'ماں کی ممتا کی عظمت کو لاکھوں سلام'

ہیر نے 'نثری ادب' میں ‏مارچ 26, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ہیر

    ہیر -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2007
    پیغامات:
    433
    اصل مضمون : ماں کی ممتا کی عظمت کو لاکھوں سلام
    تحریر : عبدالرحمان سید
    بشکریہ : عبدالرحمان سید کا بلاگ


    اسوقت میں نے اپنے بچپن کے دور میں والدہ کو بھی سب کے ساتھ کھانا کھاتے نہیں دیکھا، سب سے پہلے وہ ھم سب بہں بھائیوں اور ساتھ والد کےلئے کھانا لگاتی تھیں اور خود ھاتھ کا پنکھا لئے سب کو اپنے ھاتھوں سے ھر ایک کی پلیٹ میں ضرورت کے مظابق دال یا گوشت کا سالن ڈالتی رھتیں، اور ھم سب ان ھی کی ھدایت پر بہت ھی کفایت شعاری سے کسی بھی سالن کو روٹی یا چاول کے ساتھ استعمال کرتے تھے، وہ ھر ایک کو برابر برابر کھانا تقسیم کرتی تھیں، اور ضرورت سے زیادہ مانگنے پر ڈانٹ بھی پڑتی، مگر میں کچھ زیادہ ھی اسرار کرتا اور اکثر کہہ بھی دیتا “وہ ھانڈی میں سالن بچا ھوا تو ھے وہ مجھے کیوں نہیں دیتیں“ بعض اوقات وہ بھی مجھے اپنی مامتا کی محبت میں وہ ھانڈی بھی صاف کر کے میری پلیٹ میں ڈال دیتیں، مگر میں اس سے بےخبر رھتا کیونکہ وہ سب سے آخر میں سب کو کھانا کھلانے کےبعد اکیلی چولھے کے پاس بیٹھ کر کھانا کھاتیں، اگر کچھ بچ گیا تو ورنہ وہ خالی کل کی باسی سوکھی روٹی ھی، اچار یا چٹنی سے لگا کر کھاتیں، مگر وہ کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتی تھیں !!!!!!!!!! اور ھم سب اس سے بےخبر اپنی ھی دھں میں مگن رھتے -
    کیا ماں کی ممتا کی عظمت ھے، اسے لاکھوں سلام !!!!

    اُس وقت ماں کے اوپر ھی سارے گھر کا دارومدار ھوتا تھا گھر کی ساری صفائی سے لیکر کھانا پکانے اور کھلانے تک، بمعہ شوھر اور بچوں کی ھر ضرورت اور خدمت کو پورا کرنے میں سارا سارا دن وہ مشغول رھتیں، چاھے وہ کتنی ھی تکلیف میں کیوں نہ ھو، ابھی بھی کئی مائیں اپنی اسی پرانی ڈگر پر چل رھی ھیں، جس کی وجہ سے کئی گھروں کا سکون ابتک قائم ھے، ورنہ اجکل کی زیادہ تر عورتیں تو بچوں کے سامنے ھی ظلاق کا مطالبہ کرتیں ھیں، دوسری باتیں تو چھوڑیں، انہیں نہ اپنے شوھر سے کوئی غرض ھوتی ھے نہ ھی اپنے بچوں سے جس کے ذمہ دار مرد حضرات بھی ھیں، چاھے غلطی کسی کی بھی ھو -

    پہلے ایسا بہت ھی کم ھوتا تھا کہ بچوں کے سامنے کوئی بھی میاں بیوی آپس میں لڑائی جھگڑا کریں، بڑوں کی اگر کوئی بات بھی ھورھی ھو تو ھمیں بھگا دیا جاتا تھا، لیکن میں اکثر اسی فراق میں لگا رھتا تھا کہ کیا بات ھورھی ھے، اکثر یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر میاں بیوی کے بڑے بزرگ اگر ساتھ موجود ھوں تو مجال ھے کہ گھر کی بہو ان کے سامنے اپنے شوھر کے ساتھ بیٹھ جائے یا زور زور سے باتیں کرے، بلکہ دیکھا گیا ھے کہ اکثر گھر کی عورتیں بزرگوں کے سامنے بیٹھتی تک نہیں تھیں اور بس ھاتھ کا پنکھا لئے انھیں گرمیوں میں جھلا کرتیں تھیں، اور بچے بالکل ادب سے ان سب کا احترام کرتے اور باھے نکلتے ھی اپنی اوقات میں آجاتے یعنی شور ھنگامہ شروع ھوجاتا۔۔۔۔۔!
     
  2. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    بہت خوب۔عبدالرحمن سید صاحب کی تحریروں کی کیا بات ہے۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,434
    اللہ ہمیں بھی یہ توفیق دے کہ ماں کی قُربانیوں کے بدلے اسی جانثاری کے ساتھ اس کے احسانوں کا شکریہ ادا کر سکیں۔

    ممتا کی عظمت کو لاکھوں سلام !!!!
     
  4. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,582
    بہت خوب

    شکریہ سسٹر
     
  5. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    آپ سب کا میں بہت مشکور و ممنون ھون کہ مجھ ناچیز کی تحریریں آپکو بہت پسند آتی ھیں،!!!!


    خوش رھیں،!!!!!!
     
  6. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,947
    بہت اعلٰی ۔ :00001:
     
  7. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت شکریہ
     
  8. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,713
    زبردست!!!!:00001:
     
  9. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    بہت بہت شکریہ میرے دوست فرینڈ جی،!!!!!
     
  10. عبدالرحمن سید

    عبدالرحمن سید -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2007
    پیغامات:
    205
    میری اپنی آج کی کہانی،!!!!!!! ماں کی ممتا،!!!!!ایک پرخلوص رشتہ،!!!!!!

    ماں کی ممتا کی تڑپ کو میں نے کئی دفعہ اپنی ماں کی آنکھوں میں دیکھا، انکی اولاد کو جب بھی کوئی دکھ یا تکلیف میں دیکھتی تو وہ چیخ اٹھتی تھیں، بچپن میں جب سے میں نے ھوش سنبھالا، میں نے اپنے آپ کو ھمیشہ اپنی ماں سے ضد کرتے ھوئے پایا، میں کیونکہ پہلا اور بڑا بیٹا ھوں، اس لئے بچپن سے ھی کچھ زیادہ ھی والدین کا لاڈلا تھا، جس کا میں نے خاص کر اپنی اماں کو بہت تنگ کیا، مگر میں نے انہیں کبھی بھی مجھ سے ناراض ھوتے ھوئے نہیں دیکھا، ھاں سمجھاتی ضرور تھیں، کہ بیٹا اچھے بچے ایسا نہیں کرتے، دیکھا تمھارے ابا جان آتے ھونگے، کوئی شیطانی مت کرنا، یا کبھی والد صاحب آرام کررھے ھوتے تھے، مجھے شرارت کرتے ھوئے دیکھ کر خاموشی سے دوسرے کمرے میں لے جاکر بہت پیار سے سمجھاتی تھیں، مگر انہوں نے مجھ پر آج تک کبھی بھی ھاتھ تک نہیں اٹھایا، اور نہ ھی کبھی مجھ سے ناراض ھوئیں،!!!!!!!! مگر اباجان کا غصہ تو بہت ھی سخت تھا، مجھے ان سے بہت ڈر لگتا تھا، کئی دفعہ ان سے خوب مار بھی کھائی، لیکن وہ اندر سے بہت ھی زیادہ موم تھے، مجھ سے بہت پیار بھی کرتے تھے،!!!!!!

    بچپن کے زمانے میں اکثر اوقات میں گھر میں اپنے ابا جان کے سامنے تو بالکل معصوم اور بھولا بھالا سا بنا رھتا تھا، اور ان کی غیر حاضری میں تو گھر میں طوفان برپا کر رکھتا تھا، چھوٹے بہن بھائیوں کو خوب تنگ کرتا تھا، والدہ بس زیادہ تر کچن میں یا تو کھانا پکا رھی ھوتی تھیں یا پھر گھر کی صفائی ستھرائی برتن وغیرہ دھوتیں یا پھر کپڑوں کا ڈھیر لے کر دھونے بیٹھی ھوتیں، وہ وہیں سے سب کو شور نہ کرنے کی ھدایتیں بھی دیتی رھتیں، مگر ان کی کون سنتا تھا، ھم سب بہن بھائی ایک ھنگامہ کھڑا کئے رھتے تھے، والدہ کبھی کبھی ڈرانے کیلئے فوراً ھی اعلان کرادیتی ارے چپ ھوجاؤ تمھارے ابا جی آرھے ھیں، اور ھم سب بہن بھائی بالکل خاموش ھو جاتے، اور بس ایک کونے میں چپ چاپ بیٹھ جاتے اور میں تو سب سے الگ ایک کونے میں اپنی اسکول کی کتابیں لے کر بیٹھ جاتا، جیسے میں تو بہت ھی زیادہ تابعدار اور پڑھاکو بچہ ھوں،!!!!!!!! والد صاحب کا رعب بہت تھا، ایک تو ان کے ملٹری کے بھاری بھر کم جوتے دور سے ھی ان کے آنے کی خبر دے دیتے تھے، اور ان کی خاکی وردی اور ٹوپی کا ایک الگ ھی رعب تھا، وہ ایک پاکستانی فوجی تھے، ان کا چلنے کا انداز بھی بالکل فوج کے مارچ پاسٹ کی طرح تھا، والدہ بھی ان کے سامنے زیادہ تر خاموش ھی رھتی تھیں، وہ ھمیں گھمانے پھرانے بھی لے جاتے تھے، لیکن والدہ کو کبھی لے جاتے ھوئے نہیں دیکھا، ھاں کبھی کبھی کسی دوسری فیملی میں اگر کوئی دعوت یا تقریب ھوتی تو والدہ بھی ساتھ ھوتی تھیں،!!!!!!

    میں نے تو والدہ کو ھمیشہ گھر میں مصروف ھی دیکھا، اس وقت تو ھمارے گھر میں بجلی نہیں تھی، لالٹین کی روشنی میں ھی رات کو ھم پڑھا کرتے تھے، والدہ اتنی پڑھی لکھی نہیں ھیں، لیکن اس وقت وہ ھم سب بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ھماری کتابوں کو الٹ پلٹ ضرور کرتی رھتیں تھیں، اور پرائمری اسکول کی حد تک تو کچھ نہ کچھ میں سلیٹ اور تختی پر لکھائی کی مشق کراتی رھتیں، ان کا سارے گھر کا کام کرنا، اور اس کے باوجود ھمارے ساتھ بھی کچھ نہ کچھ وقت دیتی رھتی تھیں، کبھی کبھی ھم بھی اپنی والدہ کو زبردستی اپنے ساتھ کھیلنے کیلئے مجبور کردیتے تھے،!!!!!!!!

    اس وقت کے بارے میں جب سوچتا ھوں تو حیران ھوتا ھوں کہ وہ کس طرح دن رات ھر وقت ھم سب کیلئے اتنی زیادہ محنت مشقت کرتی رھتی تھیں، آج کل تو شاید ھی کوئی ایسا کرتا ھو گا، مگر ھماری اماں تو اب تک سارا کام اپنے ھاتھوں سے ھی کرتی ھیں، ھمارے بچے حیران ھوتے ھیں کہ وہ اب بھی کپڑے اپنے ھاتھوں سے دھوتی ھیں، خود کھانا پکاتیں ھیں، بازار جانا اور سارا سودا سلف لانا انکی روزمرہ زندگی کا معمول ھے، ھمیشہ سادہ رھتی ھیں، میں نے بچپن سے لیکر آج تک انہیں کبھی بھی میک اپ میں نہیں دیکھا، بالکل سادہ سے کپڑے پہنتی ھیں، زرق برق لباس انہیں پسند نہیں ھیں، لیکن اپنی بیٹیوں، بہوؤں، نواسیوں، اور پوتیوں، کو اچھے لباس میں دیکھ کر بہت خوش ھوتی ھیں، اور شروع سے انہیں میں نے برقعے میں ھی دیکھا، آج بھی وہ مصالہ سل بٹے پر اپنے ھاتھ سے ھی پیستی ھیں، جبکہ گھر میں گرائنڈر بھی موجود ھیں لیکن وہ کہتی ھیں کہ ھاتھ سے پسے ھوئے مصالوں کی وجہ سے ھی کھانوں میں ایک عمدہ ذائقہ آتا ھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان بنایا ھوا پکوان بہت ھی لذیذ اور خوش ذائقہ ھوتا ھے، خاص کر ان کے ھاتھ کے بنے ھوئے کباب اور بھنا ھوا قیمہ تو مجھے بہت پسند ھے، بچپن میں تو وہ اپنے ھاتھوں سے بنے ھوئے پراٹھے اپنے ھاتھ سے کھلاتی تھیں، لکڑی کے چولہے پر دھواں دیتی ھوئی لکڑیاں اور ان کا پھوکنی سے بار بار پھوک مار کر چولہے کی آگ کو تیز کرنا، اسی دھویں میں کھانا پکانا روٹیاں پکانا، اس کے علاوہ پورے گھر میں ھاتھوں سے بیٹھ کر جھاڑو لگانا، پوچھا لگانا، اس وقت کچی دیوریں ھوا کرتی تھیں، اس پر مٹی سے لپائی کرنا، اپنے ھاتھوں سے گھر کے ھم سب کے سارے میلے کپڑے، چادریں تولئے اپنے ھاتھوں سے ایک بڑے سے تھال میں دھوتی تھیں، اور اب بھی ایسا ھی کرتی ھیں، وہ اب کہتی ھیں کہ مشینوں سے کپڑوں کا ستیاناس ھو جاتا ھے، !!!!!!!!

    یہ تو حقیقت کہ اس وقت کی عورتیں جو گھر کے سارے کام اپنے ھاتھوں سے کرتی تھیں، اور اب بھی ان کا وہی حال ھے، وہ کسی بھی مشینوں کو ھاتھ تک نہیں لگاتی ھیں، روز کا بازار جاکر سودا سلف وغیرا لانا، دعوتوں کا اھتمام کرنا، مہمانوں کی خوب خاطر مدارات کرنا، ان کا روزمرہ کا معمول اب تک ویسے کا ویسا ھی ھے، اور یہی وجہ ھے کہ انکی کافی عمر ھونے کے باوجود بھی چاق و چوبند، اور صحتمند نظر آتی ھیں، جو کہ اب نئی نسل کی لڑکیوں میں نہیں ھے، اگر آج کل کی لڑکیاں ھیلتھ کلب میں جانے کے بجائے اگر گھر کے کام کو پرانے طریقوں سے انجام دیں تو وہ ھیلتھ کلب کے بغیر بھی اپنی صحت کو بہت ھی بہتر اور چاق وچوبند رکھ سکیں گی،!!!!!!

    آج میں بہت اداس ھوں کیونکہ میری ماں جو اب تک ھم سب کیلئے خوب محنت مشقت کرتی رھیں ھیں آج ایک اسپتال میں زیر علاج ھیں، وہاں پر بھی لیٹے لیٹے ھر آنے جانے والوں کو اپنے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں اور بیٹے بیٹیوں دامادوں بہووں کو دعائیں اور ساتھ حوصلہ بھی دے رھی ھیں، میں ان کے پاس نہیں ھوں لیکن فون پر مجھ سے خوب پیار سے بات کرتیں ھیں مجھے ھمت دیتی ھیں، مگر مجھے معلوم ھے کہ وہ کس درد اور کرب کے عالم میں مجھ سے فون پر باتیں کرتی ھیں، میری آنکھوں میں ایک آنسوؤں کا سیلاب بہتا رھتا ھے، مگر میں اسے اپنے بچوں سے چھپاتا پھرتا ھوں، میرا دل چاھتا ھے کہ میں خوب چیخ چیخ کر روؤں، میرے بچے بھی میری حالت دیکھ کر کچھ خاموش اور سنجیدہ سے ھوگئے ھیں، میری بیگم بھی مجھے سمجھتی ھیں، اور وہ بھی سب میرے بہن بھائیوں کو فون پر دلاسہ اور ھمت کرے کیلئے کہتی رھتی ھیں، مجھ سے تو فون پر بہت ھی مشکل سے بات ھوتی ھے، اور اپنے آنسوؤں کو بہت ھی مشکل سے روک پاتا ھوں،!!!!

    سب بھائی بہن بھی اپنی اماں کی خدمت میں لگے ھوئے ھیں، اور ساتھ ھی تمام رشتہ داروں اور جان پہچان والوں کی ھمدردیاں بھی ھماری اماں کے ساتھ ھیں، جو ناراض تھے وہ بھی اماں کے پاس خیریت معلوم کرنے آپہنچے ھیں،!!!!!!!!!

    میری بس دعاء یہی ھے کہ اللٌہ تعالیٰ انہیں اپنے حبیب (ص) کے صدقے جلد سے جلد صحت و تندرستی عطا فرمائے،!!! آمین،!!!!! اور اللٌہ تعالیٰ ھم سب کے سروں پر اپنے والدین کا سایہ سلامت رکھے، آمین،!!!!!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں