مملکت سعودی عرب ـ کتاب و سنت پرمبنی حکومت توحیدوانسانیت

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 30, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    مملکت سعودی عرب ـ کتاب و سنت پرمبنی حکومت توحیدوانسانیت
    اصغرعلی امام مہدی سلفی
    مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند (عمومی ناظم )

    مملکت سعودی عرب روئے زمین پر واحد ملک ہے جس کی اساس قرآن وحدیث کی تعلیمات پر ہے اور جو اپنے یوم تاسیس ہی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں امت مسلمہ کی دینی و فکری رہنمائی اور ملک وملت اورانسانیت کی خدمات کو اپنا دینی ومذہبی کو اپنا دینی و مذہبی اور انسانی فریضہ تصور کرتاہے ـ اس نے اپنے متنوع ذرائع و وسائل کے ذریعہ اور مختلف انداز و اسلوب میں اپنی ہمہ جہت خدمات ، ایثار وقربانی ، تعاون و تکافل ، تحفظ حقوق ، فروغ علم و ثقافت ، قیام امن و سلامتی ، بین تہذیبی مذاکرات اور عام انسانی و فلاحی کاموں کے سبب مسلمانان عالم سے خصوصا اور دنیا کے انصاف پسند انسانوں سے عموما خراج تحسین حاصل کر لیا ہے ـ اور انہی ہمہ جہت دینی و انسانی عظیم خدمات کے پیش نظر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند ، جماعت اہل حدیث اور اس کی ہزاروں شاخین اور تعلیمی و تربیتی ادارے بشمول مرکزی دارالعلوم جامعہ سلفیہ بنارس اور اس کی تائیدہ و تحسین کرتے رہے ہیں اور آج بھی اس کی تمام عظیم الشان دینی و انسانی خدمات کو سراہتے ہیں اور اسکی تائید کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ـ اللہ تعالی اس اسلامی و انسانی حکومت کو قائم و دائم رکھے اور اسے ہر قسم کے شروروفتن سے محفوظ رکھے ـ
    لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج ایک ایسا شخص جس کی زندگی کا اچھا خاصا حصہ اسی مملکت فلاح و سعادت کی علمی و روحانی فضاؤں میں گذرا ، جس نے وہاں کے علماء و مشایخ سے برسوں اکتساب فیض کیا اور کسی لائق ہو کر متعدد ادارے قائم یے ، اسی مملکت کے خلاف زور خطابت کے ذریعہ عجیب و غریب اور بے بنیاد باتیں کر رہا ہے اور مملکت کی روشن و تابندہ تاریخ کو داغدار کرنے اور اسلامی حکومت اور اس کے شریف النسب ، انصاف پرور ، اعتدال پسند ، امن دوست اور انسانی نواز حکمرانوں کی کردارکشی کی بے جا جسارت کر رہا ہے ـ سعودی حکمرانوں کی خدا ترسی ، دین پسندی ، اخلاص و للہیت ، ملک کے تئیں احساس ذمہ داری، عوام و خواص کی خیر خواہی ، علماء نوازی ، احترام آدمیت ، خدمت انسانیت اور دینی و سیاسی بصیرت کی برکت ہے کہ آج مملکت سعودی عرب کے اندر اسلامی نظام قائم ہے ـ دینداری اور خداترسی کا دور دورہ ہے ـ شہری خوشحال ہیں ـ علماء و مشایخ کی مجالس آباد ہیں ـ مسجدیں اور دینی حلقے معمور ہیں ـ دانشگاہیں علم وثقافت اور دین و ایمان کے موتی بکھیر رہی ہیں ـ امن و شانتی کی فروانی ہے ـ قانون کی حکمرانی ہے اور دنیا کے ہر خطے میں انسانیت کی خیرخواہی و بھلائی کے کاموں کی وجہ سے اقوام عالم کی نگاہ میں وہ عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ـ جس کی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند دل کی گہرائیوں سے قدر کرتی ہے ـ
    یہ بات بھی انتہائی تکلیف دہ اور انصاف و دیانت کے خلاف ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو بھی مختلف طریقے سے لعن طعن کی جائے اور اس کے مبنی پر کتاب و سنت منہج واصول اس سے وابستہ جماعت اس کے متعلقین کے خلاف الزام تراشیاں کی جائیں ـ ہم ایسے تمام پروپیگنڈوں اور الزاموں کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اسے لائق مذمت گردانتے ہیں ـ
    دراصل یہ فتنہ امت کے درمیان اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی غیردانشمندانہ کوشش ہے ـ جس پر وطن عزیز کے اصحاب علم و فضل ، دیدوران و دانشوران ، ندوتہ العلماء ، دارالعلوم دیوبند ، جامعہ سلفیہ بنارس اور دیگر علمی و ثقافتی اداروں کے ارباب علم و فن اپنی ناپسندیدگی اور افسوس کا اظہارکر چکے ہیں ـ وہ ایسا شخص ہے جس کے خاندان کی بزرگ ترین ، علمی شخصیت ، سماحتہ الشیخ ابوالحسن علی ندوی نے اپنی پوری زندگی میں مملکت محروسہ کی ہر موڑ پر حمایت کی ہے اور وہ یہاں کے ممتاز اداروں کے رکن رکین رہے ہیں ـ
    اس لیے ایسے شخص کی حوصلہ شکنی جس قدر کی جائے اور جس قدر اس کی سنجیدہ تردید ہو کم ہے ـ ان کی باتیں سورج پر تھوکنے کے مترادف ہیں ـ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کے باغیرت قائدین اور وابستگان مولانا سلمان ندوی کے پروپیگنڈوں اور ان کے خلاف حقیقت اور اخلاق و دیانت سے عاری بے سروپا باتوں پر اپنے غم و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کو حقیقت پسندانہ گفتگو کرنے ، ناشکری ودلآزاری کی راہ ترک کرنے اور سادہ لوح عوام کو اپنی لفاظی سے گمراہ کرنے سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور دعاء گو ہیں کہ اللہ تعالٰی مولانا کو اس روش سے باز رہنے کی توفیق عطا فرمائے ـ
    مملکت سعودی عرب کی تمام دینی ، علمی و انسانی خدمات کےعلم الرغم صرف دنیا بھر سے آئے ہوئے ضیوف رحمن ، حجاج کرام و معتمرین کی خدمات ہی اس کا ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے کہ جس کو دیکھ کر اس کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ـ ہمارا یقین ہے کہ موجودہ دور میں مملکت سعودی عرب کے علاوہ دنیا کے کسی بھی خطے میں اتنے بڑے اجتماع کو کنڑول کرنا اور ان کو ہر طرح کی عمدہ سہولیات مہیا کرانا اور سب کو خوش و خرم اپنے وطن عزیز کی طرف اسلام کے عظیم الشان فریضہ حج کی ادائیگی میں بھرپور تعاون کرنے کے بعد وداع کرنا ممکن نہیں ـ مملکت سعودی عرب کا یہ ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جس کا کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کرسکتا ـ انسانی اور دینی خدمات کے علاوہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے خوشگوار تعلقات مملکت سعودی عرب نے جس طرح استوار کر رکھا ہے اسے اس ملک کے حکمرانوں کی عظیم دینی بصیرت ، بہترین سیاست اور عظیم خدمت تصور کیا جاتا ہے ـ خود وطن عزیز ہندوستان سے اور دنیا کی مختلف تنظیموں اور علماء سے جس طرح کے تعلقات مملکہ نے قائم کر رکھے ہیں وہ قابل ستائش ہیں اور وہاں کے علماء کرام اور دینی و رفاہی ، تعلمی اور علمی تنظمیوں اور اداروں نے جس طریقے سے پوری دنیا میں بھائی چارہ کے ماحول میں دینی و علم کی خدمات انجام دی ہے وہ بے مثال ہے ـ انہی کارناموں اور عظیم خدمات اور اسلامی وانسانی کاز کو کتاب و سنت کی روشنی میں فروغ دیتے رہنے پر ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور تائید و مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور کسی طرح کے بے جا پروپیگنڈوں کی تردید کرنا دینی و ملی اور انسانی فریضہ سمجھتے ہیں ـ اللہ تعالی تمام انسانوں خصوصا مسلمانوں کو کلمہءحق کہنے ، حق کی تائید کرنے اور باطل اور اہل باطل سے بچنے کی توفیق ارزانی فرمائے اور سب کو آپسی اختلاف اورشروروفتن سے محفوظ رکھے ـ آمین ـ
     
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں