مسنون رکعات تراویح،احادیث صحیحہ کی روشنی میں

کفایت اللہ نے 'مجلس علماء' میں ‏جولائی 15, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    نوٹ: اس پوری بحث کو پی ڈی ایف میں پڑھنے کے لئے ہماری یہ کتاب ڈاؤنلوڈ کریں۔
    مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں



    پہلی حدیث

    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    [TRADITIONAL_ARABIC]حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: «مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا»۔ [/TRADITIONAL_ARABIC]ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی چار رکعت پڑھتے، تم ان کی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، پھر چار رکعت پڑھتے، ان کی بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، آخر میں تین رکعت (وتر) پڑھتے تھے۔ میں نے ایک بار پوچھا، یا رسول اللہ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔(صحیح البخاری( 3/ 45) :کتاب صلاة التراویح: باب فضل من قام رمضان ، رقم 2013)۔

    اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ تراویح کی مسنون رکعات آٹھ ہیں۔
    بعض لوگ اس حدیث پرعمل نہ کرنے کا یہ بہانا بناتے ہیں کہ اس حدیث میں تہجد کی رکعات کاذکر ہے نہ کہ تراویح کی رکعات کا۔
    عرض ہے کہ اول تو تراویح اورتہجد دونوں ایک ہی نماز ہے یعنی صلاة اللیل رات کی نماز ، ان دونوں میں فرق حالات کے لحاظ سے ہے یعنی رات کی نماز عام دنوں میں پڑھی جائے تو اسے تہجد کہتے ہیں اور رمضان میں اسی کانام نماز تراویح ہے حالات کے لحاظ سے اس کی صفات میں بھی تبدیلی ہوتی ہے یعنی رمضان میں یہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے لیکن عام دنوں میں جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جاتی لیکن بعض حالات میں صفات کی تبدیلی اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ دونوں الگ الگ نماز ہیں ۔
    مثال کے طور پرظہر کی فرض نماز عام حالات میں چار رکعات پڑھی جاتی ہے لیکن اگرکوئی سفر میں ہو تو اس کے لئے قصر ہے یعنی وہ صرف دو رکعات پڑھتا ہے ظاہر ہے حالت سفر میں اس نماز کی صفت الگ ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کوئی الگ نماز ہے بلکہ یہ وہی ظہر کی نماز ہے جو حضر میں چار کعات پڑھی جاتی ہے لیکن سفر میں اس کی کیفیت بدل گئی ہے۔
    تقریبا یہی مثال رات کی نماز کی ہے عام دنوں میں یہ فردا فردا پڑھی جاتی ہے لیکن رمضان میں یہ جماعت کے ساتھ اداکی جاتی ہے لیکن حالات کے لحاظ سے صفت کی یہ تبدیلی اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ الگ الگ نمازیں ہیں ۔
    دوسری بات یہ ہے کہ اگرفرض کرلیں کہ الگ الگ نمازیں ہیں تو ایسی صورت میں مذکورہ حدیث کی رو سے دونوں نمازوں کی تعداد یکساں ماننا لازمی ہوگا کیونکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے دونوں کی تعداد یکساں بتلائی ہے ، چنانچہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو سوال ہواتھا وہ رمضان کی خاص نماز یعنی تراویح کے سلسلے میں ہوا تھا لیکن اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے تراویح اورتہجد دونوں کی رکعتوں کی تعدادیکساں بتلاتے ہوئے جواب دیا۔
    اگریہ مان لیا جائے کہ اس حدیث میں تراویح کی تعداد کا ذکر نہیں تو یہ لازم آئے گا کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے سائل کے اصل سوال کا جواب ہی نہیں دیا کیونکہ اصل سوال تو تراویح ہی کے بارے میں ہوا تھا ، لہٰذا یہ ماننا ضروری ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اصل سوال کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ ایک زائدبات بھی بتلادی یعنی تراویح کی رکعات بتلانے کے ساتھ ساتھ تہجد کی رکعات بھی بتلادی۔
    ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ سائل کا سوال تراویح سے متعلق نہ تھا بلکہ تہجدسے متعلق تھا اس لئے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے رمضان وغیررمضان میں اس کی تعداد یکساں بتلائی ۔

    جوابا عرض ہے کہ سائل کا سوال عام تہجد سے متعلق ہوتا تو سائل کو رمضان کی شرط لگانے کی کیا ضرورت تھی ؟ اگرسوال عام تہجد سے متعلق تھا تو سائل کو عام الفاظ ہی میں سوال کرنا چاہئے تھا ، لیکن سائل نے عام الفاظ میں سوال نہیں کیا ہے بکہ خاص رمضان کا نام لیکر رمضان کی خاص نماز کے بارے میں پوچھا اوریہ سب کو معلوم ہے کہ رمضان کی خاص نماز اہل علم کی اصطلاح میں تراویح کے نام سے جانی جاتی ہے، لہٰذا سائل کا سوال تراویح ہی سے متعلق تھا۔

    تہجد اورتراویح کے ایک ہونے سے متعلق دس دلائل:


    پہلی دلیل:

    صحیح بخاری کی پیش کردہ حدیث میں سائل نے رمضان کی نماز یعنی تراویح کے بارے میں سوال کیا تھا لیکن اماں عائشہ رضی اللہ عنہ نے تراویح اور تہجددونوں کو ایک ہی نماز مان کردونوں کے بارے میں ایک ہی جواب دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تہجد اور تراویح ایک ہی نماز ہے۔

    دوسری دلیل:

    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح اور تہجد الگ الگ پڑھنا ثابت نہیں ہے یہی اس بات کی دلیل ہے کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے۔
    حنفیوں کے انورشاہ کشمیری تراویح اور تہجدکے ایک ہی نماز ہونے کی دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    [TRADITIONAL_ARABIC]وإنَّما يثبُتُ تغايُرُ النَّوْعَيْن إذا ثَبَت عن النبيِّ صلى الله عليه وسلّمأنه صلى التهجُّدَ مع إقامَتِهِ بالتراويحِ.[/TRADITIONAL_ARABIC]دونوں نمازوں کا الگ الگ نماز ہونا اس وقت ثابت ہوگا جب اس بات کا ثبوت مل جائے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح پڑھنے کے ساتھ ساتھ تہجد بھی پڑھی ہے۔[فيض البارى شرح صحيح البخارى 4/ 23]۔

    تیسری دلیل:

    [TRADITIONAL_ARABIC]عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ بِنَا، حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الخَامِسَةِ، حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ؟ فَقَالَ: «إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ»، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنَ الشَّهْرِ، وَصَلَّى بِنَا فِي الثَّالِثَةِ، وَدَعَا أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا الفَلَاحَ، قُلْتُ لَهُ: وَمَا الفَلَاحُ، قَالَ: «السُّحُورُ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»[/TRADITIONAL_ARABIC]ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے آپ نے تئیسویں رات تک ہمارے ساتھ رات کی نماز نہیں پڑھی (یعنی تراویح) پھر تیئسویں رات کو ہمیں لے کر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی پھر چوبیسویں رات کو نماز نہ پڑھائی لیکن پچیسویں رات کو آدھی رات تک نماز (تراویح) پڑھائی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری آرزو تھی کہ آپ رات بھی ہمارے ساتھ نوافل پڑھتے آپ نے فرمایا جو شخص امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز میں شریک رہا اس کے لئے پوری رات کا قیام لکھ دیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستائیسویں رات تک نماز نہ پڑھائی ۔ ستائیسویں رات کو پھر کھڑے ہوئے اور ہمارے ساتھ اپنے گھر والوں اور عورتوں کو بھی بلایا یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ فلاح کا وقت نہ نکل جائے راوی کہتے ہیں میں نے ابوذر سے پوچھا فلاح کیا ہے تو انہوں نے فرمایا سحری امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے [سنن الترمذي: 3/ 160 رقم806 واسنادہ صحیح]۔

    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے دن تراویح کو اتنی دیرتک پڑھا تھا کہ صحابہ کو ڈر تھا کہ کہیں سحری کا موقع ملے ہی نہ ۔ظاہر ہے کہ جب سحری کا وقت نہ ملنے کا خوف تھا تو تہجد کا وقت ملنے کا سوال ہی نہیں پیداہوتا۔
    اگرتراویح اور تہجد دونوں الگ الگ نماز ہوتی تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تراویح کواتنی تاخیر نہ کرتے کہ سحری کا وقت بھی مشکل سے ملے۔
    نیز صحابہ کرام یہ نہ کہتے کہ ہمیں یہ ڈرہوا کہ کہیں سحری کا وقت نہ ملے بلکہ یوں کہتے کہ ہمیں یہ ڈرہوا کہ کہیں تہجد ہی کا وقت نہ ملے ۔
    مزید یہ کہ یہ حدیث اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اس رات تراویح کے بعد تہجد کے لئے کوئی موقع تھا ہی نہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس رات تہجدنہیں پڑھی۔اگر تراویح اور تہجد دونوں ا لگ الگ نمازیں ہوتی ں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات بھی تہجد خود پڑھتے اور صحابہ کو بھی اس کا موقع دیتے ۔

    چوتھی دلیل:

    [TRADITIONAL_ARABIC]عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ»[/TRADITIONAL_ARABIC]قیس بن طلق بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا :ایک رات میں دو وتر نہیں ہے[سنن الترمذي ت شاكر 2/ 333 رقم470 ]۔
    یہ حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کے ساتھ وتر بھی پڑھی تھی جیساکہ آگے حدیث آرہی ہے۔اور وتر کی نمازتہجد کے ساتھ ہی پڑھی جاتی ہے۔
    اگر تراویح اور تہجد الگ الگ مانیں تو یہ لازم آئے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےدو باروترپڑھی ہے اوریہ ناممکن ہے کیونکہ مذکورہ حدیث میں خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ہے۔

    پانچویں دلیل:

    جابر رضی اللہ عنہ کی صحیح اور صریح حدیث آگے آرہی ہےجس میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےتراویح آٹھ رکعات اور وترہی پڑھی ہیں ،اور رکعات کی یہی تعداد اماں عائشہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ حدیث میں بھی بیان کی ہےجو اس بات کی دلیل ہے کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نمازہے۔

    چھٹی دلیل:

    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہ کرام کو جب تراویح کی نمازجماعت سے پڑھائی تھی تو تین دن پڑھانے کے بعد آپ نے جماعت سے تراویح پڑھانا چھوڑدیا تھا اورابن حبان کی روایت کے مطابق اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا:
    [TRADITIONAL_ARABIC]كرهت أن يكتب عليكم الوتر[/TRADITIONAL_ARABIC]میں نے اس بات کوناپسند کیا کہ تم پر وتر فرض کردی جائے[صحيح ابن خزيمة 2/ 138]
    اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کی نماز ہی کو وتر کہا ہےاور وتریہ تہجد کی نماز ہی کےساتھ ہے،یہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے۔

    ساتویں دلیل:

    خلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ عنہ تراویح اور تہجد کو ایک ہی نماز سمجھتے تھے اسی وجہ سے وہ جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھتے تھے کیونکہ عام طور سے لوگ اسے رات کے ابتدائی حصہ میں پڑھتے تھے اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ رات کے اخیر حصہ میں پڑھنا اسے بہترسمجھتے تھے اس لئے آپ جماعت سے تراویح نہ پڑھ کر بعد میں رات کے اخیرحصہ میں تنہا پڑھتے تھے۔
    اور اس پر تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے تھے:
    [TRADITIONAL_ARABIC]والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله[/TRADITIONAL_ARABIC]اور (رات کا) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ (کی فضیلت) سے تھی کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے۔[صحيح البخاري 3/ 45 رقم 2010]

    یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ تراویح اور تہجد کو ایک ہی نماز سمجھتے تھے،اگر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی نظر میں تراویح اور تہجد دو الگ الگ نمازیں ہوتی تو آپ تراویح بھی مسجد میں لوگوں کے ساتھ پڑھتے اور رات کے آخری حصہ میں تہجد بھی پڑھتے۔نیز آپ تراویح کی نمازکو رات کے آخری حصہ میں پڑھنے کو افضل نہ بتلاتے ۔بلکہ اس فضیلت کو تہجد کی نماز ہی کے لئے خاص سمجھتے ۔

    حنفیوں کے انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    [TRADITIONAL_ARABIC]يؤيده فِعْل عمرَ رضي الله تعالى عنه، فإنَّه كان يصلِّي التراويحَ في بيته في آخِر الليل، مع أنه كان أَمَرَهم أن يؤدُّوهَا بالجماعةِ في المسجد، ومع ذلك لم يكن يدخُل فيها. وذلك لأنه كان يَعْلم أَنَّ عملَ النبيِّ صلى الله عليه وسلّمكان بأدائها في آخِر الليل، ثُمَّ نَبَّهَهُم عليه قال: «إنَّ الصلاةَ التي تقومون بها في أول الليل مفضولةٌ عمَّا لو كُنتم تقيمونَها في آخِر اللَّيل». فجعلَ الصلاةَ واحدةً[/TRADITIONAL_ARABIC]
    اورتراویح اورتہجد کے ایک ہونے کی تائید عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے فعل سے بھی ہوتی ہے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے گھرمیں رات کے اخیر میں تراویح پڑھتے تھے،جبکہ آپ نے لوگوں کو مسجد میں جماعت سے پڑھنے کا حکم دیا تھااس کے باوجود بھی آپ ان کے ساتھ شامل نہ ہوتے تھے ،اورایسااس وجہ سے کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو رات کے آخری حصہ میں پڑھتے تھے۔پھرآپ نے لوگوں کو اس پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا:”جس نماز (تراویح ) کو تم لوگ رات کے ابتدائی حصہ میں پڑھتے ہوئے وہ فضیلت میں کمترہے بنسبت اس کے کہ اگر تم اسے رات کے آخری حصہ میں پڑھو“۔چنانچہ یہاں پر عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے تراویح اور تہجد کو ایک ہی نماز قراردیا[فيض البارى شرح صحيح البخارى 4/ 24]

    آٹھویں دلیل:

    محدثین نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو رمضان کے قیام یعنی تروایح اور تہجد دونوں طرح کے عناوین اور ابواب کے تحت ذکر کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ محدثین کی نظر میں تراویح اور تہجد ایک ہی ہے اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں تراویح اور تہجد ہی کی رکعات کا ذکر ہے۔
    چنانچہ:
    امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں” کتاب صلاۃ التراویح “میں اس حدیث کو درج کیا ہے اور اس پر ”فضل من قام رمضان“ یعنی تراویح پڑھنے کی فضیلت کا باب قائم کیا ہے ۔دیکھئے: صحیح بخاری : کتاب صلاۃ التراویح :باب فضل من قام رمضان ،حدیث نمبر2013۔
    امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو ”باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان“ یعنی رمضان میں تراویح کی رکعات کی تعداد کے بیان میں ذکرکیا ہے ۔دیکھئے: كتاب الصلاة(جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان):باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان،حدیث نمبر 4285۔
    امام ابوحنیفہ کے شاگر محمدبن الحسن نے مؤطا محمد میں ”باب: قيام شهر رمضان وما فيه من الفضل“یعنی رمضان میں تراویح پڑھنے اوراس کی فضیلت کے بیان کےتحت ذکر کیا ہے ۔دیکھئے:موطأ محمد بن الحسن الشيباني:ابواب الصلاة:باب قيام شهر رمضان وما فيه من الفضل،حدیث نمبر239۔
    حنفیوں کے عبدالحی لکھنوی نے مؤطا محمد کے اس باب کی تشریح کرتے ہوئے لکھا:
    [TRADITIONAL_ARABIC]قوله : ۔(قیام )شهر رمضان ويسمى التراويح[/TRADITIONAL_ARABIC]یعنی ماہ رمضان کے قیام کا نام تراویح ہے۔[التعليق المُمَجَّد للكنوي: 1/ 351]

    حنفی حضرات کہتے کہ بعض محدثین نے اس حدیث کو کتاب التہجد میں ذکرکیا ہے۔
    عرض ہے کہ اس میں پریشان ہونی کی بات کیا ہے جب تراویح اورتہجد دونوں ایک ہی نماز ہیں تو اس حدیث کا ذکر تراویح کے بیان میں بھی ہوگا اورتہجد کےبیان میں بھی ہوگا۔
    چنانچہ محدثین نے اگر تہجدکے بیان میں اسے ذکر کیا ہے تو تراویح کے بیان میں بھی اسے ذکر کیا ہے جیساکہ اوپر حوالے دئے گئے۔

    نویں دلیل:

    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ایک موضوع اورمن گھڑت روایت نقل کی جاتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعات تراویح پڑھی ۔
    اس حدیث کو مردود ثابت کرتے ہوئے بہت سارے محدثین واہل علم نے اسے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کے خلاف قراردیا ہےمثلا:
    امام بوصيري رحمه الله (المتوفى840)[إتحاف الخيرة المهرة للبوصيري: 2/ 384]۔
    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) [فتح الباري لابن حجر: 4/ 254]۔
    امام سيوطي رحمه الله (المتوفى:911)[الحاوي للفتاوي 1/ 414]
    حنفیوں کے امام زيلعي الحنفی رحمه الله (المتوفى762)[نصب الراية للزيلعي: 2/ 153]۔
    حنفیوں کے علامه عينى الحنفی رحمه الله (المتوفى855) [عمدۃ القاری:ج١١ص١٨٢].
    حنفیوں کے امام ابن الهمام الحنفی (المتوفى861)[ فتح القدير للكمال ابن الهمام:1/ 467]۔
    ابوالطیب محمدبن عبدالقادر سندی حنفی [شرح الترمذی: ج١ ص٤٢٣]۔

    ان تمام اہل علم کی الفاظ آگے آرہے ہیں دیکھئے: ص۔۔۔
    محدثین اہل علم کی جانب سے بیس رکعات تراویح والی روایت کے خلاف اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا پیش کیاجانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حدیث تراویح سے متعلق ہے اور تراویح اور تہجد دونوں ایک ہی نمازہے۔

    دسویں دلیل:

    جو تراویح پڑھ لے اہل علم نے اسے تہجد پڑھنے سے منع کیا ہے۔چنانچہ:
    [TRADITIONAL_ARABIC]حنفیوں کے انورشاہ کشیمرمی حنفی لکھتے ہیں:
    ثُمَّ إنَّ محمدَ بن نَصْر وَضَعَ عدَّة تراجِمَ في قيام الليل، وكتب أنَّ بعض السَّلَف ذهبوا إلى مَنْع التهجُّد لِمَن صلَّى التروايح[/TRADITIONAL_ARABIC]نیزمحمدبن نصرنے قیام اللیل کے بارے میں کئی ابواب قائم کئے ہیں اور لکھا ہے کہ بعض سلف نے اس شخص کو تہجد پڑھنے سے منع کیا ہے جس نے تراوی پڑھ لی ہے[فيض البارى شرح صحيح البخارى 4/ 24]۔
    یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تراویح اور تہجد دونوں ایک ہی نماز ہے۔

    ان دلائل سے روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے کہ تراویح اور تہجد دونوں ایک ہی نماز ہے۔
    اورتراویح اور تہجد کے الگ الگ ہونے کا نظریہ دراصل صحیح بخاری کی اس حدیث پر عمل کرنے سے بچنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ متقدمین میں سے کسی ایک بھی عالم نے یہ نہیں کہا ہے کہ تراویح اورتہجد الگ الگ نماز ہے۔

    حنفیوں کے انورشاہ کشمیر نے بھی صاف طور سے اعلان کیا ہے کہ تراویح اور تہجد دونوں ایک ہی نماز ہے ۔بلکہ حنفی لوگ تراویح اور تہجد کے الگ الگ ہونے کے لئے جتنے بھی دلائل دیتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ تراویح اور تہجد کی الگ الگ صفات گناتے اور اسی کو دلیل بناتے ہیں کہ یہ الگ الگ نمازیں ہیں ۔
    انورشاہ کشمیری حنفی اس بے بنیاد دلیل کا رد کرتے ہوئے اور تراویح اورتہجد کوایک ہی ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    [TRADITIONAL_ARABIC]قال عامَّة العلماء: إنَّ التراويحَ وصلاةَ اليل نوعانِ مختلفان. والمختار عندي أنهما واحدٌ وإن اختلفت صفتاهما، كعدم المواظبة على التراويح، وأدائها بالجماعة، وأدائها في أول اللَّيل تارةً وإيصالها إلى السَّحَر أُخرى. بخلاف التهجُّد فإنه كان في آخِر الليل ولم تكن فيه الجماعة. وجَعْلُ اختلافِ الصفات دليلا على اختلاف نوعيهما ليس بجيِّدٍ عندي، بل كانت تلك صلاةً واحدةً، إذا تقدَّمت سُمِّيت باسم التراويح، وإذا تأخَّرت سُمِّيت باسم التهجُّد، ولا بِدْعَ في تسميتها باسمين عند تغايُرِ الوَصْفَين، فإنَّه لا حَجْر في التغاير الاسمي إذا اجتمعت عليه الأُمةُ. وإنَّما يثبُتُ تغايُرُ النَّوْعَيْن إذا ثَبَت عن النبيِّ صلى الله عليه وسلّم أنه صلى التهجُّدَ مع إقامَتِهِ بالتراويحِ.[/TRADITIONAL_ARABIC]عام طور سے (ہمارے حنفی )علماءنے کہا ہے کہ: تراویح اورتہجد دوالگ الگ نماز ہے،لیکن میرے نزدیک یہ دونوں ایک ہی نماز ہیں گرچہ ان دونوں کی صفات الگ الگ ہیں ۔مثلا تراویح کی مواظبت ہوتی ہے،اسے جماعت کے ساتھ پڑھاجاتا ہے،اسے رات کے ابتدائی حصہ میں پڑھاجاتاہےاورکبھی کبھی سحرتک پڑھاجاتاہے۔لیکن اس کے برخلاف تہجد کو رات کے آخری حصہ میں پڑھا جاتاہے اس میں جماعت نہیں ہوتی ہے۔اور صفات کے الگ الگ ہونے کو ان دونوں نماز کے الگ الگ ہونے کی دلیل بنانامیرے نزدیک بہتر نہیں ہے ۔بلکہ تراویح اورتہجدیہ دونو ں ایک ہی نمازہیں جب اسے پہلے پڑھاجاتاہے تو اسے تراویح کانام دیا جاتاہے اور جب اسے تاخیرسے پڑھاجاتا ہے تو اسے تہجد کانام دیا جاتاہے۔اورصفات کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے اسے دو نام سے موسوم کرنا بدعت کی بات نہیں ہے کیونکہ اتفاق امت سے مختلف نام رکھنےمیں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔البتہ یہ دوالگ الگ نمازیں اسوقت ثابت ہوتی جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہوتا کہ آپ نے تراویح پڑھنے کے ساتھ ساتھ تہجد بھی پڑھی ہے[فيض الباري على صحيح البخاري 2/ 567]

    اس عبارت میں انورشاہ کشمیری نے یہ بات واضح کردی ہے کہ محض صفات کے الگ الگ ہونے سے نوعیت کی علیحدگی کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتاہے۔
    نیز گذشتہ سطور میں ہم بھی واضح کرچکے ہیں کہ ظہر کی نماز حضر میں چار رکعات جماعت کے ساتھ فرض ہے۔
    لیکن سفر میں قصر کرتے ہوئے صرف دو رکعات فرض ہے اور جماعت بھی ضروری نہیں ہے۔
    اب دیکھئے ان دونوں کی صفات میں کتنافرق ہوگیا ۔
    حضر کی ظہر مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور چار رکعات پڑھی جاتی ہے،لیکن سفر میں ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا ضروری نہیں نیز صرف دورکعت پڑھی جاتی ہے۔
    لیکن صفات کی اس تبدیلی کو ہم اس بات کی دلیل نہیں بناسکتے کہ یہ حضرکی ظہر اورسفر کی ظہر یہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں۔
    الغرض یہ کہ بعض حالات میں اگر کسی نماز کی صفات بدل گئیں تو محض بعض حالات میں بدلی ہوئی صفات کی بناپر اسے الگ نماز نہیں کہا جاسکتا۔

    تنبیہ:

    یادرے کہ اس حدیث میں جو یہ ذکرہے:
    [TRADITIONAL_ARABIC]يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ،[/TRADITIONAL_ARABIC]آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی چار رکعت پڑھتے، تم ان کی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، پھر چار رکعت پڑھتے، ان کی بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو۔
    تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چارچار رکعات ایک سلام سے پڑھتے ،کیونکہ یہاں چار رکعات کے بعد سلام پھیرنے کی صراحت نہیں ہے،لہٰذا یہاں مطلب صرف یہ ہے کہ چار رکعات پڑھ کرٹہرتے تھے۔اور سلام ہر دورکعت پر ہی پھیرتے تھے جیساکہ خود اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی نے دوسری حدیث میں صراحت کردی ہے جو اس کے بعد آرہی ہے۔

    جاری۔۔
     
    Last edited: ‏جولائی 18, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    دوسری حدیث

    امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    [TRADITIONAL_ARABIC]حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ - إِلَى الْفَجْرِ، إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ».[/TRADITIONAL_ARABIC]سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر کی نماز کے درمیان تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر بنا لیتے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا تو فجر ظاہر ہو جاتی اور مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر ہلکی ہلکی دو رکعت پڑھتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کے لئے آتا۔(صحیح مسلم(1/ 508):کتاب صلاة المسافرین وقصرہا: باب صلاة اللیل، وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل، وأن الوتر رکعة، وأن الرکعة صلاة صحیحة رقم 736)۔

    اس حدیث میں عموم کے ساتھ یہ بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجرکے بیچ صرف گیارہ رکعات مع وتر پڑھتے تھے۔اس عموم میں رمضان کی تراویح بھی شامل ہے کیونکہ تراویح وہی نماز ہے جسے عام دنوں تہجد کہا جاتاہے۔اس بارے میں تفصیل گذشتہ حدیث کے ضمن گذرچکی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    تیسری حدیث


    امام ابن خزيمة رحمه الله (المتوفى311)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، نا يَعْقُوبُ، ح وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، نا يَعْقُوبُ وهو ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَالْوِتْرَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا، فَلَمْ نَزَلْ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْنَا فَتُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ: «كَرِهْتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ» [/TRADITIONAL_ARABIC]جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی نے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعات تراویح اوروترپڑھائی پھراگلی بارہم مسجدمیں جمع ہوئے اوریہ امیدکی کہ اللہ کے نبی ہمارے پاس(امامت کے لئے)آئیں گے یہاںتک کہ صبح ہوگئی،پھراللہ کے نبی ۖہمارے پاس آئے توہم نے کہا:اے اللہ کے رسولۖ ہمیںامیدتھی کہ آپ ہمارے پاس آئیں گے اورامامت کرائیں گے،توآپ ۖ نے فرمایا:مجھے خدشہ ہوا کہ وترتم پرفرض نہ کردی جائے۔(صحیح ابن خزیمة 2/ 138 رقم 1070)۔

    یہ حدیث بالکل صحیح ہے اس کے تمام راوۃ ثقہ ہیں تفصیل ملاحظہ ہو:

    عیسی بن جاریہ رحمہ اللہ کا تعارف

    جابررضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کرنے والے عیسی بن جاریہ ہیں ،یہ ثقہ ہیں ۔ان کی توثیق پر محدثین کے اقوال ملاحظہ ہوں:

    امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]لا بأس به[/TRADITIONAL_ARABIC]ان میں کوئی حرج کی بات نہیں یعنی یہ ثقہ ہیں[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 6/ 273]

    امام هيثمي رحمه الله نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]وثقه أبو زرعة[/TRADITIONAL_ARABIC]ابوزرعہ نے انہیں ثقہ کہا ہے[مجمع الزوائد للهيثمي: 2/ 88]

    امام ابن خزيمة رحمه الله (المتوفى311)نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے جیساکہ ان کی کتاب صحیح ابن خزیمہ سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔

    یادرہے کہ ناقد محدث کی طرف سے کسی راوی کی روایت کی تصحیح یا تحسین اس کی توثیق ہوتی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے: یزیدبن معاویہ پرالزامات کا تحقیقی جائزہ:ص689،نیزص690۔

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔دیکھیں[الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 5/ 214]۔
    نیزامام ابن حبان رحمہ اللہ نے ان کی اسی حدیث کوصحیح بھی کہا ہے دیکھئے[صحيح ابن حبان: 6/ 169]

    امام أبو يعلى الخليلي رحمه الله (المتوفى446)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ تَابِعِيُّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَرَوَى عَنْهُ الْعُلَمَاءُ مَحِلُّهُ الصِّدْقُ[/TRADITIONAL_ARABIC]عیسی بن جاریہ تابعی ہیں ،ان سے علماء نے روایت کیا ہے یہ سچے ہیں[الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي: 2/ 785]۔

    امام منذري رحمه الله (المتوفى656)ان کی ایک روایت کے بارے میں کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]رواه أبو يعلى بإسناد جيد وابن حبان في صحيحه[/TRADITIONAL_ARABIC]اسے ابویعلی نے جید سند سے روایت کیا ہے اورابن حبان نے اسے اپنی ”صحیح “ میں روایت کیا ہے[الترغيب والترهيب للمنذري 1/ 293 رقم 1081]
    نیزدیکھیں :الترغيب والترهيب ،ط، مکتبہ المعارف : ص328 رقم 1047۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے ان کی اسی روایت کے بارے میں کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]إسناده وسط[/TRADITIONAL_ARABIC]اس کی سند اوسط درجے کی ہے [ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 311]

    امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)ان کی ایک روایت کے بعد کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]رواه أبو يعلى والطبراني في الأوسط بنحوه وفي الكبير باختصار ورجال أبي يعلى ثقات.[/TRADITIONAL_ARABIC]اسے ابویعلی نے روایت کیا ہے اورطبرانی نے اوسط میں اسی جیساروایت کیا ہے اورکبیر میں اختصارکے ساتھ روایت کیا ہے اور ابویعلی کے رجال ثقہ ہیں[مجمع الزوائد للهيثمي: 2/ 219]

    امام بوصيري رحمه الله (المتوفى840)نے ان کی ایک روایت کے بارے میں کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]هَذَا إِسْنَاد حسن يَعْقُوب مُخْتَلف فِيهِ وَالْبَاقِي ثِقَات[/TRADITIONAL_ARABIC]یہ سند حسن ہے یعقوب مختلف فیہ ہے اور باقی رجال ثقہ ہیں[مصباح الزجاجة للبوصيري: 4/ 245]

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے ان کی ایک روایت کے بارے میں کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]رجاله ثقات[/TRADITIONAL_ARABIC]اس کے رجال ثقہ ہیں[الإصابة لابن حجر: 3/ 349 رقم 3913 ]

    احناف نے بھی اس راوی کو ثقہ مانا ہے چنانچہ ان کی ایک روایت نقل کرکےنیموی حنفی نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]اسنادہ صحیح [/TRADITIONAL_ARABIC]اس کی سند صحیح ہے[آثارالسنن :961]۔

    بلکہ احناف نے ان کی اس حدیث کو بھی صحیح تسلیم کیا ہے چنانچہ:

    ملا علي القاري (المتوفى1014)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]فإنه صح عنه أنه صلى بهم ثماني ركعات والوتر[/TRADITIONAL_ARABIC]کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بسندصحیح ثابت ہے کہ آپ نے صحابہ کو آٹھ رکعات اوروترپڑھائی[مرقاة المفاتيح للملا القاري: 3/ 971]

    أنور شاه رحمه الله (المتوفى1353):

    [TRADITIONAL_ARABIC]وفي الصحاح صلاة تراويحه عليه الصلاة والسلام ثماني ركعات[/TRADITIONAL_ARABIC]
    اورصحیح حدیث کی کتب میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعات تھی ۔[العرف الشذي للكشميري: 1/ 412]


    جارحین کے اقوال کاجائزہ



    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]عيسى بن جارية عنده أحاديث مناكير[/TRADITIONAL_ARABIC]عیسی بن جاریہ ،ان کے پاس منکر احادیث ہیں[تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 4/ 369]

    ان الفاظ میں عیسی بن جاریہ پر براہ راست جرح نہیں ہے کیونکہ امام ابن معین نے کہا ہے کہ ان کے پاس منکر احادیث ہیں ،اورکسی کے پاس محض منکراحادیث کا ہونا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ وہ راوی منکرالحدیث ہے ۔
    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    ما كل من روى المناكير يضعف
    ایسانہیں ہے کہ جس کسی نے بھی منکراحادیث روایت کی وہ ضعیف قرارپائے گا[ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 118]

    مزید یہ کہ بعض محدثین محض تفرد کے معنی میں بھی نکارت کی جرح کرتے ہیں یعنی منکر کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں راوی کے پاس ایسی احادیث ہیں جن کی متابعت نہیں ملتی۔ اورمحض اس چیز سے راوی پرلازمی جرح ثابت نہیں ہوتی ہے۔دیکھئے:شفاء العليل بألفاظ وقواعد الجرح والتعديل: ص310 تا 311۔
    ہم عیسی بن جاریہ ہی سے متعلق امام ابن معین رحمہ اللہ کے دیگراقوال دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امام ابن معین رحمہ اللہ نے تفرد کے معنی میں ہی ان کی احادیث کو منکر کہا ہے چنانچہ ایک دوسرے موقع پر امام ابن معین رحمہ اللہ نے کہا:
    روى عنه يعقوب القمي لا نعلم أحدا روى عنه غيره وحديثه ليس بذاك
    ان سے یعقوب القمی نے روایت کیا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ان کے علاوہ بھی کسی نے ان سے روایت کیا ہے اور ان کی حدیث اعلی درجے کی حدیث نہیں ہے[تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 4/ 365]

    امام ابن معین رحمہ اللہ کے اس قو ل سے یہ بات صاف ہوگئی کہ انہوں نے تفرد کے معنی میں ہی ان کی احادیث کو منکرکہا ہے اور اس معنی میں اگر کسی راوی کی احادیث کو منکر کہا جائے تو اس سے راوی کی تضعیف لازم نہیں آتی۔
    علاوہ بریں امام ابن معین رحمہ اللہ نے ان کی حدیث کو ”لیس بذاک“ بھی کہا ہے ۔اوراس صیغہ سے حدیث کی تضعیف نہیں ہوتی ہے بلکہ اعلی درجہ کی صحت کی نفی ہوتی ہے۔لہذا ایک طرف ابن معین رحمہ اللہ کا ان کی حدیث کو ”منکر“کہنا اور دوسری طرف ان کی حدیث کو”لیس بذاک“ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابن معین کی نظر میں یہاں منکر سے مراد حدیث کی تضعیف نہیں بلکہ اعلی درجے کی صحت کی نفی ہے ،اسی طرح عیسی بن جاریہ رحمہ اللہ ان کے نزدیک ضعیف نہیں بلکہ اعلی درجہ کے ثقہ نہیں ہیں۔

    نیزامام ابن معین رحمہ اللہ نےان کے بارے میں جو یہ کہا:
    ليس بشيء
    ان کا کوئی مقام نہیں [سؤالات ابن الجنيد لابن معين: ص: 302]
    تو اس سے امام ابن معین رحمہ اللہ کی مراد جرح نہیں بلکہ ان کا قلیل الحدیث ہونا ہے کیونکہ امام ابن معین رحمہ اللہ قلیل الحدیث کے معنی میں بھی ”لیس بشی“کے الفاظ بولتے ہیں ۔دیکھیے:[التعریف برجال الموطا:ج3ص812،فتح المغیث :ج2ص123،التنکیل:ص54]۔
    اوریہاں اس معنی کے لئے قرینہ امام ابن معین رحمہ اللہ کا یہ فرماناہے کہ میں نہیں جانتا کہ یعقوب قمی کے علاوہ کسی اور نے ان سے روایت کیا ہےکمامضی۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابن معین رحمہ اللہ کی نظر میں یہ قلیل الروایۃ تھے اور اسی سبب امام ابن معین رحمہ اللہ نے انہیں ”لیس بشی“کہاہے۔

    امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275)نے کہا:
    منكر الحديث
    یہ منکر الحدیث ہے[تهذيب الكمال للمزي: 22/ 589]

    عرض ہے کہ امام مزی نے امام ابوداؤد ہی سے یہ بھی نقل کیا کہ:
    وَقَال في موضع آخر : ما أعرفه ، روى مناكير.
    امام ابوداؤد نے دوسرے مقام پر کہا کہ: میں اسے نہیں جانتا اس نے منکر روایات نقل کی ہیں[تهذيب الكمال للمزي: 22/ 590]

    امام ابوداؤد کے اس دوسرے قول سے واضح ہوگیا کہ اما م ابوداؤد نے اس راوی کو منکرالحدیث صرف اس معنی میں کہا ہے کہ انہوں نے منکر روایات نقل کی ہیں اور صرف اتنی بات سے کسی راوی کی تضعیف ثابت نہیں ہوتی کیونکہ کسی راوی کا منکر الحدیث ہونا اور کسی راوی کا منکر روایات بیان کرنا دونوں میں فرق ہے کمامضیٰ۔

    امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
    عيسى بن جارية يروي عنه يعقوب القمي منكر
    عیسی بن جاریہ ،ان سے یعقوب القمی روایت کرتے ہیں یہ منکر ہے۔[الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 76]

    عرض ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ تفرد کے معنی بھی منکر بول دیتے ہیں اور عیسی بن جاریہ رحمہ اللہ کئی روایات میں منفرد ہیں اس لئے بہت ممکن ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے تفرد کے معنی میں نکارت کی جرح کی ہو ۔
    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    فقد أطلق الإمام أحمد والنسائي وغير واحد من النقاد لفظ المنكر على مجرد التفرد
    امام احمد اور امام نسائی وغیرہ ناقدین نے لفظ منکرکو محض تفرد کے معنی میں استعمال کیا ہے[النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر 2/ 674]
    علاوہ بریں امام نسائی رحمہ اللہ متشددین میں سے بھی ہیں ۔جیساکہ امام ذہبی اورحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے کہا ہے دیکھئے :[ميزان الاعتدال للذهبي: 1/ 437، مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 387]

    واضح رہے کہ بعض لوگ امام نسائی سے اس روای سے متعلق ”منکرالحدیث“ اور ”متروک“ کی جرح نقل کرتے ہیں لیکن یہ الفاظ امام نسائی سے ثابت نہیں ۔
    امام نسائی کی کتاب میں صرف منکر کالفظ ہے غالبا بعض اہل علم نے اسے منکرالحدیث کے معنی میں سمجھ کرمعنوی طور پر منکرالحدیث نقل کردیا ہے۔
    اور متروک کا لفظ امام نسائی نےاپنی کتاب میں اس سے قبل والے راوی کے ”عيسى بن عبد الرحمن“ کے بارے میں کہا دیکھئے:[الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 76]
    اوربعض لوگوں نے سبقت نظر کے سبب اس جرح کو بعد والے راوی”عیسی بن جاریہ“کے بارے میں سمجھ لیا ۔اس طرح کی مزید مثالوں کے لئے دیکھئے ہماری کتاب : انوارالبدر فی وضع الیدین علی الصدر۔

    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    كلها غير محفوظة
    اس کی مذکورہ تمام احدیث غیرمحفوظ ہیں[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 6/ 438]

    عرض ہے کہ امام ابن عدی نےیہ تبصرہ کرنے سے قبل عیسی بن جاریہ پر بعض محدثین سے نکارت کی جرح نقل کی ہے جو ثابت نہیں ہیں ،جس سے معلوم ہوا کہ امام ابن عدی کی جرح کی بنیاد غیرثابت اقوال ہیں لہٰذا امام ابن عدی کی جرح غیرمسموع ہے۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    فيه لين
    ان میں کمزوری ہے [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم 5288]

    یہ بہت ہلکی جرح ہے جس سے تضعیف لازم نہیں آتی ہے یہی وجہ ہے کہ دوسرے مقام پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا:
    رجاله ثقات
    اس کے رجال ثقہ ہیں[الإصابة لابن حجر: 3/ 349]

    اور ایک دوسرے مقام پر ان کی ایک روایت کو حسن قراردیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    كما أخرجه أبو يعلى بإسناد حسن من رواية عيسى بن جارية
    جیساکہ ابویعلی نے عیسی بن جاریہ کی روایت حسن سند سے نقل کی ہے[فتح الباري - ابن حجر - دار المعرفة 2/ 198]


    امام عقیلی نے ضعفاء میں اس راوی کا تذکرہ کیا ہے ۔لیکن خود کوئی جرح نہیں کی ہے۔ اور محض ضعفاء والی کتاب میں کسی راوی کے تذکرہ سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ ضعفاء کے مؤلف کی نظر میں یہ راوی ضعیف ہے۔یہی معاملہ ابن الجوزی اور امام ساجی کا بھی ہے ۔دیکھئے ہماری کتاب :یزیدبن معاویہ پرالزامات کا تحقیقی جائزہ: ص 675 تا 677

    خلاصہ یہ کہ عیسی بن جاریہ پر کوئی بھی معتبر جرح ثابت نہیں ہے لہٰذا یہ ثقہ ہیں کیونکہ بہت سارے محدثین نے ان کی توثیق کی ہے جیساکہ ماقبل میں تفصیل پیش کی گئی۔


    يعقوب بن عبد الله القمي کا تعارف

    عیسی بن جاریہ سے اس حدیث کو نقل کرنے والے ”یعقوب بن عبداللہ القمی “ہیں ،آپ بخاری تعلیقا اور سنن اربعہ کے ثقہ راوی ہیں۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]ثقة[/TRADITIONAL_ARABIC]یہ ثقہ ہیں[سؤالات ابن الجنيد لابن معين: ص: 411]

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے انہیں ثقات میں ذکر کرتے ہوئے کہا:
    [TRADITIONAL_ARABIC]يعقوب بن عبد الله بن سعد الأشعري القمي۔۔۔[/TRADITIONAL_ARABIC][الثقات لابن حبان ت االعثمانية: 7/ 645]

    امام طبراني رحمه الله (المتوفى360)ان کی یہی حدیث نقل کرکے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]ثقة[/TRADITIONAL_ARABIC]
    یہ ثقہ ہیں[المعجم الصغير للطبراني 1/ 317]

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]صدوق[/TRADITIONAL_ARABIC]
    یہ صدوق ہیں[الكاشف للذهبي: 2/ 394]
    اور ایک دسری کتاب میں کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]الإمام، المحدث، المفسر[/TRADITIONAL_ARABIC]
    آپ امام ،محدث اور مفسر ہیں[سير أعلام النبلاء للذهبي: 8/ 299]

    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]ضعيف[/TRADITIONAL_ARABIC]یعقوب ضعیف ہیں[علل الدارقطني 13/ 116]

    عرض ہے کہ ضعیف غیرمفسر جرح ہے امام دارقطنی ہی کے دوسرے قول میں اس کی تفسیر آگئی ہے چنانچہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]ليس بالقوي[/TRADITIONAL_ARABIC]یہ بہت زیادہ قوی نہیں ہیں[علل الدارقطني: 3/ 92]

    عرض ہے کہ ”لیس بالقوی“ کی جرح قادح نہیں ہے اور اسے راوی کا عام معنی میں ضعیف ہونا ثابت نہیں ہوتا جیساکہ ہم نے اس کی پوری تفصیل اپنی کتاب ''یزیدبن معاویہ پرالزامات کا تحقیقی جائزہ: ص 677 تا 679 '' میں پیش کی ہے۔
    الغرض یہ کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اس دوسرے قول سے معلوم ہوا کہ ضعیف کہنے سے امام دارقطنی رحمہ اللہ کی مراد حافظہ میں معمولی کمی ہےبتلانا ہے ، نہ کہ عام معنی میں ضعیف بتلاناہے۔


    مالك بن إسماعيل النهدي کاتعارف

    یعقوب سے اس روایت کو کئی ثقہ رواۃ نے نقل کیاہے، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے یعقوب سے نیچے دوسند ذکر کی ہے اور دونوں صحیح ہے بلکہ پہلی سندکے سارے رجال بخاری یامسلم کے ہیں ۔ اس سند میں یعقوب سے اس روایت کو نقل کرنے والے ”مالك بن إسماعيل النهدي“ہیں ۔
    آپ بخاری ومسلم سمیت کتب ستہ کے رجال میں سے ہیں اور بالاتفاق ثقہ ہیں ۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے آپ کے بارے میں ناقدین کے اقوال کاخلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]ثقة متقن صحيح الكتاب عابد[/TRADITIONAL_ARABIC]آپ ثقہ متقن ، صحیح الکتاب اور عابد ہیں [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم6424]

    محمد بن العلاء الهمداني کا تعارف

    آپ بھی بخاری ومسلم سمیت کتب ستہ کے رجال میں سے ہیں۔اوربالاتفاق ثقہ حافظ ہیں۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے آپ کے بارے میں ناقدین کے اقوال کاخلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]ثقة حافظ [/TRADITIONAL_ARABIC]آپ ثقہ متقن ، صحیح الکتاب اور عابد ہیں [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم6204]

    معلوم ہوا کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے ۔اسی لئے درج ذیل علماء نے اسے صحیح قراردیاہے۔

    امام ابن خزيمة رحمه الله (المتوفى311):
    آپ نے اپنی کتاب ”صحیح ابن خزیہ “میں اسے نقل کیا یعنی آپ نے اس حدیث کو صحیح قراردیا ہے۔
    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354):
    آپ نے اپنی کتاب ”صحیح ابن حبان“میں اسے نقل کیا یعنی آپ نے اس حدیث کو صحیح قراردیا ہے۔دیکھئے[صحيح ابن حبان: 6/ 169]
    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852):
    آپ نے فتح الباری میں اس حدیث کو نقل کیا ہے[فتح الباري لابن حجر 3/ 12]اوراس پر سکو ت اختیارکیا ہے ا ورفتح الباری میں کسی حدیث پر آپ کا سکوت آپ کے نزدیک اس حدیث کے صحیح یاحسن ہونے کی دلیل ہے ۔ دیکھئے: انوارالبدرفی وضع الیدین علی الصدر۔

    بلکہ احناف نے بھی اسے صحیح کہا ہے ملاحظہ ہو:
    ملا علي القاري (المتوفى1014):
    آپ نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]فإنه صح عنه أنه صلى بهم ثماني ركعات والوتر[/TRADITIONAL_ARABIC]کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بسندصحیح ثابت ہے کہ آپ نے صحابہ کو آٹھ رکعات اوروترپڑھائی[مرقاة المفاتيح للملا القاري: 3/ 971]
    أنور شاه رحمه الله (المتوفى1353):
    آپ نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]وفي الصحاح صلاة تراويحه عليه الصلاة والسلام ثماني ركعات[/TRADITIONAL_ARABIC]اورصحیح حدیث کی کتب میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعات تھی ۔[العرف الشذي للكشميري: 1/ 412]
     
    Last edited: ‏جولائی 22, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    چوتھی حدیث


    امام أبو يعلى رحمه الله (المتوفى307)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟»، قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي، قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا[/TRADITIONAL_ARABIC]جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورکہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گذشتہ رات (یعنی رمضان کی رات) مجھ سے ایک چیز سرزد ہوئی ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا وہ کیا چیز ہے ؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گھر میں خواتین نے مجھ سے کہا کہ ہم قران نہیں پڑھ سکتیں لہٰذا ہماری خواہش ہے کہ آپ کی اقتداء میں نماز پڑھیں ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے انہیں آٹھ رکعات تراویح جماعت سے پڑھائی پھر وتر پڑھایا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پرکوئی نکیر نہ کی گویا اسے منظور فرمایا۔[مسند أبي يعلى الموصلي 3/ 336]

    یہ حدیث بھی صحیح ہے۔
    عیسی بن جاریہ اور یعقوب القمی کا تعارف گذشتہ روایت کے تحت ہوچکا ہے۔
    اور”عبد الأعلى بن حماد الباهلي“بخاری ،مسلم ،اورابوداؤدوغیرہ کے رجال میں سے ہیں،اوربالاتفاق ثقہ ہیں کسی بھی امام نے ان پر کوئی جرح نہیں کی ہے اور :
    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]المحدث الثبت[/TRADITIONAL_ARABIC]یہ محدث اورثبت ہیں[الكاشف للذهبي: 1/ 610]

    معلوم ہوا کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔
    اسی لئے امام ابن حبان رحمہ اللہ اسی سند سے اسے ”صحیح ابن حبان“میں روایت کیا ہے دیکھئے:[صحيح ابن حبان: 6/ 290]۔

    امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:

    [TRADITIONAL_ARABIC]رواه أبو يعلى والطبراني بنحوه في الأوسط وإسناده حسن[/TRADITIONAL_ARABIC]اسے ابویعلی اور طبرانی نے اسی طرح اوسط میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے[مجمع الزوائد للهيثمي: 2/ 91]
     
    Last edited: ‏جولائی 22, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    خلاصہ کلام یہ کہ احادیث صحیحہ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف آٹھ رکعات تراویح ہی کا ثبوت ملتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,283
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں