واقعہ کربلا حقیقت کے آئینہ میں

زبیراحمد نے 'فتنہ خوارج وتكفير' میں ‏نومبر 6, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    حضرت حسن رض کوشہیدکرنے کے بعد سبائی یہودیوں کی نگاہیں اب حضرت حسین رض پرتھیں کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں میں انتشارپھیلانے کے لئے حسین رض کی شخصیت بہت کارآمدہے لیکن چونکہ حضرت امیرمعاویہ رض دوراندیش اورمعاملہ فہم انسان تھے اس لئے جب تک آپ رض زندہ رہے انہیں کسی شرارت کی جراءت نہیں ہوئی لیکن آپ رض کے انتقال کے بعدان لوگوں نے امت مسلمہ کے درمیان خون ریزی عام کردی۔حضرت امیر معاویہ رض کواپنی زندگی میں یہ اندیشہ ہوگیاتھاکہ یہ لوگ امت مسلمہ کوخلافت کے مسئلے پرایک دوسرے سے دست وگریباں کرسکتے ہیں لہٰذہ آپ رض نے اتفاق سے اس مسئلے کوحل کرلیااور اپنے بیٹے یزید کی شخصیت کوخلافت کے لئے نامزدکرلیا۔
    اس کے بعد آپ رض نے محسوس کیاکہ سبائی حضرت حسین رض کومسلمانوں کے درمیان فتنہ برپاکرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں اس لئے اپنے بیٹے کووصیت کی کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اہل عراق سبائی خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ حیسن رض کوتمہارے خلاف بھڑکائیں گے اوروہ ان کی باتوں میں آجائیں اورتم ان پرقابوپالوتوانہیں معاف کردینا۔ (تاریخ طبری 5|322)
    حضرت امیر معاویہ رض کے انتقال کے بعد وہی ہواجس کاڈرتھاسبائی حضرت حسین رض کے پیچھے پڑگئے اورمسلسل انہیں خطوط لکھے حضرت حسین رض اس سازش کوسمجھ گئے اس لئے شروع میں انکارکیالیکن جب خطوط مسلسل آنے لگے توآپ رض نے اس فتنے کوختم کرنے کاپروگرام بنایا۔حضرت حسین رض نے یہ بات حضرت ابن عباس رض کوبتائی جب یزید رح نے ابن عباس رض کوخط لکھاکہ حیسن رض کوکوفہ جانے سے روکیں توابن عباس رض نے یزید رح کوحسین رض کے اصل مشن سے آگاہ کیاجس کے بعد یزید رح خاموش اور مطمئن ہوگئے۔ ( الطبقات لکبریٰ 1|450، تاریخ مدینہ دمشق 14|210 ، بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب 6|2611 ، البدایۃ والنہایۃ 8|164 ، تہذیب الکمال للمزی 6|420 ، سیر اعلام النبلاء للذہبی 3|304 ،وسیاتی لفظہ)
    لیکن جب حضرت حسین رض کوفہ کے قریب پہنچے توحالات کچھ اور تھے وہ سمجھ گئے کہ کوفی وسبائی یہودیوں پرکنٹرول حاصل کرناآسان نہیں اسلئے انہوں نے یزید کے پاس جانے کی اجازت مانگی عبیداللہ بن زیاد نے اجازت دے دی اور حسین رض شام روانگی کے لئے تیارہوگئے مگرخطوط بھیجنے والے کوفی سمجھ گئے حسین رض ہماری موت کاپیغام یزیدکے پاس لے جارہے ہیں اس لئے ان کوفیوں نے حضرت حسین رض کے قافلے پرحملہ کرکے خطوط جلادیئے اور حسین رض کوشہید کردیاآپ رض کے ساتھیوں نے آپ رض کی جان بچانے کیلئے اپنی جان کی بازی لگادی لیکن اکثریت شہید ہوگئی مگرپھربھی حضرت حسین رض امت مسلمہ کے درمیان اتحادواتفاق کی کوشش میں شہیدہوگئے۔
    یہودکی تاریخ اپنے انبیاء کرام کے قتل پرمشتمل ہے لہٰذہ یہاں بھی انہوں نے اپنی اسی سرشت کامظاہرہ کیااورحضرت امام حسین رض کی شہادت بھی اسی سرشت کانتیجہ تھاحضرت سکینہ بنت حسین رض کے شوہرکوجب اسی ٹولے نے شہیدکیاتوانہوں نے اس پورے پس منظر کوچندلفظوں میں یوں بیان کیا
    "اے اہل کوفہ تم ہی نے میرے والد کوقتل کیاتم ہی نے میرے دادا حضرت علی رض کوقتل کیاتم ہی نے میرے بھائی حضرت حسین رض کوقتل کیاتم ہی نے میرے چچا حضرت حسن رض کوقتل کیاتم ہی نے میرے شوہرکوقتل کیاتم لوگوں نے مجھے بچپن میں یتیم بناڈالابڑے ہونے پربیوہ کردیا۔ (العقدالفرید 7|288)"
    حادثہ کربلاکی تاریخی روایات میں وہ جمع وتحقیق کااہتمام نہیں ہواجوکہ احادیث کے باب میں ہوتاہے بلکہ اکثرروایات بیان کرنے والے راوی ناصرف ضعیف ہیں بلکہ کذاب اورشیعہ بھی ہیں جیساکہ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ "اورمتقدمین نے شہادت حسین رض سے متعلق کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں رطب ویابس صحیح و غلط سب موجود ہیں۔ (الاصابۃ الابن حجر 2|81)"
    بعض روایات کے مطابق یزید کے باقاعدہ خلیفہ بننے کے بعدیزید کے اصحاب جب مدینہ میں حسین رض کے پاس بیعت کی رسم پوری کرنے کیلئے پہنچے توانہوں نے بالکل انکارنہیں کیابلکہ مجمع عام میں رسم پوری کرنے کا وعدہ کیاتاکہ سب کومعلوم ہوجائے کہ حسین رض بھی یزید کے مخالف نہیں:

    "ولیدنے حسین رض کوامیر معاویہ رض کی وفات کی خبردی اوریزیدکے لئے بیعت کی دعوت دی حسین رض نے کہا اناللہ وناعلیہ راجعون اللہ معاویہ رض پررحم کرےاورتمہیں اجرعظیم سے نوازے تم مجھ سے جوبیعت کامطالبہ کررہے ہوتومجھ جیسے شخص کوخفیہ بیعت نہیں کرنی چاہئے اورمیں سمجھتاہوں کہ تم بھی یہاں کی گئی خفیہ بیعت کوکافی نہیں سمجھوگے جب تک میں پورے مجمع کے سامنے اس کااعلان نہ کردوں ولیدنے کہاجی ہاں آپ نے درست فرمایااس پرحسین رض نے کہاجب تمام لوگوں کوبلاکربیعت لیناتووہاں لوگوں کے ساتھ ہمیں بلالیناپھرتمام لوگوں کے ساتھ ہماری بعیت بھی ہوجائے گی ولید نے کہاٹھیک ہے پھرآپ اللہ کانام لیکررخصت ہوں اگلی بارتمام لوگوں کے ساتھ آپ آجایئے گا۔ (تاریخ طبری 5|339)"
    حسین رض نے بھرے مجمع میں بیعت کی خواہش اس لیئے ظاہرکی تاکہ یہ بات زیادہ سے زیادہ لوگوں میں مشہورہوجائے اور سب کوپتہ چل جائے کہ حسین رض یزید رح کے مخالف نہیں ہیں انہوں نے یزید کی بیعت کرلی ہے دراصل حسین رض سے سبائیوں نے مخالفت کی امید لگارکھی تھی لیکن بھرے مجمع میں حسین رض بیعت کی خواہش ظاہر کرکے انکے منصوبوں کوناکام بناناچاہتے تھے۔بہرحال اگلے دن وعدے کے مطابق حسین رض مدینہ میں موجود رہے لیکن حکام دوسری مصروفیات کے باعث ان کی بیعت کاانتظام نہ کرسکے پھراس کے بعد والی رات حسین رض مکہ روانہ ہوگئے۔(تاریخ طبری 5|341
    آپ رض کے مکہ آنے پر مولاناسیدعلی احمدعباسی لکھتے ہیں کہ "وہ مہینہ عمرہ کاتھااس لئے قرین قیاس ہے کہ دونوں بزرگوار (حسین وابن زبیر رض) عمرہ کی نیت سے آئے ہوں۔ (حضرت معاویہ رض کی سیاسی زندگی ص: 313)"
    جب اہل کوجہ سبائیوں کویہ بات معلوم ہوئی توانہوں نے آپ رض کوخطوط لکھناشروع کئے لیکن آپ رض انکارکرتے رہے کیوں کہ ان کی نیتوں سے آپ رض پہلے سے ہی واقف تھے چنانچہ امام ابن کثیررح نقل کرتے ہیں کہ "معاویہ رض کے دورسے اہل کوفہ حسین رض کی طرف خطوط بھیجتے تھے انہیں اپنے پاس اپنے آنے کی دعوت دیتے لیکن حسین رض ہربارانکارکرتے ۔۔۔۔۔
    حسین رض نے فرمایاکہ یہ کوفی لوگ درحقیقت ہمیں اپنے مفاد کیلئے استعمال کرناچاہتے ہیں نیزوہمارااستعمال کرکے امت مسلملہ کے بیچ خونریزی پھیلانا چاہتے ہیں، یہ سب دیکھ کرحسین رض فکرمندہوگئے کبھی سوچتے کہ ان کے پاس جاکراس فتنے کوختم کرناچاہئے کبھی سوچتے جہاں ہیں وہیں رہناچاہئے۔(البدایہ والنہایہ احیاء التراث 8|174)"
    توثابت یہ ہواکہ امام حسین رض نے حکومت وقت کے خلاف کوئی خروج نہیں کیاتھابلکہ آپ رض تویزید رح کی خلافت کے حق میں تھے اس کے برعکس آپ کوفی سبائیوں کے خلاف تھے اورانکے فتنے کے سدباب کے لئے آپ ان کے پاس گئے لیکن سبائیوں نے اپنے مذموم مقاصد کی ناکامی کودیکھ کرآپ رض کوشہیدکردیااوراس طرح کربلاکاکربناک واقعہ وقوع پذیرہوگیا۔یہودکی مسلمانوں کوآپس میں لڑانے کی یہ سازش ہنوزجاری ہے اورمسلمانوں کوچاہئے کہ قرآن اور صحیح حدیث پریکجاہوکران سازشوں کوناکام بنائیں۔

    کتاب: حادثہ کربلااورسبائی سازش ص 16،29،30،31،26،27
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    جزاکم اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں