حضرت ام مرثد اسلمی رضی اللہ عنہا

نصر اللہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏فروری 23, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ام مرثد اسلمی رضی اللہ عنہا
    ام مرثد ابتد ا میں اسلام کی شدیدترین دشمن تھیں۔انہوں نے ہر موقعے پر اسلام کی مخالفت کی اوران لوگوں کا ساتھ دیا جو مسلمانوں کے درپے آزار رہتے تھے۔حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں اور علامہ ابن عبد البر نے الاستیعاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے ۔یہ مکہ مکرمہ کی رہنےوالی خاتون تھیں اور ادب و فصاحت میں مہارت رکھتی تھیں،ان کی ماں کا نام خارجہ اور باپ کانام زید بن ثابت ہے۔عقل و دانش اور فہم فرست میں شہرت رکھتی تھیں۔ان کی شادی ایک شخص عمرو بن مرہ سے ہوئی۔یہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کی بات ہے۔اسلام کا ظہور ہوا تو ان کے قرابت دار اور ان کا شوہر اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔لیکن اسلام بتدریج پھیلتا اور ارتقا و تقدم کے مراحل طے کرتارہا۔ان لوگوں نے اس کے راستے میں مزاحم ہونے کی سعی کی اور ہر قدم پر رکاوٹیں ڈالیں ،مگر بے سود۔اسلام کا قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں اور پوری تیزی ہے آگے بڑھتا رہا۔ام مرثد کے بچے بھی اس دور میں اسلام کے مخالف گروہ میں شامل تھے۔مورخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور اس کی پاداش میں انہیں تکلیفیں پہنچائیں تو انھوں نے اسلام ترک نہ کیا بلکہ احد احد کے لفظ ان کی زبان سے نکلتے رہے۔پھر انہیں مزید سزادینے کی غرض سے تپتی ریت پر لٹا یا جاتا مگر کوئی سختی ان کے دل سے اسلام کو نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکی ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جس انداز سے سزائیں دی جاتی تھیں اس سے سخت سے سخت لوگوں کے دل دہل جاتے اور پرے مکے میں اس کی باتیں ہوتی تھیں۔ام مرثد بھی ان تمام چیزوں سے باخبر تھیں،کہتے ہیں کہ وہ عورتوں سے کہا کرتی تھیں کہ بلال کے استقلال او ر شدید سزاؤں کے باوجود اسلام پر ان کی ثابت قدمی سے معلوم ہوتاہے کہ یہ مذہب واقعی سچاہےاور محمدﷺ ضرور صادق ہیں۔کیونکہ جھوٹ میں اس درجہ مستقل مزاجی کا پایا جانا ناممکن ہے۔کسی غلط بات پر کوئی شخص اتنا اصرار نہیں کر سکتا جتنا بلال کررہے ہیں۔پھر بعض مسلمان عورتوں کو بھی اسلام قبول کرنے کے نتیجے میں نشانہ ستم بنایا جاتامگر ان کے پائے ثبات میں کسی نوع کی لغزش پیدا نہ ہوتی حالانکہ عورتیں فطرتاًکمزور ہو تی ہیں اور معمولی سز ابھی ان کے قدموں کو ڈگمگا دیتی ہے۔
    ان تمام باتوں کو دیکھ کرام مرثد کے دل میں اسلام کو سمجھنے کا شق پیدا ہوا اور اس کے خلاف ان میں نفرت و حقارت کے جو جذبات پائے جاتے تھے وہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگے۔لیکن وہ کھل کر اس کا اظہار نہ کرتی تھیں اس لئے کہ خاندان کا کوئی فرد بھی اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا حامی نہ تھا۔چاروں طرف مخالفانہ آوازیں اٹھ رہی تھیں۔مگر ذہن میں تبدیلی کے آثار ضرور نمایاں ہوگئے تھے،کئی سال اسی حال میں گز رگئےآخر وہ وقت آیا کہ مسلمان مکہ چھوڑنے اور اپنے گھر سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔کچھ لوگ حبشہ چلے گئے پھر پورا مکہ مسلمانوں کے وجود سے خالی ہو گیا اور سب ایک ایک کر کے عازم مدینہ ہو گئے۔مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی حالت قطعی طور سے بدل گئی مخالفین اسلام سے باقاعدہ مقابلہ کیا اور معرکوں میں کامیاب ہوئے۔
    اب فتح مکہ کا زمانہ آٰیااور تمام عرب اسلام کی تحویل میں آگیا۔ام مرثد جو پہلے سے مسلمانوں کے کردار و استقلال سے متاتر تھیں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔گناہوں کی معافی مانگی۔اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کی بیعت کے شرف سے مشرف ہوئیں۔ان کی والدہ حضرت خارجہ رضی اللہ عنہا نے بھی اسی زمانے میں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ان کے علاوہ ان کے خاندان کے دوسرے افراد بھی حلقہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ان کے شوہر نے بھی اسلام قبول کیا،لیکن اسی اثنامیں انہیں یہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا کہ شوہر کا انتقال ہو گیا۔
    شوہر کی وفات سے دس ماہ بعد انھوں نے دوسرا نکاح کیا جس سے دولڑکے اور تین لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ ان کے دوسرے شوہر حلیم الطبع اور نرم خوتھے۔ ان کی پہلی اولاد سے بہت ہی محبت کے ساتھ پیش آتے اور بڑی مہربانی اور شفقت کا برتاؤ کرتے۔ حضرت ام مرثد رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث بھی روایت کیں اور پھر ان سےبھی ان کے شاگردوں نے سماع حدیث کیا،ان سے احادیث کرنے والوں میں خود ان کی والدہ حضرت خارجہ رضی اللہ عنہا بھی شامل ہیں۔اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی کے لیل و نہار بالکل بد ل گئے ۔اب پہلے والی کوئی بات باقی نہ رہی تھی۔ہر وقت یا خدا میں مصروف رہتیں۔لوگوں کی خدمت کو اپنا معمول بنالیا تھا۔صدقات و خیرات دل کھول کر کرتیں ۔کسی کی دل آزاری نہ کرتیں۔کھی اونچی آواز سے بات نہ کرتیں۔کسی سے کوئی تکلیف پہنچتی تو اس کا اظہار نہ فرماتیں،نرمی اور لجاجت کو اپنا شعار بنائے رکھتیں۔ایسی مجلس میں نہ بیٹھیں جس میں کسی کا گلہ شکوہ ہوتا ہو۔اکثر روزے سے رہتیں اور موٹا جوتا پہنتیں۔
    ان کی اولاد بھی ماں باپ کے نقش قدم پر چلی۔ علم حدیث حاصل کیا اور اس کی نشرو اشاعت کو زندگی کا مقصد قراردیا۔ان کی اولاد میں سے بعض افراد شام اور بعض کوفے میں چلے گئے اور بعض نے مکہ کو اور بعض نے مدینہ کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں خدمت علم میں مصروف ہوئے۔جس طرح ماں نے اپنے آخری دور حیات میں سادگی کو اپنا لیا تھا اور ذکرالہی کو اپنا معمول ٹھہرالیاتھا،اسی طرح اولاد نے بھی یہی اسلوب اختیار کیا۔
    حضرت ام مرثد رضی اللہ عنہا کی وفات خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں 21 ہجری کو ہوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    جزاک الله خیرا
     
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں