی شعبہ میں اچھی نہیں سمجھی جاتی؛ اسی اصول پر تفسیر کے اصول بھی ہیں؛ تاکہ اس میں دلچسپی پیدا ہو، اب ایک بات ضروری طور پر یہ رہ جاتی ہے کہ وہ کیا ذرائع اور طریقے ہیں جن کی بنیاد پر قرآن کریم کی تفسیر کی جاسکے، یقیناً ہم کو اس کے لیے حق سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے رہبری کی گئی ہے؛ چنانچہ فرمایا:
    "ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ"۔
    (آل عمران:۷)
    اے رسول !وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہےجس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہےاورکچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔

    گویا اس آیت کی رو سے آیات کی اولین تقسیم دوطرح پر کی گئی ہے۔

    (۱)آیات محکمات (۲)آیات متشابہات؛ پھرمتشابہات دوقسم پر ہیں:

    (۱)جو لفظ بھی سمجھ سے باہر ہو جیسے حروف مقطعات

    (۲) لفظ تو سمجھ میں آتے ہوں؛ لیکن مفہوم ان کا قابل فہم نہ ہو۔

    پھرآیاتِ محکمات کو مفسرین نے دوطرح پر تقسیم کیا ہے:

    (۱)وہ آیتیں جن کے سمجھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو جو بالکل واضح ہوں یعنی جس زبان میں بھی ان کا ترجمہ کیا جائے سمجھنے والے کو مشکل معلوم نہ ہوں اور بظاہر مفسرین کے پاس کوئی اختلاف رائے نہ ہو، جیسے پچھلی قوموں سے متعلق واقعات اور جنت وجہنم سے متعلق آیات۔

    (۲)دوسری وہ آیتیں ہیں جن کے سمجھنے میں کوئی ابہام یااجمال یا اور کوئی دشواری پائی جائے یا اُن آیتوں کو سمجھنے کے لیے ان کے منظر وپس منظر کو سمجھنا ضروری ہو جیسے وہ آیتیں جن سے دقیق مسائل اور احکام نکلتے ہوں یااسرار ومعارف اُن سے نکلتے ہوں، ایسی آیات کو سمجھنے کے لیے انسان کو صرف زبان اور اس کی باریکیوں کو جاننا کافی نہیں ہوتا؛ بلکہ اور بھی بہت سی معلومات کی ضرورت پڑتی ہے، انہیں معلومات میں سے ایک "ماخذِ" تفسیر کہلاتا ہے۔

    تفسیری مآخذ

    یعنی وہ ذارئع جن سے قرآن کریم کی تفسیر معلوم ہوسکتی ہے، یہ تقریباً چھ قسم کی بتلائی گئی ہیں:

    (۱)تفسیر القرآن بالقرآن۔(قرآن کریم کی کسی آیت یا لفظ کی تشریح قرآن ہی کی کسی دوسری آیت یا لفظ سے کی جائے)

    (۲)تفسیر القرآن بالاحادیث النبویہ صلی اللہ علیہ وسلم۔(قرآن مجید کے کسی آیت کی وضاحت آنحضرت ﷺ کے کسی قول یا فعل سے کی جائے)

    (۳)تفسیر القرآن باقوال الصحابۃ رضی اللہ عنہم اجمعین۔(قرآن پاک کے کسی آیت کی تشریح حضرات صحابہ کرام میں سے کسی صحابی کے قول سے کی جائے،تفسیری شرائط کے ساتھ)

    (۴)تفسیر القرآن باقوال التابعین رحمہم اللہ۔(قرآن مجید کے کسی آیت کی وضاحت حضرات تابعین میں سے کسی تابعی کے قول سے کی جائے،تفسیری شرائط کے ساتھ)

    (۵)تفسیر القرآن بلغۃ العرب۔(قرآن مجید کے کسی آیت یا کسی لفظ کی تشریح اہل عرب کے اشعار اور عربی محاورات کے مطابق کی جائے،تفسیری شرائط کے ساتھ)

    (۶)تفسیرالقرآن بعقل السلیم۔(قرآن مجید کی تشریح وتوضیح اپنی صحیح سمجھ بوجھ اور منشائے خدا وندی کو ملحوظ رکھ کرعلوم اسلامیہ کی روشنی میں،حالات وواقعات،مواقع ومسائل پر اس کا صحیح انطباق کرنا اور اس کے اسرار ورموز کو کھولنا اور بیان کرنا تفسیرالقرآن بعقل سلیم کہلاتا ہے)

    ہرایک کی تھوڑی سی تفصیل ضروری مثالوں سے ذیل میں ذکر کی جاتی ہے:

    تفسیرالقرآن بالقرآن

    اختصار کی غرض سے اس کی صرف تین مثالیں پیش کی جاتی ہیں:

    پہلی مثال

    سورۃ الفاتحہ کو ہی لیجئے، اِس کی دونوں آیتیں اس طرح ہیں:
    "اهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِالْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَاالضَّالِّينَ"۔
    (الفاتحۃ:۶،۷)
    ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما،ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا ہے۔

    جن پر انعام کیا گیا ہے اس کی تفسیر"سورۃالنساء" کی درجِ ذیل آیت میں کی گئی ہے:
    "وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا"۔
    (النساء:۹۶)
    اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گےتو وہ ان کے ساتھ ہوں گےجن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے،یعنی انبیاء،صدیقین،شہداءاور صالحین اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

    دوسری مثال
    "فَتَلَـقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِoاِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ"۔
    (البقرۃ:۳۷)
    پھر آدمؑ نے اپنے پروردگار سے(توبہ کے)کچھ الفاظ سیکھ لیے(جن کے ذریعہ انہوں نے توبہ مانگی)چنانچہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی،بے شک وہ بہت معاف کرنے والا،بڑا مہربان ہے۔

    اس آیت میں کلمات کا تذکرہ ہے مگر وہ کلمات کیا تھے؟ دوسری آیت میں اس کی تفسیرموجود ہے:
    "قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا،وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ"۔
    (الاعراف:۲۳)
    دونوں بول اٹھے کہ:اے ہمارے پروردگار!ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگرآپ نے ہمیں معاف نہ فرمایااور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

    تیسری مثال

    "سورۃ الانعام" کی آیت نازل ہوئی:
    "الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولِٰئکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ"۔
    (الانعام:۸۲)
    جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہ دیا،امن وچین تو بس ان ہی کا حق ہےاور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔

    توصحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے کہ جس سے( کسی نہ کسی طرح کا) ظلم صادر نہ ہوا ہو،تو اللہ نے ظلم کی تفسیر ومراد کو واضح کرنے کے لیےیہ آیت نازل فرمائی:
    " إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ"۔
    (لقمان:۱۳)
    کہ شرک ظلم عظیم ہے۔

    یعنی آیت بالا میں ایمان کے ساتھ جس ظلم کا تذکرہ آیا ہے وہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔
    (بخاری،باب ظلم دون ظلم،حدیث نمبر:۳۱)

    تفسیر القرآن بالقرآن کے موضوع پرایک گرانقدر کتاب مدینہ منورہ کے ایک عالم شیخ محمد امین بن محمد مختار کی تالیف ہے جو "اضواء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن" کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔

    تفسیرالقرآن بالحدیث والسیرۃ

    قرآن پاک کی تفسیررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں کرنا تفسیر القرآن بالحدیث والسیرۃ کہلاتا ہے، خود قرآن کریم کی متعدد آیات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں بھیجےجانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اقوال وافعال اور عملی زندگی سے آیات قرآنیہ کی تفسیر وتشریح فرمائیں۔
    (النحل:۴۴)

    تو جس طرح اللہ تعالی نے انسانی زندگی کو بندگی بنانے کےلیے اپنے احکامات کو قرآن حکیم کی شکل میں نازل فرمایا ،اسی طرح ان احکامات پر عمل آوری کے لیے آپ ﷺکے پوری عملی زندگی کو در حقیقت قرآن پاک کی عملی تفسیر بناکر مبعوث فرمایا، جو کچھ احکامات قرآن کریم کی شکل میں نازل کیے گئے ان پر سب سے پہلے آپ ہی نے عمل کرکےدکھلایا اور ان احکامات خدا وندی کو عملی جامہ پہناکر دنیا کے سامنے پیش کرنا یہ آپ کی خصوصیات میں سےایک نمایا خصوصیت ہے ،خواہ وہ حکم ایمان ،توحید، نماز، روزہ ،زکوۃ ،حج، صدقہ وخیرات ،جنگ وجدال، ایثار وقربانی، عزم واستقلال، صبر وشکر سے تعلق رکھتا ہو یا حسن معاشرت وحسن اخلاق سے ،ان سب میں قرآن مجید کی سب سے پہلی وعمدہ عملی تفسیر نمونہ وآئیڈیل کے طور پر آنحضرت ﷺ ہی کی ذات اقدس میں ملے گی، اس میں بھی دو قسم کی تفسیر ہے ایک تفسیرتو وہ قرآن پاک کے مجمل الفاظ وآیات کی تفسیر وتوضیح ہے جن کی مراد خدا وندی واضح نہیں تو ان کی مراد واجمال کی تفصیل کو زبان رسالت مآب ﷺ نے واضح فرمادیا اور دوسری قسم عملی تفسیر کی ہے،یعنی قرآن حکیم کی وہ آیات جن میں واضح احکامات دئے گئے ہیں جن کا تعلق عملی زندگی کے پورے شعبۂ حیات سے ہے،خواہ وہ عقائد، عبادات، معاملات کی رو سے ہوں یا حسن معاشرت وحسن اخلاق کی رو سے اس میں بھی آپ نہ وہ کمال درجہ کی عبدیت اور اطاعت وفرمانبرداری کی ایسی بے مثال وبے نظیر عملی تفسیر وتصویر امت کے سامنے پیش فرمائی کہ جس طرح کلام اللہ تمام انسانی کلاموں پر اعجاز وفوقیت رکھتا ہے اسی طرح آپ کی عملی زندگی کا ہر قول وفعل بھی تمام انسانی زندگیوں پر اعجاز وفوقیت رکھتا ہے،دوسری قسم کی مثالیں کتب سیر، کتب مغازی، کتب تاریخ، کتب دلائل اور کتب شمائل میں بکثرت ملیں گے؛ بلکہ یہ کتابیں تو آپ ہی کی عملی تفسیر پیش کرنے کے لیے لکھی گئی ہیں جن کی مثالوں کو یہاں ذکر نہیں کیا جارہا ہے اگر دیکھنا چاہیں تو ہمارے ہوم پیج کے عنوان"سیرت طیبہ" میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں اور پہلی قسم کی مثالیں کتب احادیث وتفسیر میں بکثرت ملیں گی ان میں سے بغرض اختصار صرف تین مثالیں پیش کی جارہی ہیں:

    پہلی مثال

    سورۂ بقرہ کی آیت شریفہ:
    "وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ"۔
    (البقرۃ:۱۸۷)
    اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہوکرتم پر واضح (نہ) ہوجائے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیط ابیض اور خیط اسود کی مراد کو اپنے ارشاد مبارک سے واضح فرمایا :
    " إِنَّمَا ذَلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَار"۔
    (بخاری، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا،حدیث نمبر:۱۷۸۳، شاملہ، موقع الإسلام)
    کہ خیط ابیض سے مراد صبح صادق اور خیط اسود سے مراد صبح کاذب ہے۔

    دوسری مثال

    سورہ نور کی آیت:
    "اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ، وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ،وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَائِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ"۔
    (النور:۲)
    زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرددونوں کو سوسو کوڑے لگاؤاور اگر تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین کے معاملہ میں ان پر ترس کھانے کا کوئی جذبہ تم پرغالب نہ آئےاور یہ بھی چاہیے کہ مؤمنوں کا ایک مجمع ان کی سزا کو کھلی آنکھوں دیکھے۔

    ظاہر ہے کہ اس آیت سے زانیہ اور زانی کی سزامیں سو کوڑے مارنے کاذکر ہے، اس میں شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کا کوئی فرق نہیں کیا گیا؛اس کی تفسیر احادیثِ پاک سے واضح ہوتی ہے کہ غیر شادی شدہ کو کوڑوں کی سزا دی جائے گی جیسا کے بخاری شریف میں ہے:
    "عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ وَتَغْرِيبِ عَامٍ"۔
    (بخاری،بَاب شَهَادَةِ الْقَاذِفِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي،حدیث نمبر:۲۴۵۵، شاملہ، موقع الإسلام)
    زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غیر شادی شدہ زنا کرنے والوں کو سو کوڑے مارنے کا اور ایک سال کے لیے وطن سے نکالنے کاحکم دیا۔

    اور شادی شدہ مرد وعورت کو سنگسار کیا جائے گا:
    "الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَازَنَيَا فَارُجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ، رَجَمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهٗ"۔
    (ابن ماجہ، باب الجرم، حدیث نمبر:۲۵۴۳، شاملہ، موقع الإسلام)
    شادی شدہ مرد وعورت جب زنا کے مرتکب ہوں تو ان کو رجم کرو، یعنی سنگسار کردو ،راوی کہتے ہیں کہ خود حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں ایسی سزادی ہے اور بعد میں ہم نے بھی ایسی سزا دی ہے۔

    تیسری مثال

    قرآن کی تفسیر حدیث سے کرنے کی مثال میں یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے:
    "غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ"۔
    (الفاتحۃ:۷)
    نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر غضب نازل ہوا ہےاور نہ ان کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔

    قرآن پاک میں المغضوب اور الضال کا مصداق متعین نہیں کیا گیا ہے ؛لیکن ان دونوں کا مصداق متعین کرتے ہوئےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "إِنَّ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ أَلْيَهُوْدُ وَإِنَّ الضَّالِّيْنَ النَّصَارَىٰ"۔
    (مسند احمد بن حنبل،بقیۃ حدیث بن حاتم،حدیث نمبر:۹۴۰۰، شاملہ، موقع الإسلام)
    جن پر غضب نازل ہوا اس سے مراد یہود ہیں اور جو راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اس سے مراد نصاری ہیں۔

    اس طرح کی بے شمار مثالیں کتب احادیث میں بکثرت موجود ہیں اور اس نقطۂ نظر سے بھی کئی تفاسیر لکھی گئی ہیں ،اُن میں سے چند تفاسیر یہ ہیں ۔

    ۱۔قاضی بیضاوی رحمہ اللہ کی انوار التنزیل والتاویل۔

    ۲۔علامہ خازن کی لباب التاویل فی معانی التنزیل۔

    ۳۔ علامہ ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر۔

    ۴۔اردو زبان میں تفسیر حقانی(فتح المنان)مولانا عبدالحق حقانی دہلوی کی ہے۔

    (۳)تیسرا ماخذ،تفسیرالقرآن باقوال الصحابۃرضی اللہ عنہم

    حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم چونکہ بجا طور پر خیر امت کہلانے کے مستحق ہیں جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست قرآن کریم کی تعلیم وتربیت حاصل کی ،ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کردیں کہ قرآن کریم اوراس کی تفسیر وتاویل کو بلاواسطہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کریں ،اہل زبان ہونے کے باوجود ان کو صرف زبان دانی پر بھروسہ نہ تھا؛ چنانچہ بعضے صحابہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقاً سبقاً قرآن کریم کو پڑھا، مشہور تابعی ابوعبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں:
    "حَدَّثَنَا الَّذِيْنَ كَانُوْا يَقْرَؤَوْنَ الْقُرَآنَ كَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَغَيْرِهِمَا أَنَّهُمْ كَانُوْا إِذَا تَعَلَّمُوْا مِنَ النَّبِيِّﷺ عَشَرَ آيَاتِ لَمْ يَتَجَاوَزُوْهَا حَتَّى يَعْلَمُوْا مَافِيْهَا مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ"۔
    (الاتقان فی علوم لقرآن،الفصل فی شرف التفاسیر، النوع الثامن والسبعون:۲/۴۶۸، شاملہ،المؤلف:عبد الرحمن بن الكمال جلال الدين السيوطي)
    صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جو قرآن کی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا کرتے تھے،مثلاً حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ انہوں نے ہمیں یہ بتایا کہ وہ لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں سیکھتے تو ان آیتوں سے آگے نہ بڑھتے جب تک ان آیتوں کی تمام علمی وعملی باتوں کو نہ جان لیتے۔

    یہ ہے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم وتربیت کا سیکھنا کہ جتنا سیکھتے اتنا عمل کا بھی اہتمام فرماتےشاید اسی وجہ سے مسند احمد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ اثرمنقول ہے:
    "كَانَ الرَّجُلُ إِذَاقَرَأ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِيْنَا"۔
    (مسند احمد،مسند انس بن مالک،حدیث نمبر:۱۱۷۶۹)

    یعنی جب کوئی شخص سورۃ بقرہ وآل عمران کو پڑھ لیتا تووہ ہماری نظروں میں بہت ہی عزت والا سمجھا جاتا اور موطا مالک کی روایت میں ہے:
    "أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَكَثَ عَلَى سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثَمَانِيَ سِنِينَ يَتَعَلَّمُهَا"۔
    (مؤطا مالک، کِتَابُالنِّداءِ لِلصّلاةِ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْقُرْآنِ ،حدیث نمبر:۴۲۸، شاملہ، موقع الإسلام)
    حضرت عبداللہ ابنِ عمررضی اللہ عنہ کو سورۂ بقرہ یاد کرنے میں آٹھ سال لگے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اتنے کمزور ذہن والے تھے کہ سورۂ بقرہ یاد کرنے میں آٹھ سال لگے،جبکہ موجودہ دور میں کمزور سے کمزور طالب علم اتنے عرصہ سے کم میں پورا قرآن کریم حفظ کرلیتا ہے،دراصل بات یہ تھی کہ آٹھ سال کی مدت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو سورۂ بقرہ کے الفاظ اور اسکی تفسیر وتاویل اور اسکے متعلقات کے ساتھ حاصل کرنے میں لگی،اسکی تائید حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر سے ہوتی ہے جسکو ابن کثیر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے:
    "والذي لا إله غيره، ما نزلت آية من ، كتاب الله إلا وأنا أعلم فيمن نزلت؟ وأين نزلت؟ ولو أعلم أحد اأعلم بکتاب اللہ منی تنالہ المطایا لاتیتہ"۔
    (ابن کثیر:۱/۳)
    قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جسکے بارے میں مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس بارے میں اور کہاں نازل ہوئی اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کوئی شخص ایسی معلومات مجھ سے زیادہ رکھتا ہے اور سواریاں اس شخص تک پہونچاسکتی ہیں تو میں اس کے پاس ضرور جاؤں گا۔

    یہ چند نمونے ہیں حضرات صحابہ کی جانفشانی اور ان کی محنت کے جو تفسیر قرآن کے سلسلہ میں پیش کئے گئے ،یوں تو بہت سی آیات کی تفسیر حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے ثابت ہیں ان میں سے کچھ برائے نمونہ پیش ہیں۔

    پہلی مثال:

    ایک دفعہ حضرت بن عمرؓ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور درج ذیل آیت کی تفسیر دریافت کی:
    "أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا"۔
    (الانبیاء:۳۰)
    کیا کفار نے دیکھا نہیں کہ آسمان وزمین بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔

    حضرت بن عمرؓ نے اس سے فرمایا کہ تم ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے اس کی تفسیر معلوم کرو اور وہ جو تفسیر بتائیں وہ مجھے بھی بتاتے جانا،وہ شخص ابن عباسؓ کے پاس پہنچااور درج بالا آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:
    آسمان خشک تھے ان سے بارش نہیں ہوتی تھی اور زمین بانجھ تھی اس سے کچھ اُگتا نہیں تھا،بارش کے طفیل یہ پودے اگانے لگی؛گویا آسمان کا فتق(پھٹنا)بارش کے ساتھ ہے اور زمین کا پھل پودے اگانے سے ۔

    اس شخص نے حضرت ابن عمرؓ کو جب یہ تفسیر بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالی کی جانب سے ان کو خصوصی علم عطا ہوا ہے۔
    (روح المعانی،۱۲/۳۶۹ش،املہ)

    دوسری مثال
    " وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَى التَّہْلُکَۃِ،وَاَحْسِنُوْا،اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِـنِیْنَ"۔
    (البقرۃ:۱۹۵)
    اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنی جان کو ہلاکت میں اور نیکی کرو،بیشک اللہ تعالی دوست رکھتا ہے نیکی کرنے والوں کو۔

    اس آیت کی تشریح میں مفسرین نے حضرت ابوایوب انصاریؓ کاارشاد نقل کیا ہے کہ:
    "التھلکۃ الاقامۃ فی الاھل والمال وترک الجھاد"۔
    (تفسیر بن کثیر،تحت قولہ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَى التَّہْلُکَۃِ)

    "التھلکۃ "سے مراد گھر اور مال کی مصروفیات میں لگا رہنا اور جہاد کو چھوڑ بیٹھنا ہے ۔

    عام مفسرین نے اپنی اپنی تفاسیر میں اس تفسیر کو خاص طور سے نقل کیا ہے۔

    تیسری مثال

    علامہ طبری روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے صحابہ ؓ سے درج ذیل آیت کے متعلق دریافت کیا :
    "أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ"۔
    (البقرۃ:۲۶۶)
    کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (اور)اس کو اس باغ میں اور بھی ہر طرح کے پھل حاصل ہوں اور بڑھاپے نے اسے آپکڑا ہواور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں، اتنے میں ایک آگ سے بھرا بگولا آکر اس کو اپنی زد میں لے لے اور پورا باغ جل کر رہ جائے۔

    کوئی بھی اس کا شافی جواب نہ دے سکے،حضرت ابن عباسؓ نے عرض کیا کہ میرے دل میں ایک بات آرہی ہے ،حضرت عمر نے فرمایا کہ آپ بلا جھجک برملا بیان کیجیے،ابن عباس ؓنے فرمایا:
    "اللہ تعالی نے اس آیت میں ایک مثال بیان کی ہے فرمایا :کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ عمر بھر نیکی کا کام کرتا رہےاور جب اس کا آخری وقت آئےجب کے نیکیوں کی اسے زیادہ ضرورت ہوتو بُرا کام کرکے سب نیکیوں کو برباد کردے"۔
    (تفسیر طبری،۵/۵۴۵،شاملہ)

    ایک اہم بات اس بارے میں اہل اصول نے بتلائی ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم کے تفسیری اقوال میں صحیح وسقیم ہر طرح کی روایتیں ملتی ہیں تو ان اقوال کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کئے جانے سے پہلے اصول ِحدیث کے اعتبار سے انکی جانچ ضروری ہے۔

    ۲۔ نیز دوسرے یہ کہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال تفسیر اسی وقت حجت ،دلیل سمجھے جائیں گےجبکہ آپﷺ سے آیت شریفہ کی کوئی صریح تفسیر مستند طورپر ثابت نہ ہو؛چنانچہ اگر آپ ﷺ سے تفسیر منقول ہو تو پھر صحابہ رضی اللہ عنہ سے اقوال محض اس تفسیر کی تائید شمار کئے جائنگے اور اگر آپ ﷺ کے معارض کوئی قول صحابی رضی اللہ عنہ ہوتو اس کو قبول نہ کیا جائےگا۔

    ۳۔تیسرے یہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال تفسیر میں اگر تعارض اور ٹکراؤ ہو تو جہاں تک ہوسکے انکے اقوال میں مطابقت پیداکی جائیگی اگر مطابقت نہ ہوسکے تو پھر مجتہد کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ دلائل کی روشنی میں جس صحابی رضی اللہ عنہ کا قول مضبوط ہے اسکو اختیار کرلے۔
    (تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ تفسیر ابن کثیر۱/۳)۔ (واللہ تعالی اعلم)

    اس موضوع پر مستقل کتاب،تنویرالمقیاس فی تفسیر ابن عباس"ہے اور اس کے علاوہ دیگر کتب تفاسیر میں صحابہ کی تفسیری روایات مذکور ہیں۔

    (۴)چوتھا ماخذ:تفسیر القرآن باقوال التابعین

    واضح ہونا چاہئے کہ تابعین سے مراد تمام ہی تابعین نہیں ہیں؛ بلکہ وہ حضرات تابعین جنہوں نے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کی صحبت اٹھائی ہواور انکی صحبت سے علمی استفادہ کیا ہو، اہل علم میں اس بات پربھی اختلاف ہے کہ تفسیر قرآن کے بارے میں اقوال تابعین حجت ہیں یا نہیں،اس معاملہ میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بہت ہی معتدل بات لکھی ہے کہ اگر کوئی تابعی کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے تفسیر نقل کررہے ہوں تو اس کا حکم صحابی کی تفسیر جیسا ہوگا اور اگر خود تابعی اپنا قول بیان کریں تو دیکھا جائےگا کہ دوسرے کسی تابعی کا قول ان کے خلاف تو نہیں اگر خلاف میں کوئی قول ہو تو پھر اس تابعی کے قول کو حجت نہیں قرار دیا جائےگا؛ بلکہ ایسی آیات کی تفسیر کے لیے قرآن کی دوسری آیتیں احادیث نبویہ آثارصحابہ رضی اللہ عنہم اورلغت عرب جیسے دوسرے دلائل پر غور کرکے فیصلہ کیا جائےگا،ہاں اگر تابعین کے درمیان کوئی اختلاف نہ ہوتو ان کے تفسیری اقوال کو بلاشبہ حجت اورواجب الاتباع قراردیا جائے گا۔
    (بحوالہ تفسیر ابن کثیر،ا-۵،مطبوعہ المکتبہ التجاریۃ الکبری)

    جب تابعین کے اقوال پر تفسیر کی جاسکتی ہے تو اس کے کچھ نمونےبھی ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں :

    پہلی مثال

    ارشاد باری تعالی ہے:
    "وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِـاِحْسَانٍ، رَّضِیَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا، ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ"۔
    (التوبہ:۱۰۰)
    اور جولوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مددکرنے والے اور جو ان کے پیروہوئے نیکی کے ساتھ اللہ تعالی راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے اور اللہ نے تیار کررکھا ہے ان کے واسطے ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں رہا کریں ان میں وہ ہمیشہ یہی ہے بڑی کامیابی۔

    اس آیت شریفہ میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کے مختلف درجاتِ فضیلت بیان کئے گئے ہیں ایک سابقین اولین کا،دوسرے انکے بعد والوں کا ،اب سابقین اولین کون ہیں ،اس میں مفسرین کے مختلف اقوال نقل کئے جاتے ہیں،کبار تابعین حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ،ابن سیرین رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول ہے کہ اس سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور عطاء بن ابی رباح کا یہ قول ہے کہ سابقین اولین سے مرادبدرمیں شریک ہونے والےصحابہ ہیں اورشعبی نے فرمایا کہ وہ جو کہ حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شامل رہے۔
    (تفسیرروح المعانی، تفسیر سورۂ توبہ،آیت نمبر۱۰۰)

    اس آیت میں تابعین رحمہ اللہ کے مختلف اقوال سامنے آئے ،مفسرین نے کسی قول کو رد نہیں کیااور ان کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے۔

    دوسری مثال

    ارشاد باری تعالی ہے:
    " اَلتَّائِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّائِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللہِ، وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنََ"۔
    (التوبہ:۱۱۲)
    توبہ کرنے والے،اللہ کی بندگی کرنے والے،اس کی حمد کرنے والے ،روزے رکھنے والے،رکوع میں جھکنے والے،سجدہ گزارنے والے،نیکی کی تلقین کرنے والے، برائی سے روکنے والے اوراللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنے والے(اے پیغمبر )ایسے مؤمنوں کو خوشخبری دےدو۔

    آیت میں ایک لفظ "أَلسَّائِحُوْنَ" آیا ہے، جس کا مطلب جمہور مفسرین کے ہاں"صَائِمُوْنَ" یعنی روزہ دار مراد ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی سائحین کا لفظ آیا ہے وہاں صائمین مراد ہیں،حضرت عکرمہؒ جو کبارِ تابعین میں سے ہیں انہوں نے کہا سیاحت کرنے والوں سے مرادطالب علم ہیں جو علم کی طلب میں ملکوں میں پھرتے ہیں۔
    (تفسیر روح المعانی،تفسیر سورۂ توبہ،آیت نمبر:۱۱۲)

    اس تفسیر کو مفسرین نے رد نہیں کیا ہے اگرچیکہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اس تفسیر میں منفرد ہیں۔

    تیسری مثال

    ارشاد باری تعالی ہے: "اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاءِ
    (التوبہ:۶۰)
    صدقات تو صرف غریبوں کے لیے ہیں..الخ۔

    اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے غنی اور فقیر کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے،غنی سے متعلق امام ابو حنیفہ ؒ نے فرمایا کہ غنی وہ شخص ہے جس کے پاس اصلی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد بقدر نصاب زکوۃ مال باقی رہے۔
    (تفسیر روح المعانی،سورۂ توبہ:آیت نمبر:۶۰)

    عام مفسرین نے امام ابو حنیفہؒ کے ذکر کردہ تعریف غنی کو اپنی تفاسیر میں بلا کسی نکیر کے ذکر فرمایا ہے۔

    اس موضوع پر بھی بہت سی تفاسیرلکھی گئی ہیں؛ چنانچہ علامہ نیشاپوری رحمہ اللہ کی تفسیر"غرائب القرآن ا وررغائب الفرقان" قابل ذکر ہے اور علامہ نسفیؒ کی مدارک التزیل بھی قابل ذکر ہے اور علامہ آلوسی کی روح المعانی بھی ایک وقیع تفسیر ہے۔

    نیز اردو تفاسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب کی تفسیرمعارف القرآن بھی اہم تفاسیر میں سے ایک ہے۔

    (۵)پانچواں ماخذ: تفسیر القرآن بلغۃ العرب

    لغت عرب کو تفسیر کا ماخذ ماننے میں اگرچیکہ اہل علم کے یہاں اختلاف ہے، جیسے کہ امام محمد رحمہ اللہ نے لغۃ عرب سے قرآن کی تفسیر کو مکروہ قراردیا ہے(حوالہ البرھان ۲/۱۶۰ نوع ۴۱) کیونکہ؛ عربی زبان ایک وسیع زبان ہے اور بعض اوقات ایک لفظ کئی معانی پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک جملے کے بھی متعدد اور کئی مفہوم ہوسکتے ہیں تو ایسے مواقع پر صرف لغت عرب کو بنیاد بناکر ان میں سے کوئی ایک مفہوم متعین کرنا تفسیر میں مغالطہ کا سبب بن سکتا ہے اور اسی وجہ سے اسکو مکروہ بھی کہا گیا ہے مگر محققین کا کہنا ہے کہ مغالطہ اسی وقت ہوتا ہے جبکہ لغت کے کثیر الاستعمال معانی کو چھوڑکر انتہائی قلیل الاستعمال معنی مراد لیے جائیں اس لیے ایسی جگہ جہاں قرآن وسنت وآثار صحابہ وتابعین میں سے کوئی صراحت نہ ملے تو آیت کی تفسیر لغت عرب کے عام محاورات(جن کا چل چلاؤہو) کے مطابق کی جائیگی۔

    پہلی مثال

    ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے صحابہ کرامؓ سے درج ذیل آیت کے معنی دریافت کیے:
    "أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ"۔
    (النحل:۴۷)
    یا انہیں اس طرح گرفت میں لے کہ وہ دھیرے دھیرے گھٹتے چلے جائیں۔

    یہ سن کر قبیلہ بنو ھذیل کا ایک شخص کھڑا ہوکر کہنے لگاکہ ہماری زبان میں "تخوف"کمی اور نقصان کو کہتے ہیں،حضرت عمرؓ نے پوچھا عربی اشعار میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے؟اس نے کہا جی ہاں اور فوراً یہ شعر پڑھ دیا:
    *تَخَوَّفَ الرَّحُلُ منها تامِكاً قَرِداً * كما تَخَوَّفَ عُودَ النبعةِ السَّفِنُ*

    ترجمہ:کجاوہ کی رسی اونٹنی کے کوہان کے بال کو کم کرتی رہتی ہے، جیسا کہ لوہا کشتی کی لکڑی کو کم کرتا رہتا ہے۔

    یہ سن کر حضرت عمرؓ نے حاضرین کو مخاطب کرکے فرمایا اپنے دیوان کو تھامے رکھو،صحابہ نے عرض کیا دیوان سے کیا مراد ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جاہلی شاعری،اس میں قرآن کی تفسیر اور تمہاری زبان کے معانی موجود ہیں۔
    (روح المعانی۱۰/۱۷۹، شاملہ )

    دوسری مثال

    علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ صحن کعبہ میں تشریف فرما تھے سوال کرنے والوں کا ایک ہجوم تھادو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم آپ سے تفسیر قرآن کے متعلق کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا دل کھول کر پوچھئے،انہوں نے پوچھا کہ آپ اس آیت باری تعالی کی تفسیر بتائیے:
    "عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ"۔
    (المعارج:۳۷)
    دائیں بائیں حلقے باندھے ہوں گے۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا عزین کے معنی ہیں ساتھیوں کے حلقے،انہوں نے پھر سوال کیا کہ کیا اہل عرب اس معنی سے واقف ہیں؟حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا :جی ہاں پھر آپ نے عبید بن الابرص کا شعر پڑھا ؎
    فَجَاؤُا يُهْرَعُوْنَ إِلَيْهِ حَتً
    يَكُوْنُوْا حَوْلَ مِنْبَرِهِ عِزِيْنًا
    وہ لوگ اس کی طرف بھاگتے ہوئے آتے ہیں
    اس کے منبر کے گرد حلقہ باندھ لیتے ہیں

    (الاتقان،۲/۶۸،شاملہ)

    دیکھیے یہاں حضرت ابن عباس ؓ نے آیت بالا کی تفسیر لغت عرب کی مدد سے کی ہے۔

    تیسری مثال

    اُسی صاحب نے آپ رضی اللہ عنہ سے درج ذیل آیت کی تفسیردریافت کی:
    "وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ"۔
    (المائدۃ:۳۵)
    اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔

    حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ وسیلہ حاجت اور ضرورت کو کہتے ہیں اس نے پوچھا کہ اہل عرب اس معنی سے واقف ہیں:آپ ﷺ نے فرمایا کیا آپ نے عنترۃ نامی شاعر کا شعر نہیں سناہے؟پھر شعر پڑھا:
    إنَّ الرِّجَالَ لَهُمْ إِلَيْكِ وَسِيلَةٌ إِنْ يَأْخُذُوكِ، تكَحَّلِي وتَخَضَّبي
    (الاتقان:۲/۶۹)

    اس شعر میں وسیلہ کا لفظ حاجت وضرورت کے معنی میں استعمال ہوا ہےاور ظاہر ہے کہ ابن عباسؓ نے آیت بالا کی تفسیر لغت عرب سے کی ہے۔

    اس نقطۂ نظر سے بہت سی تفاسیر لکھی گئی ہیں،ان میں تفسیر خازن جس کا اصل نام "لباب التاویل فی معانی التنزیل(۲)السراج المنیر فی الاعانۃ علی معرفۃ بعض معانی کلام ربنا الحکیم الخبیر ،للخطیب شربینی"قابل ذکر ہیں۔

    چھٹا ماخذ تفسیر القرآن بعقل سلیم

    عقل سلیم جس کی اہمیت وضرورت سے کسی کو انکار نہیں ،دنیا کے ہر کام میں اسکی اہمیت ہوتی ہے اور پچھلے مآخذ سے فائدہ اٹھانا بغیر عقل سلیم کے معتبر نہیں اس ماخذ کو علاحدہ لکھنے کی ضرورت محض اس لیے پڑتی ہے کہ قرآن کریم کے معارف ومسائل ، اسرارورموز یقینا ًایک بحر بیکراں ہیں اور پچھلے مآخذ سے ان کو ایک حد تک سمجھا جاسکتا ہے ؛لیکن کسی نے بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں کی کہ قرآن کریم کے اسرار ومعارف کی انتہاء ہوگئی اور مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہی، یہ بات خود قرآن کریم کی صریح آیتوں کے خلاف ہوگی ، فرمان خدا وندی ہے:
    "قُلْ لَّوْکَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ،الخ"۔
    (الکہف:۱۰۹)
    کہہ دو کہ اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیےسمندر روشنائی بن جائے،تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر ختم ہوچکا ہوگا،چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک سمندر کیوں نہ لے آئیں۔

    گویا اس آیت میں وضاحت ہے کہ ساری مخلوق مل کر بھی کلمات الہی کا احاطہ کرنا چاہے تو ممکن نہیں سارا سامان تسوید ختم ہوجائیگا اور لامتناہی کسی طرح بھی متناہیوں کی گرفت میں نہ آسکے گا ،متناہی صفات والے لا متنا ہی صفات والی ہستی کو کیونکر اپنی گرفت میں لاسکتے ہیں اور یقیناً قرآن کریم بھی صفات باری میں سے ایک ہے لہذا عقل سلیم کے ذریعہ ان حقائق اور اسرار پر غور و فکر کا دروازہ قیامت تک کھلاہوارہےگا اور جس شخص کو بھی اللہ تعالی نے علم و عقل اور خشیت و تقوی اور رجوع الی اللہ کی صفات سے مالا مال کیا وہ تدبیرکے ذریعہ نئے نئے حقائق تک رسائی حاصل کرسکتا ہے؛چنانچہ ہر دور کے مفسرین کی تفسریں اس بات کی واضح دلیل ہیں ۔

    اور نبی اکرمﷺ کی دعاجو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے لیے تھی:
    "اَللّٰھُمَّ عِلْمُہٗ الْکِتَابَ وَفقہُ فِی الدِّیْنِ"۔
    (کنزالعمال فی سنن الأقول والأفعال:۱۳/۴۵۸، شاملہ،المؤلف:علي بن حسام الدين المتقي الهندي۔ بخاری، كِتَاب الْوُضُوءِ،بَاب وَضْعِ الْمَاءِ عِنْدَ الْخَلَاءِ، حدیث نمبر:۱۴۰، شاملہ، موقع الإسلام)
    ترجمہ: اے اللہ ان کو تاویل یعنی تفسیر قرآن اور دین کی سمجھ عطا فرما۔

    یہ دعا بھی اشارہ کرتی ہے کہ اس باب میں راہیں کھلی ہیں البتہ اہل علم نے اس معاملہ میں یہ اصول ضرور بتلایا ہے کہ عقل سلیم کے ذریعہ مستنبط ہونے والے وہی مسائل اور معارف معتبر ہوں گے جو سابق مآخذ سے متصادم نہ ہوں، یعنی ان سے نہ ٹکراتے ہوں، اصول شرعیہ کے خلاف کوئی نکتہ آفرینی کی جائے تو اسکی کوئی قدر وقیمت نہ ہوگی۔

    ہم کو ایمان رکھنا چاہئے کہ کل کائنات خدا کی بنائی ہوئی اور اس کے قبضۂ قدرت میں ہے،لہذاقرآن کریم کی بعض آیتوں سے اگرکوئی ڈاکٹریا سائنس داں معلومات کو اخذ کرتا ہے اور وہ معلومات مذکورہ اصولوں سے متصادم نہ ہوں توایسی تفسیر بھی قابل اعتبار ہوگی ۔

    پہلی مثال
    "لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَايَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثاً وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَo أَوْيُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَاناً وَإِنَاثاً وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيماً إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌo"۔
    (الشوری:۴۹،۵۰)
    سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے،وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے،وہ جس کوچاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکے دیتا ہےیا پھر ان کو ملاکر لڑکے بھی دیتا ہے اورلڑکیاں بھی اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنادیتا ہے،یقیناً وہ علم کا بھی مالک ہے قدرت کا بھی مالک۔

    بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس آیت میں خنثیٰ(ایسا شخص جو نہ مرد ہو نہ عورت) کا تذکرہ نہیں کیا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے؛لیکن ابن العربیؒ نے اس کا جواب دیا ہے کہ ایسا کہنا عقل کے خلاف بات ہے اس لیے کہ اللہ نے آیت کے ابتداء ہی میں فرمادیا"يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ"وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے،لہذااس میں خنثیٰ بھی شامل ہے۔
    (الجامع لاحکام القرآن:۱۶/۵۲، شاملہ)

    دوسری مثال

    حضرت موسی جب کوہ طور پر تیس دن کے لیے تشریف لے گئے تھےاور انہیں چالیس یوم تک وہاں رہنا پڑا تھاتو ان کے غائبانہ ان کی قوم نےبچھڑے کی پرستش شروع کردی تھی اس واقعہ سے متعلق ایک حصہ کو قرآن پاک نے یوں بیان کیا ہے :
    "وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا"۔
    (الاعراف:۱۴۸)
    موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کے بعد زیورات سے ایک بچھڑا بنالیا۔

    اس آیت کی تفسیر میں علامہ تستری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ بچھڑے سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی محبت میں گرفتار ہوکر انسان اللہ سے منہ موڑلے ؛مثلاً اہل واولاد اور مال وغیرہ انسان تمام خواہشات کو ختم کردے جس طرح بچھڑے کے پجاری اس سے اسی حالت میں چھٹکارا پاسکتے ہیں جب وہ اپنی جانوں کو تلف کردیں۔
    (التفسیر التستری:۱/۱۶۹،شاملہ)

    یہ تفسیر بھی عقل سلیم کی روشنی میں کی جانے والی تفسیر کے قبیل سے ہے اور یہ اصول شرعیہ کے مخالف بھی نہیں ہے۔

    تیسری مثال

    قرآن پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا ہے جس میں اللہ تعالی نے ان کو اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا حکم دیا تھا قرآن پاک میں یوں ہے:
    "وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ "۔
    (الصافات:۱۰۷)
    اور اس کے عوض ہم نے ایک بڑا جانور دے دیا۔

    اس کی تفسیر میں علامہ تستری لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ بتقاضائے بشریت اپنے بیٹے سے محبت کرتے تھے اس لیے اللہ تعالی نے آزمائش کے طور پر اس کو ذبح کرنے کا حکم دیا، منشأ خدا وندی دراصل یہ نہ تھا کہ ابراھیمؑ بیٹے کو ذبح کرڈالیں؛ بلکہ مقصود یہ تھا کہ غیراللہ کی محبت کو دل سے نکال دیا جائے ،جب یہ بات پوری ہوگئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی عادت سے باز آگئےتو اسماعیل کے عوض ذبح عظیم عطا ہوئی۔
    (التفسیر التستری:۱/۴۳۹، شاملہ)

    یہ تفسیر بھی اسی قبیل سے ہے اور اصول شرعیہ کے معارض بھی نہیں ہے اس لیے اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    اس عنوان پر تفسیر یں بھی لکھی گئی ہیں ، علامہ ابوالسعودکی"ارشاد العقل السلیم الی مزایا الکتاب الکریم" اور" تفسیر التستری"قابل ذکر ہیں۔

    تفسیر کے لیے ضروری علوم

    قرآن کریم کی آیات دو قسم کی ہیں ،ایک تو وہ آیتیں ہیں جن میں عام نصیحت کی باتیں،جنت ودوزخ کا تذکرہ اور فکر آخرت پیدا کرنے والی باتیں وغیرہ جس کو ہر عربی داں شخص سمجھ سکتا ہے؛بلکہ مستند ترجمہ کی مدد سے اپنی مادری زبان میں بھی ان آیات کو سمجھ سکتا ہے،ان آیات کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    "وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِر"۔ٍ
    (القمر:۱۷)
    اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے؛ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے؟۔

    دوسری قسم کی آیتیں وہ ہیں جو احکام وقوانین،عقائد اور علمی مضامین پر مشتمل ہیں ،اس قسم کی آیتوں کو پوری طرح سمجھنے اوران سے احکام ومسائل مستنبط کرنے کےلیےعلم تفسیرکاجانناضروری ہے ،صرف عربی زبان کا سمجھنااس کے لیے کافی نہیں ہے، صحابہ کرامؓ اہل عرب ہونے کے باوجودایسی آیتوں کی تفسیر اللہ کے رسولﷺسے معلوم کیا کرتے تھے،اس کی تفصیلی مثالیں اس مقالہ میں آچکی ہیں؛یہاں سمجھنے کے لیے ایک مثال پر اکتفا کیا جارہا ہے،روزوں سے متعلق جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
    "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ"۔
    (البقرۃ:۱۸۷)
    اورکھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سفید اور سیاہ دھاگے میں تمہیں فرق معلوم ہونے لگے۔

    اس آیت کو سننے کے بعدحضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ(۶۷ھ) نے سفید اورسیاہ دھاگے اپنے تکئے کے نیچے رکھ لیے؛ تاکہ جب دونوں ایک دوسرے سے ممتاز ہونے لگیں تو اس سے وہ اپنے روزے کی ابتداء کرلیا کریں؛اسی طرح اور ایک روایت میں حضرت سہل بن سعدؓ (۹۸۱ھ) کہتے ہیں:کچھ لوگ جنہوں نے روزے کی نیت کی ہوتی وہ اپنے دونوں پاؤں سے سفید اورسیاہ دھاگے باندھ رہتے اور برابر سحری کھاتے رہتے؛یہاں تک کہ وہ دونوں دھاگے آپس میں ممتاز نہ ہوجائیں،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سمجھا یا کہ یہاں سفید اورسیاہ دھاگے سے مراد دن کی سفیدی اورشب کی سیاہی ہے۔
    (بخاری،بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا،حدیث نمبر:۱۷۸۳، شاملہ، موقع الإسلام)

    الغرض !قرآن کریم کی تفسیر کرنے کے لیے علم تفسیر کا جاننا ضروری ہے،کسی بھی آیت کی تفسیر اپنی رائے سے کرنے والا غلطی پر ہے،خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا،قرآن کریم کی تفسیرسمجھنے کے لیے مستند تفاسیر کا مطالعہ کرنا چاہیے اور علماء سے استفادہ کرنا چاہیے،اس مضمون کے آخر میں مستنداردو تفاسیر کے نام ذکر کیے گئے ہیں ،درج ذیل احادیث میں تفسیر قرآن کی باریکی کا اندازہ ہوتا ہے :
    "مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ"۔
    جو شخص قرآن میں بغیر علم کے گفتگو کرے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
    "مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأ"۔
    جو شخص قرآن کے معاملے میں (محض) اپنی رائے سے گفتگو کرے اور اس میں کوئی صحیح بات بھی کہہ دے تب بھی اس نے غلطی کی۔
    (ترمذی،باب ماجاء فی یفسر القرآن ،حدیث نمبر:۲۸۷۴۔ ابو داؤد،الکلام فی کتاب اللہ بغیر علم،حدیث نمبر:۳۱۶۷)

    سابقہ تمام تفصیل سے یہ ثابت ہواکہ تفسیر قرآن مجید کے لیے کچھ ضروری علوم ہوتے ہیں جن کے بغیر تفسیر کرنا ایسا ہے جیسے بغیر آلات کے صناعی کرنا، کہ جیسے کوئی بھی فن بغیر آلاتِ ضروریہ کے نہیں آتا ایسے ہی ہر علم کا بھی یہی مسئلہ ہے؛ چنانچہ مفسرین اوراہل علم نے ضروری علوم کی تفصیل یوں بتلائی ہے:علم لغت،صرف ونحو، معانی ،بیان، بدیع ،عربی ادب، علم کلام،منطق ،حکمت وفلسفہ،علم عقائد،علم تفسیر،پھر اس میں درجات اہل علم کے ہاں مانے گئےہیں،چنانچہ ابتدائی لغت وصرف نحو ادب یہ عربی زبان سیکھنے اور اس کی باریکیوں کو جاننے کے لیے ہیں؛ کیونکہ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا نیز معانی بیان وبدیع وغیرہ اس کی رعنایوں کو سمجھنے ک لیے اورمنطق حکمت وفلسفہ کلام،دوسری زبانوں سے مستعا رعلوم کے ذریعہ جو گمراہیاں آ سکتی ہیں اس کے دفع کے لیے، پھر علم تفسیر کے اندر بھی کئی تفصیلات بتلائی گئی ہے؛ مثلا وحی اوراس کی ضرورت کو سمجھنا پھر وحی کی اقسام مثلاً، وحی قلبی، وحی ملکی، پھر وحی کی مختلف شکلیں جیسے صلصلۃ الجرس اورفرشتے کاانسانی شکل میں آنا،رویائے صادقہ ،نفث فی الروع، پھر وحی متلو وغیر متلو، پھر قرآن کریم کے نزول کے متعلق تفصیلات اورسورتوں کی تدوین مکی ومدنی ہونے کے اعتبار سے نیز بعض مدنی سورتوں میں مکی آیتیں اوربعض مکی سورتوں میں مدنی آیتیں کونسی ہیں اسکا استقصاء پھر قرآن کریم سات حروف پر نازل ہونے کا کیا مطلب ہے؛ پھر ناسخ و منسوخ آیتوں کی تفصیلات ،سبعہ احرف سے کیا مراد ہے اورحفاظت قرآن اورجمع قرآن کی تفصیلات پھر اس کے اندر دیئے ہوئے علامات وقف کی تفصیلات اوراسی میں پاروں کی تقسیم اوراس کے اعراب وحرکات سے متعلق تفصیلات پھر قرآن کریم میں جو مضامین ذکرکئے گئے ہیں،مثلا عقائد،واقعات اورایام اللہ وانعم اللہ،پھر آیات مقطعات و متشابھات ومحکمات وغیرہ کی تفصیلات،بہرحال یہ تو چندضروری علوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان کی تفصیل میں جائیں تو بہت وقت لگ جائے ۔

    اہم مفسرین کے نام مع تاریخ وفات

    جب اہم مفسرین کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے قرن اول یعنی صحابہ وتابعین کا ذکر ضروری ہوتا ہے۔

    لہٰذا سب سے پہلے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے اہم مفسرین کے نام آتے ہیں اوران میں سے بھی پہلے حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہیں جو مفسر اول کے نام سے جانے جاتے ہیں اورحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نام سے جو تفسیر فی زمانہ منظر عام پرآئی ہے تنویر المقیاس فی تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ حتی کہ اسکا اردو ترجمہ بھی شائع ہوگیا؛ لیکن حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں مانی گئی ہے ؛کیونکہ یہ کتاب "محمد بن مروان السّدّی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباسؓ"
    کی سند سے مروی ہے اوراس سلسلہ سند کو محدثین نے سلسلۃ الکذب قراردیاہے۔
    (دیکھئے الاتقان:۱۸۸/۲)

    بہرحال قرن اول کے مفسرین میں پہلانام حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے تاریخ وفات سنہ۶۸ھ۔

    دوسرانام حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وفات سنہ۴۰ھ۔

    پہلے تین خلفاء کی نسبت حضرت علی سے تفسیری روایات زیادہ مروی ہیں ؛چنانچہ علامہ ابوالطفیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ اپنے خطبے میں یوں فرمایا کہ لوگو!مجھ سے کتاب اللہ کے بارے میں سوالات کیا کرو؛ کیونکہ قسم خدا کی قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں مجھے معلو نہ ہوکہ یہ آیت رات کو نازل ہوئی یا دن میں میدان میں اتری یا پہاڑ پر۔
    ( الاتقان:۱۸۷/۲)

    تیسرا نام حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ متوفی سنہ۳۲ھ۔

    ان کی بھی کئی روایات تفسیر میں منقول ہیں؛ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں زیادہ منقول ہیں۔

    چوتھا نام حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ متوفی سنہ۳۹ھ۔

    حضرت ابی بن کعب اُن صحابہ میں سے ہیں جو تفسیر اورعلم قرأت میں مشہور ہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ، اَقْرَأُ کُمْ اُبَیْ ابْنُ کَعْبٍ، تم میں سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں۔
    (تذکرۃ الحفاظ للذھبی:۳۸/۲)

    حضرت ابی بن کعب کی علمی وقعت کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ حضرت معمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:
    "عَامَّۃُ عِلْمِ ابنِ عَبَّاسٍ مِنْ ثَلٰثَہٍ،عُمَر وَعَلِی وَاُبَیْ بنُ کَعبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ"۔
    (تذکرۃ الحفاظ للذھبی:۳۸/۲)
    ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بیشتر علوم تین حضرات سے ماخوذ ہیں،حضرت عمر وعلی وابی بن کعب رضی اللہ عنہم۔ٍ

    ان حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ اوربھی کچھ نام تفسیر کے سلسلہ میں منقول ہیں مثلا زید بن ثابتؓ، معاذ بن جبلؓ، عبداللہ بن عمروؓ، عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عائشہؓ ، جابرؓ ، ابو موسیٰ اشعری ؓ،انس ؓ اورحضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہم۔

    تابعین

    حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم نے چونکہ مختلف علاقوں اورمقامات میں پھیل کر قرآن کریم کی خدمت کا سلسلہ شروع کیا ،جس کی وجہ سے تابعین کی ایک بڑی جماعت اس کام کے لیے تیار ہوئی، جس نے علم تفسیر کو محفوظ رکھنے میں نمایاں خدمات انجام دیں، ان میں سے کچھ برائے تعارف پیش کئے جاتے ہیں:

    (۱)حضرت مجاہدؒ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں پورانام ہے ابوالحجاج مجاہد بن جبر المخزومی، ولادت سنہ۲۱ ھ اوروفات سنہ۱۰۳ھ۔

    (۲)حضرت سعید بن جبیرؒ،وفات۹۴ھ

    (۳)حضرت عکرمہؒ

    (۴) حضرت طاؤسؒ ،وفات۱۰۵ھ

    (۵)حضرت عطاء بن ابی رباح،وفات۱۱۴ھ

    (۶)حضرت سعید بن المسیبؒ،وفات۹۱ھ یا ۱۰۵ھ

    (۷)محمد بن سیرینؒ،وفات۱۱۰ھ

    (۸)حضرت زید بن اسلمؒ،وغیرہ۔
    (منقول از علوم القرآن:۴۶۱)

    تفاسیر کی اہم کتابیں

    مفسرین نے اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کئی نقطۂ نظر سے تفسیریں لکھی ہیں؛مثلاًادبی،عقلی اور کلامی وغیرہ،بعض نے تفسیر بالماثور بھی لکھی،بعض نے تفسیر اشاری یعنی صوفیانہ اندازپر تفسیرلکھی،غرض مختلف نقاط نظر سے قرآن کی خدمت کی گئی ہے۔

    تفسیر بالماثور میں اہم تفاسیر

    تفسیر طبری،تفسیر بحرالعلوم ازسمر قندی،الکشف والبیان عن تفسیر القرآن از ثعالبی، معالم التنزیل ازبغوی، المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب لابن عطیہ،تفسیر ابن کثیر،الدر المنثور فی تفسیر الماثور ازسیوطی،الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن ازثعالبی- خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

    تفسیر بالرائے کے نقطۂ نظر سے لکھی جانے والی کتابوں میں

    مفاتیح الغیب ازرازی،انوارالتنزیل واسرار التاویل ازبیضاوی،مدارک التنزیل وحقائق التاویل فی معانی التنزیل از خازن، غرائب القرآن ورغائب الفرقان از نیسا پوری،تفسیر جلالین، السراج المنیراز خطیب شربینی،روح المعانی از آلوسی۔وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

    صوفیانہ نقطۂ نظر سے لکھی جانے والی تفاسیر میں

    تفسیر ابن عربی، تفسیر فیضی،تفسیر القرآن العظیم از تستری، حقائق التفسیر ازسلمی، عرائس البیان فی حقائق القرآن وغیرہ ہیں۔

    فقہی نقطہ نظر سے لکھی جانے والی کتابوں میں:

    احکام القرآن ازکیاہراسی، احکام القرآن ازابن العربی،الجامع لاحکام القرآن از قرطبی،کنزا لعرفان فی فقہ القرآن، احکام القرآن للجصاص،احکام القرآن للتھانوی اور اردو میں ایک مختصر سی کتاب مولانا عبدالمالک صاحب کاندھلوی کی فقہ القرآن کے نام سے آئی ہے۔

    اہل کتاب کی روایات نقل کرنے والے حضرات

    عہد صحابہ اوراس کے بعد کے ادوار میں بھی تفسیر قرآن کے ماخذ کے طورپر یہودونصاریٰ رہے ہیں؛ کیونکہ قرآن کریم بعض مسائل میں عموماً اورقصص انبیاء اور اقوام سابقہ کے کوائف واحوال میں خصوصاً تورات کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اسی طرح قرآن کریم کے بعض بیانات انجیل سے بھی ملتے ہیں؛ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا واقعہ اوران کے معجزات وغیرہ۔

    البتہ قرآن کریم نے جو طرز و منہاج اختیار کیا ہے وہ تورات وانجیل کے اسلوب بیان سے بڑی حد تک مختلف ہے،قرآن کریم کسی واقعہ کی جزئیات وتفصیلات بیان نہیں کرتا، بلکہ واقعہ کے صرف اسی جز پر اکتفاء کرتا ہے جو عبرت وموعظت کے نقطۂ نظر سے ضروری ہوتا ہے، یہ انسانی فطرت ہے کہ تفصیلی واقعہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اسی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام اوربعد کے ادوار میں تابعین اور تبع تابعین حضرات اہل کتاب کے ان اہل علم سے جو حلقہ بگوش اسلام ہوچکے تھے قرآن میں ذکر کردہ واقعات کی تفصیل کے واسطے رجوع کیا کرتے تھے، اسرائیلی روایات کا مدار وانحصار زیادہ تر حسب ذیل چار راویوں پر ہے:

    عبداللہ بن سلامؓ، کعب احبار، وھب بن منبہ، عبدالملک بن عبدالعزیزابن جریج، جہاں تک عبداللہ بن سلامؓ کی بات ہے تو آپ کے علم وفضل میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور ثقاہت و عدالت میں آپ اہل علم صحابہ میں شمار ہوتے ہیں، آپ ؓ کے بارے میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں، امام بخاری ؒ اورامام مسلمؒ اوردیگر محدثین نے آپ کی روایات پر اعتماد کیا ہے۔

    حضرت کعب احبار بھی ثقہ راویوں میں سے ہیں،ا نہوں نے زمانہ جاہلیت کا زمانہ پایا اورخلافت صدیقی یا فاروقی میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ خلافت فاروقی میں آپ کے اسلام لانے کی بات مشہور تر ہے۔
    (فتح الباری ،۱۵۸/۱ حدیث نمبر:۹۵)

    آپ کے ثقہ اورعادل ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وحضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اپنی جلالت قدر اورعلمی عظمت کے باوجود آپ سے استفادہ کرتے تھے، امام مسلمؒ نے صحیح مسلم میں کتاب الایمان کے آخر میں کعب سے متعدد روایات نقل کی ہیں، اسی طرح ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے بھی آپ سے روایت کی ہیں؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کعب احبار ان سب محدثین کے نزدیک ثقہ راوی ہیں۔

    اسی طرح وھب بن منبہ کی جمہور محدثین اورخصوصاً امام بخاری ؒ نے توثیق وتعدیل کی ہے،ان کے زہد وتقوی کے بارے میں بڑے بلند کلمات ذکر کئے ہیں، فی نفسہ یہ بڑے مضبوط راوی ہیں ؛البتہ بہت سے لوگوں نے ان کی علمی شہرت وعظمت سے غلط فائدہ اٹھایا کہ بہت سی غلط باتوں کو ان کی طرف منسوب کرکے اپنے قد کو اونچا کیا اورلوگوں نےان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    ابن جریج اصلاً رومی تھے،مکہ کے محدثین میں سے تھے ،عہد تابعین میں اسرائیلی روایات کے مرکز ومحور تھے،تفسیر طبری میں نصاری سے متعلق آیات کی تفسیر کا مدار انہی پر ہے، ان کے بارے میں علماء کے خیالات مختلف ہیں، بعض نے توثیق کی ہے تو بعض نے تضعیف بھی کی ہے ،بکثرت علماء آپ کو مدلس قرار دیتے ہیں اورآپ کی مرویات پر اعتماد نہیں کرتے، مگر بایں ہمہ امام احمد بن حنبلؒ ان کوعلم کا خزانہ قرار دیتے ہیں؛ بہرحال ابن جریج سے منقول تفسیری روایات کو حزم واحتیاط کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔

    اہل کتاب کی روایات پر مشتمل کتب تفاسیر

    کوئی ایسی کتاب جس میں خاص اسرائیلی(اہل کتاب کی) روایات کے جمع کرنے پر توجہ دی گئی ہوایسی توکوئی تفسیر نہیں ہے؛ البتہ آیات کی تفسیر میں عموماً کتب تفاسیر میں اسرائیلی روایات بھی ذکر کی گئی ہیں، جس کا علم راوی کو دیکھ کر یا پھر ان کی بیان کردہ باتوں کو اصول شرعیہ کی روشنی میں پرکھ کر معلوم کیا جاسکتا ہے، مولانا اسیر ادروی صاحب کی ایک کتاب اردو میں" تفسیروں میں اسرائیلی روایات" کے نام سے آچکی ہے ،جس کے مقدمہ میں اسرائیلی روایات سے متعلق عمدہ بحث اکٹھا کردی ہے اورپھر جو اسرائیلی روایات ان کو معلوم ہوسکیں ان پر الگ الگ کلام کیا ہے اورمعتبر تفاسیر سے ان کا اسرائیلی روایات کے قبیل سے ہونا بھی ظاہر کیاہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں