قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اذان کی آواز

بابر تنویر نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏اکتوبر، 23, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    قبر نبی ﷺ سے اذان کی آواز

    روایت نمبر ۱:امام ابن سعد رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
    "أخبرنا محمد بن عمر، قال: حدثني طلحة بن محمد بن سعید، عن أبیه، قال: کان سعید بن المسیب أیام الحرة في المسجد، ۔۔۔۔، قال: فکنت أذا حانت الصلاة أسمع أذانا یخرج من قبل القبر، حتّٰی أمن الناس"
    امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ سانحہ حرہ کے دنوں میں مسجد نبوی ہی میں مقیم تھے۔۔۔۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بھی اذان کا وقت ہوتا، میں قبر نبوی سے اذان کی آواز سنتا۔ جب تک امن نہ ہوگیا، یہ معاملہ جاریرہا
    (الطبقات الکبریٰ: ۱۳۲/۵)
    موضوع (من گھڑت) :یہ من گھڑٹ قصہ ہے، کیونکہ اس کی سند میں:
    1: محمد بن عمر واقدی جمہور محدثین کرام کے نزدیک "ضعیف" اور "متروک" ہے۔
    2: دوسرا راوی طلحہ بن محمد بن سعید "مجہول" ہے۔
    ٭اس کے بارے میں امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں اسے نہیں جانتا۔" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۴۸۶/۴)
    3:تیسرے راوی محمد بن سعید بن مسیب کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے "مقبول" (مجہول الحال) قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب: 5913)
    تنبیہ: امام ابن حبان رحمہ اللہ نےاسے اپنی کتاب "الثقات" (۴۲۱/۷) میں ذکر کیا ہے، کسی معتبر امام نے اس کی توثیق نہیں کی۔

    روایت نمبر ۲:سعید بن عبد العزیز تنوخی رحمہ اللہ (م: ۹۰ھ) بیان کرتے ہیں:
    سانحۂ حرہ کے دوران تین دن تک مسجدِ نبوی میں اذان و اقامت نہیں ہوئی تھی۔ ان دنوں امام سعید بن مسیب مسجد نبوی ہی میں مقیم تھے۔ انہیں نماز کا وقت نبی اکرم ﷺکی قبر مبارک سے سنائی دینے والی آواز ہی سے ہوتا تھا
    (مسند الدارمي: ۴۴/۱)
    ضعیف: اس کی سند "انقطاع" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ سانحۂ حرہ کو بیان کرنے والے راوی سعید بن عبد العزیز تنوخی رحمہ اللہ کی پیدائش سے بہت پہلے رونما ہوچکا تھا۔ پھر سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ حرہ کا واقعہ 63 ہجری میں رونما ہوا جبکہ سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی پیدائش 90 ہجری کو ہوئی اور امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ 94 ہجری میں فوت ہوئے۔
    پھر امام سعید بن مسیب مدینہ منورہ میں فوت ہوئے، جبکہ سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ شام میں پیدا ہوئے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے خود سنی ہو؟ انہیں کس شخص نے یہ بات بیان کی، معلوم نہیں۔ لہٰذا یہ روایت "انقطاع" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔

    روایت نمبر ۳:الطبقات الکبری لابن سعد (۱۳۱/۵)، تاریخ ابن ابی خیثمہ (۲۰۱۱) ، دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی (۵۱۰) اور مثیر العزم الساکن لابن الجوزی (۴۷۶) میں موجود روایت کی سند ضعیف ہے۔
    ضعیف: کیونکہ اس کا راوی عبد الحمید بن سلیمان مدنی جمہور محدثین کرام کے نزدیک" ضعیف" ہے۔ اس کے بارے میں:
    ٭امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ فضول راوی ہے" (تاریخ ابن معین بروایة العباس الدوري: ۱۶۰/۳)
    ٭امام علی بن مدینی رحمہ اللہ اسے "ضعیف" قرار دیا ہے۔ (سؤالات ابن أبي شیبة لعلي المدیني : ۱۱۷)
    ٭ امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی بیان کردہ حدیث ضعیف ہوتی ہے" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۱۴/۶)
    ٭امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ بالکل بھی محفوظ نہیں" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۱۴/۶)
    ٭امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۳۵۱) میں ذکر فرمایا ہے۔
    ٭امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی اسے "ضعیف" قرار دیا ہے۔ (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۳۹۷)
    ٭امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کسی کام کا نہیں" (الثقات: ۵۹۲۷)
    ٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسے "ضعیف" ہی قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب: ۳۷۶۴)

    روایت نمبر ۴:حافظ ابو عبد اللہ ، محمد بن محمود ، ابن نجار رحمہ اللہ (۵۷۸- ۶۴۳ھ) نقل کرتے ہیں:
    "أنبأنا ذاکر بن کامل بن أبي غالب الخفاف، فیما أذن لي في روایة عنہ، قال: کتب إلي أبو علي الحداد، عن أبي نعیم الأصبھاني، قال: أنبانا جعفر بن محمد بن نصیر: أخبرنا أبو یزید المخزومي: أخبرنا الزبیر بن بکار: حثنا محمد بن الحسن (بن زبالة): حدثني غیر واحد منھم، عن عبد العزیز بن أبي حازم، عن عمر بن محمد، أنه لما کان أیام الحرة ترک الأذان في مسجد رسول اللہ ﷺثلاثة أیام، وخرج الناس إلی الحرة، وجلس سعید بن المسیب في مسجد رسول اللہ ﷺ، قال: فاستو حشت، فدنوت من قبر النبيﷺ ، فلما حضرت الصلاۃ، سمعت الأذان في قبر النبي ﷺ"
    (الدرّہ الثمینة في أخبار المدینة ، ص: ۱۵۹)

    موضوع (من گھڑت) :یہ روایت سفید جھوٹ ہے، اس کا راوی محمد بن حسن بن زبالہ مخزومی "کذاب” اور جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا شیدائی تھا۔
    ٭ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ قابل اعتماد نہیں تھا، حدیثوں کا سرقہ کرتا تھا، جھوٹا اور فضول شخص تھا۔" (تاریخ ابن معین بروایة العباس الدوری: ۵۱۰/۲، ۵۱۱)
    ٭امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی بیان کردہ حدیث کمزور، ضعیف اور منکر ہوتی ہے۔ اس کے پاس عجیب و غریب قسم کی روایات ہیں البتہ یہ متروک الحدیث نہیں۔" (الجرح والتعدیل لابن أبي حاتم: ۲۲۸/۷)
    ٭امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین نے اس کی روایات چھوڑ دی ہیں۔" (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۵۳۵)
    ٭امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کی بیان کردہ حدیث کمزور ہوتی ہے" (الجرح والتعدیل: ۲۲۸/۷)
    ٭امام داقطنی رحمہ اللہ نے بھی اسے" متروک" قراردیا ہے۔ (سؤالات البرقاني للدارقطني: ۴۲۷)
    ٭امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ حدیثوں کا سرقہ کرتا تھا اور ثقہ راویوں سے بغیر تدلیس کے وہ روایت بیان کرتا تھا، جو اس نے ان سے سنی نہیں ہوتی تھیں" (المجروحین: ۲۷۵/۲)
    ٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "محدثین کے نزدیک یہ شخص جھوٹا تھا" (تقریب التھذیب: ۸۵۱۵)
    نیز فرماتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر سب محدثین کا اتفاق ہے" (فتح الباری: ۲۹۸/۱۱)
    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 9
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    جزاک اللہ خیرا ۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نکالنے والی روایت کہ نوے ہزار لوگوں نے دیکھا(فضائل درود ۔ تبلیغی نصاب) عجیب خرافات ہیں ۔ اللہ حفاظت میں رکھے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  3. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاکم اللہ خیرا
    اللہ تعالٰی ایسی من گھڑت روایات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
    آمین یا رب العالمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    آمین
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    و ایاکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    نوے ہزار لوگوں نے کس طرح دیکھا جبکہ توسیع کا مرحلہ تو اب ہوا ہے۔ چلو بالفرض باہر دیکھ لیا تو پھر یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں میں کیوں نہیں لکھا گیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    یہ جواب توان کے پاس نہیں ۔ ویسے دیکھا جائے تواس میں نبی ﷺکی گستاخی کا پہلو ہے ـ صرف اس سوال پر کہ نوے ہزار لوگوں نے کیسے دیکھ لیا ؟ اورپھرمزیدسوال بھی ہو سکتے ہیں ـ لوگ اسطرح کے سوال کرتے ہیں ـ اور تسلی کے لیے بہت کچھ پوچھ جاتے ہیں ـ اللہ معاف فرمائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,692
    جزاک اللہ خیرا
     
  11. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    سبحان اللہ !
    آفس کے ایک ساتھی نے فیس بک پر یہ حدیث شئیر کی تو میں نے ان کو سمجھایا کہ یہ ضعیف ہے موضوع ہے۔
    ابھی گوگل پر میں نے لکھا: قبر نبوی سے آذان کی آواز تو پہلا صفحہ یہ کھلا۔
    مبارک ہو پوسٹ شروع کرنے والے صاحب بابر تنویر حفظہ اللہ
    آپ نے کتنی محنت سے اس کو یہاں پر شئیر کیا اور اس کا نتیجہ ہمیں کتنی جلدی حاصل ہوا۔
    اللہ تعالی آپ کیلئے بلکہ ہم سب کیلئے صدقہ جاریہ بنائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں