ام مبشر بنت براء رضی اللہ عنہا

نصر اللہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏فروری 24, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ام مبشر بنت براء
    ام مبشربنت براء بن معرور انصاریہ رضی اللہ عنہا ایک نرم مزاج اور حلیم الطبع خاتون تھیں۔ ان کے حالات طبقات ابن سعد تہذیب التہذیب ،الاصابہ ،اسد الغابہ اور الاستیعاب میں مذکور ہیں۔
    ان کے قبول اسلام کا واقعہ بڑی عجیب نوعیت کا ہے۔یہ مدینہ منورہ کی رہنے والی تھیں،ابتدا ہی سے نرم گفتار حسن کردار کی حامل،بہترین اخلاق کی مالک اور نہایت فیاض تھیں۔ ان کےکان میں اسلام کی آواز پڑی تو اسے سمجھنے کی کوشش کی۔پہلے ان عورتوں سے ملیں جو اسلام سے بہرہ مند ہو چکی تھیں،پھر مردوں کی تعلیمات کے متعلق دریافت کیا،اسی اثنا میں طائف کے ایک قافلے کا ادھر سے گزر ہو اور اس کی عورتیں مدینہ میں آئیں۔یہ اس زمانے کا ذکرہے جب رسول اللہﷺ ابھی مکہ معظمہ میں تھے اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف نہیں لائےتھے۔
    حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا طائف کے اس قافلے کی ایک عورت کو اپنے گھر لائیں اور اس سےاسلام اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کیا۔ان دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ کچھ اس طرح کی تھی۔
    ام مبشر:آپ خاص طائف کی رہنے والی ہیں۔؟
    خاتون: ہاں میں اور میرے خاندان کے تمام لوگ طائف کے باشندے ہیں۔
    ام مبشر: طائف مکہ سے کتنے فاصلے پر ہے؟
    خاتون: زیادہ دور نہیں ہے۔
    ام مبشر: کیا مکہ میں کوئی ایسا شخص ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا نبی ہے اور اس پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے؟
    خاتون: ہاں وہ شخص عرب کے مشوار خاندان قریش سے تعلق رکھتاہے۔ اس کے دادا کانام عبد المطلب ہے جو بہت ہی فیاض اور لوگوں کا ہم درد تھا۔یہ خاندان بڑے اثرو رسوخ کا مالک ہے۔لوگ ان کی بہت تکریم کرتے ہیں۔اس شخص کا نام محمد(ﷺ) ہے یہ اس بات کے مدعی بھی ہیں کہ انہیں اللہ نے نبوت و رسالت کا منصب عظیم عطاکیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہاللہ ایک ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔یہ بت جو کعبۃ اللہ میں ہیں سالہا سال سے پڑے ہیں،محض بے کارہیں،نہ یہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں،نہ کسی کی حاجت روائی کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انہیں حاجت روائی کرتے ہیں نہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انہیں فریادرس سمجھنا اور ان کے سامنے گردن جھکانا اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرنا ہے۔یہ طائف بھی گئے تھے وہاں کے لوگوں کو بھی انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی،لیکن ان لوگوں نے ان پر پتھراؤ کر کے انہیں زخمی کردیا۔
    انصاری اور مجاہدین جبیرایسے جلیل القدر اصحاب شامل ہیں۔ان عظیم المرتبت خاتون سے مروی احادیث صحیح مسلم اور سنن نسائی میں مذکور ہیں۔
    ام مبشر:ان کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے یا مخالفوں کی؟
    خاتون: سنا ہے مخالفین زیادہ تعداد میں ہیں۔البتہ جو جماعت کا دم بھرتے ہیں وہ نہایت ثابت قدم ہیں۔انہیں لوگ تکلیف بھی پہنچاتے ہیں اور نرم لہجے میں بھی اللہ کے دین سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں،مگر وہ کسی کی نہیں مانتے۔وہ ان کی باتوں پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور اللہ کی وحدانیت کی پورے زور سے تبلیغ کرتے ہیں۔۔۔۔

    اس گفتگو کے بعد وہ عورت تو رخصت ہوگئی لیکن حضڑت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے دل میں اسلام کو مزید سمجھنے کی ایک زبردست خواہش کروٹ لینے لگی۔مکہ سے جو شخص بھی مدینہ منورہ آتااس سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کرتیں۔اسی اثنامیں یہ بات مشہور ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے معاونین مستقل طور سے مدینہ میں آرہے ہیں ان کے دل میں آپ ﷺ کو دیکھنے اور آپ ﷺ سے باتیں کرنے اور ملنے کی تڑپ پیدا ہوئی ۔چند روز کے بعد حبشہ کو ہجرت کر گئے تھے ۔یہ ان سے ملیں اور رسول اللہ ﷺ کے دین کے متعلق معلومات حاصل کیں۔جیسے جیسےدن گزر رہے تھے ان کا جذبہ شوق میں اضافہ ہورہاتھا۔آخر وہ مبارک دن آہی گیا جس دن کہ رسول اللہﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے۔یہ اسی دن یا دوسرے دن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گئیں۔اسلام اور رسو ل اللہ ﷺ سے متعلق اہل مدینہ کی حالت اہل مکہ سے بالکل مختلف تھی۔یہ لوگ آپ ﷺ کے سخت منتظر تھے۔ہر وقت آپ ﷺکی خدمت میں لوگوں کا ہجوم رہتا اور آپﷺ سے کئی قسم کے مسائل پوچھے جاتے۔یہاں کے لوگ آپ ﷺ سے اس قدر معاون اور ہم درد تھے کہ ان میں سے بعض نے تو اپنے آپ کو آپ ﷺ کی اور آپ کے صحابہ کی خدمت کے لئے وقف کردیاتھا۔ حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا کا شما ران ہی خو ش نصیب حضرات میں ہوتاہے۔ یہ مہاجرین کے گھروں میں جا کر ان کی عورتوں کی خدمت کرتیں اور گھریلو معاملات میں ان کا ہاتھ بٹاتیں، ان کو بازار سے ضروریات کی چیزیں لا کر دیتیں اور اپنی گرہ سے بھی ان کی امداد کرتیں۔ان کے اس حسن کردار اور بہتر سلوک سے مہاجر خواتین ان سے بے حد متاثرہوئیں،ازواج مطہرات کی خدمت میں بھی یہ حاضر ہوتیں اور اس اجنبی شہر میں انہیں ہر قسم کی خانگی سہولتیں بہم پہنچا نے کی کوشش کرتیں۔
    حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے خاندان کےلوگ بھی اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوئے اور انہوں نے اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصدقراردیےلیا۔یہ لوگ ان جنگوں میں بھی پیش پیش رہے جو اسلام اور کفر کے درمیان مختلف وقتوں میں لڑی گئیں۔ان کے شوہر کی تو یہ حالت تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مصروف رہتے ۔مدینہ کے نواح میں انکا کھجوروں کا ایک باغ تھا،مہاجرین کےلئے اپنے باغ سے کھجوریں لاتے اور رسول اللہﷺ کو پیش کرتے تاکہ آپ ضرورت کے مطابق مہاجرین میں تقسیم کردیں۔
    حضرت ام مبشررضی اللہ عنہا سے احادیث بھی مروی ہیں۔انہوں نے خود رسول اللہ ﷺبھی احادیث رویات کیں،جن کی تعداد دس تک پہنچتی ہے۔ یہ احادیث ان سے ان کے شاگردوں نے روایت کیں۔انکے شاگردوں کی تعداد بھی خاصی ہے،جن میں حضرت جابربن عبد اللہ انصاری،محمد بن عبد الرحمن بن خلاد انصاری،اور مجاہد بن جبیر ایسے جلیل القدر اصحاب شامل ہیں۔ان عظیم المرتبت خاتون سے مروی احادیث صحیح مسلم اور سنن نسائی میں مذکور ہیں۔
    صحابہ اور تابعین میں ان کو بڑی قدرو منزلت حاصل تھی اور سب لوگ ان سے توقیر کے ساتھ پیش آتے تھے،اس کی کئی وجوہ تھیں۔ ایک یہ کہ زمانہ جاہل میں یہ قبول اسلام کےلئے انتہائی مشاق تھیں،دوسرے یہ کہ مسلمانوں بالخصوص مسلمان عورتوں کی یہ بہت مدد کرتی تھیں، تیسرے یہ کہ انتہائی منکسر المزاج اور متواضع طبیعت کی مالک تھیں،چوتھے یہ کہ ان کی وجہ سے ان کا پورا خاندان مسلمانوں کی اعانت کرتا تھا،پانچویں یہ کہ ان کے خاندان کےلوگ جنگ و جہاد میں پہلی صفوں میں رہتے تھے۔
    رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلفائے راشدین بھی انہیں بہت قابل احترام گردانتے اور ان کے خاندان کو لائق عزت قرار دیتے تھے۔
    حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا کی وفات خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

    اسلام کی بیٹیاں
    از محمد اسحاق بھٹی حفظہ اللہ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں