اسلام اور جدید تحریک آزادئ نسواں‌

ابوعکاشہ نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏مارچ 31, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,590
    اسلام اور جدید تحریک آزادئ نسواں‌​


    اسلام نے عورت کا فطری وظیفہ کامل یکسوئی اور اطمیناں خاطر سے نسل انسانی کی افزائش اور پرورش کو قرار دیا ،تو اس کے سامنے انسانی فطرت اور معاشرے دونوں کے مطالبات تھے ۔اسی لیے اسلام نے عرت کی معاشی کفالت کا سارا بوجھ مرد پر ڈالا تاکہ عورت تمام غیرضروری تفکرات سے محفوظ رسکے۔ مگراس کے ساتھ ہی اس نے عرت کا معاشرتی مقام اس قدربلند کر دیا کہ جب ایک شخص نے

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا :
    “میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “تیری ماں “ اس شخص نے پوچھا پھر :حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا “ اس کے بعد تیری ماں “ اس شخص نےپھر پوچھا: “اس کے بعد کون میرے حسن سلوک کا مستحق ہے ؟“حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :“تیرا باپ “۔ بخاری و مسلم

    اسلام نے عرت کو جو عزت اور مقام بخشا اس کو دیکھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ جدید مسلمان عورت کے حقوق کے نام پر اس سارے ہنگامے کا مقصد کیا ہے ؟ کیا کوئی ایسا حق باقی ہے ،جو اسلام نے عورت کو نہیںدیا ، جس کی وجہ سے وہ اپنے حقوقکی خاطر باقاعدہ مہمیں چلائےاور حق رائے دہی اور پارلیمانی نیابت کی طرح کے ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہے؟

    آیئے ذرا ان مطالبات پر بھی ایک نگاہ ڈال لیں
    آج کی مسلمان عورت کا مطالبہ ہے کہ اس کو انسانی درجہ دیا جائے( یہ مغریبی تہذیب کے اثرات ہیں) ، مگر شاید اسے معلوم نہیں اسلام اس کو یہ حق آج سے بہت پہلے دے چکا ہے ۔نظری طور پر نہیں ، بلکہ عملا اور قانون بھی

    کیاوہ معاشرے آزادی کی طالب ہے اور معاشرتی زندگی میں براہ راست حصہ لینےکا حق مانگتی ہے ۔ حالانکہ اسلام دینا کا پہلا مذہب ہے جس نے اس کو یہ حق عطا کیا ہے۔
    کیاوہ اپنے لیے تعلیم حاصل کرنے کا حق چاہتی ہے ؟ اسلام نہ صرف اس کے اس حق کو رسلیم کرتا ہے ، بلکہ اس پراس کا حصول فرض قرار دیتا ہے

    کیاوہ اپنے لیے یہ حق مانگتی ہے کہ اس کی اجازت اور مرضی کے بغیر اس کی شادی نہ کی جائے ؟ اسلام نہ صرف یہ حق تسلیم کرتا ہے بلکہ اسلام کے دائرے میں اپنہ شادی خود طے کرنے کا حق بھی اس کو دیتا ہے

    کیاوہ چاہتی ہے گھر کی چار دیواری مین رہ کر وہ اپنے فرائض بجا لائے اور اس کے ساتھ انصاف اور مہربانی کا برتاؤ کیا جائے ؟ اور اگر اس کا خاوند اس سے بدسلوکی اور بے انصافی کا مرتکب ہو ، تو اس کو اس علیحدگی کا حق حاصل ہو؟ اسلام عورت کو یہ سارے حقوق دیتاہے ، اور مردوں پر یہ لازم قرار دیتا ہےکہ وہ اس کے ان حقوق کی حفاظت کریں

    کیا وہ گھر سے باہر کام کاج اور ملازمت کا حق مانگتی ہے ؟ اسلام اس کا یہ حق بھی تسلیم کرتا ہے۔

    لیکن اگر وہ یہ چاہتی ہے کہ اسے چھچورپن اور اخلاقی باختگی کے مظاہرے کرنے کی آزادی دی جائے ، مردوں کے ساتھ آزادانہ اختلاط پر اسے کچھ نہ کہا جائے ، اس کی انسانیت سوز سرگرمیوں پر بھی کوئی گرفت نہ کی جائے ، تو ظاہر ہے کہ اسلام کے ہاں اس کو یہ آزادی اور چھوٹ حاصل نہیں ہوسکتی ۔کیونکہ اسلام ان سب چیزوں کو انسانی عزہ اور شرف کے منافی سمجھتا ہے اور یہ برداشت نہیں کرتا کہ کوئی عورت یا مرد ان میں شامل ہو کر اپنی انسانیت پر دھبہ لگائے ۔

    لیکن اگر آج کی عورت کو یہی مطلوب ہے تو اس کے لیے اس کو پارلیمانی نیابت کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں اس کے لیے تو اسے بس صبر سے اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب معاشرتی روابط اور اجتماعی روایات پوری طرح انتشار کی وبائے عام کی نذر ہوجایئں اس کے بعد اس کا یہ مطالبہ پورا ہو جائے گا اور وہ بغیر کسی اخلاقی قدغن کے کُھل کھیل سکے گی

    محمد قطب ​
     
  2. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    بہت خوب عُکاشہ بھائی جزاک اللہ خیر بہت ہی اچھی تحریر پیش کی ہے آپ نے اللہ رب العزت آپ کے علم میں مزید اضافہ کریں۔ آمین یارب العالمین۔
    والسلام علیکم۔
     
  3. عندلیب

    عندلیب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 19, 2008
    پیغامات:
    4,643
    بہت اچھا انتخاب ہے آپ کا
    عکاشہ نے لکھا ہے
    یہ سارا ہنگامہ مغرب کی دین ہے
    مغرب میں مسلم عورت کے ساتھ ناانصافی کا واویلا محض تعصب کی بنا پر ہے ان کا ایجنڈہ اسلام دشمنی ہے
     
  4. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,051
    حزاک اللہ عکاشہ بھائی!
    بہت اچھی تحریر پیش کی ہے۔
    اللہ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  5. عبدالمعید القاضی

    عبدالمعید القاضی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 1, 2017
    پیغامات:
    5
    بھت اچھی تحریر اور وقت کی ایک اہم ضرورت سمجھئے۔ آج معاشرے میں آوارگی کو آزادی اور بے حیائ کو ہمت کہا جا رہا ہے، حیرانی تو ہماری عقلوں پر پڑے پردوں پر ہوتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں