حضرت ام مطاع اسلمیہ رضی اللہ عنہا

نصر اللہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏فروری 24, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ام مطاع اسلمیہ رضی اللہ عنہا
    حضرت ام مطاع رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ کے نوح میں رہائش پذیر تھیں،شعرو ادب کاخاص ذوق رکھتی تھیں،فہم مسائل میں بڑا ملکہ حاصل تھا ۔ان کے حالات طبقات ابن سعد ،اسد الغابہ اور الاستیعاب میں بیان کئے گئے ہیں۔
    عرب فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھے اور ادب و شعر ان کا دل پسندموضوع تھا۔عرب کے بدوی قبائل اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ زبان کی نزاکتوں کا خصوصیت سے خیال رکھتے تھے اور اس سلسلے میں کسی لغزش کا شکارنہ ہوتے تھے۔حضرت ام مطاع رضی اللہ عنہا بھی اسی ضمن میں بڑی شہرت کی مالک تھیں اور اس موضوع سے متعلق ان کے نقطہ نظر کو صحت کی دلیل سمجھا جاتاتھا۔ان کی زبان میں اثر اور کلام میں زور تھا۔حشو وزائد سے ان کی بات مبرا ہوتی۔
    فیاض بھی بہت تھیں،ضرورت مند ان کے پاس آتے اور طالب امداد ہوتے یہ سب کی امداد کرتیں کوئی انکے درووازے سے خالی ہاتھ نہ جاتا۔جس دن کوئی حاجت مند ان کے دروازے پر دست نہ دیتا تو خود جاتیں اور تلاش کر کے ان کی ضرویات کی تکمیل کرتیں۔اس اعتبار سے غربا کا سہارا اور محتاجوں او رمساکین کا مرجع تھیں،عورتیں بالخصوص حاجت روائی کےلئے ان سے رجوع کرتیں اور یہ ا ن کی امداد کےلئے کوشاں ہوتیں۔بسا اوقات اپنی ضروریات روک کر ان کی ضرورتیں پوری کرتیں۔غرض فیاضی و سخاوت میں مشہور تھیں۔
    عادات و اطوار میں بھی ان کی مثال نہیں ملتی۔سب سے حسن اخلاق سے پیش آتیں کسی کی تکلیف برداشت نہ کرتیں،کذب بیانی کو نہایت برا سمجھتیں صدق مقال ان کا شیوہ تھا۔کسی معاملہ میں دوسرے کو تنگ نہ کرتیں۔مقروض کو پریشان نہ کرتیں۔مفلوک الحال کےلئے آرام و سہولت کے مواقع مہیا کرتیں۔حتی الامکان کسی کو شکایت کا موقع نہ دیتیں۔کوئی خفگی کا اظہار کرتا تو محسوس نہ کرتیں مظلوم کی امدادکو پہنچتیں اور ظلم کی طرف بڑھنے سے روکتیں۔کسی کے خلاف دل میں بغض و عداوت کو جگہ نہ دیتیں اور غصے کی پرورش نہ کرتیں۔دوسرے کی امداد کاجذبہ ان کے اندر اس قدر راسخ تھا کہ ایک مرتبہ ان کی بہن کا کسی عورت سے جھگڑا ہوگیا،جو معاملہ باعث نزاع تھا،اس میں ان کی بہن برسر حق اور دوسری عورت غلطی پر تھی۔لیکن معاملہ ان کے علم میں آیاتو انھوں نے بہن کے مقابلے میں اس عورت کی حمایت کی اور بہن کوسرزنش کی بہن نے ہر چند سمجھانے اور آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کی،مگرا نہوں نے ایک نہ مانی اوربہن کو اس سے معافی مانگنے پر مجبور کیا۔حضرت ام مطاع رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے ہجرت مدینہ کے بعد اسلام قبول کیا۔جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے قرب و نواح کے قبائل میں اسلام پھیلنے لگا ور لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔جب ام مطاع کو معلوم ہو تو یہ بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ سے بیعت ہوئیں۔6ہجری میں خیبر کی مشہور جنگ لڑی گئی۔اس جنگ کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان فیصلہ کن معرکے کی حیثیت حاصل تھی۔حضرت ام مطاع رضی اللہ عنہا نے بھی اس جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور اہم خدمات انجام دیں۔اسجنگ میں انہوں نے مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کے فرائض دے مورخین لکھتے ہیں کہ اس موقعے پر انہوں نے متعدد خدمات انجام دیں اور انتہائی شجاعت کا ثبوت دیا جس کے نتیجے میں رسو ل اللہ ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم میں انہیں مجاہد مردکے برابر حصہ دیا لیکن علامہ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اس پر شبہے کا اظہار کیاہے۔ان کا کہنا ہے کہ حضرت ام مطاع رضی اللہ عنھا جنگ خیبر میں تو بے شک حاضر ہوئیں اور نہو ں نے میدان جنگ میں خدمات بھی سرانجام دیں۔لیکن اس میں شبہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم میں ان کو مجاہد مردکے برابر حصہ دیا۔بہرکیف معاملہ کچھ بھی ہو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت ام مطاع رضی اللہ عنہا بہت سی خصوصیات کی مالک تھیں۔اور عورتوں میں ان کا درجہ بڑابلند تھا ۔بارگاہ رسالت میں بھی ان کو اہمیت حاصل تھی۔روایہ حدیث کی حیثیت سے بھی ان کا مرتبہ بلند تھا ور اس باب میں ان کا مقام ایک مرکزی حیثیت رکھتاتھا۔بعض حضرات نے ان سے احادیث رسول روایت کرنےکا شرف حاصل کیا۔لوگ ان کی خدمت میں آتے اور احادیث روایت کرتے۔روایت حدیث کے سلسلے میں عورتیں بہت بڑی تعداد میں ان کے پاس آتیں اوریہ ان سے خندہ پشانی کے ساتھ پیش آتیں۔ان کے شاگردوں اور راویان حدیث میں ان کی خادمائیں اور کنیزیں بھی شامل ہیں۔ان کے مرد شاگردوں میں ابو مردان ایسے مشاہیر کے نام بھی آتے ہیں۔
    حضرت ام مطاع رضی اللہ عنہا کی وفات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے آخری دور میں ہوئی۔جنازے میں جلیل القدر صحابہ نے شرکت کی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی وفات کی خبر پہنچی تو فرمایا آج عورتوں سے علم رخصت ہو گیا۔
    اسلام کی بیٹیاں
    از محمد اسحاق بھٹی حفظہ اللہ
     
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بارک اللہ فیک
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,375
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک
     
  4. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    جزاک الله خیرا
     
  6. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    اللہ آپکے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں