امام ابو حنیفہ پر خلافت عباسیہ ہاشمیہ کی مخالفت کا الزام

ابوعکاشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اکتوبر، 24, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    امام ابو حنیفہ پر خلافت عباسیہ ہاشمیہ کی مخالفت کا الزام


    امیرالمومنین ابوجعفر المنصور عباسی
    (۱۳۶ھ ۔ ۱۵۸ھ)

    امام ابو حنیفہ کو مودودی صاحب نے خلافت عباسیہ ہاشمیہ کا مخالف ثابت کرنا چاہا ہے اور اس ذیل میں امیر المومنین المنصور جیسے بلند پایہ محدث سے واعلم واعظم خلیفہ عباسی کے خلاف بھی جو دراصل امام صاحب کے قدردان سرپرست تھے کسی ہرزہ سرائی سے گریز نہیں کیا۔ قسم قسم کی غلط باتیں ان دونوں بزرگواروں کے متعلق لکھ کر افترا پردازی کا حق ادا کر دیا ہے۔ امام صاحب کے عہدہ قضا قبول نہ کرنے پر ان کے کوڑے لگوانے کی وضعی روایت چھٹی صدی ہجری کے مولف المکی کے حوالے سے نقل کی ہے اس مولف نے مدح و منقبت و عجب واہی روایتیں درج کرنے سے بھی اجتناب نہیں کیا مثلاً المکی نے کتاب "مناقب النعمان" میں جو مودودی صاحب کا مآخذ ہے یہ روایت درج کر ڈالی ہے۔ (ج۱، ص۲۲، مطبوعہ دائرة المعارف، حیدرآباد، دکن)

    "روایت ہے کہ ایک موقعے پر فرشتہ جبرئیل نے رسولﷺ سے عرض کیا لقمان حکمت کے اس بلند درجے تک پہنچا کہ اگر وہ کہنا چاہتا تو غلے کے انبار کے دانوں کے برابر حکمت کی باتیں کہہ سکتا تھا۔ یہ سن کر رسولﷺ کے دل میں حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق رشک پیدا ہوا کہ لقمان جیسا شخص ان کی امت میں پیدا ہوا اس پر جبرئیل دوبارہ واپس آئے اور کہا داؤد (علیہ السلام) کی امت میں اگر لقمان جیسا شخص پیدا ہو تو آپ کی امت میں بھی الله تعالیٰ ابو حنیفہ لقمان جیسا شخص پیدا فرمائے گا۔ جو غلے کے بڑے ڈھیر کے دانوں کے برابر مسائل اور ان کے جوابات پیش کرے گا۔ رسولﷺ (حضرت) انس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور اس کی وصیت کی کہ وہ اسی طرح ابو حنیفہ کے منہ میں اپنا تھوک ڈالے۔"(۸)

    اس ذہنیت کے مولف نے ایک جگہ تو (ص۱۶۲) یہ لکھا ہے کہ خلیفہ المنصور نے سفیان ثوری شریک، مسعر اور امام ابو حنیفہ کو بغداد طلب کیا کہ انھیں قاضی بنایا جائے سفیان تو راستے ہی سے فرار ہو گئے مسعر نے جنون ظاہر کیا امام صاحب نے عرض کیا۔ "میرے باپ نانبائی تھے کوفے کے لوگ یہ پسند نہ کریں گے کہ ایک نانبائی کا لڑکا ان کا قاضی ہو۔" دوسری روایت کے مطابق امام صاحب نے یہ عذر کیا کہ کوفے کے باشندوں میں قریش، انصار اور عرب کے دوسرے لوگ مجھے سنگسار کر دیں گے اس پر امیرالمومنین نے انھیں چھوڑ دیا۔ پھر الملکی نے عبدالله بن عصام کے حوالے سے یہ روایت لکھی ہے کہ جب امیرالمومنین ابو جعفر المنصور نے امام ابو حنیفہ کو قضا کا عہدہ پیش کیا اور وہ انکار پر مصر رہے تو انھیں برہنہ کرکے تیس کوڑے لگوائے کہ ان کا جسم لہولہان ہو گیا اتنے میں امیرالمومنین کے چچا عبدالصمد آگئے انھوں نے کہا "تم نے یہ کیا غضب کیا۔ اہل عراق کے فقیہ ہیں بلکہ تمام اہل شرق کے تم نے ایک لاکھ تلواریں اپنے خلاف بے نیام کرلیں۔ امیرالمومنین شرمندہ ہوئے اور ہر کوڑے کے بدلے میں ایک ہزار درہم امام صاحب کو دینے چاہے مگر انھوں نے قبول نہ کیے لوگوں نے کہا خیرات کر دیجیے انھوں نے کہا کہ ان کے (خلیفہ کے) پاس کوئی مال حلال کا ہے بھی؟ مودودی صاحب نے بھی یہی مکذوبہ روایت لکھ دی ہے (ص۲۷۵) لیکن یہ نہ سوچا کہ امام صاحب کی شخصیت کوئی غیرمعروف شخصیت نہ تھی کہ امیرالمومنین ان کی حیثیت سے واقف نہ ہوں اور ان کے چچا عبدالصمد کو ان کا تعارف کرانا پڑے پھر ایک لاکھ تلواروں کا بے نیام ہونا ایسی ہی ایک لاکھ خیالی تلواریں تو حسنی باغیوں محمد الارقط و ابراہیم کے لیے بھی بے نیام ہو رہی تھیں اور زید اور ان کے دادا حضرت حسین کے لیے بھی لیکن ایک لاکھ توکجا ہزار پانسو تلواریں بپی بے نیام نہ ہوئیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سبائی غداروں نے بڑھ بڑھ کے باتیں تو بہت بنائیں مگر عین وقت پر علویوں کو ان کے خروجوں میں دغا دے گئے ایسے غدار کوفیوں کا رعب امیرالمومنین پر کیا پڑ سکتا تھا۔ دو براعظموں میں پھیلی ہوئی امت کا جو امام و امیرالمومنین یہ طاقت رکھتا ہو کہ محمد الارقط اور ابراہیم کی بغاوتوں کا چند دن میں قلع قمع کردے۔ جنھوں نے سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے رسولﷺ پر جھوٹ بول کر "مہدی" ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور سیاسی پروپیگنڈے میں "ابن رسول الله" کے نعرے بھی لگوائے ہوں وہ امیرالمومنین ایک عجمی الاصل شخص کو قتل کر ڈالنے سے کیوں خائف ہوتا اور تیس کوڑے لگوانے سے کیوں ندامت ہوتی لیکن یہ سب روایتیں بے حقیقت وضعی و من گھڑت ہیں قدما کی روایتوں میں ان کا مطلق ذکر نہیں۔ کتب تاریخ کی سلسلے وار تصریحات کو پیش نظر رکھنے سے حقیقت واضح ہو جائے گی۔

    المکی متوفی ۵۶۸ھ اور الکردری متوفی ۸۲۷ھ جن کے متعدد حوالے مودودی صاحب نے دیے ہیں بہت بعد کے لوگ ہیں اول الذکر امام ابوحنیفہ سے چار سو اٹھارہ برس اور ثانی الذکر چھ سو ستر برس بعد کے ہیں خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ھ نے جو امام صاحب کے تقریباً تین سو برس بعد کے ہیں۔ اپنی تاریخ بغداد میں ایسی ہی متضاد روایتیں لکھ دیں اہل علم نے ان کی اس حرکت کو ناپسند کیا چنانچہ ابن حلکان نے وفیات الاعیان میں خطیب پر گرفت کی ہے مگر یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ خطیب بغدادی نے امام ابو حنیفہ اور امیرالمومنین المنصور کے عہد کے تین سو برس بعد اپنی کتاب تالیف کی اور سلطان ابو المظفر عیسیٰ ابن ایوب الملک العادل نے بھی خطیب کے رو میں ان سے تین سو برس بعد اپنی کتاب السہم المصیب فی الرد علی الخطیب۔" تالیف کی یہ تالیفات بہرحال بعد کے زمانے کی ہیں تاریخ کے طالب علم کے لیے تو قریب العہد مولف و مورخ کی تصریحات ہی سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ خطیب بغدادی سے ڈیڑھ صدی پہلے کے مصنف و مورخ محمد بن جریری الطبری نے جو اپنے شیعی جذبات و رجحانات کے تحت امیرالمومنین ابو جعفر المنصور اور امام ابو حنیفہ دونوں بزرگواروں کی بظاہر کوئی عزت و حرمت نہ رکھتے تھے اس قسم کی کوئی بات نہیں لکھی اگر باہمی ہتک و حرمت اور قید و بند کی کوئی وضعی روایت انھیں پہنچی ہوتی تو ضرور لکھتے انھوں نے اس ذیل میں صرف یہ تین روایتیں لکھی ہیں (ملاحظہ ہو تاریخ طبری بذیل مادہ امیرالمومنین المنصور وقائع ۱۴۵۔۱۵۰، تعمیر بغداد)۔

    (۱) ان المنصور وجہ فی حشر الضاع والفعلة من الشام والموصل والجبل والکوفة وواسط والبصرة فاحضروا وامر باختیار قوم من ذوی الفضل والعدالة والفقة والامانة والمعرفة بالھندسة فکان ممن حضر لذالک الحجاج بن ارطاة و ابو حنیفة النعمان بن ثابت وامر بخط المدینة وحضر الاساسات وضرب اللبن وطبح الاجر فبدیٴ بذالت واول ماابتدیٴ بہ فی عملھا ۱۴۵ھ

    (امیرالمومنین) المنصور نے حکم دیا کہ کاریگروں اور مزدوروں کو شام موصل جبل، کوفہ، واسط اور بصرے سے جمع کیا جائے اور ایسے لوگ نگرانی کے لیے مقرر کیے جائیں جو اپنی فضیلت، عدالت، فقہ، امانت اور فن تعمیر سے واقفیت میں ممتاز ہوں چنانچہ جو حضرات اس غرض سے حاضر ہوئے ان میں (قاضی) حجاج بن ارطاة اور ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بھی تھے۔ پھر امیرالمومنین نے حکم دیا کہ شہر بغداد کی داغ بیل ڈالی جائے بنیادیں کھودی جائیں، اینٹیں بنائی جائیں جو نہ پکایا جائے اس طرح یہ کام شروع کر دیا گیا اور اس کی ابتدا ۱۴۵ھ میں ہوئی۔

    اس صحیح اور مناسب حال روایت کے علاوہ طبری نے یہ دو روایتیں اور بھی نقل کی ہیں یعنی:

    (۲) (امیرالمومنین) المنصور نے ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کو قاضی بنانا چاہا انھوں نے انکار کر دیا المنصور نے قسم کھائی کہ میں ضرور اس کو سرکاری عہدہ دوں گا ابو حنیفہ نے بھی قسم کھائی کہ میں کبھی قبول نہ کروں گا چنانچہ خلیفہ نے اپنی قسم کو پوری کرنے کے لیے ابو حنیفہ کو اینٹیں بنوانے، ان کا شمار کرنے اور مزدوروں سے کام لینے کی نگرانی پر متعین کر دیا چنانچہ شہر کی خندق سے متصل دیوار کی تکمیل تک ابو حنیفہ نے اس خدمت کو انجام دیا اس دیوار کی تکمیل ۱۴۹ھ میں ہوئی۔

    (۳)تیسری روایت طبری کی یہ ہے کہ خلیفہ المنصور نے امام ابو حنیفہ کو دیوانی و فوج داری کے محکموں کا قاضی بنانا چاہا انھوں نے انکار کر دیا اس پر امیرالمومنین نے بقسم کہا کہ گلوخلاصی اس وقت نہ ہوگی جب تک حکومت کی کوئی خدمت انجام دیں امام صاحب کو اس کی اطلاع ہوئی انھوں نے ایک چھڑی اٹھالی اور تعمیر بغداد کے لیے اینٹیں بنانے والوں کی اینٹیں شمار کرنی شروع کر دیں اس طریقے سے اینٹیں شمار کرنا سب سے پہلے انھوں نے ہی کیا اور اس طرح امام صاحب نے امیرالمومنین کی قسم پوری کردی فعد اللبن لیبریذ لک یمین ابی جعفر (طبری) ابن کثیر نے الہدایہ والنہایة میں اور ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں یہی روایتیں درج کی ہیں ابن جریر طبری خطیب بغدادی سے ڈیڑھ سو برس پہلے گزرے ہیں انھوں نے اپنی طبعی شیعی رجحانات سے یوں تو اپنی کتاب میں ایسی روایتیں درج کی ہیں جن کے ذریعے اصحاب رسولﷺ اور علمائے امت و خلفائے اسلام پر طعن کی کوئی سبیل نکل سکے باینہمہ انھوں نے بس یہی تین روایتیں لکھی ہیں جن میں سے صرف پہلی صحیح ہے کیونکہ امر واقعہ یہی ہے کہ تعمیر شہر بغداد کے لیے معماروں کاریگروں کے علاوہ بقول طبری قوم من ذوی الفضل والعدالتہ والفقہ والا مانة والمعرفة بالھندسة یعنی ایسے حضرات بھی جمع کیے گئے جو اپنی فضیلت و عدالت، فقہ اور امانت اور فن تعمیر کی معرفت میں ممتاز ہوں چنانچہ ان میں ایک محدث و فقیہ قاضی حجاج بن ارطاة تھے۔ انھوں نے ہی بغداد کی جامع مسجد کا نقشہ بھی مرتب کیا تھا اور اس کی سمت قبلہ ہی قرار دی تھی۔ دوسرےصاحب فضیلت و امانت و عدالتہ امام ابو حنیفہ تھے اور یہ دونوں صاحب فضیلت و امانت بزرگوار نگراں اعلیٰ متعین ہوئے تھے۔ ابن جریر طبری نے اپنی کتاب کی آخری جلد "ذیل المذیل" کے پورے ایک صفحہ پر امام ابو حنیفہ کی وفات کے ذکر میں ان کے حالات لکھے ہیں لیکن اشارتاً بھی ایسی کوئی بات نہیں لکھی جو صدیوں بعد کے لوگوں نے ہتک حرمت وقید و بند کے سلسلے میں متضاد وضعی روایتیں بیان کی ہیں مگر طبری کی مندرجہ بالا تینوں روایتوں میں نہ قیدوبند کا ذکر ہے نہ کوڑے لگوانے کا نہ زہرخورانی کا۔ ابن جریر طبری سے بھی قدیم مورخ ابن قتیبہ متوفی ۲۷۶ھ نے المعارف میں بذیل "اصحاب الرائے" امام صاحب کا تذکرہ "ابوحنیفہ صاحب الرائے رضی الله تعالیٰ عنہ کے عنوان سے کرتے ہوئے آپ کی وفات کے بارے میں لکھا ہے ومات بیغدادفی رجب سنة حمسین ومائة وھوا یومیذٍ ابن سبعین سنة ودفن فی مقابر الخیرران (المعارف،ص ۲۱۶) یعنی رجب۱۵۰ھ میں ابوحنیفہ کی وفات ہوئی اس وقت وہ ستّر برس کے تھے تدفین ان کی مقابر الخیزران میں ہوئی۔ اور مقابر الخیزران کے بارے میں خطیب بغدادی کا بیان ہے۔ (ج، ص۱۲۵) کہ یہ مقابر منسوب ہیں امیرالمومنین ابو جعفر المنصور کے فرزندن خلیفہ مہدی عباسی کی زوجہ خیزران والدہ خلیفہ ہارون الرشید و موسیٰ سے اور اسی قبرستان میں امام ابوحنیفہ و محمد بن اسحٰق صاحب المغازی کی قبور بھی ہیں پھر لکھتے ہیں:

    واول دفن فیھا الباقونة بنت المہدی ثم الخیرزان ودفن فیھا محمد بن اسحٰق صاحب المغازی واحسن بن زید و نعمان بن ثابت وقیل ہشام بن عروة۔
    سب سے اول قبرستان میں (خلیفہ) مہدی کی صاحبزادی باقونہ کی تدفین ہوئی پھر (خلیفہ موصوفہ کی زوجہ) الخیزران دفن ہوئیں اور اسی قربستان میں محمد بن اسحٰق صاحب المغازی اور حسن بن زید اور (ابوحنیفہ) نعمان بن ثابت دفن ہوئے کہا جاتا ہے کہ ہشام بن عروہ بھی۔

    المکی نے بھی امام ابو حنیفہ کے مقابر الخیزران میں دفن ہونے کا ذکر کیا ہے۔ عباسی خلفا کے قبرستان میں ان چار حضرات کا دفن ہونا امیرالمومنین المنصور سے ان کے خصوصی اعتماد اور شگفتہ تعلقات کا بین ثبوت ہے یعنی (۱)محمد بن اسحٰق صاحب الغازی کا جنھوں نے امیرالمومنین ابوجعفر المنصور کی فرمائش سے کتاب سیرة لکھی جو سیرة ابنِ ہشام کہلاتی ہے۔ (۲)حسن بن زید بن حسن بن علی بن ابی طالب کا جو امیرالمومنین کے معتمد علیہ فضلاء میں سے تھےاور اپنے چچیرے بھائی اور بھتیجوں محمد الارقط و ابراہیم ابنائے عبدالله بن حسن بن علی ابی طالب کی باغیانہ سرگرمیوں کے سخت محالفت تھے امیرالمومنین کے مصاحب رہے اور مدینہ کے عامل بھی۔ (۳)ہشام بن عروہ بن الزبیر کا جو بڑے فاضل محدث و فقیہ تھے اور خلیفہ المنصور سے تقرب خاص رکھتے تھے اور (۴)امام ابو حنیفہ کاکتاب المعارف ابن قتیبہ کے جدید ایڈیشن کے مقدمہ میں جو غایت تحقیق ثقحص سے لکھا گا ہے صراحتاً بیان ہے کہ امیرالمومنین المنصور سے جو "احسن رواة الحدیث" میں سے تھے علماء الفقہ و حدیث کو تقرب حاصل تھا جن میں ابوحنیفہ النعمان بن ثابت بھی تھے۔ صاحب فجر الاسلام کا یہ کہنا بھی اظہار حقیقت ہے وعاش (ابوحنیفہ) نحو ۱۸ سنة فی ظل الدولة العباسیة (ص۲۴۹) یعنی امام ابو حنیفہ نے ۱۸ برس دولت عباسیہ کے ظل عاطفت میں زندگی بسر کی۔ المکی نے بھی مناقب نعمان (ج۲، ص۱۷۸) میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ خلیفہ ابو جعفر المنصور نے امام ابو حنیفہ کو کوفہ سے بغداد میں بلا لیا تھا اپنے پاس ہی مقیم رکھا قاضی بننے سے تو انھوں نے متعدد بار عذر کیا بالآخر خلیفہ نے انھیں اس سے معاف رکھا "عفاعنہ" لیکن دیگر شہروں سے جومسائل اور قضایا آتے تھے ان کے مطالعے اور مناسب جواب کے لیے امام صاحب بغداد میں خلیفہ کے پاس مقیم رہے حتیٰ کہ وہیں ان کی وفات ہو گئی فلم یزل مقیما عند بغداد ولا یاذن لہ فی الانصراف الی الکوفة حتیٰ مات بھا (مناقب نعمان) خود المکی کی اس روایت سے قیدوبند و زہر خورانی کے اتہامات کی کیا حقیقت رہتی ہے۔ قدما کے بعد پھر متاخرین میں یاقوت حمومی ہیں جنھوں نے معجم البلدان میں تعمیر بغداد کی تفصیلات دی ہیں۔ (جزو۴، ص۱۴۶، طبع بیروت) انھوں نے بھی وہی روایات لکھی ہے جو طبری نے پہلے بیان کی ہیں یاقوت کا قاعدہ ہے کہ شہروں کی بابت لکھتے وقت کوئی اہم واقعہ ان کی نگاہوں میں ہوتا ہے تو اسے بھی لکھ دیتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے ساتھ اگر اس زمانے میں ایسی باتیں ہوئ ہوتیں جو لوگوں نے مشہور کر رکھی ہیں تو یاقوت حموی ان کا ذکر ضرور کرتے وہ تو صرف اتنا لکھتے ہیں:

    ووجہ المنصور فی حشر الصناع والفعلة میں الشام والموصل والجبل والکوفة وواسط فا حضروا مرباختیار قوم من اھل الفضل والعدالة وانفقة والامانة والمعرفة بالھندسة فجمعم وتقدم الیھم ان یشرفوا عل النباء وکان ممن حضر الحجاج بن ارطاة وابو حنیفة الامام وکان اول العمل فی ۱۴۵ھ
    (امیرالمومنین) المنصور نے اہل صنعت و حرفت کو جمع کرنے کے لیے شام و موصل و جبل و کوفہ وواسط کو اپنے کارندے بھیجے چنانچہ انھیں حاضر کر دیا گیا پھر آپ نے حکم دیا کہ (نگرانی کے لیے) ایسے لوگ منتخب کیے جائیں جو اہل فضل و عدالت ہوں، فقیہ ہوں اور تعمیر کرانا جانتے ہوں اس طرح یہ حضرات جمع ہوئے اور آپ نے حکم دیا کہ تعمیر شروع کر دیں۔ جو حضرات حاضر ہوئے تھے ان میں حجاج بن ارطاة امام ابو حنیفہ بھی تھے اس کام کی ابتدا ۱۴۵ھ میں ہوئی۔

    ظاہر ہے امیرالمومنین نے امام صاحب کو ان صفات کا حامل سمجھا اور امام صاحب نے امیرالمومنین کے فرمان کی تعمیل کی تو اس کی گنجائش کہاں رہی کہ باہمی ہتک حرمت اور بغض و عناد کی داستانوں پر توجہ کی جائے اور مودودی صاحب جیسے لوگ ان بے احتیاط اور غیرذمےدار لوگوں کی مفتربات کو حجت بنا کر مسلمانوں کو بے وقوف بنانا چاہیں۔

    پھر دیکھنا چاہیے کہ المسعودی (م۴۷ھ) جو طبری کے بعد قریب ترین عہد کا مصنف اور مسلکاً شیعہ ہے۔ اس نے مروج الذہب میں اصحاب رسول خداﷺ اور خلفا اسلام پر طعن کاکوئی پہلونہیں چھوڑا۔ جن محاسن مناقب و فضائل کا انکار ممکن نہ تھا وہ تو اس نے اپنے طریقے پر بیان کر دیے لیکن ساتھ ساتھ واہی اور خودساختہ روایات کے ذریعے چٹکیاں بھی لی ہیں۔ اسے نہ امام ابو حنیفہ سے کوئی روحانی یا علمی تعلق تھا اور نہ اپنے اعتقاد میں وہ امیرالمومنین المنصور کو اپنا امام سمجھ سکتا تھا۔ اسے اگر ان دونوں بزرگواروں کے مابین کسی تلحی کاعلم ہوتا یا قید و بند اور زہر حوانی وغیرہ کی بابت کوئی داستان پہنچتی تو خوب اچھا لتا آتا لیکن وہ امیرالمومنین کے عہد مبارک کے اہم واقعات کے تحت امام ابو حنیفہ کی وفات کے بارے میں صرف اتنا لکھتا ہے۔

    وفی سنہ خمسین ومائة مات ابو حنیفہ النعمان بن ثابت مولیٰ تیم اللات بن بکربن وائل فی ایام المنصور بغدا دو وتوفی وھو ساجدنی صلاتة وھوا ابن سبعین سنتة۔
    ۱۵۰ھ میں ابو حنفیہ نعمان بن ثابت نے بعہد (امیرالمومنین) المنصور بغداد میں وفات پائی وہ تیم اللات میں بکر بن وائل کے موالی میں تھے۔ نماز پڑھتے وقت سجدے کی حالت میں ان کا انتقال ہوا تھا اور وہ اس وقت ستر برس کے تھے۔

    ان مورخوں اور تذکرہ نویسوں اور مودودی صاحب جیسے "محققوں" کی تمام خرافات اور زہریلی روایات کی تردید کے لیے یہ واقعہ بھی یہاں نقل کرنا ضروری ہے کہ امام ابو حنیفہ نے قیام بغداد کے زمانے میں اپنے سب سے چھوٹے شاگرد امام محمد سپر کی دونوں کتابیں املا کرائیں۔سلطان الملک المعظم فرماتے ہیں (اسم المصیب فی الرد الخیب، ص۶۶، طبع دیوبند)

    ان ابا حلیفة رضی الله تعالیٰ عنہ املیٰ محمداً رحمہ الله تعالیٰ کتابی السیرو ًکرفیھا من امور الجھادو وصایا الامراء وما ینبغی ان یفعلہ اھل التغور وقسمة الغنائم مالم لیسبقہ الیٰ جمعہ احد ولم یجمع مثلہ بعدہ احد۔
    امام ابو حنیفہ نے (امام) محمد کو سیر کی دونوں کتابیں املاء کرائیں۔ ان میں آپ نے جہاد کے مسائل اور امرا کو نصیحتیں لکھوائیں نیز یہ کہ سرحدی علاقوں کے لوگ کیا انتظام رکھیں اور مال غنیمت کیسے تقسیم ہو۔ یہ وہ کام ہے جو اس طرح ان سے پہلے کسی نے جمع نہیں کیا تھا اور نہ ان کے بعد کسی نے اس طرح مدون کیا۔

    یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ امام محمد امام ابو حنیفہ کے سب سے چھوٹے شاگرد ہیں اور آپ کے بعد بقیہ علوم کی تکمیل امام ابو یوسف اور امام مالک سے کی۔ امام محمد کی پیدائش ۱۳۲ھ کی ہے۔ گویا بغداد شریف کی تعمیر کے وقت یعنی ۱۴۵ھ میں تیرہ برس کے تھے۔ امام ابو حنیفہ کی وفات ۱۵۰ھ کی ہے اور اس وقت بغداد کی اندرونی فصل تیار ہو گئی تھی۔ گویا یہی پانچ برس ہیں جب امام اعظم کا قیام بغداد میں رہا۔ اگر چودہ یا اٹھارہ برس کی عمر میں امام محمد نے یہ دونوں کتابیں اپنے استاد کے املا سے لکھیں تو یقیناً ۱۴۷ سے ۱۵۰ کے درمیان کی بات ہوگی۔

    ظاہر ہے کہ یہ اچھوتا علمی کام نہایت اطمینان ہی کی حالت میں انجام دیا جاسکتا تھا۔ اس سے ثابت ہے کہ بغداد شریف کے قیام کے دوران امام صاحب احترام و اطمینان کی زندگی بسر کرتے تھے۔ دوسرے فرائض کی انجام دہی کے باوجود ان کے پاس اتنا وقت تھا کہ یہ علمی کارنامہ بھی انجام دیں۔ پھر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ کام امیرالمومنین کے فرمان ہی کے تحت پورا کیا گیا کیونکہ اس کا موضوع وہ ہے جس کی ضرورت حکومت کو ہوتی ہے۔

    البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سیر کی دونوں کتابیں محض ایک تفصیلی خاکے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ انھیں باقاعدہ اور مبسوط تصنیف کی صورت تو امام محمد نے اپنے آخر زمانے میں دی جیسا کہ ہم بعد میں لکھیں گے۔


    محمود احمد عباسی
    حقیقت خلافت و ملوکیت​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں