مسجد البيعة (مسجد بیعت عقبہ)

ابوعکاشہ نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏دسمبر 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    مسجد البيعة (مسجد بیعت عقبہ)

    یہ مسجد منیٰ کے قریب جمرات کے پل سے اترنےوالےکا رخ مسجدالحرام کی طرف ہو تو دائیں جانب یہ مسجد واقع ہے ـ یہ جمعرہ العقبہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر اور مسجد جبل ثبیر کی ایک گھاٹی میں واقع ہے ـ جمرات اور اس کے ارد گرد کی پہاڑیاں صاف کرنے کی وجہ سے یہ سامنے نظر آنے لگے ہے ـ کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد ابوجعفر منصور عباسی نے 144ھ/761م میں تعمیر کروائی تھی ـ بعض کا کہنا ہے کہ اسے 244 ھ 861م میں کسی اور نے بنوایا تھا ـ پھر اس کی کئی بار تجدید ہوئی ـ اس کی آخری تعمیر سلطان عبدالمجید خان نے 1250ھ میں کرائی تھی ـ مسجد مستطیل شکل کی ہے ـ شرقا غربا اس کی لمبائی 25 میٹر ہے اورشمالاجنوبا 15 میٹر ہے ـ اس کا رقبہ 375 مربع میٹر ہے ـ یہ دو برآمدوں پر مشتمل تھا ـ ایک قبلے کی طرف جو چار مربع شکل کے ستونوں اور پانچ تکونی ڈاٹوں پرقائم ہے،دوسرا برآمدہ مسجد کے دوسری طرف تھا جو اب صرف مسجد کے صحن سے اونچے چبوترے کی شکل میں باقی ہے ـ

    مسجد البيعة کا پس منظریہ ہےکہ اس مقام پربنائی گئی ہے جس کے متعلق کہاجاتا ہےکہ یہاں بیعت عقبہ اولٰی 12 نبوی میں اور بیعت عقبہ ثانیہ 13 نبوی میں منعقد ہوئی تھی ،جب انصار سے نبی ﷺ نے بیعت لی تھی اور اس موقع پر آپﷺ کے چچا عباسؓ بھی موجود تھے ـ کعب بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : ہم اپنی قوم کے ساتھ حج کے لیے آئے جن میں مشرکین مدینہ بھی شامل تھے ـ ہم نمازیں بھی پڑھتے تھے اور دین کی سمجھ بھی رکھتے تھے ـ ہمارے ساتھ براء بن معرورؓ بھی تھے جوعمر میں بڑے اور ہمارے سردار تھے ـ کعبؓ آگے کہتے ہیں :ہم حج کے لیے آئے تو ہم نے ایام تشریق کے دوران میں عقبہ کی گھاٹی میں نبیﷺ سے ملنے کا وعدہ کیا ـ جب ہم حج سے فارغ ہو گئے اور نبیﷺسے کیے گئے وعدےکی رات آگئی تو وہ اپنے پڑاؤ سے نبیﷺ سے ملاقات کے لیے خفیہ طور پر نکلے حتی کہ عقبہ کے پاس گھاٹی میں جمع ہو گئے ـ ہم 70 مرد اور دو عورتیں تھے
    یہ اس مسجد کے قیام کا تاریخی پس منظر ہےـ یہاں بیعت کے لیے اجتماع اتفاقیہ تھا ، اس مقام کی فضیلت کی بناء پر نہیں تھا - یہ گھاٹی منیٰ میں حجاج کی آمدو رفت سے ہٹ کر الگ تھلگ واقع تھی اور بیعت بھی ایامِ تشریق کے درمیان ہوئی تھی ـ ایک صدی گزرنے تک یہاں کوئی مسجد نہیں تھی ــ بعض مورخین نے کہا کہ یہ مسجد دوسری صدی ہجری کے وسط میں بنائی گئی ـ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :انصار نے نبیﷺ سےعقبہ کی رات وادی جمرہ عقبہ کے پیچھے بیعت کی کیونکہ یہ منیٰ کے قریب نشیبی جگہ ہے ـ جو کوئی یہاں آئے وہ چھپ جاتا ہے ـ 70 انصاریوں نے اپنی قوم کے مشرکوں کے ہمراہ حج کیا ـ جیساکہ اسلام سے پہلے اور اس کے بعد لوگ حج کے لیے مکہ آتے رہے ہیں ، اسی طرح وہ لوگ بھی اپنی قوم کے ہمراہ حج کے لیے منیٰ آئے تھے ـ پھر رات کو وہ بیعت کی جگہ پہنچے تھے کیونکہ یہ منیٰ کے قریب اور لوگوں سے پوشیدہ تھی ـ انہوں نے اس مقام کی کسی خصوصی فضیلت کی بناء پر اس کا رخ نہیں کیا تھا ـ اور یہی وجہ ہے کہ جب نبیﷺاور آپ کے صحابہؓ نے حج ادا کیا تو وہ ادھر نہیں آئے اور نہ اس کی زیارت کی ''۔
    یہاں جو مسجد بنائی گئی ہے وہ عہد رسالت کے بعد کی تعمیر کردہ ہے اور مکہ کی ہر مسجد اور اس کے ارد گرد کی عمارات ، سوائے مسجدالحرام کے بعد ، بعد کی تعمیرات ہیں ـ اور خود منیٰ میں بھی عہد نبوی میں کوئی مسجد تعمیر نہیں ہوئی تھی ـ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں مساجد اسی طرح بنائی گئی ہے ، جسے جمعرات ہے اور مسجد خیف کے پہلو میں ایک مسجد ہے جو غار المرسلات کہلاتی ہے کیونکہ اس میں سورہ المرسلات نازل ہوئی تھی ـ نیز پہاڑ کے اوپر ایک مسجد ہے جسے مسجد الکبش کہاجاتا ہے ـ ایسی ہی اور مسجدیں ہیں ـ نبی ﷺ نے اس قطعہءزمین کے بارے میں ایسی کوئی ہدایت نہیں فرمائی کہ کوئی ارادہ باندھ کر یہاں پہنچے اور نماز پڑھے اور دعا مانگے ـ جہاں تک یہاں کی کسی شے کو چومنے یا اس سے چھونے کا تعلق ہے تو یہ افعال صاف ظاہر ہے کہ خلاف شریعت ہیں ـ علماء جانتے ہیں کہ ان باتوں کو شریعت نبوی سے کوئی تعلق نہیں ـ
    کتب حج کے مصنفین کے ایک گروہ نے مکہ اور اردگرد کی مساجد کی زیارت کے مستحب ہونے کا ذکر کیا ہے ـ ہم نے اوائل عمر میں حج ادا کرنے سے پہلے بعض شیوخ کے لیےکتب حج کی کتابت کرتے وقت علماء کی آراء جمع کی تھیں ـ تب ہم پر یہ واضح ہوا کہ یہ تمام باتیں بدعات میں شامل ہیں اور شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں اور مہاجرین و انصار میں سے سابق الاولین نے اس طرح کا کوئی عمل نہیں کیا تھا ـ نیز آئمہ علم و ہدایت ان باتوں سے منع کرتے ہیں ـ صرف مسجدالحرام ہی وہ مسجد ہے جس میں شریعت نے نماز، دعا ، طواف اور دیگر عبادات بجا لانے کا حکم دیا ہے اور مکہ میں واقع اس مسجد کے سوا کسی اور مسجد کا قصد کرنا خلافِ شریعت ہے ـ یہ درست نہیں کہ اس جگہ کوئی مسجد بنائی جائے جہاں شریعت کی خلاف ورزی ہو ـ اگر کوئی شخص ان مساجد میں جاکر دعا یا نماز وغیرہ میں مصروف ہوتا ہے تو اس سے کہیں بہتر ہے ک وہ عبادات مسجدالحرام میں بجا لائے ـ مسجد الحرا م کے سوا کسی اور مسجد کو باعث فضیلت جان کر قصد کرنا اور وہاں عبادت کرنا بدعت ہے اور شریعت کی خلاف ورزی ہے ـ

    مسجد البیعہ میں حاجیوں کے خلافِ شرع افعال
    بعض حاجی مسجد بیعتِ عقبہ میں متعدد خلافِ شریعت افعال کے مرتکب ہوتے ہیں ، انہیں ان کے ارتکاب سے بچنا چاہیے ـ وہ غیر شرعی افعال درج ذیل ہیں ـ
    1- عبادت کی نیت سے اس مسجد کا رخ کرنا اس کے تقدس اور فضیلت کا عقیدہ رکھنا ـ
    2- دیگر مساجد کے مقابلے میں اس مسجد میں نماز کی فضیلت کا اعتقاد رکھنا ـ
    3- اس مسجد میں ارادتاً جا کر دُعامانگنا
    4-اس میں اجتماعی دُعا کرنا
    5- اس کی دیواروں پر کچھ لکھنا
    6- اس کی دیواروں اور اس کے دروازوں کو متبرک جانتے ہوئے چھونا اور اس کی مٹی سے تبرک حاصل کرنا
    7-لکھی ہوئی پرچیاں ، نقدی ، تصویریں یا کپڑے کے چیھتڑے مسجد کی دروازوں میں رکھنا ـ

     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    منیٰ کی مسجد 'البیعۃ' اسلام میں بیعت اولیٰ کی زندہ نشانی

    عالم اسلام کے تاریخی اسلامی شہروں کا مساجد کی تفصیل اور تذکرے کے بعد تعارف ادھورا ہوگا۔ ایسے ہی مکہ معظمہ کا تذکرہ بھی مساجد کے تعارف کے بغیر نا مکمل ہے۔ شہر مکہ میں مسجد حرام کے علاوہ کئی تاریخی مساجد شہرکی اسلامی عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔ ان میں سے بعض مساجد کا براہ راست ربط نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔

    انہی تاریخی مساجد میں ایک منیٰ کے مقام پر 'مسجد بیعت' ہے۔ یہ مسجد اسلام کی پہلی بیعت کی زندہ علامت ہے۔ یہ مسجد اگرچہ نئے خطوط پر تیار کی گئی ہے مگر اسلامی تاریخ کی ایک عظیم یادگارکے طور پر آج بھی اپنی آفاقی اہمیت رکھتی ہے۔

    'مسجد بیعۃ' جمرہ عقبہ کبریٰ سے 500 میٹر کی مسافت پر ہے۔ یہ ایک ایسا مصلیٰ ہے جو اوپر سے کھلی اور چھت کے بغیر ہے۔ ایک محراب، شمال میں منیٰ کی طرف ایک بڑا صحن، جنوب میں جبل ثبیر اور الانصار گھاٹی واقع ہیں۔

    مسجد میں پتھر کی دو سلیں نصب ہیں۔ ایک پتھر پر 'امر عبداللہ امیر المومنین اکرمہ اللہ ببنیان ھذا المسجد' کی عبارت کندہ ہے۔ اس عبارت سے عباسی خلیفہ کی طرف اشارہ ہے۔ شامی اور یمانی اطراف میں 23 ہاتھ لمبی اور ساڑھے چودہ ہاتھ چوڑی دو گیلریاں ہیں۔ ان پر تین گنبد ہیں اور دو دروازے ہیں۔ محراب سے مسجد کے دوسرے کونے تک 23 ہاتھ کا فاصلہ ہے۔

    مسجد کی تعمیر
    تاریخ مکہ مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فواز الدھاس نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد البیعۃ الانصار گھاٹی میں تعمیر کی گئی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انصار مدینہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب بھی موجود تھے۔ اس جگہ پر عباس خلیفہ ابو جعفر المنصور نے مسجد تعمیر کی۔ یہ مسجد 144ھ میں مکمل ہوئی۔ بعض تاریخی مصادر اور ماخذ سے پتا چلتا ہے کہ عباس خلیفہ المستنصر باللہ نے 629ھ کو اس کی دوبارہ مرمت کی تھی۔

    سعودی مورخ کا کہنا ہے کہ آپ علیہ السلام عرب قبائل کو دین حق کی دعوت دینے اکثر بڑے بازاروں میں جاتے۔ سرزمین حجاز میں اس وقت حج کے موسم میں عکاظ کا میلا لگتا، اس کے علاوہ مجنہ، ذی المجاز، عرفہ اور منیٰ میں بھی ایسے بازار لگائے جاتے۔ آپ ان میلوں میں جاتے۔ ایک ایک گھر اور ایک فرد تک پہنچتے اور پکار پکار کرفرماتے کہ' اے فلاں ابن فلاں میں اللہ کا رسول ہوں۔ مجھے اللہ نے تمہارے لیے مبعوث کیا ہے۔ مجھے حکم ہے کہ میں تمہیں اللہ کی عبادت کی طرف بلائوں، شرک سے روکوں۔ لہٰذا تم مجھ پرایمان لائو، میری تصدیق کرو، اگر میں بعثت کے حوالے سے اللہ کے احکامات سے روگردانی کروں تو مجھے روکو'۔

    ایک سوال کے جواب میں الدھاس نے کہا کہ یثرب کے قبائل کو اللہ کے رسول کے دعوت حق پیش کی۔ یہودیوں کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے یہ قبائل سچے دین کی دعوت کو مانتے گئے۔ یہ قبائل یہودیوں سے اکثر یہ سنا کرتے کہ تورات کے پیروکار ایک نبی کے مبعوث ہونے کی پیشن گوئی کرتے۔ اسی طرح اوس اور خزرج قبائل کے درمیان پائی جانے والی عداوت اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے میں یہودیوں کے کردار نے قبائل کو آخری نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے کا موقع فراہم کیا۔

    مشرف بہ اسلام ہونے سے قبل قبائل کی طرف سے آپ کے پاس مشاورتی وفود بھیجے گئے۔ ان وفود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ پھر اپنے قبائل کو دین حق کے بارے میں بتایا۔ بعثت نبوی کے 11 ویں برس جزیرۃ العرب میں اسلام اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چرچے عام ہوگئے تھے۔ اوس اور خزرج کے قبائل کے 12 نمائندہ افراد نے منیٰ کے مقام پر آپ علیہ السلام سے ملاقات کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام کو بیعت الانصار یا انصار کی گھاٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے جبل الرخم اور جبل الحکمت کے نام بھی دیے جاتے ہیں۔

    بشکریہ، العربیہ نیوز
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں