من و سلوی

عائشہ نے 'قرآنی الفاظ ، اصطلاحات ، تراکیب و تراجم' میں ‏اپریل 15, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    من اور سلوی کیا ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,831
    من سے مراد میٹھا ہے اور کہا یہ جاتاہے کہ بنی اسرائیل پر جو یہ اترتا تھا تو اس کی کیفیت ننھے شبنم کے قطروں کی طرح سے ہو تی تھی جو پتوں پرجمع ہوتے تھے۔۔یہ شہد کی طرح میٹھا ہوتا تھا۔
    سلوٰی سے مراد نمکین کا ہی علم ہے البتہ اس کے اترنے کی کیفیت کیسی تھی یہ نہیں‌معلوم،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    اچھا ، چلیں تھوڑی سی مدد کر دیتی ہوں ۔
    سورۃ البقرۃ : آیت ۵۷
    سورۃ الاعراف: ۱۶۰
    سورۃ طہ : آیت ۸۰
    ان آیات کی تفسیر دیکھیں اور جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں ۔
    یہ بھی دیکھیں کہ کیا من اور سلوی ہماری آج کی دنیا میں کسی صورت موجود ہیں ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    تفسیر ابن کثیر سے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 57 کی تفسیر پیش کرتا ہوں۔

    جو "من ان پر اترا وہ درختوں پر اترا تھا۔ یہ صبح جاتے تھے اور جمع کر کے کھا لیا کرتے تھے وہ گوند کی قسم کا تھا۔ کوئی کہتا ہے شبنم کی وضع کا تھا حضرت قتادہ فرماتے ہیں اولوں کی طرح "من" ان کے گھروں میں اترتا تھا جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔ صبح صادق سے لے کر آفتاب نکلنے تک اترتا رہتا تھا ہر شخص اپنے گھر بار کے لئے اتنی مقدار میں جمع کر لیتا تھا جتنا اس دن کافی ہو اگر کوئی زیادہ لیتا تو بگڑ جاتا تھا۔ جمعہ کے دن وہ دو دن کا لے لیتے تھے جمعہ اور ہفتہ کا اس لئے کہ ہفتہ ان کا بڑا دن تھا ربیع بن انس کہتے ہیں من شہد جیسی چیز تھی جس میں پانی ملا کر پیتے تھے شعبی فرماتے ہیں تمہارا یہ شہد اس "من" کا سترواں حصہ ہے شعروں میں یہی "من" شہد کے معنی میں آیا ہے یہ سب اقوال قریب قریب ہیں غرض یہ ہے کہ ایک ایسی چیز تھی جو انہیں بلا تکلیف و تکلف ملتی تھی اگر صرف اسے کھایا جائے تو وہ کھانے کی چیز تھی اور اگر پانی میں ملا لی جائے تو پینے کی چیز تھی اور اگر دوسری چیزوں کے ساتھ مرکب کر دی جاتی تو اور چیز ہو جاتی تھی۔ لیکن یہاں "من" سے مراد یہی "من" مشہور نہیں صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کھمبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے۔ ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں ترمذی میں ہے کہ عجوہ جو مدینہ کی کھجوروں کی ایک قسم ہے وہ جنتی چیز ہے اور اس میں زہر کا تریاق ہے اور کھمبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے درد کی دوا ہے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ دوسرے بہت سے طریقوں سے بھی مروی ہے۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ صحابہ نے اس درخت کے بارے میں اختلاف کیا جو زمین کے اوپر ہوتا ہے جس کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتیں۔ بعض کہنے لگے کھمبی کا درخت ہے آپ نے فرمایا کھمبی تو "من" میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے

    سلوی کے بارے میں علی جن ابو طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ سلوی بٹیر کے مشابہ ایک برندہ تھا۔ جسے وہ کھاتے تھے۔
    عکرمہ فرماتے ہیں کہ سلوی ایک پرندہ تھا جس طرح جنت کے پرندے ہوں گے۔ یہ چڑیا کے برابر یا اس سے کچھ بڑا پرندہ تھا۔
    قتادہ کا قول ہے کر سلوی چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,691
    هماری استازہ نے بهی اس سے ملتا جلتا تفسیر میں پڑهایا هے کہ من کا مطلب کهنمبی اور میٹها تها اور سلوی کا مطلب بٹیر تها جو نمکین کهانا تها..
    باقی عین سسٹر آپ بتایئے هم کہاں تک صیح بتا سکے هیں بہت اچها سلسلہ هے قرآن سے ڈهونڈهتے هیں بہت علم میں اضافہ هوتا هے سب اپنا اپنا جو پڑها هے بتاتے هیں علم میں اوراضافہ هوتا هے .
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    وایاک
    جی درست کھمبی من میں سے ہے یہ حدیث مبارک میں ذکر ہے ۔ باقی لوگ بھی کوشش کر لیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,970
    اہل عرب بہتر بتا سکتے ہیں کہ کیا اس حدیث میں جو لفظ بیان ہوا ہے، اس کا ترجمہ کھمبی کرنا درست ہے یا نہیں

    ایک معروف عالم دین کے مطابق، کمبھی اور چیز ہے اور وہ چیز(شاید قمع) اور چیز۔ کمبھی برسات میں ہوتی ہے جب کہ وہ سردیوں میں۔ کمبھی زمین کے اوپر اگتی ہے جب کہ وہ زمین کے نیچے صحرا میں پائی جاتی ہے۔ کھمبی کی ایک خاص شکل ہوتی ہے جب کہ وہ آلو کی طرح ہوتا ہے۔ اور کھانے میں اس کا ذائقہ گوشت جیسا ہوتا ہے۔


    باقی آپ لوگ اس چیز کی تصویر خود ہی ڈھونڈ لیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    قمع نہیں الكمأة
    فیملی وہی ہے البتہ علاقوں کے حساب سے شکل بدل جاتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,970
    جی صحیح تلفظ مل گیا الحمد للہ۔ میں بھی تلاش کر رہا تھا۔
    جزاک اللہ خیرا۔

    حدیث یہ ہے: الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين

    اور یہ رہیں اس کی تصاویر:

    ربط
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں