مسلم دنیا کی مشہور تحریکیں پابندیوں کی زد میں

عائشہ نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏مارچ 11, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    گزشتہ کچھ عرصے میں مسلم دنیا کی کئی مشہور تحریکیں اور جماعتیں، اپنی ریاست کی جانب سے پابندیوں کی زد میں آئی ہیں۔
    پاکستان میں پہلے سے پابندی کا شکار کالعدم تحریک طالبان پاکستان / ٹی ٹی پی جو بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح کسی صورت مذاکرات پر آمادہ نہیں ہو رہی تھی ، ایک سنجیدہ فوجی آپریشن کے بعد حیران کن طور پر اسی حکومت سے مذاکرات پر آمادہ ہوگئی جسے غیر اسلامی ، طاغوتی اور نجانے کیا کیا کہتے اس کے رہنما اور چمچے تھکتے نہیں ۔ اس وقت رابطوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ مذاکرات اولین ترجیح ہیں لیکن ناکام ہوئے تو آپریشن ضرور ہو گا۔ یہ وہ کام ہے جو پاکستانی حکومت اور فوج کو مل کر کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا لیکن یوں لگتا ہے کہ گزشتہ حکومتیں چوہے بلی کا کھیل جاری رکھنا چاہتی تھیں تا کہ مغرب سے امداد لگی رہے ۔ بہرحال دیر آید درست آید اللہ کرے کہ مذاکرات کامیا ب ہوں اور ضدی جاہلوں کی تحریک طالبان کو حصول علم کا موقع ملے ۔ یہ جنگلی منہ ہاتھ دھو کر قرآنی قاعدہ پکڑیں گے تو انہیں علم ہو گا کہ اسلام اس سے بالکل مختلف ہے جو ان کے بیانات میں ہوتا ہے ۔
    دوسری اہم پیش رفت سعودی عرب سے ہوئی جس نے اپنے ملک میں اخوان المسلمون نامی جماعت پر پابندی لگا کر اس کو دہشت گرد قرارد ے دیا ، اس کے علاوہ شام میں لڑنے والے گروپ جبہۃ النصرۃ کو بھی دہشت گرد قرار دے کر ملک سے باہر لڑنے والے سعودی شہریوں کو واپس آنے کے لیے پندرہ دن کی مہلت دی ۔
    اس ی دوران متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب نے قطر سے اپنے سفراء کو احتجاجا واپس بلا لیا ۔ ان کا موقف ہے ہے کہ قطر نے مصری صورت حالکے بعد ان کے ملکوں میں بعض تنظیموں کی بے جا حمایت اور رقوم کی فراہمی سے علاقائی سکیورٹی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اورانھوں نے اپنی سلامتی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے۔
    اس علاقائی تحفظ کے معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ''جی سی سی کے تمام رکن ممالک کسی دوسرے ملک کے داخلی امور میں براہ راست یا بالواسطہ کوئی مداخلت نہیں کریں گے اور وہ ایسی تنظیموں یا افراد کی حمایت بھی نہیں کریں گے جن سے جزیرہ نما عرب کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہو؛سکتے ہوں۔خواہ یہ خطرات براہ راست سکیورٹی ورک یا سیاست پر اثرانداز ہونے سے متعلق ہوں''۔
    یہ اقدامات بحرین ، متحدہ عرب امارات اور سعودیہ کی جانب سے کیے گئے، ان تمام ممالک کو شکوہ ہے کہ قطر ان کے ملکوں میں اخوانی سوچ کے حامیوں کو شہہ دے رہا ہے لیکن پاکستان میں اخوان کےاندھے حامیوں نے صرف سعودیہ کو تختہ مشق بنا رکھا ہے ۔ الحمدللہ عالمی پریس تک براہ راست رسائی رکھنےوالوں کو ان نام نہاد تحریکی نیوز ایجنسیوں کی پھیلائی ہوئی گپ کی حقیقت جلد معلوم ہو جاتی ہے۔ چونکہ اسلام پر ان کا قبضہ ہے اور یہ زمین میں اللہ کے خلیفہ ہیں اس لیے یہ سوچنا بھی منع ہے کہ یہ جھوٹ بکتے ہیں ۔ یہ صرف "رائے عامہ ہموار کرتے ہیں ۔ " عامۃ الناس بیچارے ان کی فیشنی داڑھیوں سے دھوکا کھاتے رہے ہیں اور کھاتے رہیں گے ۔
    جو بھی ہو عرب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اس دوری کا لازمی اثر شام سمیت دنیا کے ان تمام علاقوں پر پڑے گا جہاں کے مسلمان اکثریتی مسلم ممالک کی طرف امید کی نظر سے دیکھتے تھے ۔
    ایک اور خبر ترکی سے آئی جہاں وزیراعظم رجب اردگان نے نورسی کی نوری تحریک سے متاثر فتح اللہ گلن کی تحریک حذمت/ خدمت تحریک کے سکولوں کو ریاستی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا ۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر حکومت مخالف افراد کو دھمکاتے ہوئے انہوں نے فیس بک اور یوٹیوب پر پابندی کا بھی عندیہ دیا جس پر خوب لے دے ہوئی ۔
    جی ہاں : ) یہ وہی رجب اردگان ہیں جنہوں نے مصر میں مرسی کی حکومت الٹنے پر احتجاج کیا تھا اور رابعہ کا چار انگلیوں کا نشان دیا تھا ۔ : ) وہ مصر تھا ، اپنے ملک میں انہوں نے بھی بظاہر سماجی اور تعلیمی خدمت تحریک کا ٹینٹوا دبانے کی تیاری کر رکھی ہے۔ [ اردگان کو فرشتہ قسم کا ہیرو قرار دینے والے اخوان کے حامیوں سے معذرت کے ساتھ حقائق یہی ہیں، گزشتہ دنوں پاکستان میں موجود نورسی تحریک سے وابستہ ترک خواتین سے بات ہوئی وہ آپ کے ہیرو رجب اردگان کو ویسا ہی کوس رہی تھیں جیسا آپ سعودیہ کو کوستے ہیں ، لیکن وہ زیادہ مہذب الفاظ استعمال کر رہی تھیں ۔ اخوان کے پاکستانی حامی تو تمیز کے دائرے سے نکلنے کو عین اسلامی حق سمجھتے ہیں ۔ ]
    پابندیوں اور جکڑ بندیوں کا شکار یہ سب مسلم تحریکیں اور جماعتیں مذہبی یا روحانی خیال کی جاتی ہیں ۔ لیکن افسوس کہ خلافت یا شریعت کے نفاذ کے لیے گلا پھاڑ کر چلانے والے گروہوں سے لے کر روحانی مٹھاس بانٹنے کے علمبرداروں میں اس بات کا کوئی شعور موجود نہیں کہ
    -حکمران کو امر بالمعروف کے اسلامی آداب کیا ہیں ؟
    -مسلم حکمرانوں کے خلاف مسلح اقدامات یا مسلم ملک میں انارکی پھیلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
    -مسلم ریاستوں اور ریاستی اداروں کی کمزوری کا فائدہ کون اٹھا سکتا ہے ؟
    -اپنے ملک میں اپنی پولیس ، اپنی فوج کے ساتھ پتھراو، جلاو ، گھیراو ، توڑ پھوڑ کا بدصورت معرکہ کرنے والوں کو یاد نہیں رہا کہ وہ اپنے وطن کے اثاثوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، حکومتیں بدلتی رہتی ہیں وطن تو وہی رہتا ہے اور جب سرحدوں کے باہر سے حملہ ہوتا ہے تو اہل وطن اور وطن ہی ڈھال بنتے ہیں ۔
    -ایک ریاست کی کیا اہمیت ہے اور اس کا نہ ہونا یا ہاتھ سے جاتا رہنے کا کیا مطلب ہے ؟
    -ان تحریکوں نے بڑے پیمانے پر تحریکی سر پھرے اور علامہ قرضاوی جیسے {خود کش حملوں کو جائز قرار دینے والے} مفتی ضرور پیدا کیے کہ جوان خون کو جوش دلانا دنیا کا سب سے آسان کام ہے ، لیکن ان تحریکوں کے کوتاہ بین قائد یہ بھول گئے کہ بڑے بڑے شاطر غیر مسلم دشمنوں کی موجودگی میں ہوش کتنا اہم ہے ؟ علامہ قرضاوی کے اپنے بیٹوں میں سے کوئی ایک فلسطین میں خود کش حملے میں نہیں پھٹا ، نہ ہی قرضاوی نے خود ایسی کوئی جہادی کوشش کی ۔ اس فتوے نے عالم اسلام میں فساد ضرور بپا کیا ۔
    -نوجوانوں کے جوش کو بوتل کی جن کی طرح باہر نکالنا بہت آسان ہے لیکن واپس بند کرنا ناممکن ، یہی صورت حال عالم اسلام میں بار بار پیش آتی رہی ہے مگر افسوس تحریکوں سے وابستہ افراد حقیقت پسندانہ تجزئیے اور فیصلے کے لیے تیار نہیں ۔
    ایک ادنی مثال: حال ہی میں کالعدم پاکستانی تحریک طالبان اورپاکستانی حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوران اسلام آباد میں کچہری پر حملہ ہوا۔ مذاکرات خطرے میں پڑ سکتے تھے ۔ ٹی ٹی پی کے ترجمان نے کہا ہم حملہ آور" احرار الہند" کو نہیں جانتے، مولانا سمیع الحق کابہت "سنجیدہ" بیان آیا کہ طالبان سنجیدگی سے پتہ کررہے ہیں یہ احرارالہندکون ہیں اور وہ فیس بک سے ان تک پہنچ بھی گئے ہیں ۔ : ) کوئی طالبان سے پوچھے کہ جناب یہ افراتفری تو آپ ہی کی پھیلائی ہوئی ہے اب کسی اور نے اس سے فائدہ اٹھا لیا تو آپ اسے کس طرح غلط قرار دے سکتے ہیں جب آپ کے اپنے ہاتھ اسی گند میں لتھڑے ہیں ؟
    ان مضحکہ خیز بیانات سے ان مظلوموں کی زندگی واپس نہیں آسکتی جو اس حملے میں جان سے گئے ۔ کیا ہم غیر ریاستی مسلح ، پرتشدد تحریکوں کی سنگینی کو صرف تب سمجھیں گے جب ہمارا کوئی پیارا ان کے ہاتھوں جان گنوائے گا؟
    علوم اسلامیہ کی ایک ادنی طالبہ ہونے کی حیثیت سے میں ذمہ داری سے کہہ سکتی ہوں کہ مسلم حکمرانوں کو نفاذ شریعت میں سستی کے طعنے دینے والی ،اسلام کے نام پر بننے والی سیاسی ہوں یا مسلح تحریکیں، دینی علم سے دوری کا بدترین نمونہ ہیں ۔ ان کے امراء سے لے کر صف اول رہنماوں تک فکری و علمی شخصیات کہیں نظر نہیں آتیں ۔ یہ سستے ، جذباتی اشتعال انگیز بیانات دینے والے قائدین کے ہاتھوں میں ہیں جو بے علم ، بے عمل اور بے بصیرت ہیں ۔ میگا فون پر حکمرانوں کا محاسبہ کرنے والے جب تک اپنا اور اپنی تحریکوں کا ذمہ دارانہ محاسبہ نہیں کریں گے یہ لوگ سوائے سر پھٹول کی ہلچل کے کوئی انقلاب لانے سے قاصر رہیں گے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 1
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    اخوان پر پابندی ان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے لگی ہے۔
    اور ڈاکٹر یوسف القرضاوی تو ہے ہی فارغ۔

    ملاحظہ فرمائیں

    اسکات الکلب العاوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    اس حوالے سے میرا یہ کہنا ہے کہ سعودی حکومت کو بہت پہلے یہ پابندی لگا دینی چاہیے تھی کیونکہ آزمائے ہوئے کو باربار آزمانا بیوقوفی ہے ۔ لیکن ایک سال تک حکومت اور علماء کی طرف سے اخوان کی صلاح کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ لیکن جب ناکامی ہوئی اور پانی سر سے گزر گیا تو یہ پابندی لگائی گئی ۔ جساکہ مختلف عرب اخبارات میں یہ خبریں تسلسل سے شائع ہوتی رہی ہیں‌۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. شہاب

    شہاب -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 19, 2014
    پیغامات:
    6
    بہت افسوس ہے کہ مسلم حکمران صرف اور صرف اپنی جاگیرانہ حکومت کوبچانے کے واسطے یہودیوں اور سہیونیوں کو خوش کرنے کے لئے اسلامی تحریکوں پر ہی پابندیاں لگا رہے ہیں۔ حیرت تو یہ ہے کہ دشمنان اسلام مسلمانوں کو آپس میں لڑانے میں اچھی طرح کامیاب ہیں۔ پابندی ہی لگانی ہے تو یہودی اور سہیونی تحریکوں پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ صرف اسلامی ہی تحریکیں کیوں پابندیوں کی زد میں ہیں؟ دشمنان اسلام مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں اور اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچا رہے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟ اور ان عیاش حکمرانوں کی حمایت کرنے والے لوگ بھی ڈالر سے اندھے ہوچلے ہیں، لیکن اس کا انجام کیا ہوگا کبھی سوچا بھی ہے؟ اسلام تیزی سے مٹتا جارہا ہے۔ ہمارے سامنے اسلام اہم ہے عیاش حکمرانوں کی حکومت نہیں۔
     
  5. شہاب

    شہاب -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 19, 2014
    پیغامات:
    6
    دنیا کےہر خطہ میں مسلمان ذلیل اور قتل کیا جارہا ہے۔ کیوں کہ جس ملک سے مسلمانوں امید یں وابستہ ہیں اس ملک کی حکومت یہودیوں اور سہونیوں کے ہاتھوں بک چکی ہے۔ اب مسلمان کی حمایت کون کرے؟ غیر مسلم ملکوں میں کافروں کے ہاتھوں مسلمان قتل ہورہا ہے تو مسلم ملکوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہورہا ہے۔ اب مسلمان کا ظاہری سہارا کون ہوگا؟ لیکن صد افسوس کہ ڈالر کی لالچ نے ان ظالم ایمان فروش حکرانوں کی حمایت میں اندھا کردیا ہے۔ اور اپنی قوم کی بربادی پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ کیا تنقید کے لئے مسلم رہنماء ہی نظر آتے ہیں؟ اسلام کے دشمن کے خلاف بولنے کی ہمت کیوں نہیں ہوتی؟
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  6. شہاب

    شہاب -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 19, 2014
    پیغامات:
    6
    کیا آپ افغانستان، عراق، شام، مصر، فلسطین وغیرہ کی تباہی پر خوش ہیں؟ مسلم ملکوں پر یہودی اور سہیونی طاقتیں حکومت کریں آپ تو اس سے خوب خوش ہونگے! اگر پابندیاں اسلامی تنظیموں لگتی رہیں تو ایک دن جلد ہی یہودیوں اور سہیونیوں کی سازش کی آگ سعودیہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ پھر آپ کس کی طرف سے بولیں گے؟
    مسلک کی توسیع سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں بقاء اہم ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 12, 2014
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اسلامی رہنما کوئی مقدس گائے نہیں ہیں کہ ان پر تنقید نہ کی جائے ۔ نہ ہی اسلامی تحریکیں قانون سے بالاتر ہیں ۔ جس ملک میں رہنا ہے وہاں کے قوانین کی پابندی کریں ، زیادتی کی صورت میں قانونی جد وجہد کریں ۔
    جب یہ اسلامی رہنما حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو نیٹو سپلائی کو کفار کی رسد کہہ کرنعرے لگواتے ہیں ، اور جب خود کو اسی صوبے میں حکومت مل جاتی ہے جہاں سے نیٹو سپلائی جاتی ہے تو فرماتے ہیں کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے نیٹو سپلائی کھول دیں گے ۔ تب کفر اور اسلام کا مسئلہ ہائکورٹ کے حکم سے جائز ہو جاتا ہے؟ بات یہ ہے کہ انہیں جذبات میں اونچا بولنے کی عادت ہے ۔
    نومبر ۲۰۱۳ خیبر پی کے حکومت جاتی ہے تو جائے، نیٹو سپلائی ضرور روکیں گے: منور حسن

    اب کیا ہو رہا ہے ؟خیبر پختونخواہ کی حکومت بھی وہیں ہے ، منور حسن اور عمران خان جیسے انقلابی بھی وہیں ہیں اور نیٹو سپلائی بھی جاری ہے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے کفر وا سلام کے معرکوں کی ۔
    ایک زمانے میں ان اسلامی تحریکوں کے نزدیک یہی عمران خان اپنے یہودی سسر کی وجہ سے یہودیوں کا ایجنٹ ہوتا تھا ، اب وہی عمران خان اسلامی تحریکوں کا حکومتی اتحادی ہے ۔
    ان نام نہاد اسلامی تحریکوں کے حامیوں کی کچھ اور نشانیاں ہیں ۔ یہ کسی قانون کی پابندی نہیں کرتے اور ہر مخالف کو غدار یا زر خرید ہونے کا الزام فورا دے دیتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال مذکورہ رکن ہیں ۔ اس فورم کا قاعدہ ہے ہر نیا رکن اپنا تعارف کرواتا ہے ۔ یہ بغیر تعارف کروائے ایک مجلس میں بات شروع کر رہے ہیں اور فورا ہی مختلف نظریات رکھنے والوں کو ڈالروں کے طعنے دے رہے ہیں ۔ انہوں نے میری مزید تحریریں دیکھے بغیر ہی فیصلہ کر دیا ہے کہ مجھے اسلام دشمنوں کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ اسے کہتے ہیں خالص تحریکی مزاج ۔
    اسلامی تحریکیں اپنے مخالفین کے ساتھ کتنی دیانت داری سے پیش آتی ہیں اس کی ایک مثال اخوان کے پاکستانی حامی ہیں ۔ معزولی کے بعد مرسی اور اخوانی رہنماوں کے جس بیان میں" شرعیۃ " کا ذکر ہوتا اسلامی صحافت اس کا ترجمہ" شریعہ "کرتی ، تا کہ سادہ لوح پاکستانیوں کو دھوکا دیا جا سکے ۔ ان کے خیال میں دنیا اتنی سادہ ہے ؟
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    شہاب بھائی نے تین سانسوں میں پانی پیا ہے ۔ ہمیں بھی تین سانس ہی لینے چاہیے ۔: ) جہاں تک تعارف کی بات ہے تو کچھ عرصہ قبل ایک رکن سے جب تعارف کے لیے کہا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ اسلام کی تبلیغ کے لیے تعارف کی ضرورت نہیں‌ ہوتی۔ ایسے لوگوں کو اسلام کی تبلیغ صرف پاکستان کو دارالکفرثابت کرنے ، کسی کے ایمان میں شک کرنے یا حزبی تحریکوں کی مہمان نوازی پرہی نظرآتی ہے ۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جی بغیر تعارف نامعلوم آئی ڈیز سے مسلم حکمرانوں کو کافر ثابت کرنا اور مسلم ریاستوں کو دارالکفر بتانا آج کل منافع بخش کام ہے ۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ پاکستانی حکومت کی جانب سے مذاکرات کا اہم ترین مرحلہ شروع ہو چکا ہے ۔ مذاکراتی کمیٹیاں شمالی وزیرستان پہنچ چکی ہیں جہاں ان کی طالبان شوری سے ملاقات ہو گی ۔

    جب کہ ترکی میں وزیراعظم رجب اردگان نےپارلیمانی انتخابات سے ہفتہ قبل سوشل سائٹ ٹوئٹر پر پابندی عائد کر دی ہے ، http://urdu.alarabiya.net/ur/international/2014/03/25/%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A2%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%B9%D9%88%D8%A6%D9%B9%D8%B1%D8%8C-%DB%8C%D9%88-%D9%B9%DB%8C%D9%88%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%81%DB%8C%D8%B3-%D8%A8%DA%A9-%DA%A9%DA%86%D9%84%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%DB%81%D8%AF.html
    مصر میں گزشتہ ہفتے سب سے زیادہ پرتشدد سیاسی منظرنامہ رہا جہاں ایک فوجی چوکی پر حملے سے چھ فوجی مارے گئے ، مصر: فائرنگ سے چھ فوجی افسر ہلاک
    اس کے بعد فوج اور مرسی کے حامی مسلح گروہوں کے درمیان تصادم میں کرنل اور بریگیڈئر سمیت کئی فوجی مارے گئے ، دو دن بعد اخوان المسلمون کے 529 کارکنوں کو محض دو سماعتوں کے بعد پھانسی کی سزا سنادی گئی ان میں سے ۱۰۰ کارکن زیر حراست ہیں جب کہ باقیوں کو گرفتار کرنا باقی ہے ۔ مصر سمیت دنیا بھر کی سیاسی تنظیموں نے اس فیصلے کو تشویش اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ وکیل دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے ۔ محمد مرسی کے 529 حامیوں کو سزائے موت
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اس وقت لیبیا ، تیونس اور الجزائر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اردو پریس رپورٹ نہیں کر رہا لیکن جو لوگ عربی مصادر تک رسائی رکھتے ہیں ان کو معلوم ہو گا کہ کیا قیامت برپا ہے ۔ لیبی انتخابات میں اخوان کی بری طرح شکست ہوئی ، آج لیبیا میں درجن سے زائد " اسلامی" تحریکیں ہیں جو بے دریغ آپس میں جنگ میں مصروف ہیں مسلمان کا اسلحہ مسلمان کا خون بہا رہا ہے ۔ یہ فتنہ نہیں تو کیا ہے؟ ہم کب تک آنکھیں بند کیے اسلامی انقلاب کے خواب میں مست رہیں گے؟ مسلمان کا اتنا خون غزہ میں یہودیوں کے ہاتھو ں نہیں بہا جتنا یہ مسلح گروہ بہا رہے ہیں ۔ ان کو ایک نظر یہاں دیکھا جا سکتا ہے:
    http://www.alarabiya.net/ar/north-africa/libya/2014/07/21/تعرف-على-وجوه-الميليشيات-والمعارك-في-ليبيا.html
    ان میں انصارالشریعۃ القاعدہ کی حامی ہے، درع لیبیا، ثوار لیبیا، ہر گروہ بزعم خود انقلابی ہے یا جہادی ہے لیکن یہ سب آپس میں ایسی جنگ میں مصروف ہیں کہ لیبیا کی صورت بگڑ کر رہ گئی ہے ، سفارت خانوں پر حملے ہو رہے ہیں، دوسرے ملکوں کا سفارتی عملہ قتل کر دی اجاتا ہے ، غیر مسلموں کا اغوا اور قتل عام ہے ۔ کیا یہی اسلامی تعلیمات ہیں؟
    افسوس ان دہشت گردوں کو روکنے والی مسلم حکومتوں کو برا بھلا کہنے والوں کو لیبیا اور عراق کی حالت زار دیکھ کر بھی ہوش نہیں آیا۔
     
    Last edited: ‏جولائی 22, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    سعودی عرب نے اپنے ملک سعودی عرب میں موجود الاخوان المسلمون پر پابندی لگائی تھی ، لیکن اسلامی انقلابی صحافت نے بدترین خیانت کرتے ہوئے اپنے لوگوں کو یہ باور کروایا کہ یہ مصری اخوان پر پابندی ہے ۔ حالاں کہ یہ جھوٹ ہے ،سعودی عرب نے مصر کے اندرونی حالات پر براہ راست تبصرے سے ہمیشہ گریز کیا ہے کیوں کہ یہ عرب لیگ اور او آئی سی معاہدے کے خلاف ہے ۔ اور اخوان کی حمایت میں آج اچھلنے والے بھول گئے کہ جب سید قطب کو پھانسی کے بعد مصر کی سرزمین پر ان کے خاندان کو خطرہ تھا تو ان کے بھائی محمد قطب سمیت کئی اہم رہنماؤں کو سعودیہ نے ہی اپنے ملک میں پناہ دی ، البتہ شرط یہی تھی کہ وہ سعودیہ کی سرزمین میں بیٹھ کر کسی دوسرے ملک کی سیاست میں دخل نہیں دیں گے ۔ اور ساری دنیا میں سیاسی پناہ کا یہی اصول ہوتا ہے، آپ طاہر القادری پر یہی اعتراض کرتے ہیں کہ کینیڈا سے پاکستانی سیاست میں دخل دے رہا ہے اور خود چاہتے ہیں کہ قطر، سعودیہ اور کویت میں بیٹھ کر مصر کی سیاست میں انقلاب لائیں؟ محمد قطب تب سے اس سال تک سعودیہ میں ہی مقیم رہے ، یہاں کی جامعات میں پڑھایا اور یہیں فوت ہوئے ۔ لیکن اخوان کے نعرے باز حامی یہ حقائق جاننا ہی نہیں چاہتے ۔
     
    Last edited: ‏جولائی 22, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے 84 مسلح تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے جن میں القاعدہ ،حزب اللہ، دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) حرکۃ الاحرارالشام ، انصار اللہ یمن، انصارالشریعہ لیبیا، انصارالشریعہ تیونس ،انصار بیت المقدس مصر،الجماعۃ الاسلامیہ مصر،اجناد مصر شامل ہیں۔
    عبدالرحمان راشد کا تجزیہ
     
  14. ابن عادل

    ابن عادل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 17, 2008
    پیغامات:
    79
    مجھے حیرت اس پر ہے کہ ایک طرف پوری عرب دنیا نے ان تحریکوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے ۔ قطر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ۔ اب پریشانی کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ ! لیکن یہاں اس طرح ان تحریکوں پر اظہار خیال کیا جارہا ہے گویا کہ وہ عالم عرب کو نگلنے والی ہوں ۔ اور محسوس یوں ہوتا ہے جیسے یہ تحریکیں اب کہ تب سب کچھ ختم کردیں گی۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ غلط اور غیر شرعی تھا تو اب تک برداشت کیوں کیا گیا ۔۔۔! فتنے کی سرکوبی پہلے کیوں نہ ہوئی ؟ اور اگر یہ سب ان تحریکوں کے برسراقتدار آنے یا اقتدار کے قریب آنے کے موقع پر کیا جارہا ہے تو پھر مطلب یہ ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔
    مختصر یہ کہ معاملات تو ابھی ظاہر ہوں گے ۔ بہت کچھ پوشیدہ ہے ۔ اور وقت سب ظاہر کرے گا ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی وکی لیکس کام دکھا دے ۔ ورنہ 50 سال بعد تو وہ خود ہی ظاہر کردیں گے ۔
    مزے کی بات یہ ہے کہ اب مرسی اور سیسی کا تقابل بھی کہیں نہیں کیا جارہا ۔۔۔۔! میں حیران ہوتا ہوں کہ جب مغربی میڈیا کہتا ہے کہ اخوان شدت پسند تھے اور یہاں دیکھتا ہوں کہ اخوان شیعہ کے ساتھ تھے ۔ وہ مسلمانوں کے دشمن تھے ۔
    اب کوئی حماس کی بات نہیں کرتا ۔۔ نہ ہی غزہ پر ہونے والی جارحیت پر حماس کا ساتھی ہے ۔ کیوں کہ وہ اخوانی فکر کی حامی ہے ۔ حماس نے پوری جنگ تن تنہا لڑی اور اپنا لوہا منوایا ۔ سیسی کا کیا کردار تھا دنیا جانتی ہے ۔ اور ساری بادشاہتیں اس کی پر تھیں ۔ تباہی کے بعد اہل غزہ شکر گزار ہیں کہ ان تعمیر نو کے لیے تمام بادشاہتوں نے خوب مدد کی اور ثواب کمایا ۔ وہی قتل بھی کرے وہی لے ثواب الٹا ۔
    اگرچہ یہاں بات یکطرفہ ہوگی میں معذرت خواہ ہوں کہ یہاں موجود ایک خیال کے حامل لوگوں میں ناپسندیدہ بات کہ دی ۔ گویا بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی ۔۔۔۔۔
    اس بے ادبی پر ایک دفعہ پھر معذرت ۔۔۔ بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں ۔۔
     
  15. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    معذرت قبول ہے : )
    یہاں مختلف خیال کے حامل لوگ موجود ہیں ۔ آپ کبھی کبھار چکر لگاتے ہیں ۔ اس لیے آپ کے علم میں نہیں ۔ آتے رہیں ۔ ان شاء اللہ آپ کے خیال کے لوگ بھی مل جائیں گے ۔
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مذہبی جماعتوں کے متعلق ابتدا سے تنقید ہوتی رہی ہے، یکایک شروع نہیں ہوئی ،یہ مسلم علماء کے ایمان دار اور بیدار مغز ہونے کا ثبوت ہے کہ وہ بظاہر دین دار نظر آنے والوں کی اصلاح بھی کرتے رہے ہیں ، اگر کچھ لوگوں نے مطالعہ نہ کیا ہو تو الگ بات ہے ورنہ الگ جماعت بنانے ، بیعت کرنے ، امیر کہلوانے سے لے کر چندے اور جہاد فنڈ مانگنے تک ہر مسئلے پر بات ہو چکی ہے، مختلف جماعتوں کی تاریخ اور نظریاتی اتار چڑھاؤ پر بھی سیر حاصل بحثیں ہوتی رہی ہیں لیکن جماعتوں کے پرجوش حامی عموما اپنے جماعتی لٹریچر کے قیدی اور کھلے مطالعے کے عادی کم ہی ہوتے ہیں، اس لیے ذرا مختلف رائے پڑھ کر اعصابی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ کے نام پر بننے والی ان جماعتوں اور تحریکوں میں جیسے جیسے تشدد کا رجحان آتا گیا ریاستی طاقتوں کو ان کی جانب متوجہ ہونا پڑا۔ یہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ غیر ریاستی مسلح تنظیموں کو ان کی حدود بتا دی جائیں، جو جماعتیں اپنے کارکنوں سے مقامی امیر جماعت کی غیر مشروط اطاعت کا حلف لیتی ہوں ان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ حکمران کی اطاعت اور اس کے خلاف اسلحہ اٹھانے کے متعلق اسلامی حکم کو نظر انداز کریں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو تسلیم کرنا ان کے لیے دشوار ہو رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    تازہ خبر یہ کہ خدمت تحریک کے بانی فتح اللہ گولن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے ہیں
    http://urdu.alarabiya.net/ur/intern...لامہ-فتح-اللہ-گولن-کے-وارنٹ-گرفتاری-جاری.html
    http://en.fgulen.com

    یاد رہے یہ اقدامات ایردوآن حکومت کی جانب سے کیے گئے ہیں جو ہمارے یہاں مذہبی جماعتوں کا پسندیدہ لیڈر ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    شکر ہے کہ سعودیہ کی طرف سے یہ پابندی نہیں لگیـ ورنہ نیٹ پر لوگن ہونا مشکل ہوجاتاـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ترکی میں ایک طرف کرد قوم پرست جماعت کے دفاتر پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف مذہبیصوفی سیاست دان فتح اللہ گولن کی ملک میں عدم موجودگی میں ان پر ترک حکومت کے خلاف بغاوت کا مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔
    https://urdu.alarabiya.net/ur/inter...فتح-اللہ-گولن-اور-ان-کے-ساتھیوں-کا-ٹرائل.html
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    2018 پاکستان میں الیکشن کا سال تھا کچھ مذہبی تحریکیں یکایک منظر پرابھریں، کسی کی (جس کا نام لینا منع ہے) کافی خدمت کی، نام کمایا، الیکشن ختم ہوا اور ان تحریکوں کا کام ختم ہوگیا تو ان پر رفتہبرفتی پابندیاں لگا دی گئیں
    الیکشن کے چھ ماہ کے اندر اندر نمایاں تحریکیں جن پر اب تک پابندی لگی ہے تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ عرف جماعت الدعوہ عرف فلاح انسانیت ہیں۔ تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ کے امیدواروں نے پنجاب میں ووٹ تقسیم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور اب انہیں بہت آرام ہے
    الیکشن سے پہلے موجودہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی صاحب نے فرمایا تھا کہ جب تک تحریک انصاف ہے فلاح انسانیت اور جماعت الدعوہ پر پابندی نہیں لگ سکتی۔ مزید فرمایا کہ یہ ہمارا ایمان ہے یہ ہمارا ایمان ہے انتخابات سے پہلے ایمان کا عالم اور تھا انتخابات کے بعد ایمان کے درجے بدل گئے ہیں اس لئے چیزوں کو اپنا ایمان کہنے والے بے ایمانوں نے اپنے فیصلے بدل لیے ہیں
    شنید ہے کہ فاٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پابندی کی شو شا ضروری تھی بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا
    مذہبی تحریکوں سے وابستہ افراد کو اب سنجیدگی سے تاریخ مرتب کرنی چاہیے اور غور بھی کرنا چاہیے کہ وہ کیسے فیصلے کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہتا ہے۔
     
    Last edited: ‏مارچ 7, 2019

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں