حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

عبدالرحیم نے 'سیرتِ اسلامی' میں ‏اکتوبر، 9, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    922
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عقیل رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ ابو زید مجھ کو تمہارے ساتھ دوہری محبت ہے ، اسی قرابت کے سبب سے ، دوسری اس وجہ سے کہ میرے چچا تم کو محبوب رکھتے تھے ۔ (تہذیب الکمال صلی اللہ علیہ وسلم 270)
    نام و نسب : عقیل نام ، ابو یزید کنیت ، سلسلہ نسب یہ ہے ،عقیل بن ابی طالب بن عبد المطلب ابن ہاشم بن عبد مناف القرشی الہاشمی ، ماں کا نام فاطمہ تھا ، آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوتیلے بھائی اور عمر میں ان سے بیس سال بڑے تھے ۔ (اسد الغابہ ج 3 ص 432 )
    بدر میں گرفتاری: عقیل کا دل ابتدا سے اسلام کی طرف مائل تھا ، لیکن مشرکین مکہ کے خوف سے علی الاعلان اسلام نہیں قبول کرسکتے تھے ، چنانچہ بدر میں بادل ناخواستہ مشرکین کے ساتھ شریک ہوئے ان کو شکست ہوئی تو دوسرے مشرکین کے ساتھ یہ بھی گرفتار ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ دیکھو میرے گھرانے والوں میں کون کون لوگ گرفتارہوئے ، آپ نے تحقیقات کرکے عرض کیا کہ نوفل ، عباس اور عقیل گرفتار ہوئے ہیں یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس تشریف لائے اور عقیل کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا کہ ابو جہل قتل ہوگیا ، عقیل بولے اب تہامہ میں مسلمانوں کا کوئی مزاحم باقی نہیں رہا عقیل کے ہاتھ مال و دولت سے خالی تھے اس لئے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی جیب سے ان کا فدیہ دے کر ان کو آزاد کرایا ۔(اس سعد جزء ق1 ص 29 )
    اسلام وہجرت اور غزوات : آزاد ہونے کے بعد مکہ واپس گئے اور 8ھ میں باقاعدہ اسلام لا کر ہجرت کا شرف حاصل کیا اور غزوہ موتہ میں شریک ہو کر پھر مکہ واپس گئے وہاں جاکر بیمار پڑ گئے اس لئے فتح مکہ ، طائف اور حنین میں شرکت سے معذور رہے (اسد الغابہ ج 3 ص 422) لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حنین میں شریک ہوئے ، بلکہ جب مسلمانوں کو ابتداء میں شکست ہوئی اور مہاجرین و انصار ک پاؤں اکھڑ گئے تو اس وقت بھی یہ ثابت قدم رہے ۔ (اصابہ ج 4 ص 255)
    عہد مرتضوی : خلفائے ثلاثہ کے زمانہ میں کہیں پتہ نہین چلتا ، حنین کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور جناب امیر رضی اللہ عنہ کے اختلاف کے زمانہ میں نظر آتے ہیں ، یہ گو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے ، لیکن اپنی ضروریات کی بنا پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تعلقات رکھتے تھے اور مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے تھے ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ عقیل مفلس ، مقروض اور روپیہ کے حاجت مند تھے ۔ اور جناب امیر رضی اللہ عنہ کے یہاں یہ شے عنقا تھی اور امیر معاویہ کا خزانہ ہر شخص کےلئے کھلا ہوا تھا ، اس لئے افلاس و ناداری نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینے پر مجبور کردیا تھا ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے سے پہلے ایک مرتبہ قرض کی ادائیگی کی فکر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھی گئے تھے ۔ انہوں نے بڑی پذیرائی کی ،حسن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے لا کرکپڑے بدلائے ، شام کو دسترخوان بچھا تو صرف روٹی ، نمک اور ترکاری آئی ، عقیل رضی اللہ عنہ نے کہا بس یہی سامان ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ہاں بچھا تو صرف روٹی نمک اورترکاری آئی ، عقیل رضی اللہ عنہ نے کہا بس یہی سامان ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ ہاں! عقیل نے مطلب بیان کیا کہ میرا قرض ادا کردو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کس قدر ہے کہا 40 ہزار آپ نے جواب دیا ، میرے پاس اتنا روپیہ کہاں ؟ تھوڑا صبر کیجیے جب چار ہزار میرا وظیفہ کے انتظار میں کب تک رکھو گے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں مسلمانوں کا امین ہوں ، آپ چاہتے ہیں کہ خیانت کرکے ان کا مال آپ کے حوالہ کردوں یہ جواب سن کر عقیل چلےگئے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم نے علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو کیسا پایا ،جواب دیا ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحیح صحابی ہیں ، بس صرف اس قدر کمی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان میں نہیں ہیں ، اور تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک ابو سفیان کے حواریوں کی طرح ہو ، مگر اس موزانہ کے بعد بھی دوسر دن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دربار میں انہیں بلوایا کر پچاس ہزار درہم دلوائے ۔ (اسد الغابہ ج 3 ص 423)
    عقیل کے شام جانے کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے ان کو مثال میں پیش کرکے ان کو اپنی حمایت میں آمادہ کرتےتھے اور کہتے تھے کہ اگر میں حق پر نہ ہوتا تو علی رضی اللہ عنہ کے بھائی ان کو چھوڑ کر میرا ساتھ کیوں دیتے ایک مرتبہ لوگوں کے سامنے یہی دلیل پیش کر رہے تھے ۔ عقیل رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے انہوں نے جواب دیا کہ میرا بھائی دین کے لئے بہتر ہے اور تم دنیا کے لئے یہ دوسری بات ہے کہ میں نے دنیا کر دین پر ترجیح دی ، رہا آخرت کا معاملہ تو اس کے لئے خدا اسے حسن خاتمہ کی دعا کرتا ہوں ۔ (ایضا )
    وفات: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اخیر عہد یا یزید کے ابتدائی زمانہ میں وفات پائی ۔ (اصابہ ج 4 ص 655)
    اہل و عیال: عقیل رضی اللہ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں ان کی بیوی اور اولادوں کے نام یہ ہیں :
    ام سعید ۔ یرید ، سعید
    خلیلہ ۔ علی ، محمد ، رملہ
    ام بنین ۔ جعفر ، اکبر ، ابو سعید ، احول
    ام ولد۔
    اسماء بنت سفیان۔ مسلم ، عبداللہ ، عبد الرحمن ، عبداللہ، الاصغر
    ان کے علاوہ جعفر ، اصغر ، حمزہ ، عثمان، ام ہانی ، اسماء ، فاطمہ ، ام قاسم ، زینب اور ام نعمان وغیرہ مختلف لونڈیوں کے بطن سے تھیں ۔ (ابن سعد جز ء 4 ق 29 )
    ذریعہ معاش: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی پیداوار سے ڈیڑھ سو وسق سالانہ مقرر فرمایا تھا ۔ (اسد الغابہ ج 3 ص 422)
    استعداد علمی: ہجرت کے بعد پھر مکہ لوٹ گئے تھے اور عرصہ تک وہاں مقیم رہے اس لئے صحبت نبوی سے فیضیاب ہونے کا بہت کم موقع ملا، اسی لئے رسول کے عزیز ہونے کی حیثیت سے علم میں ان کا جو پایہ ہونا چاہیے تھا ۔ وہ نہ پیدا ہوسکا ۔ تاہم حدیث کی کتابوں میں ان کی دو چار روایتیں موجود ہیں ، محمد حسن بصری اور عطا آپکے زمرہ رواۃ میں ہیں ۔ (مستدرک حاکم ج 2 ص 576)
    مذہبی علوم کے علاوہ جاہلی میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے ۔ چنانچہ علم الانساب کے جو عربوں کا خاص علم تھا ،بڑے ماہر تھے ، ایام عرب کی داستانیں بھی ان کو ازبر تھیں اور ان علوم میں لوگ ان سے استفادہ کرتے تھے ۔ چنانچہ مسجد نبوی میں نماز کے بعد بیٹھتے تھے اور لوگ ان سے مستفید ہوتے تھے ۔ (مسند احمد بن حبنل ج 1 ص 210 )
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ ابو زید مجھ کو تمہارے ساتھ دوہری محبت ہے ، اسی قرابت کے سبب سے ، دوسری اس وجہ سے کہ میرے کہ میرے چچا تم کو محبوب رکھتے تھے ۔ (تہذیب الکمال صلی اللہ علیہ وسلم 270)
    پابندی سنت : عقیل شادی و مسرت کے موقعوں پر بھی جبکہ عموما کچھ نہ کچھ بے اعتدالی کر جاتے ہیں مسنون طریقوں کا لحاظ رکھتے تھے ۔ ایک مرتبہ نئی شادی کی صبح کو احباب مبارک باد دینے آئے اور عرب کے قدیم دستور کے مطابق ان الفاظ میں تہنیت پیش کی کہ " بالرفاء و البنین" اگر چہ ان الفاظ میں کوئی خاص قباحت نہیں تھی لیکن چونکہ مسنون طریقہ تہنیت موجود تھا اس لئے کہا کہ یہ نہ کہو بلکہ " بارک اللہ لک و بارک اللہ علیک " کہو کہ ہم کو اسی کا حکم ملا ہے ۔ (استعیاب ج2 ص 523)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,110
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں