کیا جادو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے؟ ہاروت ماروت پر جادو نازل کیا گیا تھا؟

اہل الحدیث نے 'تفسیر قرآن کریم' میں ‏اگست 3, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    ہاروت ماروت پر کیا نازل کیا گیا تھا اور کیا جادو بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ ہے۔ اس پر مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
    بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ہاروت ماروت پر جادو نازل کیا گیا تھا جسے وہ لوگوں کو تنبیہ کے ساتھ سکھاتے تھے کہ ہم تو آزمائش ہیں۔

    اس کے جواب میں بعض مفسرین کا یہ کہنا ہے کہ ہاروت ماروت پر کچھ نہیں نازل کیا گیا تھا کیونکہ اگر نازل ہونا مان لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ جادو اللہ نے نازل کیا جو کہ کفر ہے تو کیا نعوذ باللہ اللہ نے کفرنازل کیا۔

    اس کی ایک بڑی زبردست توجیہ حافظ عبدالسلام بن محمد (بھٹوی) حفظہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تفسیر میں بیان کی ہے جو اس وقت علماء کے نزدیک اردو زبان کی سب سے اچھی تفسیر ہے۔

    حافظ صاحب حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

    [QURAN_FONT]وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚوَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿١٠٢
    [/QURAN_FONT]

    رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری پر یہودیوں نے جاننے پہچاننے کے باوجود حسد اور عناد کی بنا پر آپ کی پیروی سے انکار کر دیا۔ میدان میں وہ آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ حق پر ہونے کا عقیدہ و عمل ہی قوت کی بنیاد ہوتا ہے، جس سے ان کے ہاتھ خالی تھے۔ چنانچہ وہ ہر اس قوم کی طرح جو عقیدے اور عمل کی قوت سے خالی ہوتی ہے، جادو ٹونے اور عملیات کے پیچھے پڑ گئے اور ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے جن سے کسی مشقت اور جدو جہد کے بغیر سارے کام بن جایا کریں۔ جب اور بس نہ چلا تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا۔ یہ جادو کرنے والا لبید بن اعصم یہودی تھا، جس نے رسول اللہ ﷺ کی کنگھی اور اس سے نکلنے والے بالوں پر، جو اس نے ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں رکھے تھے، جادو کیا اور اسے ذی اروان نامی کنویں کی تہ میں ایک بڑے پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اس کا اثر آپ پر یہ ہوا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ اپنے اہل کے پاس جاتے ہیں، مگر جا نہیں سکتے تھے۔ (گویا یہ ’[QURAN_FONT]’مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ [/QURAN_FONT]‘‘کی ایک صورت تھی) آپ نے بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے ذریعے سے مطلع فرمایا اور آپ نے وہ سب کچھ نکال کر ختم کروا دیا اور کنواں بھی دفن کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرما دی۔ [ بخاری، باب قول اللّٰہ تعالٰی : ( إن اللہ یأمربالعدل ۔۔ ) : ٦۰٦۳، ۵۷٦۳۔ مسلم، باب السحر : ۲۱۸۹، عن عائشہ S ] افسوس مسلمان بھی شرک و بدعت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جب ذلت و پستی کے گڑھے میں گرے تو ان کی اکثریت بھی جادو ٹونے اور سفلی علوم کے پیچھے پڑ گئی۔
    [QURAN_FONT]وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ[/QURAN_FONT] یہودیوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ سلیمان علیہ السلام (نعوذ باللہ) جادوگر تھے اور ان کی حکومت کا دار و مدار جادو پر تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی اور بتایا کہ جادو تو کفر ہے، سلیمان علیہ السلام صاحب معجزہ پیغمبر تھے، انھوں نے کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے ان کے عہد میں کفر کا یہ کام کیا کہ وہ خود بھی جادو کرتے اور لوگوں کو بھی جادو سکھاتے۔ یہود ایک تو اس علم سحر کے پیچھے لگ گئے اور ایک اس علم کے پیچھے لگ گئے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا، جو سحر سے الگ ایک علم تھا اور جسے عمل میں لانا بعض اوقات کفر تھا۔ وہ فرشتے کسی کو بھی وہ علم نہیں سکھاتے تھے جب تک اسے اچھی طرح آگاہ نہ کر دیتے کہ ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، لہٰذا تم اس عمل کو کفر کے لیے استعمال نہ کرنا، مگر یہود کی اخلاقی پستی کا یہ حال تھا کہ وہ ان سے وہ علم ضرور سیکھتے اور اس میں سے بھی وہ باتیں سیکھتے جو سراسر نقصان پہچانے والی ہیں اور جنھیں عمل میں لانا کفر ہے اور جن پر شیطان سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے، یعنی ایسے عملیات جن سے وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے۔ فرشتوں کا آزمائش کے لیے بھیجا جانا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ افسوس کہ مسلمان بھی جب پستی کا شکار ہوئے تو جادو کے پیچھے پڑ گئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے قرآن کی آیات مثلاً :[QURAN_FONT] (وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗء)[/QURAN_FONT] وغیرہ کو بھائیوں کے درمیان اور میاں بیوی کے درمیان عداوت ڈالنے کے لیے عمل میں لانا شروع کر دیا، حالانکہ یہودی جانتے تھے اور یہ مسلمان بھی جانتے ہیں کہ یہ فعل کفر ہے اور ایسا کرنے والے کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔

    استاذ محمد عبدہ الفلاحaلکھتے ہیں کہ اس مقام پر بعض مفسرین نے ہاروت و ماروت سے متعلق عجیب و غریب داستانیں نقل کر دی ہیں، جن میں زہرہ نامی ایک عورت سے ان کا معاشقہ اور پھر زہرہ کے ستارہ بن جانے کا واقعہ بھی داخل ہے۔ علمائے محققین نے ان قصوں کو یہود کی افسانہ طرازی قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ کہتے ہیں کہ بعض صحابہ اور تابعین سے اس قسم کی روایات منقول ہیں، مگر زیادہ سے زیادہ ہم ان کو نو مسلم یہودی عالم کعب الاحبار کا قول قرار دے سکتے ہیں۔ (ابن کثیر۔ البدایہ) حافظ منذری (الترغیب و الترہیب : ۲؍۱۰۲) اور علامہ احمد شاکر مصری ( تعلیق مسند احمد : ۹؍۳۵) نے بھی اسی کی تائید کی ہے کہ یہ کعب احبار کا قول ہے۔
    احسن البیان میں ہے کہ بعض مفسرین نے ’’ۤوَمَآ اُنْزِلَ‘‘ میں ’’ما‘‘ نا فیہ مراد لیا ہے اور ہاروت و ماروت پر کسی چیز کے اترنے کی نفی کی ہے، لیکن قرآن مجید کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا، اسی لیے ابن جریر وغیرہ نے اس کی تردید کی ہے۔ (ابن کثیر)


    حافظ صاحب کا کلام ختم ہوا۔


    مختصر یہ کہ ہاروت ماروت پر جادو نہیں کوئی اور علم نازل کیا گیا تھا جسے لوگ غلط مقصد کے لیے استعمال کرتے تھے اور جو دلیل حافظ صاحب نے دی ہے کہ آج بھی کچھ لوگ قرآن مجید کی آیات کو میاں بیوی یا دوستوں میں جدائی ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    عجیب گول مول خلاصہ ہے۔
    ما نافیہ کیسے ہے؟
     
  5. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    آپ نے خلاصے میں اتنے اہم اعتراض کو نظرانداز کر دیا ہے کہ سیاق کے حساب سے یہاں ما کو نافیہ سمجھنا مناسب نہیں ہے۔ عجمیت کا مسئلہ یہی ہے کہ عجمی قارئین کو یہ اعتراض سمجھ ہی نہیں آیا اس کی مضبوطی کو کیا سمجھیں گے۔
     
  7. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    آپ وضاحت فرما دیں
     
  8. Faizan akbar

    Faizan akbar نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2015
    پیغامات:
    6
    السلام علیکم!
    وَمَآ نافیہ کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ اگر ہم قرآن مجید کی آیات پر غور سے پڑھیں تو ہمیں یہ بات واضح اور تفصیل سے معلوم ہو جاتی ہے کہ ہاروت ماروت فرشتے نہیں تھے انسان تھے شیطان تھے ۔۔۔اور ہاروت ماروت پر کسی بھی قسم کا کوئی حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا۔۔۔

    وَمَآ نافیہ ان آیات میں واضح استعمال کیا گیا ہے ۔۔دیکھیں۔

    مزید دیکھیں یہ آیات۔
    سورة الأحقاف (46.9)
    سورة طه (20.2)
    سورة التبت (111.2)
    سورة يوسف (12.3)
    سورة فاطر (35.21)
    سورة الصافات (37.162)

    ان سب آیات میں وَمَآ کا ترجمہ اور نہیں یا اور نہ میں کیا گیا۔۔۔اللہ اکبر
     
  9. Faizan akbar

    Faizan akbar نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2015
    پیغامات:
    6
    السلام علیکم!
    سورۃ البقرہ 102 کا درست ترجمہ۔

    السلام علیکم!
    "سورۃ النسائ 4آیت نمبر 120۔وہ اِن لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ، مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں۔"

    سورۃ البقرہ 2آیت نمبر102۔

    وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۚ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ۤوَمَآ اُنْزِلَ عَلَي الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَۭ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۭ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ۭ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ ۭ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىھُ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ڜ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ١٠٢۝

    اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے ،جو شیاطین ، سلیمان ؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے ، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے ۔ اورنہیں نازل فرمایا گیاکوئی حکم (جادو،سحر)بابل میں دو فرشتوں ، ہاروت و ماروت پر،حالانکہ وہ (شیطان انسان) جب کبھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے،تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ ’’ دیکھ ، ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تو کفر میں مبتلا نہ ہو ۔ پھر بھی یہ لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اِس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود اُن کے لیے نفع بخش نہیں بلکہ نقصان دہ تھی اور اُنہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا ،اُس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ، کاش انہیں معلوم ہوتا ! (102)

    (ترجمان القرآن(مولانا ابوالکلام احمدآزاد))(شیخ الاسلام مولانا ثنا اللہ امر تسری)(قاموس القرآن مکمل و مستند قرآنی ڈکشنری (قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی))

    (تفسیر عروۃ الوثقیٰ از مولانا عبدالکریم اثری )(تفسیر فضل القرآن مولانا فضل الرحمن بن محمد(میں حافظ ابن کثیر اور امام قرطبی کا قول نقل کیا ہے ۔ہاروت ماروت فرشتے نہیں تھے شیطان تھے۔))

    (تفسیر فتح المنان المشہور بہ تفسیر حقانی جلد اول میں تفسیر دیکھیں)

    (شیخ بدیع الدین شاہ راشدی کی کتاب قصہ ہاروت و ماروت اور جادو کی حقیقت دیکھیں)

    سورۃ البقرۃ۔(شیطان)تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں۔(169)

    ٭سوال ۔ ہاروت و ماروت کون تھے۔کیا فرشتے اس دنیا میں آزمائش کے لئے آ سکتے ہیں؟

    جواب۔لوگوں کا عقیدہ تھا کہ یہ ہاروت و ماروت فرشتے ہیں ۔اس غلط عقیدہ کی درستگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ 102 نازل فرمائی کہ ۔ میں نے کسی ہاروت و ماروت نامی فرشتوں پر کچھ ،کوئی،حکم (سحر )نازل نہیں کیا۔
    اکثر لوگ کہتے ہیں یہ فرشتے لوگوں کو ہدایت کے لئے آئے تھے کہ دیکھو یہ فلاں فلاں کلمات کفر ہیں یہ نہ کرو اور اس طرح لوگ ان سے سیکھ لیتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا قانون ہی نہیں ہے کہ فرشتے ہدایت کے لئے عام لوگوں کی طرف نازل ہوں۔ یہ قرآن کے

    خلاف ہے۔ ہدایت کے لئے صرف اللہ تعالیٰ انسان پیغمبر بنا کر بھیجتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تعلیم و تربیت کے لئے صرف انسان پیغمبر بنا کر بھیجے ۔یہ خواہش کہ تعلیم و تربیت کے لئے کوئی فرشتے ہمارے پاس آئیں یہ عقیدہ یہودیوں،نصرانیوں،کفار کا تھا جس کے جواب میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے۔
    سورۃ بنی اسرائیل17آیت نمبر95تا94۔
    لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے ان کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر ان کے اسی قول نے کہ ’’کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا‘‘ ؟ (94)
    ان سے کہو ! اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے۔(95)
     
  10. Faizan akbar

    Faizan akbar نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2015
    پیغامات:
    6
    السلام علیکم! قرآن مجید کو سمجھیں اور اپنے دین کو سمجھیں اور اپنے آپ کو شرک و کفر سے پاک کریں نہیں تو ہمیشہ کے لئے جہنم ہمارا مقدر ہے ۔ شکریہ اس کو تفصیل اور تقیلد سے ہٹ کر پڑھیں شکریہ۔
    جادو کی حقیقت ۔


    جادو گر صرف اپنے فن، ہاتھ کی صفائی اورذہن کی چالاکی سے اپنے کرتب کے ذریعہ لوگوں کو دھوکا دئے نہ کہ منتر سے پوشیدہ طور پر تدبیر کرنا ہے جو لوگوں کے سامنے اس کی اصل حقیقت کچھ اور ہو اور لوگو ں کو فن ،ہاتھ کی صفائی،ذہن کی چلاکی سے نظر کو دھوکا دیا جائے‘جبکہ نظر کا دھوکا کھانے سے ذہن کا متاثر ہونا جائز ہے یعنی ہر چیز کی اصل حقیقت وہی رہے گی جو ہوتی ہے لیکن چلاگی سے اسے لوگوں کے سامنے دھوکا دینے کو جادو کہا جاتا ہے۔

    جادو میں اگر واقعی اثر ہوتا تو وہ فرعون سے انعام کی بھیک مانگنے کی ذلت کی بجائے فرعون کے خزانہ کو اپنے جادو سے حاصل کر سکتے تھے۔ یہ ماہر جادوگر موسیٰ ؑسے مقابلہ میں ہار جاتے ہیں تو بے اختیار سجدہ میں گر کر رب اللعالمین پر ایمان لانے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے کرتب لاٹھیوں ، رسیوں کے ذریعہ لوگوں کی نظروں کو دھوکا دینےکے جرم کی بخشش مانگتے ہیں جس پر فرعون جادوگروں کے ہاتھ اور پیر کو مخالف سمتوں سے کاٹنے اور بالآخر سولی دینے کا حکم دیتا ہے تو فرعون کی سزا سے یہ ماہر جادو گر اپنے جادو کے ذریعہ نہ بچ سکے بلکہ فرعون کی سزا کو برداشت کرنے کیلئے صبر کے فیضان کی رب سے التجاء کرتے ہیں ۔ اعراف، ۱۲۲ تا ۱۲۶ طہ:۷۱ تا ۷۳ ، شعراء:۴۶ تا ۵۱) مندرجہ بالا واقعہ سے ثابت ہے کہ جادو گر خود اپنے جادو کے ذریعہ اپنی ذات کو نقصان سے نہیں بچا سکے تو پھر بھلا دوسروں کو اپنے جادو سے کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔جادو سے یا عمل عملیات تعویذ و دم سے جسمانی یا مالی نفع و نقصان پہنچنے کی تمام باتیں قطعی غلط و جھوٹ ہیں کیوں کہ یہ شیطان کی پیدا کردہ محض وہم ہی وہم ہیں جن میں مبتلا کر کے بنی آدم کو مستحق دوزخ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

    آج تک کوئی ایسا جادو یا دم یا کڑا یا چھلہ یا دھاگہ یا گنڈہ یا تعویذ دریافت نہ ہو سکا جس سے بلا مادّی وظاہری اسباب کے جان و مال ، گھروں، بینکوں کی حفاظت ہو سکے یا بغیر کھائے پیئے کے پیٹ بھر جایا کرے۔جنتر منتر سے ہی کام چلایا جائے پڑھنےکی ضرورت کیا۔فوج کی کیا ضرورت۔کسی جنتر منتر سے بینک میں نوٹ اور ملز میں کپڑے نہیں جل سکتے شہنشاہ جادوگر بغیر ٹکٹ کے اپناشو نہیں بتاتے اور اپنی بیماری کا علاج اپنے جادو یا عمل عملیات سے کرنے کی بجائے حکیم یا ڈاکٹر ہی سے کرواتے ہیں کوئی بھی امتحان میں نقل کی بجائے جادو یا آیۃ الکرسی یا کوئی اور تعویذ یا دم سے کام نہیں لیتا تاریخ انسانی گواہ ہے کہ کوئی جادوگر اپنے جادو سے یا کوئی عامل اپنے عملیات سے کبھی بھی نہ بادشاہ بن سکا نہ کوئی ملک کا صدر نہ کوئی الیکشن ہی جیت سکا اور نہ کوئی اپنے موکلوں کے ذریعہ بینک کے نوٹ حاصل کر سکا نہ کسی ملز کے کپڑے کے تھان چوری کر سکا،یا موکلوں کی مدد سے ایک دیوار سے لگا دھاگہ توڑ سکا۔؟صرف لوگوں کےلئے٭دراصل شیطان نے ٭جھوٹی توقعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کر رکھا ہےجو اللہ پر بھروسہ نہیں کرتے۔

    وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ۝۷۷ (یونس) (اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتے) وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰى۝۶۹ (طٰہٰ) (اور جادوگر کہیں بھی جاؤے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا) مندرجہ بالا دونوں آیتوں میں لَا یُفْلِحُسے مراد یہ ہے کہ جادو گر اپنی زندگی کی ادنیٰ ترین ضرورت بھی اپنے جادو سے پوری نہیں کر سکتا۔

    جادو کی حقیقت سمجھنے کیلئے ایک اور اہم بات لفظ صَنَعُوْا( وہ بنائے یا وہ کئے ) ( ھود: ۱۶، رعد:۳۱) وَاصَنَعَ (ھود:۳۷)(اور بنا)یَصْنَعُوْنَ(وہ بناتےہیںکرتےہیں) (مائدہ:۱۴، ۶۳، نور: ۳۰) ۔

    مندرجہ بالا لفظ صُنْعَ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ جادو گر صرف اپنے فن ( ٹرکس Tricks) ہی سے تماشائیوں کی آنکھوں کو دھوکا دیتے ہیں نہ کہ کوئی منتر جپ کر نہ کوئی پھونک مار کر۔جادو کی حقیقت سمجھنے کے لئے دوسری اہم بات طٰہٰ آیت ۶۹ ’’مَکَرٌ‘‘ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی پوشیدہ طور پر تدبیر کرنا ہے اور تدبیر کا تعلق عمل سے ہے جپنے یا پھونکنے سے نہیں ۔


    جادو کی حقیقت سمجھنے کے لئے تیسری اہم بات یہ ہے کہ سورہ طٰہٰ ( آیت :۶۴) میں جادوگروں کے جادو کو ’’ کَیْدَکُمْ ‘‘ (اپنی تدبیریں کرو) (آیت: ۶۰) میں کیدہ ( اس کا مکر ) کے الفاظ ہیں کید کا تعلق بھی عمل سے ہے جپنے یا پھونکنے سے نہیں ہے۔

    سورۃ محمد 47آیت نمبر25۔

    حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اُس سے پھر گئے اُن کے لیے شیطان نے اِس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کر رکھا ہے ۔(25)

    سورۃ المومنون 23۔ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا ، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ (76)



    سورۃ البقرہ2آیت نمبر169۔

    شیطان تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں۔(169)

    "سورۃ النسائ 4آیت نمبر 120۔وہ اِن لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ، مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں۔"


    نوٹ۔

    شیطان صرف انسان کی خواہش میں وسوسہ ڈال سکتا ہے۔سوچ میں شامل ہو کر اسے غلط کام کی طرف دعوت دے سکتا ہے زبردستی نہیں کر سکتا۔کوئی نیک کام بھلا سکتا ہے۔ خواب میں آ کر کسی کی بھی شکل اختیار کر کے کہہ سکتا ہے میں تمہارا نبی ہوں تم یہ فلاں عمل کرو جبکہ وہ نبی کی شکل اختیار نہیں کر سکتا اور ہم اپنے نبی کو صرف اس وقت پہچان سکتے ہیں جب ہم نے حقیقت میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہو۔شیطان تیز روشنی خواب میں وسوسہ ڈالے اور انسان اس کو تجلی یعنی اللہ کا نور سمجھے۔یہ وہ طریقے ہیں جس سے یہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔اور انسان سمجھتا ہے میں جو کچھ کر رہا بہت اچھا کر رہا ہوں۔جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے شیطان نے لپٹ کر ان کو باولا کر دیا ہو یعنی سمجھ رکھتے ہوئے بھی یہ اللہ کے احکمات کا انکارکرتے ہوئے سود کھاتے ہیں شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔

    سورۃ الانفال8آیت 48۔ ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ اُلٹے پاؤں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے، مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے اور اللہ بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔

    مسلمان ذرا سوچ!
     
  11. Faizan akbar

    Faizan akbar نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2015
    پیغامات:
    6
    السلام علیکم!
    سورۃ البقرہ 102 پر سوالات اور ان کے جوابات
    ۔ درج ذیل ہیں۔ اللہ سے مدد طلب ہے اللہ ہمارا مددگار ہو۔آمین۔
    اللہ ہر اس شخص کی مدد فرمائے جو اپنے عقیدہ میں سے شرک کو نکالنے کے لئے پریشان ہو اور تقلید نہ کرے ۔ شکریہ۔

    ٭سوال۔اللہ تعالیٰ کو ضرورت کیوں پیش آئی یہ کہنے کی سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔

    جواب۔لوگوں کا عقیدہ تھا سلیمان ؑ جادو کی مدد سے بادشاہ بنے ۔جادو کفر ہے کیوں کہ غیراللہ کو پکارا جاتا ہے ،غیر اللہ سے مدد طلب کی جاتی ہے ،غیر اللہ کو اللہ کے مقابل سمجھا جاتا ہے،غیر اللہ پر بھروسہ کیا جاتا ہے ۔ اس لیے سلیمان ؑ تو اللہ تعالیٰ کے نیک اور شرک سے پاک نبی تھے۔

    ٭سوال ۔ کفر کا کام تو شیطانوں کا تھا جو جادو کرتے اور سیکھاتے بھی تھے۔

    جواب۔سلیمان ؑ کے دور میں ہی نہیں ہر دور میں جادو کو سمجھا جاتا ہے کہ اس سے ہر قسم کا کام لیا جا سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرما دیا ہے کہ لوگ جو خواہش کرتے ہیں وہ کبھی بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان جنتر منتروں میں لگے ہوئے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے جو کچھ ہونا ہے وہ ہو کر رہنا ہے یہ کرنے سے تم صرف اپنا ایمان ،دین ،کمزور کر رہے ہو بلکہ تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتے تو تمہارے لیے کیا کریں گے۔پھر بھی تم اللہ کوچھوڑ کر ان سے مدد طلب کرتے ہو اس وجہ سے تم دنیا و آخرت میں ذلیل ہی رہو گے یہ کفر نہیں شرک نہیں تو کیا ہے۔

    ٭سوال ۔ ہاروت و ماروت کون تھے۔کیا فرشتے اس دنیا میں آزمائش کے لئے آ سکتے ہیں؟

    جواب۔لوگوں کا عقیدہ تھا کہ یہ ہاروت و ماروت فرشتے ہیں ۔اس غلط عقیدہ کی درستگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ 102 نازل فرمائی کہ ۔ میں نے کسی ہاروت و ماروت نامی فرشتوں پر کچھ ،کوئی،حکم (سحر )نازل نہیں کیا۔لوگ کہتے ہیں یہ لوگوں کو ہدایت کے لئے آئے تھے کہ دیکھو یہ فلاں فلاں کلمات کفر ہیں یہ نہ کرو اور اس طرح لوگ ان سے سیکھ لیتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا قانون ہی نہیں ہے کہ فرشتے ہدایت کے لئے عام لوگوں کی طرف نازل ہوں۔ یہ قرآن کے

    خلاف ہے۔ ہدایت کے لئے صرف اللہ تعالیٰ انسان پیغمبر بنا کر بھیجتا ہے۔

    سورۃ بنی اسرائیل17آیت نمبر95۔

    " ان سے کہو ! اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے۔"

    اللہ تعالیٰ کا قانون ہی نہیں ہے کہ فرشتوں کو تبلیغ کے لئے عام لوگوں کی طرف بھیجا جائے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تعلیم و تربیت کے لئے صرف انسان پیغمبر بنا کر بھیجے ۔یہ خواہش کہ تعلیم و تربیت کے لئے کوئی فرشتے ہمارے پاس آئیں یہ عقیدہ یہودیوں،نصرانیوں،کفار کا تھا

    ٭سوال۔اگر ہاروت ماروت فرشتے نہیں تھے ۔ تو وہ کیوں کہتے تھے کہ ہم آزمائش ہیں اور یہ جادو کرنا کروانا یہ سب کفر کے کام ہیں تم نہ کرو۔

    جواب۔ شیطان ہمیشہ ہی سے لوگوں کا ہمدرد بن کر ان کو دوزخ میں لے جانے کے لئے بے قرار رہتا ہے ۔یہاں بھی ایسا ہی ہے ۔شیطان اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے ۔ آدم ؑ کو میں جو کہہ رہا سچ کہہ رہا ۔اور یہ ہمدردی کر کے ان کو اپنے غلط رستے پر آخر کار لے ہی آیا۔شیطان لوگوں کو چکنی چپڑی باتیں فریب دینے کے لیے کرتا ہے تاکہ ان کو اپنا رفیق اور اللہ تعالیٰ کا نافرمان بنا دے۔

    ٭سوال ۔کہا جاتا ہے کچھ تو ایسا سیکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا فتویٰ دے دیا کفر کا۔

    جواب۔ اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ پر بھروسہ کرنا بڑا کفر بڑا شرک نہیں تو اور پھر کیا ہے۔

    یہ لوگ عورتوں کو حاصل کرنے کے لئے میاں بیوی میں جدائی کے لئے ان سے سیکھتے تھے کہ ہم کیسے ان میں جدائی ڈالیں۔جادوگر کا دعویٰ ہے کہ ہر طرح کی حاجت روای،تمام خواہشات کو پورا کروانا،جو کچھ آرزویں ہیں ان کو پوری کرنا اور جادوگر کا بھی دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ جو کچھ خواہشات ہیں پوری ہوں گی یہ کفر نہیں تو اور کیا ہے۔یہ ہاروت ماروت انسان شیطان تھے یہ لوگوں کو جھوٹ بولنا ،فریب دینا،سیکھاتے تھے ۔میاں بیوی میں غلط وسوسہ ڈالتے تھے۔میاں بیوی میں غلط فہمیاں ڈالتے تھے۔لوگ ان ہاروت ماروت پر بھروسہ کرتے تھے ۔ان کو اپنا معبود بنا لیا تھا ان کے ہر عمل کرنے پر بھروسہ کرتے تھے شیطان کےقدموں پر چلتے تھے ۔یہ کفر و شرک نہیں تو اور کیا ہے۔

    ٭سوال ۔ کیا ان ہاروت و ماروت اور لوگوں کے یہ عمل کچھ کام آئے۔

    جواب۔ اللہ کا فرمان ہے یہ جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ نہیں کر سکتے جب تک میرا حکم نہیں۔ان کی تمام تدبیریں کمزور ہیں۔یہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں نہیں کر سکتے۔

    ٭سوال ۔قرآن مجید میں کس طرح کا جادو ثابت ہے؟

    جواب۔قرآن مجید میں جادو کی حقیقت یہ بتائی گئی ہے کہ جادو گر صرف اپنے فن، ہاتھ کی صفائی اورذہن کی چالاکی سے اپنے کرتب کے ذریعہ لوگوں کے سامنے پوشیدہ طور پر تدبیر کرتاہے جو لوگوں کے سامنے اس کی اصل حقیقت کچھ اورہو لیکن تدبیر (چلاکی،مکاری،ذہن،فن،ہاتھ کی صفائی)سے نظرکودھوکا دئے نہ کہ کسی جنتر منتر سے ۔

    ٭سوال۔کیا وَمَآ ۔"اور نہیں "کے معانی میں کہیں اور بھی قرآن میں آیا ہے۔

    جواب۔سورۃ الاحقاف46آیت9۔سورۃ طٰۃ20آیت نمبر2۔سورۃ الھب111آیت2۔

    سورۃ یوسف12آیت17۔سورۃ سبائ 34آیت37۔سورۃ فاطر35آیت 21۔

    سورۃ الصفت37آیت 162سورۃ النمل27۔ کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب کہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔(62)

    سورۃ البقرہ 102 کا درست ترجمہ درج ذیل کتابوں میں آپ خود دیکھیں شکریہ۔

    (ترجمان القرآن(مولانا ابوالکلام احمدآزاد))(شیخ الاسلام مولانا ثنا اللہ امر تسری)(قاموس القرآن مکمل و مستند قرآنی ڈکشنری (قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی))

    (تفسیر عروۃ الوثقیٰ از مولانا عبدالکریم اثری )(تفسیر فضل القرآن مولانا فضل الرحمن بن محمد(میں حافظ ابن کثیر اور امام قرطبی کا قول نقل کیا ہے ۔ہاروت ماروت فرشتے نہیں تھے شیطان تھے۔))

    (تفسیر فتح المنان المشہور بہ تفسیر حقانی جلد اول میں تفسیر دیکھیں)

    (شیخ بدیع الدین شاہ راشدی کی کتاب قصہ ہاروت و ماروت اور جادو کی حقیقت دیکھیں)
     
  12. Faizan akbar

    Faizan akbar نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2015
    پیغامات:
    6
    السلام و علیکم! آپ کے عقیدہ کے لئے جواب درج کیا گیا ہے تفصیل اور مفصل ہے ۔ اگر غور و فکر کرنے والی ہیں تو ۔ شکریہ۔
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ایک ہی بات کو جگہ جہ پیسٹ کرنے کو سپیمنگ کہتے ہیں۔ سپیمنگ سے کسی آیت کی تفسیر نہیں بدل جائے گی۔
     
    • متفق متفق x 1
  14. Faizan akbar

    Faizan akbar نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2015
    پیغامات:
    6
    السلام و علیکم!
    قرآن مجید جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو ہدایت کے لئے نازل فرمائی گئی ہے جس میں بار بار بات کو جگہ جگہ ذکر کیا گیا ہے اس کی تشریح و تفسیر کر دیں کیوں؟۔اور تقلید کی نظر سے باہر آئیں۔تحقیق اور تقلید اور دلیل میں بہت فرق ہے۔ شکریہ۔۔۔۔اللہ ہدایت دے ہر اس شخص کو جو ہدایت حاصل کرنا چہتا ہو۔ شکریہ۔

    سورۃ ابراھیم 14 آیت نمبر 34۔
    جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا ۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے ۔ (34)
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں