میرا کراچی

بابر تنویر نے 'ادبِ لطیف' میں ‏اگست 9, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,109
    رمضان اور عید کی چھٹیاں اس بار کراچی میں گذریں۔ اس بار سعودی ائر لائن سے سفر کیا۔ فلائٹ کی روانگی سے پہلے ہی جہاز میں سحری کے لیے کھانا سرو کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے فلائٹ میں کجھ تاخیر ہوگئ۔ کچھ عرصہ پہلے اپنی انہی دنوں اپنی قومی ائر لائن سے سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ فلائٹ اڑنے کے بعد اعلان ہوا کہ اب سے 30 منٹ کے بعد سحری کا وقت ختم ہو جاۓ گا اور پی آئ اے آپ کے لیے سحری کے لیے خصوصی طور پر پراٹھوں کا انتظام کیا ہے۔ سالن وغیرہ کی ٹریز مسافروں کو پیش کر دی گئیں۔ پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ ہوا یہ کہ پراٹھے جہاز کے آدھے مسافروں تک ہی پہنچ پا‎ۓ تھے کہ ختم ہوگۓ۔ اور ہم بھی ان مسافروں میں شامل تھے کہ جو پراٹھوں کی خوشبو ہی سونگھ سکے۔ ان کا ذائقہ چکھنے کی نوبت نہ آ سکی ۔ پراٹھے کیا ختم ہوۓ وہ فضائ میزبان بھی کہیں گم ہوگئیں۔ تاکہ انہیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ اس وقت تک ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ پراٹھے شائد گرم کیے جا رہے ہیں اور تازہ تازہ ہمیں پیش کیے جائیں گے۔ خیر سحری کا وقت ختم ہونے سے کوئ 10 منٹ پہلے کپتان صاحب نے اعلان فرمایا کہ پراٹھے ختم ہو چکے ہیں اور پھر ہم نے دستیاب سالن سے لذت کام و دھن کا کام چلایا اور روزہ داروں میں شامل ہوگۓ۔ بہر حال سعودی ائر لائن والوں نے سحری بھی کروائ اور پھر نماز پڑھنے کے لیے وقت بھی دیا۔ اور پھر فلائٹ تقریبا ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوئ۔


    گھر ہمارا ائرپورٹ سے کوئ پانچ منٹ کی مسافت پر ہے۔ اس لیے جلد ہی گھر پہنچ گئے۔ سب کچھ ویسا ہی نظر آیا۔ ہاں گھر کی جانب آنے والی مین سڑک کچھ مزید شکست و ریخت کا شکار ہوچکی ہے۔ سڑک کے بیچوں بیچ مین ہول اسی طرح بغیر ڈھکنے کے موجود ہے جس طرح میں نے آج سے ایک سال پہلے دیکھا تھا۔ تھوڑا سا فرق ضرور پڑا ہے۔ کہ اس اکلوتے مین ہول کی تنہائ دور کرنے کے لیے چند اور مین ہول بغیر ڈھکن کے سڑک کے بیچوں بیچ معرض وجود میں آ چکے ہیں۔ اور آنے جانے والی گاڑیوں اور ان کے مسافروں کے لیے خطرے کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔

    ہمارا محلہ اور ہماری گلی پہلے بھی پکی سڑک سے محروم تھی اور اب بھی اس کی حالت زار پر کوئ فرق نہیں پڑا۔ وجہ اس کی میرے خیال میں یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والوں کی مادری زبان وہ نہیں ہے جو کہ یہان کی غالب اکثریت بولتی ہے۔ اور نہ ہی اس علاقے میں کوئ بڑا سیاستدان یا اس کا کوئ ما تحت رہتا ہے۔ اور پھر یہاں کے مکین بھی میرے خیال میں سب اپنے اپنے حال میں مگن ہیں۔ اور یہ اپنے حال میں مگن رہنا کوئ اسی ایک علاقے کے مکینوں تک ہی موقوف نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ پورا کراچی نہیں بلکہ پورا پاکستان ہی اس کار خیر میں ملوث ہے۔ مین روڈ سے اپنے گھر کو جانے والی سڑک پر مڑیں تو کچھ ہی آگے جا کر آپ کو کچرے کا ایک ڈھیر نظر آۓ گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ کچرے کا یہ ڈھیر آدھی سڑک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اور سڑک اپنی بے بسی پر آنسو بہاتی نظر آتی ہے۔ اور ان آنسوؤں کی چھینٹیں اکثر آنے جانے والو‎ں کے کپڑوں کے داغدار کر جاتی ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ وہاں کے مکینوں کے کان پر جوں تک رینگتی ہو۔ میرا خیال ہے کہ آس پاس کے لوگ اس حال میں رہنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ یا پھر سڑک کے کناروں کو کچرے سے مزین کرنے میں ان مکینوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے


    یہ سب تو میں نے اپنے علاقے کی صورت حال بیان کی ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسے آپ کراچی کے اکثر علاقوں کا منظر نامہ کہہ سکتے ہیں ۔ ہر جگہ آپ کو صفائ کی یہی صورت ملے گی۔ جس علاقے میں بھی چلے جائیں ٹوٹی ہوئ سڑکیں اور لب سڑک کچرے کے ڈھیر اور ان ڈھیروں کی آب و تاب میں اضافہ کرتے ہو‎ۓ مردہ جانور۔ ارباب اختیار عوام بے بسی پر آنسو بہاتے ہوۓ ملیں گے۔ لگتا ہے کا اس شہر کا اب کوئ پرسان حال نہیں ہے۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    Last edited: ‏اگست 9, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,109
    بجلی اس علاقے میں کم ہی جاتی ہے۔ اور ایک خاص بات یہ کہ اس علاقے میں بجلی کے میٹر اب تک نہیں لگے۔ بجلی کے محکمے والوں نے تمام علاقے کا سروے کرکے ہر گھر کو ہر ماہ ایک مقررہ رقم دینے کا پابند کیا ہے۔ اور اس رقم کی خاص بات یہ ہے کہ بل کی رقم کا کم یا زیادہ ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ آپ بجلی کے محکمے میں آپ کی جان پہچان کتنی ہے۔ جن کی جان پہچان ہے ان کا بل کم رقم کا آتا ہے۔ اور جو ہم جیسے ہیں وہ زیادہ رقم دینے پر مجبور ہیں۔ محلے کے چند ایمان دار لوگوں نے کوشش کی کے گھروں میں بجلی کے میٹر لگا دیے جائیں لیکن کچھ لوگ جن کے گھروں میں بجلی دو تین اے سی چلتے ہیں وہ لوگ اس کے مخالف ہیں۔ کیونکہ بجلی کے میٹر لگنے کے بعد وہ اس عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔


    ہم اپنے ارباب اختیار کی کرپشن کا اکثر رونا روتے ہیں ہیں لیکن ہمارا اپنا کردار کیا ہے۔ ہر آدمی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے۔ اور دوسرے کو دھوکہ دینے کا کوئ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ بازار سے گرما خریدا۔ فروٹ والے نے ایک گرما دکھایا اور چاروں طرف سے دکھا کر کہا کہ دیکھ لیں کہ صاف دانا ہے۔ گھر آکر دیکھا تو وہ گرما ایک طرف سے خراب تھا۔ بعد میں یاد آیا کہ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اسے فروٹ والے نے پکڑا ہوا تھا۔

    امی نے ایک پودے بیچنے والے کو کوئ پودا لانے کا کہا ہوا تھا۔ ایک دن وہ آیا کہ جو پودا آپ کو چاہیے وہ آپ کو کل مل جاے گا۔ آپ اس کے پیسے دے دیجیے کل میں آپ کو وہ پودا لا دوں گا۔ امی نے اسے پیسے دے دیے اور پھر وہ دن اور آج کا دن تقریبا چھ مہینے ہوگۓ پودے بیچنے والا پھر اس علاقے میں نظر نہیں آیا۔

    اس طرح کی بہت سے مثالیں آپ کو روزمرہ زندگی میں نظر آ جائیں گي۔ جس کو جہاں بھی اور جتنا بھی موقع ملتا ہے ہو ہاتھ دکھانے سے نہیں چوکتا۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    Last edited: ‏اگست 9, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ x 6
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,109
    رمضان کے مبارک مہینے میں ریٹ فی دکان 25000 روپے کا طے ہوا۔ کس چیز کا ریٹ بھائ ؟


    زکاۃ کا؟

    نہیں،

    صدقات کا؟

    نہی جی،


    خیرات وغیرہ کا ؟ وہ بھی نہیں جناب


    یا پھر کسی فلاحی منصوبے میں شراکت کا؟

    نہیں جی وہ بھی نہیں۔


    میرے خیال میں اب تک آپ سب سمجھ چکے ہوں گے کہ یہ کس چیزکا ریٹ ہے۔ جناب یہ ریٹ کراچی کے بڑے کاروباری مرکز کے تمام شاپنگ سینٹرز میں موجود ہزاروں دکانوں کی حفاظت کا ہے۔ عام فہم اور معروف زبان میں اسے بھتے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اور یہ بھتہ تو ہر دکاندار کو دینا ہی ہے۔ دینے کی صورت میں نہ تو آپ کو پولیس والے تنگ کریں گے، اور نہی ہی کسی معروف سیاسی جماعت کے کارکن آپ کے کاروبار میں کوئ خلل ڈالیں گے۔ اور نہ دینے کی صورت میں آپ کی خیر نہیں۔ آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ حفظہ اللہ سے رحمہ اللہ بھی ہو سکتے ہیں۔ دکان میں ڈاکہ بھی پڑ سکتا ہے، یا پولیس آپ کو نقص امن کے تحت سرکاری مہمان بھی بنا سکتی ہے۔ یہ سب باتیں ہم نے وہاں پر رہنے والے لوگوں کی زبانی سنیں۔

    پچھلے دنوں اخبار میں خبر پڑھی تھی کہ ایک گروہ نے کراچی کے بڑے کاروباری لوگوں کو پرچی پہنچائ تھی ۔ پرچی کو بھی میرے خیال میں ہمارے ہم وطن خوب سمجھتے ہیں۔ پھر بھی لوگوں کے علم میں اضافے کے لیے وضاحت کر دیتا ہوں کہ یہ بھی بھتہ کی ایک قسم ہے۔ لیکن اس پرچی والے بھتے کی رقم اوپر والے بھتے سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور یہ پرچی آپ کو آپ کے دفتر، دکان رہائش وغیرہ کہیں بھی مل سکتی ہے۔ جس گروہ نے یہ پرچی پہنچائ تھی اس گروہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے پرچی کے مطابق ہمارے مطالبات زر منظور نہیں کیے تھے ہمارا پروگرام عید کے بعد انہیں حفظہ اللہ سے رحمہ کے درجے پر فائزکرنے کا تھا۔

    پرچی کا منافع بخش کاروبار کرنے والوں میں تقریبا تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور دوسرے مسلح گروپ ملوث ہیں۔ ہمارے ایک دوست کے ماموں ایک بیکری کے مالک ہیں۔ ان بیکری اچھی چلتی ہے۔ عید سے پہلے انہیں کراچی کی ایک مشہور دینی جماعت کی طرف سے 5 لاکھ ، ایک لسانی جماعت کی جانب سے 3 لاکھ اور دو سیاسی جماعتوں کی جانب سے 2 ، 2 لاکھ کی پرچی موصول ہوئ، وہ پریشان تھے کہ اتنی رقم کیسے اور کہاں سے لاؤں۔

    ہمارے اسی دوست کے والد صاحب نے اپنی وفات سے پہلے اپنی جائداد میں سے دو مکانوں اپنی بیٹیوں کے لیے وقف کیے تھے کہ ان کو بیچ کر وہ رقم بیٹیوں میں تقسیم کر دی جاۓ۔ بھائیوں نے سوچا کہ جب ان مکانوں کی قیمت بڑھے گی تو انہیں بیچ دیں گے تاکہ بہنوں کو زیادہ پیسے مل سکیں۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے انہیں اس علاقے کے مکینوں کا فون آیا کہ آپ کے ایک مکان پر ایک دینی جماعت مدرسہ اور دوسرے میں ایک سیاسی جماعت اپنا دفتر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مکانوں کے باہر انہوں نے مدرسے اور دفتر کے بورڈ لگا دیے ہیں اور دروازے توڑ کر دوسرے دروازے لگوادیے ہیں۔ ان کی خوش قسمتی کہ ان کے ساتھ تمام محلہ کے افراد جمع ہوگۓ اور بڑی مشکل سے ان مکانوں کو ان قبضہ داروں کے قبضہ سے چھڑوایا گیا۔ اور پھر اونے پونے ان مکانوں کو بیچ کر بہنوں کو رقم ادا کردی۔


    ہمارے ایک عزیز کی نوکری آج سے کچھ عرصہ پہلے چھوٹ گئ تھی ۔ روزی کمانے کے لیے انہوں ادھر ادھر پیسے اکھٹے کرکے ایک عدد رکشہ خرید لیا۔ غلطی ان سے یہ ہوئ کہ رکشہ انہوں نے نیا خریدا۔ اور پھر جو ہوا وہ تو ہونا ہی تھا۔ چند دنوں کے بعد وہ رکشہ اور اس سے ہونے والی روزی دونوں سے محروم کر دیے گۓ۔ آج کل وہ ایک پرانہ رکشہ خرید کر اس سے اپنا، اپنے بچوں اور بھتہ خوروں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ اور بھتہ خوروں کی روزی باقی دونوں سے مقدم ہے۔ اگر رکشہ کو سڑک پر لانے سے پہلے 550 روپے بھتہ خوروں کی جھولی میں نہ ڈالے تو پھر تصور کر لیجیے کہ کیا ہوگا۔

    شائد آپ کے بچے آپ کی واپسی کا ہمیشہ انتظار کرتے رہ جائیں۔، آپ کو دوسرے دن رکشہ ہی سڑک پر لانے کی اجازت نہ دی جاۓ۔

    بہرحال کراچی کی عمومی صورت حال یہی ہے۔ ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے لاکھ چین لکھتے رہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔

    بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ ایک اچھے پڑھے لکھے نوجوان کو اول تو نوکری ملتی نہیں اور اگر کہیں مل بھی جاۓ تو اسے اتنی تنخواہ کی پیشکش کی جاتی ہے جو کہ ایک عام بے ہنر مزدور ایک مہینے میں کما لیتا ہے۔ کیونکہ نوکری دینے والے کو معلوم ہے کہ اگر اس نے پیش کی گئ تنخواہ کو ٹھکرایا تو بہت سے دوسرے حالات سے مجبور امید وار آ جائیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,102
    شکریہ ـ جزاک اللہ خیراـ پرانی یاد تازہ کردیں ـ ویسے مشرف کے دور کا کراچی بہت بہتر تھا ـ اب تو سب سے زیادہ براحال کراچی کا ہی ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں