اجابتِ دعا کی نہیں ، فکر ہے تو دعا کی

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏جنوری 17, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    اجابت دعا کی نہیں ، فکر ہے تو دعا کی

    بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے جلد دعا مانگنے سے اکتا جاتے ہیں کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں ، حالانکہ دعا منزل مقصود تک پہنچنے اور کامیابی حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے ـ اور جس کو دعا کی توفیق حاصل ہو گئی اس کے لیے قبولیت یقینی ہے اور دعا نہ مانگنا اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے ـ

    یونس علیہ السلام کے بارے میں اللہ عزوجل نے قرآن کرم میں فرمایا
    فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ﴿﴾ فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ﴿﴾ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿الصافات,142-143﴾
    '' تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگ گئے - پس اگر یہ پاکی بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے - تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے "(جوناگڑھی)

    اگر اللہ تعالی کا نبی بھی دعا نہ کرتا اور اس کی تسیح بیان نہ کرتا تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتاـ

    صحابہ کرامؓ صرف دعا کرتے تھے ـ انہیں قبولیت کی اتنی جلدی نہ تھی ، اس حوالے سے ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب '' الجواب الکافی'' میں لکھتے ہیں کہ:
    عمرؓ نے دشمنان اسلام کے مقابلے میں دعا ہی کے ذریعے بارگاہِ الہی میں نصرت و امداد اور فتح کی التجائیں کیں ، اور اکثر اوقات صحابہ کرامؓ سے فرمایا کرتے تھے
    (لستم تنصرون بكثرة، وإنما تُنصرون من السماء)
    ''کثرت افواج سے تمہیں فتح حاصل نہیں ہوتی ، بلکہ آسمان سے اللہ کی جانب سے نصرت ملتی ہے ''

    مزید فرماتے تھے :
    إنّي لا أحمل همَّ الإجابة ولكن همَّ الدعاء ، فإذا أُلهمتُ الدعاء فإن الإجابة معه .
    ''مجھے اجابت دعا کی نہیں ، فکر ہے تو دعا کی ،جب دعا کی توثیق دی گئی تو اجابت تو اس کے ساتھ ہے ''

    کسی شاعر نے اس مقصد کو اپنے شعر میں یوں ادا کیا ہے :
    لولم تردنيل ما أرجو وأطلبه
    من جود كفيك ما علمني الطلبا

    ''اپنے دست سخا سے اگر میری طلب پوری کرنے کا ارادہ نہ کرتا تو مانگنا مجھے نہ سکھایا ہوتا ـ

    پس جس شخص کو دعا القا کی گئی ، دعا والتجا کی توفیق عطاکی گئی تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے ضرور اجابت دعا کا ارادہ فرمالیا ـ

    چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالٰی کا ارشاد ہے :
    وقال ربكم ادعوني أستجب لكم (المؤمن :60)
    ''تم مجھ سے مانگو ، میں تمہاری دعا قبول کرتا ہے ـ
    مزید ارشاد ہے :
    {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنّي فَإِنّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِ} [البقرة:186
    ''جب میرا بندہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کے قریب ہوتا ہوں ، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ''

    ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
    من لم یسئل اللہ یغضب علیہ (ترمذی : کتاب الدعوات)
    ''جو آدمی اللہ سے نہیں مانگتا ، اللہ تعالی اس پر خفا ہوتا ہے ''

    یہ آیتیں اور حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالی کی رضامندی اسی میں ہے کہ اس سے دعا کی جائے ـ اس سے دست سوال دراز کیا جائے ـ بندے اس سے مانگیں اور اس کی اطاعت و عبادت کریں ـ ظاہر ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالی راضی ہوتا ہے تو ہمہ قسم کی خیر اور بھلائی اس کی رضامندی اور خوشنودی ہی میں ہے جسطرح کہ ہمہ قسم کی آفتیں اور مصیبتیں اس کے غضب ، خفگی اور ناراضی میں سے ہیں ـ

    اللہ ہمیں دعا کی توفیق عطا فرمائے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جزاک اللہ خیرا ۔
     
  3. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
     
  4. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاک اللہ خیرا کتنی پیاری بات سمجھائی ہے۔
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بارک اللہ فیک
     
  7. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    بارک اللہ فیک وجزاک اللہ خیرا
     
  8. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں