ہندوستان: توہم پرست سادھوں کا دیش

asimhafeez نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏فروری 9, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. asimhafeez

    asimhafeez -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2008
    پیغامات:
    56
    [ ہندوستان: توہم پرست سادھوں کا دیش
    محمد عاصم حفیظ
    بھارتی ریاست اتر تردیش کے اناو¿ ضلع کے ایک گاو¿ں ڈونڈیا کھیڑا کے شیو مندر کے احاطے میں اس وقت آثار قدیمہ کے درجنوں ماہرین تیزی سے کھدائی میں مصروف ہیں۔ یہ ماہرین دور قدیم کی باقیات اور آبادیوں کے نشانات نہیں بلکہ ایک خزانے کی بازیابی کے لیے کھدائی کر رہے ہیں۔ کہانی یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل اس مندر کے سادھو شوبھم سرکار کے خواب میں اس علاقے کے انیسویں صدی کے راجہ نظر آئے۔ انہوں نے ملک کی اقتصادی بدحالی پر بہت افسوس ظاہر کیا اور سادھوکو بتایا کہ 1857 کی بغاوت میں انگریزوں کے ہاتھوں مارے جانے سے قبل انہوں نے اس مندر کے احاطے میں ایک ہزار ٹن سونا دفن کر دیا تھا۔سادھو نے ایک مرکزی وزیر کو اپنے خواب کی اطلاع دی۔ مرکزی حکومت کی ہدایت پر جیولاجیکل سروے آف انڈیانے فوراً وہاں زمین کا جائزہ لیا۔ مندر کے سادھو نے رات میں ایک مقام پر سحری کے وقت پوجا پاٹ کا اہتمام کیا اور آثار قدیمہ کے ماہرین سادھو کی بتائی ہوئی جگہ پر کھدائی میں لگ گئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس عجیب و غریب واقعے پر اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ”بھارت توہمات اور بھوت و آسیب میں یقین رکھنے والے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ بھارتی معاشرے کی طرح سیاست میں بھی جہالت کی کمی نہیں ہے اور بڑی تعداد میں سیاست دان ستاروں کی چال اور سادوھوو¿ں کی ہدایت کے مطابق ہی اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرتے رہے ہیں۔پچھلے کچھ سالوں میں ملک کی سیاست میں بے یقینی، کمپٹیشن میں شدت اور اندھا دھند بدعنوانی اور لوٹ پر کچھ قابو آنے سے سیاست دانوں میں سادھوو¿ں کی طرف مائل ہونے کاچلن کافی بڑھا ہے۔ بڑی بڑی سرکاری عمارتوں کے سنگ بنیاد رکھنے سے لے کر پروگراموں اور تقاریب تک ہر جگہ سادھوو¿ں کا بول بالا نظر آتا ہے۔
    معاشرے میں بے یقینی، ملی ہوئی کامیابی کھونے کا خوف اور عدم تحفظ کا احساس اتنا شدید ہے کہ سیاست دانوں سے لے کر صنعت کار، بزنس مین، بڑے بڑے صحافیوں اور یہاں تک کہ ملک کے چوٹی کے سائنسدانوں کی انگلیوں، ہاتھوں اور گلے میں بھی بری روحوں اور پریشانیوں سے بچانے والی انگوٹھیاں اور گنڈے و تعویز نظر آتے ہیں۔ملک میں بڑھتی ہوئی جہالت اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتی سائنسدانوں کے تیار کردہ راکٹ اور مصنوعی سیارے بھی اب سادھوو¿ں کی پوجا کے بعد ہی خلا میں بھیجے جاتے ہیں۔ یہی نہیں یہ سادھو اب راکٹوں کی پرواز کا موزوں وقت بھی بتاتے ہیں۔معاشرے میں سادھوو¿ں اور باباو¿ں کا اثر اتنا بڑھ گیا ہے کئی سادھو اب کھلے عام حکومتیں بنانے اور گرانے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔اس لیے جب ایک سادھو کے خواب کی بنیاد پر مرکزی حکومت نے اناو¿ کے گاو¿ں میں خزانے کی کھدائی شروع کرائی تو بہت سے لوگوں کو بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ کچھ دنوں پہلے پریس کونسل کے سربراہ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں سائنسی سوچ اور نطریہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہیں اپنے بیان کے لیے معافی مانگنی پڑی تھی۔©“یہ تھی سیکولرازم کے دعویدار اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ” چمکتے ہندوستان “ کی ایک جھلک ۔ بھارت عالمی سطح پر سیکولر ہونے کا دعویدار رہا ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کا نام ہندوستان کی بجائے انڈیا قرار دے دیا گیا۔ لیکن ماضی قریب میں پیش آنیوالے بہت سے واقعات سے ایسے لگتا ہے کہ برصغیر کا یہ حصہ پھر سے خود کو ہندوستان قرار دینے کے لیے بیقرار ہے ۔ ایک طرف جہاں ہمارے ہاں کے امن کی آشا کے علمبردار اور نام نہاد سکالرز بھارت کو ترقی یافتہ ، سیکولر اور تہذیب و ثقافت کا گہوارہ تسلیم کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت اب مذہبی ہو رہا ہے ۔ ہندومذہب کا اس کی خارجہ پالیسی ، داخلی معاملات اور معاشرت میں اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارتی معاشرے کے اس بڑھتے ہوئے مذہبی رجحان کے بارے میں ہمارے ہاں کچھ بھی نہیں لکھا جا رہا ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں مذہبی انتہاپسندی اور توہم پرستی کے دن بدن نت نئے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل توہم پرستی کے مخالف مشہور سرگرم کارکن نریندرا دھابولکر کو پونے میں اس وقت موٹر سائیکل پر سوار افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ ایک پل پر اپنی روزانہ کی سیر کر رہے تھے۔ 69 سالہ نریندرا دھابولکر مہاراشٹرا کی حکومت کے ساتھ مل کر ریاست کی قانون ساز اسمبلی میں ایک قانون منظور کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔اس حوالے سے فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ "ہندوستان بھر میں عقلیت پسندوں پر حملہ کیا جاتا ہے کیونکہ انڈیا ابھی بھی بہت زیادہ توہم پرست ملک ہے۔ جہیز، جادگروں کو پکڑنے اور کم عمری کی شادی کے خلاف قانون موجود ہیں مگر اس طرح کے کام ابھی تک ملک میں بھرپور طریقے سے ہو رہے ہیں"بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی توہم پرستی کے باعث ہی سادھوں اور روحانی گرووں کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ بھارت میں آج بھی لاکھوں بچوں کو مذہبی تعلیم اور عبادت کی غرض سے مندروں اور آشرموں میں بھیج دیا جاتا ہے ۔ ان میں سے آئے روز بچیوں کے ساتھ گرووں کی زیادتی کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں تاہم کبھی بھی کسی کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا ۔ حتی کہ بعض اوقات یہ معاملہ پارلیمنٹ تک جا پہنچا لیکن بھارت کا یہ مذہبی طبقہ اس قدر طاقتور ہے کہ ان معاملات کو دبا دیا جاتا ہے
    مذہبی مقامات کی سیاحت کا فروغ:
    بھارت میں بڑھتے ہوئے مذہبی رجحانات اور معاشرے کے تعلیم یافتہ افراد کا بھی ہندومذہب کی عجیب و غریب رسومات کی طرف مائل ہونے کا اندازہ مختلف مذہبی مقامات پر جانیوالے زائرین کی تعداد سے بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی، اقتصادی مرکز ممبئی، کولکتہ اور بنگلور کے بعد سب سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی سیاح ایسے شہروں کا رخ کرتے ہیں، جہاں قدیم مندر ہیں یا پھر یہ شہر کسی بھی مذہبی حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مذہبی مقامات کی زیارت کرنا بھارتی معاشرے کا ایک اہم ترین حصہ بن چکا ہے۔ اس سلسلے میں بالی وڈ کی فلموں اور ٹی وی ڈراموں نے بھی اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ غریب ہو یا امیر، کوئی عام فرد ہو یا بالی وڈ اسٹار یا پھر کھیل کے میدان کی کوئی نمایاں شخصیت سبھی لوگ زائرین بن کر ایسے مقامات کا رخ کرتے ہیں۔بھارت میں حال ہی میں ہونے والے ایک سروے سے پتا چلا کہ رواں سال مذہبی مقامات کا رخ کرنے والے مقامی سیاحوں کی تعداد ستر کروڑ سے زائد تھی، جس میں ہر سال مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو کہ ایک ہی سال کے دوران کئی مرتبہ مقدس مذہبی مقامات کی سیر کو جاتے ہیں ۔ اس سروے کا اہتمام کرنیوالے سیاحتی گروپ ’برڈ‘ کے ڈائریکٹر انکور بھاٹیا کے بقول زیادہ تر مقامی افراد صرف مذہبی مقامات کی زیارت میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اور یہ رجحان اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ اندازوں کے مطابق ہرسال اس میں دس فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے ایک سروے میں ہندوستان کے ستر فیصد اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں نے جواب دیا کہ انہوں نے کسی نہ کسی مذہبی جگہ کی سیر ضرور کی ہے ۔ بھارت کے معروف مذہبی مقام امرناتھ پر زائرین کے لئے ہیلی کاپٹر سروس متعارف کرائی گئی ہے جس کے لئے کئی ماہ پہلے بکنگ کرانی پڑتی ہے ۔ اس ہیلی کاپٹر سروس کو چلانے والی کمپنی کے مطابق ایک وقت میں چالیس ہزار افراد نے بکنگ کرائی ۔بھارتی کمپنیاں مذہبی مقامات پر زائرین کی سہولت کے لئے جدید ترین ہوٹلز بھی بنا رہی ہیں ۔بھارتی لوگوں کے مذہبی مقامات پر جانے کے ساتھ ساتھ مختلف روحانی شخصیات ، سادھو اور گروو تواتر کے ساتھ اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں دورے بھی کرتے ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے کئی سادھو تو عالمگیر شہرت رکھتے ہیں ۔ آرٹ آف لیونگ کے موجودہ شری شری روی شنکر نے توکچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں بھی اپنا سینٹر کھولا تھا ۔ یورپ و امریکہ میں ان کے لاکھوں چاہنے والے ہیں ۔ یہ سادھو وغیرہ جب مغربی ممالک کے دورے پر جاتے ہیں تو بڑے بڑے اخبارات میں ان کی آمد کے اشتہارات دئیے جاتے ہیں ۔
    پراسرار اور دولت مند گرو:
    بھارت میں مندروں سے منسلک سادھوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ ان کی بہت سی کہانیاں بھی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں ۔ ان سادھوںکی دولت اور سیاست و معاشرت میں اثر و رسوخ کے بارے میں ہوشربا حقائق سامنے آتے ہیں ۔بھارت کے معروف روحانی پیشوا ستیہ سائیں کے متعلق معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک ڈاکومنٹری بھی بنائی تھی ۔ کچھ عرصہ قبل جب ان کا انتقال ہوا تو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں ۔وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی، آندھرا پردیش کے وزیراعلی کرن ریڈی ، لال کرشن آڈوانی اور ریاست کے سابق وزیراعلی چندرا بابو نائیڈو سمیت ملک کی اہم ترین سیاسی شخصیات ، اعلی سرکاری افسران نے ان میں شرکت کی ۔ ستیہ سائیں کے بنائے گئے ٹرسٹ کے اثاثہ جات کی مالیت کا اندازہ چار سو ارب روپے لگایا گیا ہے ۔ جی ہاں ایک سادھو نے اپنی زندگی میں اسقدر دولت اکھٹی کی ۔ اس سے آپ بھارتی معاشرے میں سادھوں کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ ان کے قائم کردہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے، سوپر سپیشیلیٹی ہسپتال، عالمی مذاہب پر میوزیم، پلینی ٹیریم، پینے کے پانی کے بڑے پراجیکٹ، ریلوے سٹیشن، سٹیڈیم اور سپورٹس کمپلکس، موسیقی کا کالج ایک ہوائی اڈہ، سکول کالج اور دنیا کے ایک سو اسی ممالک میں ستیہ سائیں بابا سینٹر وغیرہ شامل ہیں ۔ گویا صرف ایک سادھو نے اپنی ریاست قائم کر رکھی تھی کہ جس کے وہ بے تاج بادشاہ بھی تھے ۔ سائیں بابا کے مرید دنیا کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے تھے جو عطیات کے معاملے میں پیچھے نہیں رہتے تھے لیکن شاید آئزیک ٹگریٹ سے بڑھ کر کوئی نہیں تھا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انیس سو اکیانوے میں انہوں نے اپنی کافی شاپس کی چین فروخت کرکے بابا کو ایک سو آٹھ ملین ڈالر دیے تھے۔ بھارت کے ایک اور مذہبی سادھو اوشو یا گرو رجنیش کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ انہوں نے بھی اپنی زندگی میں دولت کے انبار اکھٹے کئے ۔ وہ بھی بھارت میں نہیں بلکہ امریکہ اور یورپی ممالک میں ۔ ۔اوشو یا گرو رجنیش کی عام شہرت یہ تھی کہ وہ جنسی آزادی کا پرچارکرتے تھے اور دولت مندوں کے گرو اور بھگوان ہیں۔وہ رولس رائس کاروں میں گھومتے اور ذاتی طیارے میں سفر کرتے ہی،1981 میں وہ امریکہ منتقل ہو گئے جہاں ان کے مداحوں نے ان کے لیے ایک بہت بڑا علاقے خریدا اور ان کے نام پر ایک الگ شہر آباد کردیا۔ بھارت کے یہ سادھو نہ صرف دولت کے انبار اکھٹے کرتے ہیں بلکہ اب تک ملکی سیاست اور معاشرت میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل ایک گرو رام دیو بابا نے کرپشن کے خلاف مہم چلائی ۔ بھارتی عوام اور ارکان پارلیمنٹ نے اس گرو کی تحریک میں ساتھ دیا اور پارلیمنٹ قانون سازی پر مجبور ہو گئی ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مذہبی رہنما سیاست میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں ۔

    بالی وڈ اور کرکٹ :
    بھارتی میڈیا اور فلم انڈسٹری توہم پرستی اور مذہبی روایات کے فروغ میں اہم ترین کردار ادا کر رہی ہے ۔ بعض اوقات فلموں کے موضاعات مذہبی رسومات اور عقائد کی بنیاد پر رکھے جاتے ہیں ۔ بالی وڈ کی شاید ہی کوئی اسی فلم ہو جس میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کا سین شامل نہ ہو ۔پڑھے لکھے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہیرو کو بھی مندر پر ماتھا ٹیکتے اور شادی کا مہورت نکالتے دیکھایا جاتا ہے۔ بھارتی فلموں میں مذہبی رسومات ادا کرنیوالے کو انتہائی معزز روپ میں دیکھایا جاتا ہے جس سے نئی نسل میں مذہب کی طرف رجحان میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اسی طرح مختلف مذہبی مقامات پر شوٹنگ سے ان کی سیاحت کے فروغ میں مدد ملتی ہے ۔ جب میڈیا پر مصائب سے بچاو اور ذہنی پر یشانیوں کے حل کے لئے مذہبی سادھوں اور عبادات کو پیش کیا جاتا ہے تو لاشعوری طور پر عوام ان کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ بھارت کے معروف ترین فلمساز اور اداکار فلموں کی کامیابی اور تشہیر کے لیے مندروں پر ماتھا ٹیکنے جاتے ہیں اور ان کے دوروں کی بھرپور میڈیا کوریج بھی کی جاتی ہے۔ معروف بھارتی اداکارہ ایشوریہ رائے کی امیتابھ بچن کے بیٹے کے ساتھ شادی سے پہلے اس کو ایک بار بندر اور دوسرے مرتبہ ایک درخت کے ساتھ پھیرے لگانا پڑے ۔ جیہ سب اس لئے کرنا پڑا کیونکہ ایک سادھو نے خبردار کیا تھا کہ اس لڑکی کے پہلے دو خاوند جلد موت کے منہ میں چلے جائیں گے ۔ جب کہ اسی سادھو کے کہنے پر کسی مسلمان کو مدعو نہ کیا گیا ۔ کیونکہ بقول سادھو کسی مسلمان کی شرکت سے شادی شدہ جوڑے پر منحوس اثرات پڑنے کا خدشہ تھا ۔۔ مشہور ترین بھارتی شخصیات کی جانب سے ایسے توہم پرستانہ روایات کی پاسداری کے اثرات ہی معاشرے پر محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔ فلموں کے ساتھ ساتھ بھارتی ڈرامے اور کارٹونز ہندوازم کے سب سے بڑے علمبردار ہیں ۔ ان میں تو اکثر مختلف دیوی اور دیوتاوں کے پراسرار اور مافوق الفطرت کاررنامے دیکھائے جاتے ہیں ۔ ہندی کارٹون سیریز ” چھوٹا بھیم ©“ بچوں میں ہندوازم کی روایات پختہ کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر ہی ہے ۔ اس میں ایک بچے کو دیوی دیوتاوں کی طاقت کو استعمال کرکے مختلف کاررنامے کرتے دیکھایا جاتا ہے ۔
    اسی طرح بھارت میں کھیل کے میدان بھی صحت مند تفریح کی بجائے مذہبی رجحانات کے اظہار کا ذریعہ بن چکے ہیں ۔ اکثر بھارتی کھلاڑی کلائیوں میں کنگن ، پاو¿ں میں لوہے کے کڑے اور کانوں میں بالیاں ڈالتے ہیں جو کہ خاص مذہبی علامات ہیں ۔یہ سب ان کھلاڑیوں کے کروڑوں چاہنے والوں کے لئے ایک خاص پیغام ہے کہ ان کی کامیابی کا راز یہ سب مذہبی علامات ہیں جوکہ کسی نہ کسی گرو یا سادھو سے لی گئی ہوتی ہیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل کھیلنے پر پابندی بھی اس بات کا اظہار ہے کہ بھارت میں کھیل کے میدان بھی جنونی نظریات سے خالی نہیں۔جب کبھی بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت گئی تو شیو سینا اور دیگر تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آیا بلکہ بعض اوقات تو پچ ہی کھود ڈالی گئی ۔کرکٹ کے شائقین اس بات سے آگاہ ہیں کہ عام طور پر روایت رہی ہے کہ انٹرنیشنل میچوں میں کمنٹری انگریزی زبان میں ہوتی ہے جبکہ کھلاڑیوں کے نام اور دیگر تفصیلات بھی انگریزی میں دی جاتی ہیں۔ لیکن بھارت میں گزشتہ کچھ عرصے سے معروف چینل سٹار سپورٹس کی جانب سے کمنٹری اور دیگر تفصیلات ہندی میں فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بھارت کرکٹ اور دیگر عالمی کھیلوں کے میدان میں بھی اپنی خاص ہندو انفرادیت بنا رہا ہے۔ ان سب حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی معاشرے کے دو اہم ترین شعبوں یعنی کھیل اور فلم انڈسٹری کے مذہبی رجحان اور توہم پرستی کا جواز ملک کی نوجوان نسل کو خاص طور پر متاثر کر رہا ہے
    سیاست اور معاشرت میں مذہبی جنون کے مظاہر:
    بھارتی معاشرے میں ہندومذہب کے اثرات انتہائی گہرے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں پختگی آ رہی ہے ۔مذہب کسی بھی معاشرے میں اہم ترین مقام رکھتا ہے لیکن ہندوستان کے حوالے سے ہم یہ سب صرف اور صرف اس لیے زیر بحث لا رہے ہیں کیونکہ یہ ملک عالمی سطح پر خود کو سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ کسی کو بھی ایک ہندو کے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی پر ہرگز اعتراض نہیں ہو نا چاہیے تاہم مسئلہ صرف تب پیدا ہوتا ہے کہ جب توہم پرستی ، عجیب و غریب رسومات اور بعض اوقات تو غیر انسانی افعال سرانجام دئیے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب مذہبی جنون کے زیر اثر مسلمان اور عیسائیوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کوتشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ بھارتی معاشرہ شیوسینا اور آرایس ایس جیسی کٹر ہندوبنیاد پرست تنظیموں کے زیر اثر بنتا جا رہا ہے ۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ معاشرے کے اسی بدلتے ہوئے رجحان کے تحت ہی ماضی میں سیکولر سمجھی جانیوالی کانگرنس اور دیگر جماعتیں بھی اب اپنی پالیسیوں کی تشکیل اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہندومذہبی بنیاد پرستی کو اہمیت دینے لگی ہیں ۔ کشمیری رہنما افضل گرو کی پھانسی ، کنٹرول لائن پر پاک بھارت کشیدگی اور اجمل قصاب کو پھانسی دینے کے اقدامات صرف اور صرف کٹر مذہبی طبقے کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اٹھائے گئے حالانکہ بھارت میں پچھلے کئی سال سے کسی بھی ملزم کو پھانسی کی سزا نہیں دی جا رہی تھی۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی شہر ممبئی میں پولیس نے کالج کی دو طالبات کوصرف اس لیے گرفتار کر لیا کہ انہوں نے فیس بک پر شیو سینا کے خلاف ایک تبصرے کو پسند کیا تھا۔ بی جے پی کے بہت سے مخالفین کو خدشہ ہے کہ اگرنریندر مودی وزیراعظم بن گئے تو وہ ہندوستان کی لادینی حیثیت ختم کر دیں گے ۔ بھارت میں ذات پات کا نظام اس قدر مضبوط ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید پختگی آئی ہے ۔ اس کی مثال کسی بھی بھارتی صدر کی نامزدگی کے موقعے پر باقاعدہ اظہار کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق کسی چھوٹی ذات یا اقلیت سے ہے ۔ بھارت میں صدر کا عہدہ جوکہ بھارتی نظام حکومت میں صرف نمائشی حیثیت ہی رکھتا ہے زیادہ تر چھوٹی ذاتوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو صرف اس لئے دیا جاتا ہے کہ ملک کو سیکولر ثابت کیا جاسکے جبکہ اس بات کا چرچا خود ملک کے اندر طبقاتی تفریق کا اظہار ہے۔
    مذہبی تفریق اور مسلمانوں کی حالت زار:
    ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر پہلی مردم شماری کے اعدادو شمار کے مطابق ملک کی کل آبادی ایک سو دو اعشاریہ آٹھ کروڑ ہے اور اس میں ہندوو¿ں کی تعداد بیاسی اعشاریہ سات کروڑ ہے جو کہ پوری آبادی کا ساڑھے اسی فیصد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق شرح پیدائش مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہے۔ 1991۔2001 تک کی اس مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آباد ی کل آبادی کا تیرہ اعشاریہ چار فیصد ہے۔۔گزشتہ چند سالوں میں ہندوو¿ں کی شرح پیدائش میں زبردست کمی آئی ہے۔ 1991۔1981 میں ان کی شرح پیدائش پچیس اعشاریہ ایک تھی جو 1991۔2001 میں گھٹ کر بیس اعشاریہ تین فی صد رہ گئی ہے جبکہ مسلمانوں کی شرح پیدا ئش ہندوستان میں سب سے زیادہ ہے۔ اور اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ ان کی شرح پیدائش 36 فی صد ہے جو کسی بھی برادری سے زیادہ ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرح پیدائش پر شدیہ تشویش ظاہر کی ہے۔ پارٹی کے صدر نے کہا ہے کہ اگر ہندوو¿ں کی شرح پیدائش گھٹتی رہی اور مسلمانوں کی بڑھتی رہی تو ملک کی سلامتی اور اتحاد خطرے میں پڑ جائے گا۔ہندونظریاتی تنظیم آر ایس ایس بھی ایک عرصے سے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔بھارتی مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر انتہاپسند ہندو تنظیموں نے واویلا شروع کر دیا۔ شیوسینا، بجرنگ دل اور جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلسل اضافے سے بھارت مسلم سٹیٹ بن جائیگا۔ دوسری شادی اور 2سے زائد بچوں کی پیدائش پر پابندی لگا دینی چاہئے۔س ہندو تعصب کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلمان گو بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں لیکن ملک کے دیوہیکل سرکاری ڈھانچے سے منسلک اہلکاروں میں صرف پانچ فیصد مسلمان ہیں۔بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 13فیصد ہے جبکہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس میں مسلمان صرف 3%ہیں ،انڈین فارن سروس میں 1.8%اور انڈین پولیس سروس میں 4%۔بھارتی ریلویز میں 14لاکھ افراد کام کرتے ہیں جن میں صرف 64,000مسلمان ہیں جو 4.8%بنتا ہے اور اس میں سے بھی 98.7%وہ ہیں جو نچلے درجے کے ملازمین میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی مسلمانوں میں خواندگی کی شرح بھی باقی ہندوستانیوں کی شرح خواندگی سے بہت کم ہے۔ ایک طرف ہر شعبے میں ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ یہ رویہ رکھا جاتا ہے تو دوسری طرف گاہے بگاہے ہندو مسلم فسادات کے ذریعے ان کی نسل کشی کی جاتی ہے کیوں کہ ان فسادات میں ہمیشہ نقصان صرف مسلمانوں کی جان و مال کا ہی ہوتا ہے۔ اب تو بھارتی کانگرنس کے رہنما راہول گاندھی نہیں اپنی ایک تقریر میں باقاعدہ طور پر بی جے پی پر کئی علاقوں میں فسادات کا الزام لگایا ہے ۔ خدشہ ہے کہ بی جے پی اور دیگر مذہبی جماعتیں ہندومسلم فسادات کی آڑ میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہیں ۔دوسری جانب کانگرنسی حکومت بھی الیکشن جیتنے کے لئے مذہب اور پاکستان مخالف اقدامات کا سہارا لے رہی ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا شوشا ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ چھوڑ دیا گیا ہے۔ بھارت میں بڑھتے ہوئی مذہبی بنیاد پرستی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو گا کہ محض چند مسخ حقائق کی بنیاد پر لکھی گئی کتابوں کی بنیاد پر تاریخی مساجد شہید کی جا رہی ہیں ۔
    بھارت میں ہندو توہم پرستی کا فروغ اور بڑھتا ہوا مذہبی رجحان پاکستانی معاشرے پر بھی اثرات مرتب کر رہا ہے ۔ پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین سٹیج ڈرامے کا نام ”جنم جنم کی میلی چادر“ تھا اور سب جانتے ہیں کہ مختلف جنم ہونے کا نظریہ ہندووانہ عقیدہ ہے۔کراچی یونیورسٹی کے طلبہ پر کی جانیوالی ایک تحقیق سے کے دوران طلبہ کو مختلف مذہبی مقامات کی تصاویر دیکھائی گئیں۔ حیران کن طور پر یہ طلبہ زیادہ تر ہندو دیوی دیوتاوں اور مندروں کو پہنچاننے میں کامیاب رہے جبکہ انہیں گنبد خضراء، مسجد اقصی سمیت کئی اسلامی مقامات مقدسہ کی پہچان تک نہ تھی۔ ہم اگر آج لکھتے اور بولتے ہوئے کسی نیک انسان کو دیوتا قرار دے دیتے ہیں تو غور کرنا چاہیے کہ کہیں اس کے پیچھے بھی ہمارے اوپر مسلط ہوتے ہندووانہ الفاظ اور ثقافتی اظہار تو نہیں۔ آپ پاکستان کے تقریبا ہر اخبار میں ستاروں کا حال پڑھ سکتے ہیں جبکہ دوست بنانے سے پہلے ستاروں کی پوچھ گچھ بھی انڈین فلموں اور ڈراموں میں کنڈیلیاں ملاتے ہندو پنڈتوں کے باعث ہی ممکن ہوا ہے۔
    حاصل کلام یہ کہ بھارت مذہبی ہو رہا ہے اور اس کا اظہار وہاں کے ہر ہر شعبے سے واضح ہے۔ یہ ایک پیغام ہے ان لوگوں کے لیے جوبھارتی میڈیا اور بالی وڈ کی چکاچوند سے متاثر ہوکر اس سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہیں اور امیدیں اور توقعات لگائے بیٹھے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی کہ جو محض ملک کے اندر کسی گروہ کے ساتھ نظریاتی اختلاف کی بنا پر بھارتی دوستی کا دم بھرتے نہیں تھکتے۔ ہمارے ہاں تو امن کی آشا کے علمبردار اور نام نہاد سکالرز بھارت کو ترقی یافتہ ، سیکولر اور تہذیب و ثقافت کا گہوارہ تسلیم کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ ہندومذہب کا اس کی خارجہ پالیسی ، داخلی معاملات اور معاشرت میں اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے ہمیں بھارتی معاشرے کے اس بدلتے ہوئے رجحان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملکی پالیسیاں ترتیب دینے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری جانب اس کو عوامی سطح پر ہونیوالے بحث مباحثے اور میڈیا پر مذاکروں کا موضوع بنانا چاہئے تاکہ ہم اس صورتحال کا بہتر ادراک کر سکیں اور اس کے پاکستان پر ہونیوالے اثرات کا جائزہ لے سکیں ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 9, 2014
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    خوش آمدید محمد عاصم حفیظ بھائ۔ بھت اچھا کالم ۔ شکریھ
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ماشاء اللہ عاصم بھائی بہترین کام کیا ہے۔
    ویسے ایسے کالم کی شدید ضرورت ہے تاکہ بھارتی پیسے پر چلنے والا جیوتیز لوگوں کے سامنے بے پردہ ہوسکے۔
    جی ہاں ان کی توہم پرستی کا حال تو دیکھیں کہ گائے کا پیشاب اب باہر بھی ایکسپورٹ کرتے ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں