تنقید المسائل/رد جماعت اسلامی/محدث گوندلوی رحمہ اللہ

ابوعکاشہ نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏دسمبر 22, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    تنقید المسائل

    بعض مسائل میں مولانا مودوی صاحب کی تردید


    مصنف/ شیخ الحدیث مولانا محمد صاحب گوندلوی رحمہ اللہ


    ناشر/ محمد اسلم


    ڈاؤن لوڈ لنک ۔ ( ---------- )

     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی

    اقتدارکی خواہش عجیب چیز ہے، انسان جب تک زندہ رہتا ہے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ـانگریز کےاقتدار میں جب تزلزل آیا تومختلف سیاسی جماعتیں اقتدار پرقبضہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئیں ـ ہندومسلم تصادم نے ملک میں کئی نظریے پیدا کردیےجو اپنے اپنے نہجِ وسوچ کے مطابق ملک میں کام کرنے لگے-
    مولانا مودودی صاحب نے اپنی زندگی کا آغاز اخبارنویسی سے فرمایا ، الجمعیہ وغیرہ اخبارات میں کام کرتے رہے ، پھر حیدرآباد دکن سے ''ترجمان القرآن'' شروع کیا ـ ''ترجمان القرآن ''نے ہندومسلم اتحاد کے بعض نقصان دہ پہلوؤں کو نمایاں کیا جسے مسلمان نظرانداز کررہے تھےـ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ وہ لوگ اسے سمجھ نہیں رہے تھے البتہ یہ خیال ضرور تھا کہ ایسے مناقشات سے انگریز کی عمر بڑھ جائے ـ مولانا مودودی نے ان مصالح سے بے نیاز ہو کر کانگرس اور لیگ پرتنقیدکی،جس سے انگریز پرست حلقوں کو بہت امداد ملی اوراس طبقے نے اسے بہت اچھالا ، جس سے مولانا ایک لیڈر کی حیثیت سے ملک کے سامنے آئے ـ مخالف حلقوں نے مولانا کی تحریروں کو خریدا اور تقسیم کیا ،امریکہ اور برطانوی حلقوں میں بھی اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ، مولانا کی صلاحیتوں کی نمائش کے لیے یہ خلافِ امید چانس تھا ـ مولانا کی تحریرات میں دینی ذہن اور مولانا کی تحریک میں دینی مزاج کی نمائش ہے ـ اس سے یہ فائدہ بھی ہوا کہ خاکسار،کیمونزم ایسی تحریکات نے نوجوان ذہن میں جس قدرلادینی جراثیم پیدا کیے تھے ان کو اس تحریک سے فائدہ ہوا ـ
    لیکن مولانا کا زیادہ تر علم مولانا کی ذہانت اور ذاتی مطالعہ کا مرہون منت ہے ، انہوں نے مستند اساتذہ سے تلمذ کا موقع نہیں پایا اور نہ مروجہ اسفارِ دینی سے باقاعدہ استفادے کی کوشش ہی فرمائی ہے ، اس لیے مولانا کے اجتہادات میں بعض نمایاں خامیاں ہیں،حدیث کے متعلق ان کا نظریہ عموما انکارِ حدیث کی سرحدوں تک پہنچ جاتا ہے،اعمال میں بھی اس قدرتساہل ہے کہ بےعمل اور بدعمل لوگوں کو وہاں پناہ مل جاتی ہے ـ جماعت کے مخصوص نظریات ہیں ـ مخصوص شکل ہے اور اب وہ بلکل ایک فرقہ کی صورت اختیار کر چکی ہے ـ مولانا کےمعتقدین پیرپرستوں کی طرح مولانا کی نظر سے دیکھتے ، مولانا کی زبان بولتے اور مولانا کے دل سے سوچتے ہیں ، فرقہ پرستی میں یہی برائی ہے جو اس جماعت میں کافی حد تک پیدا ہو چکی ہے ـ ہم مولانا حافظ محمد صاحب کےممنون ہیں کہ انہوں نے پیش نظرکتاب ''تنقید المسائل'' میں اپنے مخصوص عالمانہ انداز سے ان نقائص کی نشاندہی فرمائی ہے ـ امید ہے کہ عامتہ السلمین اورمولانا مودودی صاحب کے معتقدین کتاب کوانصاف کی نظر سے پڑھیں گے اور اس سے فائدہ اٹھائیں گے ـ

    بندہ
    محمد اسلم
    خطیب جامع اہلحدیث ، گجرانوالہ
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الحمد للہ رب العالمین،والصلوة والسلام الائمان الاکملان علی خاتم النبیین،وعلی آله واصحابه الی یوم الدین،وعلی من تبعھم من فقھاء الدین وعلماء الشرع المتین ـ

    جماعت بندی کا رواج :
    اما بعد ! برادران اسلام کی خدمت میں التماس ہے کہ آج کل جماعت بندی کا رواج ہے ـ ہر شخص ، جو سیاسی کام کرنا چاہتا ہے ، کسی نہ کسی نام سے جماعت بناتا ہے ، نام میں جدت ملحوظ ہوتی ہے ، چنانچہ اسلامی جماعت کے نام سے بھی ایک جماعت بنائی گئی ہے ـ ان کا خیال ہے کہ یہ وہی جماعت ہے جس کو انبیاء نے قائم کیا تھا ، جو مقصد انبیاء کی جماعت کا تھا وہی مقصد اس جماعت کا ہے ـ
    (اس کی مثال اس طرح ہے کہ لیموں کا درخت لگا کر توقع آم کی رکھی جائے یا پشاور کے راستے پر چل کر دہلی پہنچنے کی آرزو ہو ـ (مؤلف))
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    انبیاء کا مقصد اور اس کا سائنٹیفکٹ طریقہ
    ان کے خیال میں انبیاء کا مقصد حکومتِ الہیہ کا قیام تھا ـ اس کا سائنٹیفیکٹ طریقہ یہی ہے کہ آہستہ آہستہ اس جماعت کو چھوٹے پیمانے سے شروع کر کے ترقی دے کر ایک مضبوط جتھا بنایا جائے اورجہاد کبیر کرکےاقتدار اپنے ہاتھ میں لےلیا جائےـ مسلم لیگ کا نکتہ نگاہ کہ ملک کی تقسیم مذہب کی بناء پرکرنے کے بعد آئین اسلامی کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے،بلکل غلط اور غیر فطری طریقہ ہےـ حکومت الہیہ کے قیام کے لیے یہ غلط راستہ ہے ـ
    مگرمسلم لیگ کےکامیاب ہونےاور پاکستان بننے کے بعد ان کی تحریرات میں فرق آگیا ہےـاب وہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ مسلم لیگ طریق پربھی حکومتِ الہیہ قائم ہوسکتی ہے بلکہ قراردادِ مقاصد کے پاس ہونے پر یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ اب اسلامی حکومت بن چکی ہے،صرف مشینری میں ردوبدل کی ضرورت ہے،اگر قیادت صالحہ قائم ہو جائےتوآئینِ اسلامی(جس کا اقرارہو چکا ہے ) نافذ کیا جاسکتا ہےـگویا ان کے قول کے مطابق لیموں کے درخت سےاب آم کی توقع ہے اور پشاور جانے والادہلی پہنچ سکتا ہے ـ
    ان کے جدید نظام عمل پر غور کرنے سے دو باتیں ذہن میں آتی ہیں :
    1- یا تو بانی جماعت نےحالات کےفیصلے کوصحیح سمجھ کر اپنی پہلی روش سے رجوع کیا ہے اوریہ جان لیا ہےکہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے وہ طریقہ کار ضروری نہیں جس کو واحد طریقہ اورسائنٹیفک راستہ بتاتے تھےـجس کےمتعلق ان کا خیال تھا کہ جو شخص اس کے سوال کسی دوسرے طریق کو اختیار کرتا ہے وہ پشاور کے راستے پر چل کر دہلی جانے کی توقع رکھتا ہے یا درخت تو لیموں کا لگاتا ہے مگر توقع انار کی رکھتا ہےـ اگر ان کے خیال میں تبدیلی ہو چکی ہے تو ان پر لازم ہے کہ پہلے طریقہ کار کےغلط ہونےکا اعلان اورمسلم لیگ کے طریقِ کار کا حالاتِ حاضرہ میں سائینٹفک طریقہ ہونے کا اقرار کریں ـ
    2- یا بانی جماعت کاخیال وہی ہے مگر حالاتِ حاضرہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی روش میں تبدیلی کی ہے کیونکہ حالات حاضرہ میں اس طریقے کی دعوت ایک فیل شدہ طریق کی دعوت ہے ، لہذا اس کا ذکر مناسب نہیں مگر اپنی جماعت کو تقویت دینے کے لیے آئینِ اسلامی کےنفاذ کی دعوت اور قیادت صالحہ سے خوش کن الفاظ جماعت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں ـ پاکستان کے قیام کے ساتھ جو رکاوٹ ان کے پہلے طریقہ کار میں پیدا ہو چکی ہے اس کو معمولی لفظی رد وبدل سے دور کرنا چاہتے ہیں ـ کیونکہ لوگ جب ان کے ساتھ وابستہ ہو کر یا ان کے مقصد سے متفق ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملائیں گے تو شاید ان کو اقتدار پر قبضہ کرنے کا موقع ہاتھ آ جائے اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ اسی طریقے پر اچھی طرح عمل کرسکیں ، یعنی جو داخلی رکاوٹیں ان کے ذہن میں ہیں جہاد کبیر کر کے دور کرسکیں ـ
    اس بنا پر ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے سابق نظریہ (جس پر جماعت کی بنیاد ہے ) اور بعد کی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے ـ ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ ، جومنطقی ربط کے دلدادہ اور خوش کن الفاظ سے متاثر ہونے کے خوگر ہیں ، غلط فہمی میں مبتلا ہو کر صحیح راستے سے اکھڑ جائیں ـ
    قبل اس کے کہ ہم مودودی صاحب کی روش قدیم و جدید کا جائزہ لیں ، ضروری خیال کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے نام پر کچھ لکھیں ـ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ دین (جو عقائد ، عبادات ، اخلاق اور معاملات کے مجموعہ کا نام ہے ) کا ماخذ چار چیزیں ہیں :1-کتاب اللہ ، 2-حدیث شریف ،3-اجماعِ امت (جس کی سند کتاب و سنت میں موجودہو)، 4-صحیح قیاس(جس کی اصل کتاب و سنت ہے )- اجماع اور قیاس انھی دوپرمتفرع ہیں ـ کتاب اللہ متن اور حدیث اس کی تفسیر اور بیان ہے ـ اجماع حقیقت میں طریقِ عمل ہے ، قیاس عام طور پر استدلال خفی کو کہتے ہیں ـ حدیث کے ضبط اور اس سے استنباط کرنے میں محدثین یدطولٰی رکھتے ہیں ـ مسائل ضروریہ کے استقصا اوراحکام کے مراتب کی تدقیق میں اہل تخریج کا پلہ بھاری ہے ـ فقہائے حدیث میں سب مجتہدین اور اکابرمحدثین داخل ہیں ، ان کی دو قسمیں ہیں : ایک اہل تخریج اور ایک اہل حدیث ـجو فریق اختلاقی مسائل کے لینے اور سمجھنے میں روش رکھتا ہے (کہ پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرکے پھر اجماع کی طرف رجوع کرنا اس میں داخل ہے کیونکہ اجماع کی سند دو چیزیں ہیں ، پھر اقوال صحابہ کی طرف توجہ کی جائے ، اگر ان کا اتفاق ہوتو ، ورنہ ان کا وہ قول لیا جائے جو کتاب و سنت کے زیادہ قریب ہو ، اگر جواب نہ ملے تو وہ قول لیا جائے جہاں اصل اور فرع میں مؤثر میں فارق نہ پایا جائے ) اہل حدیث کہلاتا ہے ـ
    اور جو فریق اجماعی مسائل کے بعد کسی مجتہد کی طرف رجوع کرے اور اس کے طریق پر مسائل اختلافیہ کا جواب تلاش کرے ، وہ اہل تخریج کہلاتا ہے ـ یہ فریق رفتہ رفتہ سابق مجتہدین میں سے کسی ایک کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ـ
    اہلحدیث چونکہ طریقِ استدلال کلی رکھتے ہیں ، یعنی استنباط کی بنا کسی خاص مجتہد کی روش کو قرار نہیں دیتے بلکہ حقیقتِ حال کی جستجو میں اسی ماخذ کولیتے ہیں جو کتاب وسنت کے زیادہ قریب ہو خواہ کسی مجتہد کا طریقہ کار ہو ـ اس لئے جزئیات کا استقصا دائمی شریعت سجمجھ کر نہیں کرتے ـ ہاں ، اہل تخریج کے طریق سے ظنِ غالب کی بناء پر ضرورت کے وقت مستفید ہوتے ہیں ـ حقیقت میں دونوں گروہ ایک ہی مقصد کے خواہشمند ہیں ـ یعنی شارع کی مرضی معلوم کرنا چاہتے ہیں ـ
    جیسے طریق استدلال میں امت کی دو قسمیں ہیں : ایک اہل حدیث اور ایک اہل تخریج ـ عقائد کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں ـ ایک اہل حق اور ایک اہل ہوی ـ اہل حق وہ ہیں جن کے عقائد کی بنیاد کتاب و سنت اور اجماع پر ہو ـ اہل ہوی وہ ہیں جن کے عقائد میں کشف ، رائے اور فلاسفہ کے اختیار کردہ امورکو دخل ہو، جو آیت و حدیث ان کے خیال میں عقل ، کشف اور فلسفہ کے خلاف ہو اس کی تاویل کریں ـ
    سیاست کے اعتبار سے بھی دوگروہ ہیں : ایک اہل حق ، جو اس معاملہ میں کتاب وسنت کی طرف رجوع کرتے ہیں ، دوسرے وہ لوگ ہیں جو بجائے کتاب وسنت کے یورپ و روس کے نظام کی نقل اتارنے کی کوشش کرتے ہیں ـ یہ سیاست اہل باطل ہیں ـ اہل حدیث ہوں یا حنفی وغیرہ عقائد اور سیاست میں کتاب و سنت کو مدار قرار دیتے ہیں ، صرف طریق استدلال میں اختلاف ہے ـدونوں گروہوں میں مسلک کے پابند کم ہیں ـ بدعمل زیادہ ہیں ، قلت و کثرت میں تفاوت ہے ـ
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    نظم اور اسلامی فرقے
    اسلام نے سوائے اسلام کے کسی اور چیز کو مسلمان کہلانے یا بننے کے لیے مرکزی چیز قرار نہیں دیا ، یعنی اسلامی جماعت میں داخل ہونے یا مسلم کہلانے میں کسی نسل ، کسب ، رنگ ، وطن اور زبان کا اعتبار نہیں کیا ، یہاں تک کہ ہجرت ونصرت کی (جس کی وجہ سے مہاجر و انصار کے نام سے ایک رسی امتیاز پیدا ہوگیا تھا) بنا پر بھی ایسی جماعت نہیں بنائی جا سکی جو اسلام کی قائم مقام ہو ، اسی طرح تقویٰ و پرہیزگاری کو بھی ایسی جماعت کی بنا قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسلامی عقیدہ ہی مرکزی چیز قرار دیا جا سکتا ہے جو کتاب و سنت سے صاف طور پر ثابت ہو ـ عمل اگرچہ لازم ہے مگر اس کا لزوم عقیدے کا ہم پلہ نہیں ، اس لیے اس کو اسلامی جماعت کے لیے مرکزقرار نہیں دیا جا سکتا ہے ـ عمل سے مراد یہاں کام کرنا ہے نہ کہ التزام، متابعت کا التزام تو ایمان و نجات کے لیے لازم ہے ـ
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    اسلام کے اندر فرقہ بندی
    ہرگروہ جو دوسرے گروہ کو مسلمان سمجھتا ہے دوسرے گروہ سے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے نام تجویز کرسکتا ہے ، جس کی بنا وہ خصوصیات ہوں جن کی بنا پر وہ فرقہ دوسرے فرقہ سے ممتاز رہے ـ یہ نام اسلامی جماعت ، مسلم یا مسلمان وغیرہ عام ناموں سے ، جو اسلام کے ہم معنی ہیں ، الگ ہو گا ، اگرچہ ہر فرقہ رسمی امتیاز کے باوجود اپنی مذہبی جماعت ہی کواسلام کی آخری تعبیر قرار دیتا ہو اور دوسرے گروہ میں اپنے امتیازات کی وجہ سے انحراف خیال کرتا ہومگر اس کو عام نام اختیار کرنا اپنی تعریف و امتیاز کے لیے ٹھیک نہیں کیونکہ یہ عام نام دیگر اہل مذاہب کے مقابلہ میں ہے ، نہ کہ دیگر اسلامی فرقوں سے ممتاز کرنے کے لیے ـ
    اگر اسلامی جماعت کی تعبیر ان عقائد و اعمال کو قرار دیا جائے جن کو ایک فریق اپنے دعوے میں کتاب و سنت کا متقضیٰ خیال کرتا ہے تو اس صورت میں ہرگروہ کوحق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کا نام دے اگرچہ اس نام میں ثبوتی مفہوم '' ہماری جماعت اسلامی ہے '' کے لحاظ سے کوئی جرم نہیں ، مگر اس لحاظ سے کہ یہ جماعت دوسری جماعتوں سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کے لیے یہ نام استعمال کرتی ہے، یعنی یہ کہتی ہے کہ دوسری جماعتیں اسلامی نہیں تو اس صورت میں دوسرے فرقوں پر ایک خاص طنز پائی جاتی ہےجو نفرت و بغض کی جڑ اور الفت و محبت کے منافی ہے ـ اس واسطے کسی گروہ کو یہ جائز نہیں کہ عام نام استعمال کرے ، صرف کفارکےمقابلہ میں اس نام کو استعمال کرنا چاہیے ، یہی وجہ ہے کہ اب اسلامی فرقوں میں سےکسی فرقہ نے بھی اپنی جماعت کا نام جماعت اسلامی اس معنی کے اعتبار سےقرارنہیں دیا،اگرچہ ہرفرقہ اپنے فرقے کو اسلامی جماعت ہی کی دوسری تعبیرکرتا ہے ـ
    پس اگر کوئی نیا فرقہ یہ خواہش لے کر اٹھےکہ میں بلا تعصب ہرفریق سے صرف حق لیکر اعتقاد و عمل کو درست کرتا ہو ، اور وہ خیال کرنے لگے کہ اس صورت میں جو اعتقاد و عمل ہو گا وہ عین اسلام ہو گا ، اس لیے میں اپنے فرقہ کا نام اسلامی جماعت رکھوں تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ یہ بھی دراصل اس کے فہم ہی کی ایک تعبیر ہو گی ، پس اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے فرقوں سے اسلامی جماعت کا نام مختص کر کے خود ہی اس کا اجارہ دار بن جائے ـ ہاں ـ اپنے اعتقادات و اعمال کو عین اسلام خیال کرے تو ایک حد تک درست ہے ، پس کوئی فرقہ گروہ بندی کی حیثیت سے اپنے آپ کو نہ صرف مسلم کہلا سکتا ہے ، نہ اپنی جماعت کو اسلامی جماعت سے مشہور کر سکتا ہے ـ
    اگر کوئی گروہ مذہبی ، فقہی اور اعتقادی نہ ہو ، ایک خاص شے کو لیکر اٹھے جو کفار کے مقابلہ میں ہو اور اس کا تعلق عامتہ السلمین سے ہو ، کسی فرقہ کے ساتھ اس کی خصوصیات نہ ہو ، نہ کسی فرقہ کے آرائے خصوصیہ سے اس کا تصادم ہو ، جیسے آزادی یا تعلیم یا عام مسلمانوں میں اخوت و اتفاق پیدا کرنا ، تو اس قسم کی تحریک اگر بین المذاہب عمومی نام اختیار کرے تو ہو سکتا ہے مگر اس کواس نام میں خاص اعتقادات و اعمال کا داخل کرنا درست نہیں ـ
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    کس فرقہ کو عام نام استعمال کرنا جائز ہے اور کس کو منع ہے ؟
    پس اس زمانے میں جو لوگ اپنی اپنی جماعتوں کو ایسی عام تعبیر دے دیتے ہیں ،ان جماعتوں کی دو قسمیں ہیں :

    1-اس جماعت کی بنیاد اعتقادات اور سب اعمال پرہو، اگراس خیال میں اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کہیں تو دوسرے فرقے پر غیر اسلامی ہونے کی طنز سمجھی جائے گی جو کسی صورت میں بھی جائزقرارنہیں دی جاسکتی ، جیسے مودودی جماعت کا حال ہے کہ وہ اپنی جماعت کو بیک وقت تہذیبی اور سیاسی بلکہ کل اسلام سے عبارت سمجھتے ہوئے اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کہتے ہیں ـ
    2-اگر اس جماعت کا مدار کوئی ایسا امر ہو جس کو تمام مسلمانوں کے فرقے مانتے ہیں جیسے تعلیم یا آزادئ یا ایسی چیزیں جس پر اہل اسلام کے تمام فرقے ہیں تو اس صورت میں تعلیمی جامعات ، انجمن اسلامیہ ، اسلامیہ سکول یا سیاسی جماعت کو ، جو کفارکے مقابلہ میں تیار کی گئی ہو ، مسلم لیگ وغیرہ کہ سکتے ہیں کیونکہ اس کا تعلق کسی خاص فرقے کے ساتھ نہیں ہے ـ
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    جماعت کا نام / ایک غلط فہمی کا ازالہ
    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ قرآن نے ہمارا نام مسلمین رکھا ہے اور اس امت کو امت مسلمہ کہا ہے اورحنفاء کا لقب دیا ہے ، اس واسطے کیا حرج ہے اگر ایک جماعت اپنے آپ کو جماعت المسلمین یا جماعت مسلمہ یا اسلامی جماعت کہے بلکہ یہ عین مقتضائے کتاب اللہ ہے ؟
    بظاہر یہ استدلال صحیح معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے اس کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے ـ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی چیزیں ایک دوسرے سے بعض باتوں میں مشابہ ہیں ، یعنی بعض امور ان میں مشترک طور پر پائے جاتے اوربعض باتوں میں ایک دوسرے سے ممتاز ہیں،مثلا: زید وعمر میں بعض باتیں مشترک طورپرپائی جاتی ہیں،جیسے نطق ، ضحک ، استوا ، اقامت بدنی ، زندگی کی قابلیت ، منصب اور علم کی اہلیت وغیرہ وغیرہ اور بعض باتیں ایسی ہیں جو صرف زید میں پائی جاتی ہیں اور عمرو میں نہیں پائی جاتی ہیں ، اور بعض باتیں صرف عمرو میں ہی پائی جاتی ہیں نہ کہ زید میں ـ ان خصوصیات کو مشحصات کہتے ہیں ـ مذکورہ بالا مشترک امور کی بناپرزید وعمرو کو مشترک لفظ انسان سے تعبیرکرتے ہیں اور خصوصیات کی بنا پر زید وعمروکہتے ہیں ـ اسی طرح زید اور گھوڑے میں بعض چیزیں مشترک ہیں جن کی بناء پر دونوں کو جاندار کہتے ہیں ، اور بعض ان کے اپنے اپنے مخصوص اوصاف ہیں جن کی وجہ سے زید کو انسان اور گھوڑے کو گھوڑا کہتے ہیں ـ یہ قاعدہ ہے جب ایک نوع کے افرا کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنا ہو (جیسے انسان کے افراد کو ایک دوسرے سے الگ الگ بیان کرنا مقصود ہو ) تو اس صورت میں خاص خاص نام(زید وعمرووغیرہ)استعمال کیے جاتے ہیں جب ایک جنس (حیوان ) کے انواع (انسان ، گدھا ، گائے ) کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنا ہو تو خاص خاص انواع کے نام لیے جاتے ہیں ـ جب زید کو گھوڑے سے ممتاز کرنا ہو تو زید کو انسان کہیں گے ، اگر زید کو عمرو سے ممتاز کرنا ہو تو زید کہیں گے ، اسی طرح اگر کسی صنف سے ممتاز کرنا ہو تو مرد یا بندہ وغیرہ نام لے کر ذکر کریں گے (تفصیل کے لیے دیکھیے : المواقف للایجی 1/316،317)
    اب غور کرنا چاہیے کہ امتِ مسلمہ یا مسلمین یا اہل اسلام یا اسلامی جماعت کا لفظ تمام مسلمانوں پر بولاجاتا ہے،اگرچہ لغوی معنی کے اعتبار سے سب سابق انبیاء علیہم السلام کے متبعین کو ان ناموں سے تعبیرکرسکتے ہیں مگرعرف میں صرف محمد ﷺ کے متبعین کو ہی مسلمان کہتے ہیں کیونکہ دوسرے ادیان سب منسوخ ہو چکے ہیں ، اب نسخ کے بعد ان کے متبعین مسلمین نہیں کہلا سکتے ـ

     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    اسلامی جماعت کا نام
    اب کوئی فرقہ اگر کسی خصوصیت کو لے کراٹھتا ہے جو دوسرے فرقوں سے اس کو ممتاز کرے تو اس صورت میں عام نام سوائے منفی معنی کے کچھ مفہوم نہیں رکھتا ہے ـ پس اس صورت میں کسی نئے فرقہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی جماعت کو اسلامی جماعت کے نام سے موسوم کرے ، پس جو فرقہ اپنی جماعت کا نام اسلامی جماعت رکھتا ہے وہ دراصل اپنے سوا باقی فرقوں کو غیرمسلم قراردیتا ہے ، یعنی ان کی جماعتیں اسلامی جماعت نہیں ، جیسے آجکل مودودی فرقہ اپنی جماعت کو ، جو ان کے خیال میں عین اسلام ہے ، اسلامی جماعت کے نام سے موسوم کرتا ہے ـ
    دوسرے فرقوں سے اسلامی جماعت کے نام کی نفی ، جو ان کے اختیارکردہ نام سے الزاما سجھی جاتی ہے ، ان کی بعض عبارات میں اس کی تصریح بھی موجود ہے جس سے ان کی نزدیک دوسرے فرقوں کی حیثیت اور مقام معلوم ہوتا ہے ـ ان کے خیال میں ہندوستان کے مسلمانوں پر حجت قائم ہو چکی ہے ـ اب ان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا تو اس تحریک کو قبول کرلیں یا یہودیوں کی طرح رد کردیں ـ
    روئیدادِ جماعت اسلامی حصہ دوم (ص:13) میں ہے :
    '' اس موقع پر میں ایک بات نہایت صفائی کے ساتھ کہ دینا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ اس قسم کی دعوت کا جیسی ہماری دعوت ہے ، کسی مسلمان قوم کے اندراٹھنا اس کو ایک بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے ، جبتک حق کے بعض منتشر اجزاء باطل کی آمیزش کے ساتھ سامنے آتے رہیں ایک مسلمان قوم کے لیے ان کو قبول نہ کرنے اور ان کا ساتھ نہ دینے کا ایک معقول سبب موجودرہتا ہے اور اس کا عذر مقبول ہوتا رہتا ہے مگر جب پورا حق بلکل بے نقاب ہو کر اپنی خالص صورت میں سامنے رکھ دیا جائے اور اسکی طرح اسلام کا دعویٰ رکھنے والی قوم کودعوت دی جائے تو اس کے لیے ناگزیرہوجاتا ہے کہ یا تو اس کا ساتھ دے اور اس خدمت کو سر انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑی ہو ، جو امت ِ مسملہ کی پیدائش کی اصل غرض ہے ، یا پھر اس کورد کرکے ویسی پوزیشن اختیار کرے تو اس سے پہلے یہودی اقوام اختیار کرچک ہے ـ ایسی صورت میں ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کی گنجائش اس قوم کے لیے باقی نہیں رہتی"
    ''یہ عین ممکن ہے کہ اس دوٹوک فیصلے میں اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو ڈھیل دے اور اس نوعیت میں یکے بعد دیگرے کئی دعوتوں کے اٹھنے تک دیکھتا رہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا روش اختیار رکھتے ہیں ؟ بہرحال اس دعوت کی طرف سے منھ نہ موڑنے کا انجام آخرکار وہی ہے جو میں نے آپ سے عرض کردیا ہے ـ غیر مسلم قوم کا معاملہ اس سے مختلف ہے لیکن مسلمان اگر حق سے منھ نہ موڑیں اور اپنے مقصد کی طرف صریح دعوت سن کر الٹے پاؤں پھر جائیں تو یہ وہ جرم ہے جس پر خدا کسی نبی کی امت کو معاف نہیں کرتا''
    '' اب چونکہ دعوت ہندوستان سے اٹھ چکی ہے اس لیے کم ازکم ہندی مسلمانوں کے لیے تو آزمائش کا وہ خوفناک لمحہ آہی گیا ہے ـ رہے دوسرے ممالک کے مسلمان تو ہم ان تک اپنی دعوت پہنچانے کی تیاری کر رہے ہیں ، اگر ہمیں اس کوشش میں کامیابی ہوگئی تو جہاں جہاں یہ پہنچے گی وہاں کے مسلمان بھی اسی آزمائش میں پڑجائیں گے ـ ''
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,217
    مزید وضاحت/اسلامی جماعت کا نام
    مودودی صاحب نے اپنی تحریک کے رد و قبول کے متعلق اپنا نکتہء نگاہ پیش کردیا ہے ـ اب ذیل میں اس تحریک کی خصوصیات اور اس کا مقصد انہی کے الفاظ میں بیان یا جاتا ہے ـ کہتے ہیں :
    ''مسلمانوں میں عموما جو تحریکیں اٹھتی رہی ہیں اور جو اب چل رہی ہیں پہلے ان کے اور اس تحریک کے اصولی فرق کو ذہن نشین کرلینا چاہیے :
    اولا:ان میں یا تو اسلام کے کسی جز کو یا دنیوی مقاصد میں سے کسی مقصد کو لیکر بنائے تحریک بنایاگیا ہے ، لیکن ہم عین اسلام اور اصل اسلام کو لیکر اٹھ رہے ہیں اور پورا کا پورا اسلام ہی ہماری تحریک ہے ـ
    ثانیا:ان میں جماعتی تنظیم دنیا کی مختلف انجمنوں اور پارٹیوں کے ڈھنگ پر کی گئی ہے مگر وہی نظامِ جماعت اختیار کررہے ہیں جو شروع میں رسول اللہ ﷺکی قائم کردہ جماعت کا تھا "
    ان کی مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مودوی صاحب کی دعوت ان کے خیال میں جماعتی دعوت ہے ،جیسے دوسرے مذاہب کی دعوت ہوتی ہے کیونکہ ہرمذہب اسلامی مذہب سے ، خواہ سنی ہو یا غیر سنی ، اہل حدیث ہو یا حنفی اپنے مذہبی دستور میں ہرچیز کو داخل کرتا ہے مگرمودوی صاحب کے خیال میں اور کسی فرقہ کی دعوت جامعہ نہیں شاید وہ یہ سمجھ رہے ہی کہ ان کی چونکہ تنظیم نہیں صرف وعظ ہی وعظ ہے ، اس لیے ان کے پھلنے اور پھولنے اور حکومتِ الہیہ کے قیام میں ان کی جدوجہد کودخل نہیں ، اگر تنظیم ہے بھی تو اس کی غرض و غایت حکومت الہیہ کے قیام میں صرف دعوت و تبلیغ ہے ـ اس خدشہ کا جواب آئندہ ذکر ہوگا ، یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اسلامی جماعت کا نام دوسرے فرقوں کےلیے طنز ہے کہ وہ اسلامی نہیں بلکہ ان کے یہودیوں کی طرح ہونے کی تلمیح ہے ـ
    اس مختصر رسمی بحث کےبعد اب ہم مودودی نظریہ پر کچھ لکھتے ہیں
    تیرہ سو سال سے اہل سنت (اہلحدیث) یہی سمجھتے رہے ہیں کہ عبادت ، نماز ، روزہ ، حج ، ذکر ، تلاوتِ قرآن اور دیگرافعال تعظیمیہ کا نام ہے مگر مودودی صاحب نے ان کو کم درجہ دیا ہے ، اصل عبادات کسی اور چیز کو کہا ہے اور ان افعالِ تعظیمیہ کو اس کے لیے تمرینات(ٹریننگ کورس)قراردیا ہے ـ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں