حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا

نصر اللہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏جنوری 19, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا​

    حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ان کے اسلام سے متعلق اصحاب سیرت اور مورخین اسلام میں اختلاف ہے۔علامہ ابن عبد البر الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں رقم طراز ہیں کہ عاتکہ کا اسلام مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ لیکن اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان نہیں تھیں۔
    ان کے اسلام کے ثبوت میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بہت بڑی مداح تھیں اور اپنے اشعار میں متعدد مقامات پر انھوں نے آنحضرت ﷺ کی مدح کی ہے اور آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے نبوت و رسالت کا جو منصب عظیم عطا کیا گیا تھا،اس پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا ہے اور آپﷺ کو نبی برحق قراردا ہے۔امام دار قطنی کتاب الاخوہ میں لکھتے ہیں کہ حضرت عاتکہ نے رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو بہت سے اشعار میں نبی صادق کہا ہے اور ان کے یہ اشعار ان کے اسلام کی شہادت دیتے ہیں۔ابن مندہ نے ان کو جماعت صحابہ میں شمار کیا ہے اورلکھا ہے کہ ان سے حضرت ام کلثوم بنت عقبہ نے روایت حدیث کی۔
    ابن سعد نے طبقات میں بتایا ہے کہ حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنھا مکہ مکرمہ میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں اور پھر ہجرت مدینہ کا شرف حاصل کیا۔یہ ایک جلیل القدر اور عظیم المرتبت خاتون تھیں،سیرت و تاریخ کی کتابوں میں ان کا ذکر کیا گیا ہے ۔مثلاًابن سعد نے طبقات میں ،ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں،حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں،ابن ہشام نے اپنی تصنیف میں اور طیفور نے بلاغات النساء میں ان کے متعلق بیان کیا ہے اور اچھے الفاظ میں ان کا تذکرہ فرمایاہے۔خاندان عبد المطلب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ فصاحت و بلاغت اور ادب و شعر میں ان کا مقام بڑابلند ہے۔اس خاندان کا ہر فرد اپنی ایک الگ حیثیت رکھتاہے۔ان کی عورتیں بھی اس میدان میں بہت آگے تھیں اور مرد بھی۔کسی قافلے میں ان کا اگر کوئی رکن شامل ہوتا تو زبان سے پہچان لیا جاتاتھا کہ یہ بنو ہاشم سے تعلق رکھتا ہے۔جہاں یہ حضرات اخلاق و کردار میں ممتاز تھے وہاں فصاحت و بلاغت میں بھی بہت سی خصوصیات کے حامل تھے۔زبان کی باریکیوں اور فن کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ تھے،حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا بھی اس موضوع پر دست گاہ رکھتی تھیں اور مختلف اصناف شعر میں انھیں عبور حاصل تھا۔ان کے قصیدے،مرثیے اور مدحیہ اشعار سیرت و رجال کی کتابوں میں مذکور ہیں اور واضح طور سے بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں وہ کس درجہ مہارت رکھتی تھیں۔رسول اللہ ﷺ کی مدح کرتے ہوئے کہتی تھیں۔
    محمد(ﷺ) جس طرح حسن و جمال میں بے مثال ہیں ،اسی طرح عمل و اخلاق میں بھی عدیم المنظیر ہیں۔
    یہ چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہرے والا خواب رو جوان عاقل و فہیم بھی اور بہادر و شجاع بھی۔
    ان کا باطن بھی اسی طرح پاک اور صاف ہے جس طرح ان کا ظاہر اجلا ہوا اور بے داغ ہے۔
    سخاوت اور جود ان کی فطرت میں داخل ہے اور کم زور کی اعانت اور مسکین کی دست گیری ان کا معمول ہے۔
    اللہ نے ان کو نبوت کے لئے چن لیا ہے ۔اسلئے کہ یہی اس منصب بلند کےحق دار تھے۔
    ان کی مجلس میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور فرشتے ان پر صلات بھجتے ہیں۔
    وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہوں نے ان کی رفاقت اختیار کی اور ان کی ہم نشینی کو اپنےلئے ضروری ٹھہرایا۔
    تم دیکھتے نہیں کہ ان لے لئے فوزو فلاح مقدر ہو چکی ہے اور انجام کا رانہی کی جیت ہوگی۔
    یہ اللہ کے سچے نبی ہیں اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس میں بے شمار برکتیں پنہاں ہیں۔
    محمد(ﷺ) کے مخلاف یقیناًناکام رہیں گے،انبیا کے مخلاف ہمشہ ذلیل ہوتے ہیں۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو محمد(ﷺ) کی تابعداری کرو ،ان کی تابعداری میں ہی کامیابی کا راز مضمر ہے۔
    لوگو! خیرات و حسنات کی طرف دوڑو کہ تمہاارے پیغمبر کا یہ ارشادہے:
    "تم اللہ کو سجدہ کرو،اس کے رسول اسی کے سامنے سر جھکاتے ہیں"۔
    جس کادل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے خالی ہو،وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ناکام رہے گا۔
    حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لائق احترام باپ عبدالمطلب کی وفات پر ایک مرثیہ کہا تھا۔جس کے چند اشعار کا ترجمہ درج ذیل ہے۔
    اے میری دونو آنکھو۔۔!آنسو بہانے میں بخل سے کام نہ لو ،سخاوت کا اظہار کرو،آج تمہیں یہی زیب دیتاہے۔
    اے میر ی دونوآنکھو۔۔!عبرت حاصل کرو ،جس شخص کو تم دیکھتی رہی وہ اب تمہیں اس کا بدل نہیں مل سکتا۔
    اے میری دونو آنکھو! حیران اور متعجب کیوں ہو،اس کی موت کے بعد تمہیں کئی ناخوش گوار مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
    تم کو ایسے کریم و جواد کو دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے جس کا بدل ممکن نہیں ہے ۔
    میری آنکھیں کس درجہ بلند بخت تھیں کہ ایک سردار اور معزز باپ کی زیارت سے مشرف ہوتی تھیں،اب اس کو کبھی نہ پا سکیں گی۔
    میں کتنی بد قسمت ہوں کہ آج شفیق اور مہربان باپ کی شفقتوں اور مہربانیوں سے محروم ہو گئی ہوں۔
    وہ میری لغزشوں کو معاف کرنے والے تھے اور میر ی غلطیوں کو نظر انداز کرتے تھے۔
    وہ میرا سہارا تھے،میں نے ہر موقعے پر انھیں صاحب کر م پایا۔
    وہ خاندان کی اونچی شخصیت تھے،غربا و مساکین انھیں اپنا مرجع و ماویٰ سمجھتے تھے۔ان کا سخاوت کا دامن سمٹ گیاہے۔لیکن ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی۔
    وہ بہادروں کی بہادری پر خوش ہوتے تھےاور ان کا اعزاز و اکرام کرنے والے تھے۔
    غرض حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا ایک با عظمت خاتون تھیں اور فصاحت و بلاغت اور ادب و شعر میں اونچے درجے پر فائز تھیں۔

    اسلام کی بیٹیاں
    مولانا محمد اسحاق بھٹی حفظہ اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. نویدعامرالاأثری

    نویدعامرالاأثری -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 17, 2014
    پیغامات:
    3
  3. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    جزاک الله خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں