تنقید المسائل/رد جماعت اسلامی/محدث گوندلوی رحمہ اللہ

ابوعکاشہ نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏دسمبر 22, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    تنقید المسائل

    بعض مسائل میں مولانا مودوی صاحب کی تردید


    مصنف/ شیخ الحدیث مولانا محمد صاحب گوندلوی رحمہ اللہ


    ناشر/ محمد اسلم


    ڈاؤن لوڈ لنک ۔ ( ---------- )

     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی

    اقتدارکی خواہش عجیب چیز ہے، انسان جب تک زندہ رہتا ہے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ـانگریز کےاقتدار میں جب تزلزل آیا تومختلف سیاسی جماعتیں اقتدار پرقبضہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئیں ـ ہندومسلم تصادم نے ملک میں کئی نظریے پیدا کردیےجو اپنے اپنے نہجِ وسوچ کے مطابق ملک میں کام کرنے لگے-
    مولانا مودودی صاحب نے اپنی زندگی کا آغاز اخبارنویسی سے فرمایا ، الجمعیہ وغیرہ اخبارات میں کام کرتے رہے ، پھر حیدرآباد دکن سے ''ترجمان القرآن'' شروع کیا ـ ''ترجمان القرآن ''نے ہندومسلم اتحاد کے بعض نقصان دہ پہلوؤں کو نمایاں کیا جسے مسلمان نظرانداز کررہے تھےـ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ وہ لوگ اسے سمجھ نہیں رہے تھے البتہ یہ خیال ضرور تھا کہ ایسے مناقشات سے انگریز کی عمر بڑھ جائے ـ مولانا مودودی نے ان مصالح سے بے نیاز ہو کر کانگرس اور لیگ پرتنقیدکی،جس سے انگریز پرست حلقوں کو بہت امداد ملی اوراس طبقے نے اسے بہت اچھالا ، جس سے مولانا ایک لیڈر کی حیثیت سے ملک کے سامنے آئے ـ مخالف حلقوں نے مولانا کی تحریروں کو خریدا اور تقسیم کیا ،امریکہ اور برطانوی حلقوں میں بھی اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ، مولانا کی صلاحیتوں کی نمائش کے لیے یہ خلافِ امید چانس تھا ـ مولانا کی تحریرات میں دینی ذہن اور مولانا کی تحریک میں دینی مزاج کی نمائش ہے ـ اس سے یہ فائدہ بھی ہوا کہ خاکسار،کیمونزم ایسی تحریکات نے نوجوان ذہن میں جس قدرلادینی جراثیم پیدا کیے تھے ان کو اس تحریک سے فائدہ ہوا ـ
    لیکن مولانا کا زیادہ تر علم مولانا کی ذہانت اور ذاتی مطالعہ کا مرہون منت ہے ، انہوں نے مستند اساتذہ سے تلمذ کا موقع نہیں پایا اور نہ مروجہ اسفارِ دینی سے باقاعدہ استفادے کی کوشش ہی فرمائی ہے ، اس لیے مولانا کے اجتہادات میں بعض نمایاں خامیاں ہیں،حدیث کے متعلق ان کا نظریہ عموما انکارِ حدیث کی سرحدوں تک پہنچ جاتا ہے،اعمال میں بھی اس قدرتساہل ہے کہ بےعمل اور بدعمل لوگوں کو وہاں پناہ مل جاتی ہے ـ جماعت کے مخصوص نظریات ہیں ـ مخصوص شکل ہے اور اب وہ بلکل ایک فرقہ کی صورت اختیار کر چکی ہے ـ مولانا کےمعتقدین پیرپرستوں کی طرح مولانا کی نظر سے دیکھتے ، مولانا کی زبان بولتے اور مولانا کے دل سے سوچتے ہیں ، فرقہ پرستی میں یہی برائی ہے جو اس جماعت میں کافی حد تک پیدا ہو چکی ہے ـ ہم مولانا حافظ محمد صاحب کےممنون ہیں کہ انہوں نے پیش نظرکتاب ''تنقید المسائل'' میں اپنے مخصوص عالمانہ انداز سے ان نقائص کی نشاندہی فرمائی ہے ـ امید ہے کہ عامتہ السلمین اورمولانا مودودی صاحب کے معتقدین کتاب کوانصاف کی نظر سے پڑھیں گے اور اس سے فائدہ اٹھائیں گے ـ

    بندہ
    محمد اسلم
    خطیب جامع اہلحدیث ، گجرانوالہ
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الحمد للہ رب العالمین،والصلوة والسلام الائمان الاکملان علی خاتم النبیین،وعلی آله واصحابه الی یوم الدین،وعلی من تبعھم من فقھاء الدین وعلماء الشرع المتین ـ

    جماعت بندی کا رواج :
    اما بعد ! برادران اسلام کی خدمت میں التماس ہے کہ آج کل جماعت بندی کا رواج ہے ـ ہر شخص ، جو سیاسی کام کرنا چاہتا ہے ، کسی نہ کسی نام سے جماعت بناتا ہے ، نام میں جدت ملحوظ ہوتی ہے ، چنانچہ اسلامی جماعت کے نام سے بھی ایک جماعت بنائی گئی ہے ـ ان کا خیال ہے کہ یہ وہی جماعت ہے جس کو انبیاء نے قائم کیا تھا ، جو مقصد انبیاء کی جماعت کا تھا وہی مقصد اس جماعت کا ہے ـ
    (اس کی مثال اس طرح ہے کہ لیموں کا درخت لگا کر توقع آم کی رکھی جائے یا پشاور کے راستے پر چل کر دہلی پہنچنے کی آرزو ہو ـ (مؤلف))
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    انبیاء کا مقصد اور اس کا سائنٹیفکٹ طریقہ
    ان کے خیال میں انبیاء کا مقصد حکومتِ الہیہ کا قیام تھا ـ اس کا سائنٹیفیکٹ طریقہ یہی ہے کہ آہستہ آہستہ اس جماعت کو چھوٹے پیمانے سے شروع کر کے ترقی دے کر ایک مضبوط جتھا بنایا جائے اورجہاد کبیر کرکےاقتدار اپنے ہاتھ میں لےلیا جائےـ مسلم لیگ کا نکتہ نگاہ کہ ملک کی تقسیم مذہب کی بناء پرکرنے کے بعد آئین اسلامی کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے،بلکل غلط اور غیر فطری طریقہ ہےـ حکومت الہیہ کے قیام کے لیے یہ غلط راستہ ہے ـ
    مگرمسلم لیگ کےکامیاب ہونےاور پاکستان بننے کے بعد ان کی تحریرات میں فرق آگیا ہےـاب وہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ مسلم لیگ طریق پربھی حکومتِ الہیہ قائم ہوسکتی ہے بلکہ قراردادِ مقاصد کے پاس ہونے پر یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ اب اسلامی حکومت بن چکی ہے،صرف مشینری میں ردوبدل کی ضرورت ہے،اگر قیادت صالحہ قائم ہو جائےتوآئینِ اسلامی(جس کا اقرارہو چکا ہے ) نافذ کیا جاسکتا ہےـگویا ان کے قول کے مطابق لیموں کے درخت سےاب آم کی توقع ہے اور پشاور جانے والادہلی پہنچ سکتا ہے ـ
    ان کے جدید نظام عمل پر غور کرنے سے دو باتیں ذہن میں آتی ہیں :
    1- یا تو بانی جماعت نےحالات کےفیصلے کوصحیح سمجھ کر اپنی پہلی روش سے رجوع کیا ہے اوریہ جان لیا ہےکہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے وہ طریقہ کار ضروری نہیں جس کو واحد طریقہ اورسائنٹیفک راستہ بتاتے تھےـجس کےمتعلق ان کا خیال تھا کہ جو شخص اس کے سوال کسی دوسرے طریق کو اختیار کرتا ہے وہ پشاور کے راستے پر چل کر دہلی جانے کی توقع رکھتا ہے یا درخت تو لیموں کا لگاتا ہے مگر توقع انار کی رکھتا ہےـ اگر ان کے خیال میں تبدیلی ہو چکی ہے تو ان پر لازم ہے کہ پہلے طریقہ کار کےغلط ہونےکا اعلان اورمسلم لیگ کے طریقِ کار کا حالاتِ حاضرہ میں سائینٹفک طریقہ ہونے کا اقرار کریں ـ
    2- یا بانی جماعت کاخیال وہی ہے مگر حالاتِ حاضرہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی روش میں تبدیلی کی ہے کیونکہ حالات حاضرہ میں اس طریقے کی دعوت ایک فیل شدہ طریق کی دعوت ہے ، لہذا اس کا ذکر مناسب نہیں مگر اپنی جماعت کو تقویت دینے کے لیے آئینِ اسلامی کےنفاذ کی دعوت اور قیادت صالحہ سے خوش کن الفاظ جماعت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں ـ پاکستان کے قیام کے ساتھ جو رکاوٹ ان کے پہلے طریقہ کار میں پیدا ہو چکی ہے اس کو معمولی لفظی رد وبدل سے دور کرنا چاہتے ہیں ـ کیونکہ لوگ جب ان کے ساتھ وابستہ ہو کر یا ان کے مقصد سے متفق ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملائیں گے تو شاید ان کو اقتدار پر قبضہ کرنے کا موقع ہاتھ آ جائے اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ اسی طریقے پر اچھی طرح عمل کرسکیں ، یعنی جو داخلی رکاوٹیں ان کے ذہن میں ہیں جہاد کبیر کر کے دور کرسکیں ـ
    اس بنا پر ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے سابق نظریہ (جس پر جماعت کی بنیاد ہے ) اور بعد کی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے ـ ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ ، جومنطقی ربط کے دلدادہ اور خوش کن الفاظ سے متاثر ہونے کے خوگر ہیں ، غلط فہمی میں مبتلا ہو کر صحیح راستے سے اکھڑ جائیں ـ
    قبل اس کے کہ ہم مودودی صاحب کی روش قدیم و جدید کا جائزہ لیں ، ضروری خیال کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے نام پر کچھ لکھیں ـ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ دین (جو عقائد ، عبادات ، اخلاق اور معاملات کے مجموعہ کا نام ہے ) کا ماخذ چار چیزیں ہیں :1-کتاب اللہ ، 2-حدیث شریف ،3-اجماعِ امت (جس کی سند کتاب و سنت میں موجودہو)، 4-صحیح قیاس(جس کی اصل کتاب و سنت ہے )- اجماع اور قیاس انھی دوپرمتفرع ہیں ـ کتاب اللہ متن اور حدیث اس کی تفسیر اور بیان ہے ـ اجماع حقیقت میں طریقِ عمل ہے ، قیاس عام طور پر استدلال خفی کو کہتے ہیں ـ حدیث کے ضبط اور اس سے استنباط کرنے میں محدثین یدطولٰی رکھتے ہیں ـ مسائل ضروریہ کے استقصا اوراحکام کے مراتب کی تدقیق میں اہل تخریج کا پلہ بھاری ہے ـ فقہائے حدیث میں سب مجتہدین اور اکابرمحدثین داخل ہیں ، ان کی دو قسمیں ہیں : ایک اہل تخریج اور ایک اہل حدیث ـجو فریق اختلاقی مسائل کے لینے اور سمجھنے میں روش رکھتا ہے (کہ پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرکے پھر اجماع کی طرف رجوع کرنا اس میں داخل ہے کیونکہ اجماع کی سند دو چیزیں ہیں ، پھر اقوال صحابہ کی طرف توجہ کی جائے ، اگر ان کا اتفاق ہوتو ، ورنہ ان کا وہ قول لیا جائے جو کتاب و سنت کے زیادہ قریب ہو ، اگر جواب نہ ملے تو وہ قول لیا جائے جہاں اصل اور فرع میں مؤثر میں فارق نہ پایا جائے ) اہل حدیث کہلاتا ہے ـ
    اور جو فریق اجماعی مسائل کے بعد کسی مجتہد کی طرف رجوع کرے اور اس کے طریق پر مسائل اختلافیہ کا جواب تلاش کرے ، وہ اہل تخریج کہلاتا ہے ـ یہ فریق رفتہ رفتہ سابق مجتہدین میں سے کسی ایک کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ـ
    اہلحدیث چونکہ طریقِ استدلال کلی رکھتے ہیں ، یعنی استنباط کی بنا کسی خاص مجتہد کی روش کو قرار نہیں دیتے بلکہ حقیقتِ حال کی جستجو میں اسی ماخذ کولیتے ہیں جو کتاب وسنت کے زیادہ قریب ہو خواہ کسی مجتہد کا طریقہ کار ہو ـ اس لئے جزئیات کا استقصا دائمی شریعت سجمجھ کر نہیں کرتے ـ ہاں ، اہل تخریج کے طریق سے ظنِ غالب کی بناء پر ضرورت کے وقت مستفید ہوتے ہیں ـ حقیقت میں دونوں گروہ ایک ہی مقصد کے خواہشمند ہیں ـ یعنی شارع کی مرضی معلوم کرنا چاہتے ہیں ـ
    جیسے طریق استدلال میں امت کی دو قسمیں ہیں : ایک اہل حدیث اور ایک اہل تخریج ـ عقائد کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں ـ ایک اہل حق اور ایک اہل ہوی ـ اہل حق وہ ہیں جن کے عقائد کی بنیاد کتاب و سنت اور اجماع پر ہو ـ اہل ہوی وہ ہیں جن کے عقائد میں کشف ، رائے اور فلاسفہ کے اختیار کردہ امورکو دخل ہو، جو آیت و حدیث ان کے خیال میں عقل ، کشف اور فلسفہ کے خلاف ہو اس کی تاویل کریں ـ
    سیاست کے اعتبار سے بھی دوگروہ ہیں : ایک اہل حق ، جو اس معاملہ میں کتاب وسنت کی طرف رجوع کرتے ہیں ، دوسرے وہ لوگ ہیں جو بجائے کتاب وسنت کے یورپ و روس کے نظام کی نقل اتارنے کی کوشش کرتے ہیں ـ یہ سیاست اہل باطل ہیں ـ اہل حدیث ہوں یا حنفی وغیرہ عقائد اور سیاست میں کتاب و سنت کو مدار قرار دیتے ہیں ، صرف طریق استدلال میں اختلاف ہے ـدونوں گروہوں میں مسلک کے پابند کم ہیں ـ بدعمل زیادہ ہیں ، قلت و کثرت میں تفاوت ہے ـ
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    نظم اور اسلامی فرقے
    اسلام نے سوائے اسلام کے کسی اور چیز کو مسلمان کہلانے یا بننے کے لیے مرکزی چیز قرار نہیں دیا ، یعنی اسلامی جماعت میں داخل ہونے یا مسلم کہلانے میں کسی نسل ، کسب ، رنگ ، وطن اور زبان کا اعتبار نہیں کیا ، یہاں تک کہ ہجرت ونصرت کی (جس کی وجہ سے مہاجر و انصار کے نام سے ایک رسی امتیاز پیدا ہوگیا تھا) بنا پر بھی ایسی جماعت نہیں بنائی جا سکی جو اسلام کی قائم مقام ہو ، اسی طرح تقویٰ و پرہیزگاری کو بھی ایسی جماعت کی بنا قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسلامی عقیدہ ہی مرکزی چیز قرار دیا جا سکتا ہے جو کتاب و سنت سے صاف طور پر ثابت ہو ـ عمل اگرچہ لازم ہے مگر اس کا لزوم عقیدے کا ہم پلہ نہیں ، اس لیے اس کو اسلامی جماعت کے لیے مرکزقرار نہیں دیا جا سکتا ہے ـ عمل سے مراد یہاں کام کرنا ہے نہ کہ التزام، متابعت کا التزام تو ایمان و نجات کے لیے لازم ہے ـ
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    اسلام کے اندر فرقہ بندی
    ہرگروہ جو دوسرے گروہ کو مسلمان سمجھتا ہے دوسرے گروہ سے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے نام تجویز کرسکتا ہے ، جس کی بنا وہ خصوصیات ہوں جن کی بنا پر وہ فرقہ دوسرے فرقہ سے ممتاز رہے ـ یہ نام اسلامی جماعت ، مسلم یا مسلمان وغیرہ عام ناموں سے ، جو اسلام کے ہم معنی ہیں ، الگ ہو گا ، اگرچہ ہر فرقہ رسمی امتیاز کے باوجود اپنی مذہبی جماعت ہی کواسلام کی آخری تعبیر قرار دیتا ہو اور دوسرے گروہ میں اپنے امتیازات کی وجہ سے انحراف خیال کرتا ہومگر اس کو عام نام اختیار کرنا اپنی تعریف و امتیاز کے لیے ٹھیک نہیں کیونکہ یہ عام نام دیگر اہل مذاہب کے مقابلہ میں ہے ، نہ کہ دیگر اسلامی فرقوں سے ممتاز کرنے کے لیے ـ
    اگر اسلامی جماعت کی تعبیر ان عقائد و اعمال کو قرار دیا جائے جن کو ایک فریق اپنے دعوے میں کتاب و سنت کا متقضیٰ خیال کرتا ہے تو اس صورت میں ہرگروہ کوحق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کا نام دے اگرچہ اس نام میں ثبوتی مفہوم '' ہماری جماعت اسلامی ہے '' کے لحاظ سے کوئی جرم نہیں ، مگر اس لحاظ سے کہ یہ جماعت دوسری جماعتوں سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے یہ نام استعمال کرتی ہے، یعنی یہ کہتی ہے کہ دوسری جماعتیں اسلامی نہیں تو اس صورت میں دوسرے فرقوں پر ایک خاص طنز پائی جاتی ہےجو نفرت و بغض کی جڑ اور الفت و محبت کے منافی ہے ـ اس واسطے کسی گروہ کو یہ جائز نہیں کہ عام نام استعمال کرے ، صرف کفارکےمقابلہ میں اس نام کو استعمال کرنا چاہیے ، یہی وجہ ہے کہ اب اسلامی فرقوں میں سےکسی فرقہ نے بھی اپنی جماعت کا نام جماعت اسلامی اس معنی کے اعتبار سےقرارنہیں دیا،اگرچہ ہرفرقہ اپنے فرقے کو اسلامی جماعت ہی کی دوسری تعبیرکرتا ہے ـ
    پس اگر کوئی نیا فرقہ یہ خواہش لے کر اٹھےکہ میں بلا تعصب ہرفریق سے صرف حق لیکر اعتقاد و عمل کو درست کرتا ہو ، اور وہ خیال کرنے لگے کہ اس صورت میں جو اعتقاد و عمل ہو گا وہ عین اسلام ہو گا ، اس لیے میں اپنے فرقہ کا نام اسلامی جماعت رکھوں تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ یہ بھی دراصل اس کے فہم ہی کی ایک تعبیر ہو گی ، پس اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے فرقوں سے اسلامی جماعت کا نام مختص کر کے خود ہی اس کا اجارہ دار بن جائے ـ ہاں ـ اپنے اعتقادات و اعمال کو عین اسلام خیال کرے تو ایک حد تک درست ہے ، پس کوئی فرقہ گروہ بندی کی حیثیت سے اپنے آپ کو نہ صرف مسلم کہلا سکتا ہے ، نہ اپنی جماعت کو اسلامی جماعت سے مشہور کر سکتا ہے ـ
    اگر کوئی گروہ مذہبی ، فقہی اور اعتقادی نہ ہو ، ایک خاص شے کو لیکر اٹھے جو کفار کے مقابلہ میں ہو اور اس کا تعلق عامتہ السلمین سے ہو ، کسی فرقہ کے ساتھ اس کی خصوصیات نہ ہو ، نہ کسی فرقہ کے آرائے خصوصیہ سے اس کا تصادم ہو ، جیسے آزادی یا تعلیم یا عام مسلمانوں میں اخوت و اتفاق پیدا کرنا ، تو اس قسم کی تحریک اگر بین المذاہب عمومی نام اختیار کرے تو ہو سکتا ہے مگر اس کواس نام میں خاص اعتقادات و اعمال کا داخل کرنا درست نہیں ـ
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    کس فرقہ کو عام نام استعمال کرنا جائز ہے اور کس کو منع ہے ؟
    پس اس زمانے میں جو لوگ اپنی اپنی جماعتوں کو ایسی عام تعبیر دے دیتے ہیں ،ان جماعتوں کی دو قسمیں ہیں :

    1-اس جماعت کی بنیاد اعتقادات اور سب اعمال پرہو، اگراس خیال میں اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کہیں تو دوسرے فرقے پر غیر اسلامی ہونے کی طنز سمجھی جائے گی جو کسی صورت میں بھی جائزقرارنہیں دی جاسکتی ، جیسے مودودی جماعت کا حال ہے کہ وہ اپنی جماعت کو بیک وقت تہذیبی اور سیاسی بلکہ کل اسلام سے عبارت سمجھتے ہوئے اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کہتے ہیں ـ
    2-اگر اس جماعت کا مدار کوئی ایسا امر ہو جس کو تمام مسلمانوں کے فرقے مانتے ہیں جیسے تعلیم یا آزادئ یا ایسی چیزیں جس پر اہل اسلام کے تمام فرقے ہیں تو اس صورت میں تعلیمی جامعات ، انجمن اسلامیہ ، اسلامیہ سکول یا سیاسی جماعت کو ، جو کفارکے مقابلہ میں تیار کی گئی ہو ، مسلم لیگ وغیرہ کہ سکتے ہیں کیونکہ اس کا تعلق کسی خاص فرقے کے ساتھ نہیں ہے ـ
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    جماعت کا نام / ایک غلط فہمی کا ازالہ
    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن نے ہمارا نام مسلمین رکھا ہے اور اس امت کو امت مسلمہ کہا ہے اورحنفاء کا لقب دیا ہے ، اس واسطے کیا حرج ہے اگر ایک جماعت اپنے آپ کو جماعت المسلمین یا جماعت مسلمہ یا اسلامی جماعت کہے بلکہ یہ عین مقتضائے کتاب اللہ ہے ؟
    بظاہر یہ استدلال صحیح معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے اس کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے ـ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی چیزیں ایک دوسرے سے بعض باتوں میں مشابہ ہیں ، یعنی بعض امور ان میں مشترک طور پر پائے جاتے اوربعض باتوں میں ایک دوسرے سے ممتاز ہیں،مثلا: زید وعمر میں بعض باتیں مشترک طورپرپائی جاتی ہیں،جیسے نطق ، ضحک ، استوا ، اقامت بدنی ، زندگی کی قابلیت ، منصب اور علم کی اہلیت وغیرہ وغیرہ اور بعض باتیں ایسی ہیں جو صرف زید میں پائی جاتی ہیں اور عمرو میں نہیں پائی جاتی ہیں ، اور بعض باتیں صرف عمرو میں ہی پائی جاتی ہیں نہ کہ زید میں ـ ان خصوصیات کو مشحصات کہتے ہیں ـ مذکورہ بالا مشترک امور کی بناپرزید وعمرو کو مشترک لفظ انسان سے تعبیرکرتے ہیں اور خصوصیات کی بنا پر زید وعمروکہتے ہیں ـ اسی طرح زید اور گھوڑے میں بعض چیزیں مشترک ہیں جن کی بناء پر دونوں کو جاندار کہتے ہیں ، اور بعض ان کے اپنے اپنے مخصوص اوصاف ہیں جن کی وجہ سے زید کو انسان اور گھوڑے کو گھوڑا کہتے ہیں ـ یہ قاعدہ ہے جب ایک نوع کے افرا کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنا ہو (جیسے انسان کے افراد کو ایک دوسرے سے الگ الگ بیان کرنا مقصود ہو ) تو اس صورت میں خاص خاص نام(زید وعمرووغیرہ)استعمال کیے جاتے ہیں جب ایک جنس (حیوان ) کے انواع (انسان ، گدھا ، گائے ) کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنا ہو تو خاص خاص انواع کے نام لیے جاتے ہیں ـ جب زید کو گھوڑے سے ممتاز کرنا ہو تو زید کو انسان کہیں گے ، اگر زید کو عمرو سے ممتاز کرنا ہو تو زید کہیں گے ، اسی طرح اگر کسی صنف سے ممتاز کرنا ہو تو مرد یا بندہ وغیرہ نام لے کر ذکر کریں گے (تفصیل کے لیے دیکھیے : المواقف للایجی 1/316،317)
    اب غور کرنا چاہیے کہ امتِ مسلمہ یا مسلمین یا اہل اسلام یا اسلامی جماعت کا لفظ تمام مسلمانوں پر بولاجاتا ہے،اگرچہ لغوی معنی کے اعتبار سے سب سابق انبیاء علیہم السلام کے متبعین کو ان ناموں سے تعبیرکرسکتے ہیں مگرعرف میں صرف محمد ﷺ کے متبعین کو ہی مسلمان کہتے ہیں کیونکہ دوسرے ادیان سب منسوخ ہو چکے ہیں ، اب نسخ کے بعد ان کے متبعین مسلمین نہیں کہلا سکتے ـ

     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    اسلامی جماعت کا نام
    اب کوئی فرقہ اگر کسی خصوصیت کو لے کراٹھتا ہے جو دوسرے فرقوں سے اس کو ممتاز کرے تو اس صورت میں عام نام سوائے منفی معنی کے کچھ مفہوم نہیں رکھتا ہے ـ پس اس صورت میں کسی نئے فرقہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کے نام سے موسوم کرے ، پس جو فرقہ اپنی جماعت کا نام اسلامی جماعت رکھتا ہے وہ دراصل اپنے سوا باقی فرقوں کو غیرمسلم قراردیتا ہے ، یعنی ان کی جماعتیں اسلامی جماعت نہیں ، جیسے آجکل مودودی فرقہ اپنی جماعت کو ، جو ان کے خیال میں عین اسلام ہے ، اسلامی جماعت کے نام سے موسوم کرتا ہے ـ
    دوسرے فرقوں سے اسلامی جماعت کے نام کی نفی ، جو ان کے اختیارکردہ نام سے الزاما سجھی جاتی ہے ، ان کی بعض عبارات میں اس کی تصریح بھی موجود ہے جس سے ان کی نزدیک دوسرے فرقوں کی حیثیت اور مقام معلوم ہوتا ہے ـ ان کے خیال میں ہندوستان کے مسلمانوں پر حجت قائم ہو چکی ہے ـ اب ان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا تو اس تحریک کو قبول کرلیں یا یہودیوں کی طرح رد کردیں ـ
    روئیدادِ جماعت اسلامی حصہ دوم (ص:13) میں ہے :
    '' اس موقع پر میں ایک بات نہایت صفائی کے ساتھ کہ دینا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ اس قسم کی دعوت کا جیسی ہماری دعوت ہے ، کسی مسلمان قوم کے اندراٹھنا اس کو ایک بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے ، جبتک حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے رہیں ایک مسلمان قوم کے لیے ان کو قبول نہ کرنے اور ان کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول سبب موجودرہتا ہے اور اس کا عذر مقبول ہوتا رہتا ہے مگر جب پورا حق بلکل بے نقاب ہو کر اپنی خالص صورت میں سامنے رکھ دیا جائے اور اسکی طرح اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کودعوت دی جائے تو اس کے لیے ناگزیرہوجاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے اور اس خدمت کو سر انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑی ہو ، جو امت ِ مسملہ کی پیدائش کی اصل غرض ہے ، یا پھر اس کورد کرکے ویسی پوزیشن اختیار کرے تو اس سے پہلے یہودی اقوام اختیار کرچک ہے ـ ایسی صورت میں ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کی گنجائش اس قوم کے لیے باقی نہیں رہتی"
    ''یہ عین ممکن ہے کہ اس دوٹوک فیصلے میں اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو ڈھیل دے اور اس نوعیت میں یکے بعد دیگرے کئی دعوتوں کے اٹھنے تک دیکھتا رہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا روش اختیار رکھتے ہیں ؟ بہرحال اس دعوت کی طرف سے منھ نہ موڑنے کا انجام آخرکار وہی ہے جو میں نے آپ سے عرض کردیا ہے ـ غیر مسلم قوم کا معاملہ اس سے مختلف ہے لیکن مسلمان اگر حق سے منھ نہ موڑیں اور اپنے مقصد کی طرف صریح دعوت سن کر الٹے پاؤں پھر جائیں تو یہ وہ جرم ہے جس پر خدا کسی نبی کی امت کو معاف نہیں کرتا''
    '' اب چونکہ دعوت ہندوستان سے اٹھ چکی ہے اس لیے کم ازکم ہندی مسلمانوں کے لیے تو آزمائش کا وہ خوفناک لمحہ آہی گیا ہے ـ رہے دوسرے ممالک کے مسلمان تو ہم ان تک اپنی دعوت پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں ، اگر ہمیں اس کوشش میں کامیابی ہوگئی تو جہاں جہاں یہ پہنچے گی وہاں کے مسلمان بھی اسی آزمائش میں پڑجائیں گے ـ ''
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    مزید وضاحت/اسلامی جماعت کا نام
    مودودی صاحب نے اپنی تحریک کے رد و قبول کے متعلق اپنا نکتہء نگاہ پیش کردیا ہے ـ اب ذیل میں اس تحریک کی خصوصیات اور اس کا مقصد انہی کے الفاظ میں بیان یا جاتا ہے ـ کہتے ہیں :
    ''مسلمانوں میں عموما جو تحریکیں اٹھتی رہی ہیں اور جو اب چل رہی ہیں پہلے ان کے اور اس تحریک کے اصولی فرق کو ذہن نشین کرلینا چاہیے :
    اولا:ان میں یا تو اسلام کے کسی جز کو یا دنیوی مقاصد میں سے کسی مقصد کو لیکر بنائے تحریک بنایاگیا ہے ، لیکن ہم عین اسلام اور اصل اسلام کو لیکر اٹھ رہے ہیں اور پورا کا پورا اسلام ہی ہماری تحریک ہے ـ
    ثانیا:ان میں جماعتی تنظیم دنیا کی مختلف انجمنوں اور پارٹیوں کے ڈھنگ پر کی گئی ہے مگر وہی نظامِ جماعت اختیار کررہے ہیں جو شروع میں رسول اللہ ﷺکی قائم کردہ جماعت کا تھا "
    ان کی مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مودوی صاحب کی دعوت ان کے خیال میں جماعتی دعوت ہے ،جیسے دوسرے مذاہب کی دعوت ہوتی ہے کیونکہ ہرمذہب اسلامی مذہب سے ، خواہ سنی ہو یا غیر سنی ، اہل حدیث ہو یا حنفی اپنے مذہبی دستور میں ہرچیز کو داخل کرتا ہے مگرمودوی صاحب کے خیال میں اور کسی فرقہ کی دعوت جامعہ نہیں شاید وہ یہ سمجھ رہے ہی کہ ان کی چونکہ تنظیم نہیں صرف وعظ ہی وعظ ہے ، اس لیے ان کے پھلنے اور پھولنے اور حکومتِ الہیہ کے قیام میں ان کی جدوجہد کودخل نہیں ، اگر تنظیم ہے بھی تو اس کی غرض و غایت حکومت الہیہ کے قیام میں صرف دعوت و تبلیغ ہے ـ اس خدشہ کا جواب آئندہ ذکر ہوگا ، یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت کا نام دوسرے فرقوں کےلیے طنز ہے کہ وہ اسلامی نہیں بلکہ ان کے یہودیوں کی طرح ہونے کی تلمیح ہے ـ
    اس مختصر رسمی بحث کےبعد اب ہم مودودی نظریہ پر کچھ لکھتے ہیں
    تیرہ سو سال سے اہل سنت (اہلحدیث) یہی سمجھتے رہے ہیں کہ عبادت ، نماز ، روزہ ، حج ، ذکر ، تلاوتِ قرآن اور دیگرافعال تعظیمیہ کا نام ہے مگر مودودی صاحب نے ان کو کم درجہ دیا ہے ، اصل عبادات کسی اور چیز کو کہا ہے اور ان افعالِ تعظیمیہ کو اس کے لیے تمرینات(ٹریننگ کورس)قراردیا ہے ـ
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    عبادت کے مفہوم میں غلطی کرنے سے متواترغلطیاں:
    عبادت انسان کی پیدائش کا اصل مقصد ہے ، جیسے قرآن مجید نے ذکر کیا ہے :
    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾

    ''میں نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لیے بنایاہے "(الذاریات)
    اورانبیاء کی بعثت سے غرض و غایت اور سماوی کتب کا بنیادی مسئلہ ہے ، اس لیے اس مسئلہ میں ٹھوکرکھانے سے ایمان و کفر دو متضاد حقیقتوں کے سمجھنے میں غلطی واقعی ہوتی ہے ، اور یہی علمی غلطی عملی نظام میں بے راہ روی کا باعث بنتی ہے ـ جس کی وجہ سے شروع زمانہ سے خوارج اور معتزلہ(خوارج: برحق اور چنیدہ حکمرانوں کے خلاف جو بھی علم بغاوت بلند کرے اسے خارجی کہا جاتا ہے ، خواہ یہ خروج صحابہ کے دور میں ہو، تابعین کے یا بعد میں آنے والے ادوار میں ـ اس جماعت کے سربراہان میں اشعث بن قیس کندی ، مسعد بن فدکی التمیمی اور زید بن حصین الطائی کا نام نمایاں ہے ـ انہوں نے علیؓ کو جنگ صفین سے واپسی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی تکفیر کرنے سے بھی گریز نہ کیا اور ان کی اطاعت سے نکل گئے ـ حروریہ ، نواصب ، شراتہ ، حکمیت اور مارقتہ وغیرہ اس جماعت کے مختلف نام اور القاب ہیں ـ اطاعت رسول نےاپنے فرامین میں ان کے خروج اور صفات کے متعلق تمام لوگوں کو آگاہ فرما دیا تھا اوران کے قتل پر لوگوں کو ابھارا تھا ـ ان کے عقائد و نظریات ، خوارج کے متعدد اسماء و القاب اور آگے ان کے فرقوں کے متعلق تفصیلات کے لیے الفرق بین الفرق:ص54 الفصل لابن حزم (4/144) الملل النحل (1/113)وغیرہ

    معتزلہ : جماعت قدریہ کا ایک فرقہ ہے ،اس فرقہ کا بانی واصل بن عطاء العزال ہے جو حسن بصری رحمہ اللہ کے حلقہء درس سے علیحدہ ہوا اور یہی عزلت نشینی اس فرقہ معتزلہ کی وجہ تسمیہ ہے ـ ان کے چند ایک بنیادہ عقائد یہ ہیں کہ اچھے اعمال کا خالق اللہ اور برے اعمال کا انسان بذات خود ہے ـ قرآن اللہ کی مخلوق ہے ، بروزِ قیامت اللہ کا دیدار محال ہے ـ خوارج نے کبائر کے مرتکب کو کافر کہا تو فرقہ مرجیہ نے خوارج کی تردید کی اور کہا کہ وہ مومن ہے جبکہ فرقہ معتزلہ کا عقیدہ یہ ہے کہ کبائر کا مرتکب نہ تو کافر ہے اور نہ ہی مومن بلکہ وہ ان کے مابین ہے اگرچہ اس کا تعلق امت محمدیہ سے قائم ہے ـ التعریفات للجرجانی (ص : 282) الملل والنحل 1/42 وغیرہ )نے ٹھوکر کھا کر تمام اہل کبائر کو ابدی جہمنی قرار دیا ، اور بعض نے اتنا غلو کیا کہ جو یہ عقیدہ نہ رکھے اس کے ساتھ جنگ کرنا فرض قراردیا ـ اور بعض نے اس سے ترقی کرکے یہ کہ دیا ہے کہ جو ان سے جنگ نہ کرے وہ بھی کافر ہے ـ
    یہ غلطی اس نوع کی ہے اس سے انسانی جدوجہد کا نظام بدل جاتا ہے ، اس واسطے ہم نے ضروری سمجھا کہ اصل حقیقت کو واضح کردیا جائے تاکہ عوام بلکہ خواص ، جو حقیقت میں عوام کی طرح ہیں ، غلطی میں نہ پڑ جائیں ـ اگرچہ بعض معاند اور ان کے جامد مقلدین سے تو اتنی توقع نہیں کہ وہ غور و فکر کی زحمت گوارا کریں بلکہ بعض اہل تحقیق جو ظاہر بینی کی بناء پر اس میں پھنس گئے ہیں اگر غور و فکر سے کام لیں گے تو اصل بات سمجھنے میں ان کی مدد ہوگی ـ وما علینا الا البلاغ
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    عبادت کے متعلق ٖغلط فہمی اور فلاسفہ کی کاسہ لیسی :
    فلاسفہ (فلسفی دو یونانی الفاظ : فیلا اور سوفا سے مرکب ہے ، جس کا معنی ہے : حکمت و دانائی کا دلداہ ـ فلاسفہ کی بنیاد حکمائے سبعہ ہیں جن کے نام یہ ہے : تالیس ، انکسار ، غورس ، انیاد ، فیثاغورث ، سقراط اور افلاطون ـ پھر ان کے بعد درجہ ہے ـ حکمائے اصول کا جن کی تعداد(14) ہے ، پھر متاخرین حکمائے یونان اور پھر متاخرین حکمائے اسلام جن میں حکیم ابن سینا کا نام نمایاں ہے ـ ان تمام فلاسفہ کے افکار کی وضاحت کے لیے دیکھیے :الملل والنحل للشھرستانی (2/231،57)) نے عبادت کو تمدن کا خادم قرار دیا ہے ـ اصل چیز فلاسفہ کے نزدیک اجتماعی زندگی ہے ، اجتماعی زندگی بدونِ تقسیم کار اوررد وبدل کے ممکن نہیں ـ اس میں کمی و بیشی کو روکنے اوراعتدال کوقائم رکھنے کے لیے آئین کی ضرورت ہے ، اور آئین کا من جانب اللہ ہونا ضروری ہے اور اللہ تعالٰی کا شعور قائم رکھنے کے لیے عبادات کی ضرورت ہے ـ
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    نئی نئی تحریکات میں جذبات کو خطاب ہوتا ہے
    جب تک انسان کے زیرنظر کوئی دلکش مفاد نہ ہو اس وقت تک اس سے جدوجہد کا مطالبہ ( جو وقتی ، مالی اور جانی قربانی کو چاہتا ہے ) بے سود ہے ـ یہاں پہنچ کر داعیوں کے دو گروہ ہوجاتے ہیں ـ

    1-ایک گروہ وہ ہے جو اپنی تحریک کی بنیاد مفاد اخروی کو قرار دیتا ہے ـ اس کا کام شروع میں تو بہت مشکل ہوتا ہے مگرمفاد کے یقین دلانے کے بعد اس کی تحریک میں زندگی کی لہردوڑ جاتی ہے ـ معاد کے متعلق اگرچہ دلائلِ عقلیہ بھی ایک حد تک باعثِ تسکین ہوتے ہین ، مگراصل شے وہ غیبی طاقت کا تصور ہے جو اکثرصحبتِ صالحین کا مرہونِ منت ہوتا ہے ـ یہ گروہ انبیاء اور ان کے متبعین کا ہے ـ
    2-دوسرا گروہ وہ ہے جو عقلی طور پر مفاد کا یقین دلا کر کامیاب ہونے کی کوشش کرتا ہے ـ مفاد کے متعلق داعیوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں ، بعض تو صرف دنیوی مفاد کا سامنے رکھتے ہیں ، ان کے گرد دنیوی مفاد کے طالب جمع ہوجاتے ہیں ،خصوصا جس وقت مخاطب گروہ ظلم و عدوان سے اکتا چکا ہو اور اس تحریک میں اس کو کافی نفع کی توقع دکھائی دیتی ہو ـ اور بعض دنیوی مفاد کے ساتھ ساتھ اخروی مفاد کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں تاکہ دونوں قسم کے طالب جمع ہو سکیں ـ اخروی مفاد کے وہ طالب جو معاد پر ایک حد تک یقین رکھتے ہیں مگرقلتِ علم کی بنا پرہرناعق(چلانے والے) کو محقق خیال کرلیتے ہیں ، ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں ـ اور دنیوی مفاد کے طالبوں کی چونکہ کثرت ہوتی ہے اور اس واسطے دنیوی مفاد ہی کو زیادہ ملحوظ رکھا جاتا ہے جیسے طمعِ زریا طمعِ حکومت وغیرہ وغیرہ بلکہ انبیاء کے متعلق بھی ان کے خیال میں یہی ہوتا ہے کہ وہ بھی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے اور ان کی مذہبی جدوجہد کے متعلق بھی یہی سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت پرقبضہ جمانے کا طریقہ تھا اور جو کچھ انہوں نے کہا اور کیا سب اسی لیے تھا بلکہ عقائد کی بنیاد پر قیامِ حکومت ہی تھی اور عبادات ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوتہ (جن کو ارکان اسلام کہاجاتا ہے ) سے بھی حکومت الہیہ کے قیام کی تمرین مقصود تھی اور اصل مقصد عادلانہ معاشی اور سیاسی نظام قائم کرنا تھا ـ ایسی تحریک میں چند رکاوٹیں ہوتی ہیں :
    پہلی رکاوٹ :چونکہ اس میں مفادِ اخروی پر کام کی بنا رکھنے والے شامل ہوتے ہیں اور اس میں اخروی مفاد کی داعیوں کی سی روحانیت نہیں ہوتی ، اس واسطے لوگ بدظن ہوجاتے ہیں
    دوسری رکاوٹ : یہ ہوتی ہے کہ ان کی ظاہری نمائش دیکھ کر بہت حساس لوگ بھی داخل ہوجاتے ہیں اور وہ ان کی اندھی امارت کے چلنے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ـ اس واسطے ان رکاوٹوں کو ملحوظ رکھ کر یا تو اندھی اطاعت کی دعوت دی جاتی ہے یا اس کے ساتھ ساتھ جماعت محصور کردیاجاتا ہے تاکہ کوئی اس میں داخل نہ ہو ، اور یہ ایک حد تک لوگوں کو ہمدرد و معاون کی صورت میں لیاجاتا ہے ، تاکہ ایسے آدمی جو سمجھدار ہیں اپنے اعتراضات سے جماعت کو پریشان نہ کریں اور جماعت سے باہر رہ کرکوئی اعتراض کرے تو اس کومخالف یا حاسد کہ کر ٹالا جاسکتا ہے ـ
    مودودی جماعت بھی دوسرے گروہ کی دوسری قسم میں داخل ہے ، جو دنیوی اور اخروی مفاد دونوں کو پیش کرتی ہے اور اصل ان کے ہاں مفادِ دنیوی ہے ، اطاعتِ امر کے وجوب پر زور دیتی ہوئی داخلہ بند کرتی ہے ـ اب ضروری ہے کہ ہم پہلے اسلامی نظام کے قیام کی دو قابلِ ذکر قسمین بیان کردیں ـ پھر اس کے بعد مودودی صاحب کے پیش کردہ طریق کی خامیاں بیان کریں ـ


    جاری ہے ۔ ۔
     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    پاکستان اور نظام اسلامی
    پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کی دو صورتیں ممکن ہیں ـ ایک انفرادی ، اور دوسرا اجتماعی ـ
    انفرادی سے مراد وہ ہے جو کسی خاص فرقہ کی جدوجہد کی مرہون منت ہو ، پاکساتن میں اسلامی فرقے مختلف ہیں ـ:ایک شیعہ ، ایک سنی ، پھر اہل سنت کے دو گروہ ہیں : ایک حنفی اور ایک اہل حدیث ـ یہ ظاہر ہے کہ جب اسلامی حکومت ایک فرقے کی طرف سے قائم ہو گی تو اس کی خصوصیات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ، مثلا : اگر اہل حدیث جماعت کی طرف سے اسلامی حکومت قائم ہو تو اس کی نوعیت کے موٹے موٹے خدوخال یہ ہونگے ، چونکہ اس جماعت کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہو ، براہِ راست کتاب و سنت سے استفادہ ممکن خیال کرتے ہیں ، آئمہ کو معصوم نہیں سمجھتے ، ہر زمانے میں حالات کے مطابق کتاب و سنت سے احکام کا استنباط جائز خیال کرتے ہیں ـ اگر یہ جماعت ، اسلامی حکومت کی بنیاد رکھے تو لامحالہ دوسرے فرقوں کے امتیازات کو حکومت میں داخل کرنا گوارا نہیں کرے گی ، اور نظامِ تعلیم میں اپنے طرزِ استدلال کو پھیلانے کی کوشش کرے گی ـ
    اگر حنفیہ میں سے فرقہ دیوبندیہ کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہو تو اختلافی مسائل میں امام ابوحنیفہ کو مطاع خیال کرتے ہوئے یہ لوگ ہدایہ ، عالمگیری ، اور فقہ کی کتابوں کے مطبق جتنی رواداری دوسرے مذاہب سے برت سکتے ہیں اس میں کمی نہ کریں گے ، اور نظام تعلیم میں فقہی امور میں تقلید کا خوگر بنانے کی کوشش کریں گے اور عدالتی احکام میں تو ضرور فقہ حنفی کو دینِ محمدی کے قائم مقام بنائیں گے ـ
    اسی طرح اگر بریلویہ (جو اس وقت انبوہ کثیرہے) کو اسلامی حکومت کے قیام کا موقع ہاتھ آ جائے تو عدالتی احکام میں فقہ کی پابندی کے ساتھ ساتھ دوسرے احکام میں عید میلاد ، گیارھویں ، عرس ، قبروں پر قبے وغیرہ اپنے امتیازات کو ضرورجائزکرنے کی کوشش کریں گے ـ اگر کوئی نیا فرقہ اس مقصد کو لے کراٹھے گا تو تجدیدی کاروائی کے لیے نئے اجتہاد کی ضرورت ہوگی ـ اگر اس کے اکثر اصول و فروع کسی ایک یا دو فریق کے ساتھ مل گئے تو وہ اپنی قوتِ تحریر سے ان کو اپنے اندرجذب کرنے کی کوشش کرے گا ـ اگر یہ کام مکمل ہو گیا تو لامحالہ انہی کو اپنائے گا جو اس کے ہم خیال ہونگے ـ جیسے آجکل فرقہ مودودیہ ہے ـ ورنہ جیسے دوسرے فرقے اپنے اپنے امتیازات کی اشاعت کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی کرے گا ، مگر ان تمام صورتوں میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ جو فرقہ اٹھے گا توردِ عمل کی صورت میں اس کے خلاف دوسرے فرقہ کو بھی اپنا فیصلہ کرنے کا حق ہوگا ـ پس ایسی صورت میں اسلامی حکومت کا قیام مشکل ہے ـ
     
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    اجتماعی جدوجہد سے اسلامی حکومت کا قیام
    اس کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کے مسلمہ فرقوں کو پوری مذہبی آزادی دی جائے اور حکومت کی بنیاد مذکورہ فرقوں کے اجماعی مسائل (جو کتاب و سنت میں وارد ہیں) پررکھی جائے اور ہر فرقہ کےامتیازی مسائل کو قانونِ عامہ کی تشریع سے خارج کردیاجائے،اور انفرادی طور پر عدالتی احکام میں ان کے مذہب کے مطابق فیصلہ کیا جائے ـ اگرچہ مدعی اور مدعا علیہ میں مذہبی اختلاف ہو تو دونوں میں سے ایک کو ترجیح دینے کے لیے کچھ اصول مقرر کیے جائیں یا اکثریت کے فیصلہ کو ناطق قرار دیا جائے یا مدعا علیہ کے مذہب کو ترجیح دی جائے ـ اگر ممکن ہو تورفاہِ عام کی جگہوں مسائل بیان کرنے کی اجازت نہ ہو ، یعنی دوسرے مذاہب کے خلاف جلسہ ، جلوس اور مجالس کے لیے پبلک جگہوں کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے ، ہر فریق اپنے جلسے جلوس اپنی مخصوص جگہ میں کرے ـ اس قسم کی اسلامی حکومت کا قیام یہاں ممکن ہے کیونکہ اس صورت میں ہرفریق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس کاحق سجھتا ہے پرامن طریقے سے اس کی تبلیغ و اشاعت کرے ـ
    پاکستان کے حصول سے اس قسم کی اسلامی حکومت پیش نظر تھی جس میں کسی خاص نے یا پرانے فرقہ کی سیادت تسلیم نہیں کی گئی ـ یہی وجہ ہے کہ ہر فرقہ کے مسلمان ، جو اسلامی حکوت چاہتے تھے ، سوائے مدودی فرقہ کے ، ایک مرکز پر جمع ہو گئے ـ تمام اسلامی ممالک میں ایک بڑی مملکت بنانے میں کامیاب ہو گئے ـ
    ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک صد سالہ جدوجہد کی ناکامی کی یہی وجہ تھی کہ اس میں ایک خاص فرقہ کی جدوجہد جاری کی گئی جس کو دوسرا فرقہِ بنظرِاستحسان نہیں دیکھتا تھا بلکہ اس کی تکمیل میں سدِ راہ ہوتا تھا ـ مودودی فرقہ بھی دراصل ایک فرقہ کی حکومت قائم کرنا چاہتا تھا مگر وہ اس خیال میں منہمک تھا کہ نظم و ضبط و اصلاحی و تجدیدی کاروائی سے ایک چھوٹی سی جامعت کو وسیع کرکے اقتدار حاصل کیا جائے ، حالات چونکہ اس قدر انتظار کی گنجائش نہیں رکھتے تھے اس واسطے ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے خیال کے مطابق آم کے درخت کو انارلگنے شروع ہو گئے ، اور ان کی طبیعت میں کچھ حرص پیدا ہوگئی ـ وہ طریقہ جس کو وہ انبیاء کا طریقہ کہتے تھے اور اس کی مخالفت ان کے ہاں بلکل ممنوع تھی ، کیونکہ تحریک کو چلانے اور ترقی دینے کے لیے وہ ایک واحد فطری طریقہ ہے ، اس کے متعلق پھر یکایک خاموشی چھاگئی ، حالانکہ ان کے خیال میں جو کوشش حصولِ پاکستان کے لیے کی گئی تھی ، اسلامی حکومت کے قیام میں ان کا ممد ہونا تو کجا بلکہ اس کے سراسر منافی تھی ـ چنانچہ کہتے ہیں :
    ''جیساکہ میں ابتداء میں عرض کرچکا ہوں کہ کسی سوسائٹی میں جس قسم کے فکری ، اخلاقی ، تمدنی اسباب و محرکات فراہم ہوتے ہیں ان کے تعامل سے اس قسم کی حکومت وجود میں آتی ہے کہ ممکن نہیں ہے کہ ایک درخت اپنی ابتدائی کونپل سے لیکر پورا درخت بننے تک تو لیموں کی حیثیت نشوونما پائے مگر بار آوری کے موقع پریکایک آم کے پھل دینے لگے ـ "

     
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    دستورِ جماعتِ اسلامی
    بلکہ مودودی صاحب نے ترقی کر کے اسلام کو بھی ایک انقلابی نظریہ ہی قرار دیا ہے ـ چنانچہ لکھتے ہیں :
    ''لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کسی مذہب کا اور مسلمان کسی قسم کانام نہیں ہے بلکہ دراصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے "(جہاد فی سبیل اللہ ، تفہیمات ص:62)
    اپنی تجدیدی قوت کا سب سابقہ مجددین سے بڑھ کر ہونا بیان کرتے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ اس زمانہ میں تجدیدی کام کرنے کے لیے ایسی قوتِ اجتہادیہ کی ضرورت ہے جو سابق مجتہدین میں نہ پائی جائے ـ چنانچہ لکھتے ہیں :
    ''اب تجدید کا کام نئی اجتہادی قوت کا طالب ہے ، محض وہ اجتہادی بصیرت جو شاہ ولی اللہ صاحب یا ان سے پہلے مجتہدین ومجددین کے کارناموں میں پائی جاتی ہے ، اس وقت کے کام سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کافی نہیں ـ ''(تجدید واحیائے دین ، ص 79،80)


    مجددِ کامل بننے کی خواہش
    سابق مجددین سے متعلق ان کا یہ خیال ہے کہ ان می سے کوئی مجددِ کامل نہیں ہوا ـ چنانچہ فرماتے ہیں :
    ''تاریخ پر نظر ڈالے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک کوئی مجددِ کامل پیدا نہیں ہوا ہے ، قریب تھا کہ عمربن عبدالعزیز اس منصب پرفائز ہوجاتے مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے ـ ان کے بعد جتنے مجدد پیدا ہوئے ، ان میں سے ایک نے کسی خاص شعبے یا چند شعبوں میں ہی کام کیا ـ مجددِ کامل کا مقام ابھی تک کامل ہے ''(تجدید واحیائے دین ص 49)
     
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    مجددِ کامل بننے کی خواہش
    سابق مجددین سے متعلق ان کا یہ خیال ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مجددِ کامل نہیں ہوا ـ چنانچہ فرماتے ہیں :
    ''تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک کوئی مجددِ کامل پیدا نہیں ہوا ہے ، قریب تھا کہ عمربن عبدالعزیز اس منصب پرفائز ہوجاتے مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے ـ ان کے بعد جتنے مجدد پیدا ہوئے ، ان میں سے ایک نے کسی خاص شعبے یا چند شعبوں میں ہی کام کیا ـ مجددِ کامل کا مقام ابھی تک کامل ہے ''(تجدید واحیائے دین ص 49)
    اپنے میں مہدی بننے کی استعداد کا اشارہ ـ تجدید احیائے دین میں مہدی کو بھی صرف ایک انقلابی لیڈر خیال کرتے ہیں ، جسکا صرف ایک جماعت کھڑی کرنا ہے جو بیک وقت تہذیبی اور سیاسی ہو ،سو اللہ کے فضل سے مودودی صاحب کو یہ توفیق عطا کی گئی ہے کہ آپ نے جو جماعت بنائی ہے وہ بیک وقت تہذیبی بھی ہے اور سیاسی بھی ـ چنانچہ فرماتے ہیں :
    ''مہدی کے کام کی نوعیت کا جو تصور میرے ذہن میں ہے وہ بھی ان حضرات کے تصور سے بلکل مختلف ہے ـ مجھے اس کام میں کرامات وخوارق ، کشوف والہامات اور چلوں اور مجاہدوں کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی ـ میں یہ سممجھتا ہوں کہ انقلابی لیڈر کو دنیا میں جس طرح شدید جدوجہد اور کش مکش کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے ـ انہی مرحلوں سے مہدی کو بھی گزرنا ہو گا ـ وہ خالص اسلام کی بنیادوں پر ایک نیا مذہبِ فکر پیدا کرے گا ـ ذہن نہیں ،نیتوں کو بدلے گا ، ایک زبردست تحریک اٹھائے گا جو بیک وقت تہذیبی بھی ہوگی اور سیاسی بھی ـ (تحدید و احیائے دین ، ص : 33)
    ان عبارات مذکورہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ مودوی فرقہ ایک نئے فرقہ کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے ،مگر اس وقت جو ان کی تحریریں ہیں وہ سراسر دوسری نوعیت کی ہیں ـ اس تحریک نے پہلے قالب کو چھوڑ کر دوسرا قالب اختیار کر لیا ہے ـ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق کیا گیا ہے ـ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اب صحیح طریقے اور سائنٹیفیک راستے میں کیا رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے ؟ اب وہ خام خیالیاں کیوں پختہ خیالیوں میں تبدیل ہوگئی ہیں ، یا اب بھی مقصد وہی ہے (جو پہلے تھا) کہ صرف جماعت کو قومی اور زیادہ کرنے کے لیے عوامی جذبات سے فائدہ اٹھانا مقصود ہے ، یا اس دورنگی سے مقصد ایک ہی ہے ، مملکت یا پاکستان کی مخالفت ـ پہلے پاکستان بننے میں رکاوٹ ڈالنا مقصود تھا کیونکہ اس وقت انگریز کے خلاف دو محارب جماعتیں تھیں ـ کانگرس اور مسلم لیگ ـ مودودی صاحب کا خطاب اس وقت مسلمانوں سے تھا اور ان کی توجہ دونوں پارٹیوں سے تھی ـ اگر مسلمانوں کا اکثر حصہ ان کی تحریک سے متاثر ہو کر کانگرس اور مسلم لیگ سے الگ ہوجاتا اور سائنیفکٹ طریقے کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ـ اس کے لیے تربیت گاہیں قائم ہوتیں اور کالج بنتے ، خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے صالح آدمیوں کے تیار کرنے کے لیے مشینیں بنائی جاتیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اتنے عرصہ میں انگریز کو ٹھہرنے کی سکت پیدا ہو جاتی ، یا ہندو اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو جاتا ـ
    مگرجس وقت انگریز نے بوریا بستر لپیٹ لیا تو اس وقت اس نظام کو کاغذوں میں ہی رہنے دیا ، اور اسلامی حکومت کا طبعی اور ارتقائی طریقہ چھوڑ کر وہ غیر طبعی طریقہ شروع کردیا جو مسلم لیگ کے دستور میں پہلے ہی درج تھا کیونکہ اب مملکت کے بننے کے بعد پہلے طریق پر عمل کرنا مشکل ہے ـ مقصد چونکہ مملکت کی مخالفت ہے ، اب اس کا رخ استحکام کی طرف پھیر دیا ہے ، اگر آپ کا مقصد آئین اسلامی کا نفاذ ہے اور پہلا طریق آپ چھوڑ چکے ہیں تو مخلصانہ طریق کار تو یہ ہے کہ آپ جماعت توڑدیں اور مسلم لیگ میں شامل ہو کر اس آواز میں اتنی قوت پیدا کریں کہ آئینِ اسلامی جلدازجلد تیارہوجائے ، یا کم ازکم پہلی روش کے خاتمے کا اعلان کردیا جائے اور افراد کو امارت سے سبکدوش کیا جائے ـ
    آئینِ اسلامی کے جلد از جلد تیار ہونے کی آرزو ہرفرقے میں پائی جاتی ہے ، چنانچہ صوبہ پنجاب کی اسملبی نے بھی اس قسم کی آواز اٹھائی ہے ، وزیراعظم سے لے کرادنی مسلم لیگی تک اسلامی آئین کے حق میں ہیں ، صرف عمل میں تساہل اور تکاسل ہے ـ اگرچہ عملی رنگ میں بظاہر اس جماعت نے پہلے سائنٹیفکٹ صورت کو ترک کردیا ہے مگر ان کی کتابیں اس طرح شائع کی جاتی ہیں جیسے ایک صحیح دستور العمل شائع کیا جاتا ہے ـ اس واسطے ضروری سمجھا کہ اس کاجائزہ لیا جائے ـ
     
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    تحریک کی پہلی فکری صورتا

    ''اس نصب العین کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے راہِ راست وہی ہے جو اللہ کے رسول نے اختیار کیا ، یعنی یہ کہ لوگوں کو الہدی اور دینِ حق کی طرف دعوت دی جائے ، پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کرکےا اپنی بندگی اور اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کردیں ، دوسری اطاعتوں کو اللہ کی اطاعت کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دیں ، اور خدا کے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنائیں ، ان کا ایک مضبوط جتھا بنایا جائے ، پھر یہ جتھا عام اخلاقی اور مادی ذرائع سے ، جو اس کے امکان میں ہوں ، دینِ حق کو قائم کرنے کے لیے جہاد کبیر کرے یہاں تک کہ اللہ کے سوا دوسری اطاعتیں ،جن جن اطاعتوں کے بل پر قائم ہیں ،ان سب کا زور ٹوٹ جائے اور پورے نظامِ اطاعت پر وہی الہدی اور دینِ حق غالب آجائیں ـ"(مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش ، ص :116 ، 117)
    اس عبارت میں اختیار کردہ طریق کے راست ہونے پر یہ دلیل قائم کی ہے کہ یہ طریقہ اللہ کے رسول ﷺ نے اختیار کیا تھا ـ لہذا یہ حق ہے مگر اس پر غور نہیں کیا کہ یہ طریق کن لوگوں میں اور کن حالات میں اختیار کیا ہے ؟کیا اس کے علاوہ کوئی اور طریق کار بھی ہو سکتا ہے جس پر عمل کیا جائے ؟
    اس لیے ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ جو طریق آپ ﷺ نے اختیار کیا تھا وہ ابتدائی دعوت کا ہے جب کفار مخاطب تھے ، مگر موجودہ حالات میں اصلاحِ حال کی دعوت ہے جس میں مخاطب مسلمان ہیں ـ ان دونوں صورتوں میں دعوت کی نوعیت میں فرق ہوتا ہے ـ موسی علیہ السلام کی دعوت بنی اسرائیل کے لیے اصلاحی دعوت تھی ، آپ نے قوم میں چھانٹ نہیں بلکہ ہر ایک کو ، صالح ہو یا غیر صالح ، منظم کیا اور ہر ایک قبیلے پر انھی سے ایک نقیب مقرر کیا ـ ان نقباء کا یہ حال تھا کہ بارہ سے صرف دو ہی قائم رہے موسی علیہ السلام نے عرض کی :
    ''ہمارے اور فاسق قوم کے درمیان جدائی ڈال دے ـ '' (المائدہ : 25)
    اللہ نے بھی فرمایا :
    ''فاسق قوم پرغم نہ کھا '' (المائدہ:26)
    اور جماعت اسلامی میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے موسی علیہ السلام سے ایک معبود بنانے کی درخواست کی :
    ''ہمارے لیے ایک معبود بنا جیسے ان کےمعبود ہیں ''(الاعراف:138)
    اور بعض نے کہا :
    ''تیری بات نہ مانیں گے جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا نہ دیکھیں '' (البقرہ :55)
    اور بہت سے لوگ بچھڑے کی پرستش کرتے رہے اور ہارون علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے :
    ''قریب تھے کہ مجھے قتل کر ڈالتے ( الاعراف :150)
    اور موسی علیہ السلام کو تکلیفیں پہنچاتے تھے، یہاں تک کہ موسی علیہ السلام نے کہا:
    ''مجھے اللہ کا رسول مانتے ہوئے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو ؟''
    ان آیات سے معلوم ہوتا کہ موسی علیہ السلام کی جماعت میں ہرطرح کے آدمی صالح و غیر صالح داخل تھے ـ آپ نے چھانٹ کر کے صرف بہترین کا انتخاب نہیں کیا تھا ـ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم اور غیرمسلم کی اصلاح کا فرق ہوتا ہے ـ جب کوئی قوم مسلمان ہو تو ان سب کو بلا امتیاز جماعت میں شریک کرنا چاہیے ـ
    دوسری بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی مسلم قوم غلام ہو تو اس کی آزادی کے لیے پہلے کوشش کرنی چاہیے ، اور آزادی کی جنگ میں سب افراد صالح اور غیر صالح کو شامل کیا جا سکتا ہے کیونکہ تمام فسادات کی جڑ حقیقت میں غلامی ہے ، اس لیے اس کو مقدم کرنا چاہیے ـ سب سے پہلے جو موسی علیہ السلام نے فرعون کو کہا وہ یہی تھا :
    ''ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج ''' (الشعراء ، 17)
    رسول اللہ ﷺ نے بھی گناہ گاروں کو جماعت میں شامل کر رکھا ہے اگرچہ نجات اولیہ کا ان کو مستحق قرار نہیں دیا ـ ایک حدیث میں ہے :

    ثلاث من أصل الإيمان : الكف عمن قال لا إله الإ الله, ولا نكفره بذنب , ولا نخرجه من الإسلام بعمل , والجهاد ماض مذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال , لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل , والإيمان بالأقدار (ابوداؤد، 2532 اس کی سند میں یزید بن ابی نشبہ مجہول ہے)

    "تین چیزیں ایمان کی جڑ ہیں : ا ـ اس سے رکن جانا جو لا الہ الا اللہ کا قائل ہو ، اس کو کسی (غیرمکفر) گناہ کی بناء پر کافر نہ کہو ، اور نہ کسی عمل (غیرمخرج عن الاسلام) کی وجہ سے اسلام سے نکالو ـ 2-اور جہاد تب سے جاری ہے جب سے اللہ نے مجھے مبعوث کیا ہے ـ یہاں تک اس امت کا آخری حصہ دجال سے لڑے گا ، ظالم (امیر) کا ظلم اور عادل(امیر) کا عدل اس کو موقوف نہیں کرسکتا ـ 3- تقدیر پرایمان ـ
    بلکہ شریعت کے ظاہری احکام میں منافق بھی داخل رہتا ہے ، حالانکہ وہ آخرت میں آگ کے نچلے طبقے میں ہوگا ـ مسلمان اس کا وارث ہے اور وہ اس کا وارث ہے ـ ان کا نکاح نہیں ٹوٹتا ، لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ شامل رہتا ہے ـ مودودی صاحب نے ان تمام امور کو نظرانداز کردیا ہے ـ


    تحریک کی بنیادی غلطی میں منطقی ربط کو دخل
    جو فلاسفہ کی اتباع میں آپ نے اختیار کیا ہے کہ احکامِ کی حِکم و مصالح اصل علم (صلب علم) میں داخل نہیں ، صرف ایک قسم کی رنگینی جاذبِ طبع پیدا کرنے والی چیزوں میں سے ہے ـ ان کی جستجو اس حد تک جائز ہے کہ ان کے منصوص کی مخالفت لازم نہ آئے ، ورنہ یہ زندقہ و الحاد کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے ـ منطقی ربط کی صورت : کہتے ہیں کہ اسلام محض منتشر خیالات اور منتشر طریقہ ہائے عمل کا مجموعہ نہیں ہے ـ جس میں ادھر ادھر سے مختلف چیزیں لا کر جمع کر دی گئی ہوں بلکہ باضابطہ نظام ہے جس کی بنیاد چند اصولوں پر رکھی گئی ہے ـ اس کے بڑے بڑے ارکان سے لیکر چھوٹی چھوٹی جزئیات تک ہر چیز کو ا سکے بنیادی اصولوں کے ساتھ ایک منطقی ربط ہے ـ

     
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    اسلام کا نظریہ سیاسی
    دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ دین دراصل حکومت کا نام ہے ، شریعت اس حکومت کاقانون ہے اور عبادت اس کے قانون اور ضابطہ کی پابندی ہے ـ (خطبات 217)
    نماز ، روزہ اور ذکر کے متعلق کہتے ہیں :
    یہ ہے اس عبارت کی حقیقت جس کے متعلق لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض نماز ، روزہ ، تسبیح اور تہلیل کا نام ہے ، اور دنیا کے معاملات سے اس کو کچھ سروکار نہیں ، حالانکہ دراصل صوم و صلوتہ اور حج و زکواتہ اور ذکر و تسبیح انسان کو اس بڑی عبادت کے لیے مستعد کرنے والی تمرینات (ٹریننگ کورس) ہیں '' (تفھیمات:56)
    عبارات بالا سے مندرجہ ذیل امور کا پتہ چلتا ہے ـ
    1-تمام امورِ اسلام میں منطقی ربط ہے ـ
    2-اگر منطقی ربط نہ ہوتو یہ امور منتشرخیالات کے ہونگے ـ
    3-ربطِ منطقی اس شکلِ مذکور میں منحصر ہے ـ
    4- نماز ،روزہ ، تسبیح وتہلیل دنیوی معاملات کے لیے ٹریننگ کورس ہے
    5-دنیوی معاملات میں احکام کی پابندی دراصل بڑی بات ہے ـ
    6- شریعت حکومت کے قانون کا نام ہے
    7-عبادت اس کے ضابطے اورقانون کی پابندی کا نام ہے ـ
    8- دین حکومت کا نام ہے
    دین ، عقائد ، عبادات ، اخلاق اور معاملات وغیرہ کے مجموعے کا نام ہے اس کے اجزاء کے متعلق یہ سمجھ لینا کہ یہ چیزیں دنیا اور آخرت کی اصلاح کے لیے مفید ہیں ، ان کے بیان کردہ ربطِ منطقی سے مستغنی کردیتا ہے ، اور ان تمام امور کا اصلاحِ آخرت و دنیا میں مفید ہونا ان میں ایک قسم کا منطقی ربط کرتا ہے ـ منطقی ربط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ان کو آپس میں بھی ایک دوسرے سے ایک مخصوص ربط کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ان کو آپس میں بھی ایک دوسرے سے ایک مخصوص صورت میں جوڑنے کی کوشش کی جائے ـ مودودی صاحب نے غلطی سے سمجھ لیا کہ جو ربط ان کے دماغ میں آیا ہے وہی صحیح ہے ، اس کے سوا اور کوئی ربط نہیں ، اور ربط کا ہونا بھی ضروری ہے ـ یہ غلطی اس قسم کی ہے جیسے آجکل بعض لوگ قرآن مجید کے ظاہری معنی کو پھیر کر ایسے بعید معنی مراد لینا شروع کردیتے ہیں جن کی تائید سلف کے بیان کردہ معانی سے نہیں ہوتی ، بلکہ محض نئی نئی تاویلات اور اعتبارات کی ایک غیربین صورت ہوتی ہے ، اگرچہ بصورت اعتبار ایک حد تک ان کو برداشت کیا جا سکتا ہے مگر قرآنی بیان میں تسلسل پیدا کرنے کے لیے ان کا ذکر ایک قسم کی تحریف ہے ـ
    اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید کے واقعات میں ربط ہونے یہ نہ ہونے میں جو اختلاف ہے ان میں صحیح قول یہی ہے کہ ربط ہے مگرربط ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید ظاہری معانی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرنی چاہیے ـ کیونکہ قرآن مجید کی تفسیر سلف سے ثابت ہے اور جو ربط بیان کرتے ہیں ان سے مروی نہیں ـ پس ضروری ہے کہ ایک غیر ثابت شدہ امر کو اس طرح ذکر نہیں کرنا چاہیے کہ ایک ثابت شدہ حقیقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت پڑے ، یہی حال منطقی ربط کا ہے ـ قرآن و سنت کے متعدد احکام میں ان کو اس طرح ثابت نہیں کرنا چاہیے جیسے اس بیان کردہ منطقی ربط میں ہوا ہے کہ نماز ، روزہ ، ذکر ، تسبیح اور تہلیل کو غیر اصلی اور چھوٹی عبادت قرار دیا ہے ، بڑی عبادت اور اصل چیز کسی اور کو قراردیا ہے ـ
    چونکہ مودوی صاحب اسی عینک سے تمام مسائل کو دیکھتے ہیں اس لیے ان کی تمام تحریرات میں ، خواہ ان کا تعلق سیاست سے ہو یا جماعت بندی سے ـ اس کا اثر ظاہر نظر آتا ہے ـ
    جب تجدید کا ذکر کرتے ہیں تو وہاں بھی ہے ، چونکہ سابق مجددین نے اصل دین (حکومت) میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی ، کوئی کامل مجدد نظر نہیں آتا ، صرف مولانا اسماعیل شہید اور ان کے پیرسید احمدبریلوی کی تحریک میں ان کو اس کا نمونہ ملتا ہے ، کیونکہ انہوں نے حکومتِ اسلامی کا ایک نمونہ قائم کیا تھا اگرچہ ان کے آخر ناکام ہو گئے ـ
    2- کہتے ہیں : اگرچہ یہ منطقی ربط نہ ہوتو اسلامی احکام منتشر خیالات ہونگے ـ یعنی منطقی ربط کی صورت میں تو حقیقی اور نفس الامری امور ہو نگے ، ورنہ خیالات میں داخل ہوجائیں گے ـ ایک امراگرمودودی صاحب کے نظریے پر دیکھا جائے تو حقیقت بن جاتا ہے ، ورنہ خیال ٹھہرتا ہے ،حالانکہ منطقی ربط نہ ہونے سے اس ان میں انتشار پیدا ہوتا ہے جب ان میں کوئی امر جامع نہ ہو ، پھر امر جامع کے عدمِ علم سے ان کی نفی لازم نہیں آتی ـ
    3- مودوی صاحب نے اپنے خیال میں اسلام کے اصول وارکان اور چھوٹی چھوٹی جزئیات میں منطقی ربط اس طرح سمجھا ہے :
    1-اسلام ایک معاشی اور سیاسی نظام ہے
    2-نماز، روزہ اور ذکر وغیرہ ٹریننگ کورس ہیں َ
    3- عقیدے میں اس امر کا ذکر ہے کہ حاکم اور قابلِ اطاعت صرف اللہ ہے ـ
    چنانچہ لکھتے ہیں :
    ''مختصرا ، میں یہ بات آپ کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوتِ توحید اور خداپرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدہ کی دعوت نہ تھی ، جسطرح اور دوسرے مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب کی دعوت تھی ـ اس کی ضرب بلاواسطہ ان طبقوں میں پڑتی ہے جنھوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر یا سیاسی رنگ میں بادشاہ ، رئیس اور حکمران بن کر ، ، معاشی رنگ میں زمیندار اور اجارہ دار بن کر عامتہ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا ـ''(تفہیمات ، ص:68)
    ایک جگہ لکھتے ہیں :
    البتہ اسلام کے حق میں اس رکاوٹ کو جس چیز نے شدید رکاوٹ بنا دیا ہے وہ ہے ہماری بے روح مذہبیت ہے جسے آجکل اسلام سمجھاجارہا ے ـ اس بے روح مذہبیت کا پہلا ببنادی نقص یہ ہے کہ اس میں اسلام کے عقائد محض دھرم کے مزعومات بنا کر رکھ دیے گئے ہیں ـ حالانکہ وہ ایک مکمل فلسفہ اجتماع اور نظامِ تمدن کی منطقی بنیاد ہیں ، اور اسی طرح اس کی عبادات محض پوجا اور پتیسا بنا کر رکھ دی گئی ہیں ، حالانکہ وہ ان ذہنی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے وسائل ہیں جن پر اسلام نے اپنا نظامِ اجتماعی تعمیر کیا ہے ـ اس عملِ تحریف کا نتیجہ ہے کہ لوگوں کی سمجھ میں کسی طرح یہ بات نہیں آتی کہ آخر ایک سیاسی ، معاشی ، تمدنی لائحہ عمل کو چلانے کے لیے ان عقائد اور عبادات کی ضرورت ہی کیا ہے ؟"
    (مسلمان اور موجود سیاسی کشمکش، ص 3)
    اس منطقی ربط کے سمجھنے کے لیے مودوی صاحب نے اسطرح اسلام کو سمجھا ہے کہ پہلے اصل الاصول کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کو لیا ہے
    1-الہ کے معنی معبودکے (جو مشہورہیں ) کیے ہیں ـ
    2-اور عبادت کے معنی اطاعت کے لیے ہیں
    3- اطاعت چونکہ حکم کی تعمیل کا نام ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حاکمیت اللہ کے ساتھ مختص ہے ـ
    4- انبباء نے جو زندگی کے لیے نظام مرتب کیا ہے اس کا مرکز یہی عقیدہ ہے اس سے یہ سمجھا کہ انبیاء کی آمد کا اصل مقصد حکومتِ الہیہ کا قیام ہے ـ
    5- اور اس کے قیام میں کوشش کرنا یہی اصل عبادت ہے ـ ارکانِ اسلام میں جو پوجا پاٹ کی صورتیں ہیں وہ اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کے لیے ٹریننگ کورس ہیں ـ
    انبباء کی بعثت کی غرض چونکہ حکومت الہیہ کا قیام ہے اس واسطے مجدد کا اصلی کارنامہ بھی یہی ہونا چاہیے کہ جاہلیت کے ہجوم سے اسلام کونکال کر ازسرِ نو چمکا دے ـ اس پر یہ نتیجہ مرتب ہوتا ہے کہ مجدد کا مقام خالی ہے ـ اس جگہ قابلِ تحقیق امر یہ ہے کہ عبادت کی حقیقت کیا ہے ؟ کیا عبادت صرف طاعت کا نام ہے ؟
     
  20. حیا حسن

    حیا حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 6, 2017
    پیغامات:
    118
    تنظیم اسلامی سے بھی آپ کو اختلاف ہو گا کہ انہوں نے اپنا نام تنظیم اسلامی کیوں منتخب کیا اور اخوان المسلمون بھی غیر اسلامی اصولوں پر چل رہی ہے یقینا؟؟
    کوئی نئی پوسٹ نظر نہیں آئی کافی عرصے سے آپ کی :)
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں