ام المؤ منین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا:

نصر اللہ نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏مئی 18, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,847
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا
    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عرب کے معزز ترین قبیلے قریش سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کے پردادا کانام قصی تھا جورسول اللہ ﷺ کے بھی جداعلی تھے۔اس لحاظ سے رسول اللہ ﷺ اور حضرت خدیجہ ہم جد تھے۔حضرت خدیجہ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ان کے والد محترم کا اسم گرامی خویلد تھا جو اپنے قبیلے اور خاندان میں انتہائی عزت و احترام کے مالک تھےاور مکہ مکیں آکر مقیم ہوگئے تھے۔مکہ ہی میں شادی کی حضرت خدیجہ عام الفیل سے پندرہ سال قبل پیدا ہوئیں۔ابتدا ہی سے بلند کردار اور حسن اخلاق کی حامل تھیں۔چونکہ بہترین اوصاف سے بہرہ مند تھیں۔اس لئے طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔ان کی کنیت ام ہند تھی۔باپ نے اپنی اس بیٹی کی شادی کےلئے ورقہ بن نوفل کاانتخاب کیا جو ایک باکمال شخص تھے اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے،لیکن کسی وجہ سے ان سے شادی نہ ہو سکی تو ابو ہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح کر دیا گیا۔ابو ہالہ کے بعد عتیق مخزومی کے عقدمیں آئیں۔بعدازاں عتیق بھی وفات پاگیا توصیفی بن امیہ سے نکاح ہوا۔صیفی حضرت خدیجہ کے چچا کے بیٹے تھے۔نکاح سے تھوڑا عرصہ بعد صیفی بھی انتقال کر گئے تو حضرت خدیجہ بیوہ تھیں۔باپ بھی فوت ہو چکے تھے۔حضرت خدیجہ کا ذریعہ آؐمدنی تجارت تھا لیکن باپ اور شوہر کی وفات کے بعد ان کا کوئی محافظ اور نگران نہ تھا اس لئے سخت پریشانی میں مبتلا تھیں۔تاہم سلسلہ تجارت باقاعدہ جاری تھا اور اپنے عزیزوں کو معقول معاوضہ دے کر ان کے ہاتھ مال تجارت بھیجتی تھیں۔ان دنوں قریش کے تجارتی تعلقات زیادہ تر شام سے تھے اور حضرت خدیجہ کامال تجارت بھی شام ہی میں جاتا تھا۔
    مکہ معظمہ میں رسول اللہ ﷺ اس زمانہ میں "امین" کے لقب سے مشہور تھے اور آپﷺکے اخلاق حسنہ،صدق وعدالت،راست بازی ومعاملہ فہمی،دیانت و امانت اور نجابت و شرافت کا بہت چرچا تھا اور تمام لوگ آپ کے مداح و ثناخواں تھے۔آپ کے حسن معاملت کی شہرت سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لے کر شام چلے جائیں،معاوضہ دوسروں کو دیتی ہوں اس سے آپ کو دوگنا دوں گی۔رسول اللہ ﷺنے خدیجہ کی یہ پیش کش قبول فرمائی اور حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ کو ساتھ لے کر بصریٰ تشریف لے گئے۔واپس آکر حساب کیا تو پہلے کی نسبت دو گنا منافع ہوا۔
    حضرت خدیجہ کے مال و دولت اور علو اخلاق کی بنا پر بہت سے لوگ ان سے نکاح کے متمنی تھے،مگر وہ کسی پر رضا مند نہ تھیں۔جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قریب سے دیکھا تو آپ کے اخلاق عالی اور اعمال حسنہ سے نہایت متاثر ہوئیں اور اپنی خادمہ نفیسہ بنت منیہ کی معرفت پیغام نکاح بھیجا جو آپ نے منظور فرمالیا۔حضرت خدیجہ کے والد خویلد بن اسد حرب الفجار میں وفات پاچکے تھے ،اس لئے آپ کے چچا عمر بن اسد جو آپ کے سرپرست بھی تھے، ولی مقرر ہوئے۔شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔تاریخ معین پر حضرت خدیجہ نے اپنے اعزہ کو بلالیا اور رسول اللہﷺ اپنے قریبی رشتہ داروں کو لے کر خدیجہ کے گھر پہنچ گئے۔رسول اللہ ﷺ اپنے اقربا میں ابو طالب اور حضرت حمزہ آپ کے ہمراہ تھے۔حضرت ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا اور عمروبن اسد کے مشورے سے پانچ سو طلائی مہر مقرر ہو ا۔یہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ کی عمر چالیس سال کی تھی اور رسول اللہ ﷺ پچیس برس کے نوجوان تھے۔
    نکاح سے پندرہ برس بعد جب رسول اللہ ﷺ چالیس برس کی عمر کو پہنچے تو اللہ کی طرف سے خلعت نبوت سے نوازےگئے۔بیوی کی حیثیت سےس قدرتی طور پر آپ ﷺنے سب سے پہلے خدیجہ ہی کو دعوت اسلام دی اور انہوں نے تمام لوگوں سے پہلے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی صرف تصدیق ہی نہیں کی بلکہ ابتدائے اسلام ہی سے وہ آپ کی سب سے بڑی مددگار تھیں۔آغاز اسلام میں مخالفین اسلام جو آپ کو مبتلائے مصائب کرنے سے کچھ جھجک محسوس کرتے تھے، اس کی بڑی وجہ حضرت خدیجہ کا ذاتی اثر و رسوخ تھا۔انہوں نےآپ سے کہا تھا کہ آپ گھبرائے نہیں اللہ ضرور آپ کی مدد کرے گا۔جب کفار مشرکین نے آپ کو اذیتیں پہنچانا شروع کیں تو خدیجہ آپ کوتسلی دیتی تھیں۔
    نبوت کے ساتویں سال قریش نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے خاندان کو شعب ابی طالب میں محصور کیا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے ساتھ تھیں۔انہوں نے زمانہ جاہلیت میں بھی بت پرستی نہیں کی۔وہ اپنی دولت و ثروت سے رسول اللہ ﷺ کی امداد کرتی تھیں۔اس مقام مرتبہ کا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبریل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ خدیجہ برتن میں کوئی چیز لارہی ہیں۔ آپ ﷺ انہیں اللہ کا اور میرا سلام پہنچادیں۔حضرت خدیجہ جب تک زندہ رہیں رسول اللہ ﷺ نے دوسری شادی نہیں کی۔ان کی وفات کے بعد رسول اللہ کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی جانور ذبح کرتے تو ان کی سہیلیوں کے گھر گوشت پہنچاتے۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو خدیجہ نے میری تصدیق کی۔جب لوگ کافر تھے وہ اسلام لائیں۔جب کوئی میرا مدد گار نہ تھا انہوں نے میری مدد کی اور میری اولاد انہی میں سےہوئی۔
    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کےساتھ نکاح سے پچیس برس بعد تک زندہ رہیں،جن میں سے پندرہ برس قبل از نبوت کےہیں اور دس برس بعد از نبوت کے،وہ 11 رمضان المبارک سن 10 ہجری کو ہجرت سے تین سال قبل64 سال کی عمر پا کر فوت کی گئیں۔
    اس وقت نماز کاجنازہ کا حکم شرعی طور پر نافذ نہیں ہو ا تھا۔لہذا انہیں اسی طرح سے دفن کر دیا گیا۔حضورﷺنے خود ان کی قبر میں اتر کر اپنے سب سے بڑے ہم درد کو اللہ کے سپرد کیا۔حضرت خدیجہ کی قبر حجون میں اور زیارت گاہ عوام و خواص ہے۔حضرت خدیجہ کےسال وفات کو رسول اللہ نے عام الحزن (غم کے سال )سے تعبیر کیا۔
    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جو اولاد ہوئی اس کی مختصر تفصیل یہ ہے۔
    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر ابو ہالہ سے ہالہ،طاہر اور ہند پیدا ہوئے،یہ تینوں بھائی رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں۔ہالہ بنت خدیجہ کا ذکر صحیح بخاری میں بھی آیا ہے۔طاہر کو رسول اللہ ﷺ نے ایک ربع یمن کا حاکم مقرر کر دیا تھا رسول اللہﷺ کے وصال تک یہ بہ دستور وہاں کے حکمران رہے۔ان کی حکومت میں عک اور اشعریین کے قبیلے بھی شامل تھے جنہوں نے حضور کے وصال کے بعد یمن میں سب سے پہلے ارتداد اختیار کیا۔حضرت ابوبکر صدیق نے طاہر کو ان سے لڑائی کاحکم دیا تھا ور طاہر نے مسروق بن اجد ہاکی معیت میں ان پر فوج کشی کرکے اس فتنے کو ختم کر دیا تھا ور ان پر فتح حاصل کی تھی۔اس واقعہ سے متعلق طاہر نے ایک نظم بھی کہی تھی۔ہند رسول اللہﷺ کے ربیب اور پروردہ تھے۔یہ جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طرف دار تھے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ہند نہایت فصیح و بلیغ تھے اور رسول اللہ ﷺ کے "وصاف" کے طور پر مشہور تھے رسول اللہ ﷺ کا حلیہ مبارک انتہائی فصیح اور صحت سے بیان کرتے تھے۔ہند کے ایک اور بیٹے کا نام بھی ہند تھا،جن کا انتقال بصرہ میں ہوا۔روایت ہے کہ ان دنوں طاعون کی بیماری زوروں پر تھی اور تمام لوگ اپنے اپنے مردوں کو تجہیز و تکفین میں مصروف تھے۔ان کا جنازہ اٹھانے والے صرف چار آدمی تھے۔بصرہ کی ایک عورت نے یہ منظر دیکھا تو چلا کرکہا۔
    "واہ ہند بن ہنداہ وابن ربیب رسول اللہ"لوگ عورت کی اس درد ناک آواز سے انتہائی متاثر ہوئے اور اپنے اپنے مردوں کو چھوڑ کر ہند کے جنازے میں شریک ہوگئے اور دن بہر تمام بازار بند رہے۔
    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دوسرے شوہر سے ایک لڑکی پیدا ہوئی،اس کا نام بھی ہند تھا۔تیسرے شوہر صیفی سے ایک لڑکا ہو جس کانام محمدتھا۔
    رسول اللہ ﷺ سے چھے بچے پیدا ہوئے۔چار صاحب زادیاں اور دو صاحب زادے ایک حضرت قاسم جو رسول اللہ ﷺ کے سب سے بڑے بیٹے تھے،انہی کے نام پر آپ نے اپنی کنیت ابوالقاسم رکھی۔قاسم صغر سنی میں مکہ مکرمہ میں فوت ہوئے تھے دوسری اولاد حضرت زینب تھیں۔تیسرے حضرت عبد اللہ تھے جو زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے اور طیب اور طاہر کے لقب سے ملقب ہوئے۔انہوں نے بھی بہت کم عمر پائی۔۔۔۔۔چوتھی حضرت رقیہ اور پانچویں حضرت ام کلثوم تھیں۔۔۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے رسول اللہ ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحب زادی فاطمۃ الزہرا تھیں۔جن کے فضائل و مناقب احادیث و سیر کی کتابوں میں مذکور ہیں اور جنہیں یہ شرف حاصل ہے کہ ان سے آپ کا سلسلہ نسل چلا اور دنیا میں پھیلا۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے عظیم الشان واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔
    اسلام کی بیٹیاں
    از مولانا محمد اسحاق بھٹی حفظہ اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    جزاک اللہ خیرا یا شیخ
     
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,847
    بھائی میں شیخ نہیں ہوں۔بس ادنیٰ سا طالب علم ہوں دین کا۔:)
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک

    فونٹ کا سائر''4'' ٹھیک ہے ـ اب اتنا بھی چھوٹا نا ہو :
     
  7. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا وبارک اللہ فیک
    خوبصورت شئیرنگ
     
  8. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,847
    لو جی کر لو گل مجھے تو پہلے ہی بڑی مشکل سے سیٹینگ ملی تھی۔
    اچھا خیر جو حکم سرکار کا میں کرتا ہوں درست اگلی پوسٹ میں ان شاءاللہ ٹھیک کر دوں‌گا۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اپنے کنٹرول پینل سے جا کر مستقل سیٹنگ کر لیں ۔
     
  10. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    949
    جزاک اللہ‌خیرا
     
  11. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    جزاک اللہ خیرا بھائی نصراللہ
     
  12. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا
     
  13. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یہاں گڑ بڑ ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں