اقبال اقبال ، اسلام اور اقبال کا اپنا کردار

اہل الحدیث نے 'مجلسِ اقبال' میں ‏نومبر 8, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    پیغامات:
    4,974
    علامہ اقبال پر آج کے نام نہاد مفکرین کی جانب سے پتہ نہیں کیا کیا اعتراجات کیے جاتے ہیں۔ کچھ سر پھرے مذہبی نوجوان بھی الٹے سیدھے شبہات کا شکار ہو کر ادھر ادھر کی ہانکتے رہتے ہیں۔

    ان کی تشفی کے لیے ان کے اپنے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال کے مضمون سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے:

    "اباجان کے عقیدت مندوں میں ایک حجازی عرب بھی تھے جو کبھی کبھار انھیں قرآن مجید پڑھ کر سنایا کرتے ۔ میں نے بھی ان سے قرآن مجید پڑھا ہے۔ ان کی آواز بڑی پیاری تھی۔ اباجان جب بھی ان سے قرآن مجید سنتے، مجھے بلا بھیجتے اور اپنے پاس بٹھا لیتے۔ ایک باز انھوں نے سورۃ مزمل پڑھی تو آپ اتنا روئے کہ تکیہ آنسوئوں سے تر ہو گیا۔ جب وہ ختم کر چکے تو آپ نے سراٹھا کر میری طرف دیکھا اور مرتعش لہجے میں بولے ’’تمہیں یوں قرآن پڑھنا چاہیے!‘‘اسی طرح مجھ سے ایک مرتبہ مسدس حالی پڑھنے کوکہا، اور خاص طور پر وہ بند .....جب قریب بیٹھے ہوئے میاں محمد شفیع نے دہرایا ؎

    ’’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا!‘‘

    تو آپ سنتے ہی آبدیدہ ہوگئے۔ میں نے اماں جان کی موت پر انھیں آنسو بہاتے نہ دیکھا تھا مگر قرآن مجید سنتے وقت یا اپنا کوئی شعر پڑھتے وقت یا رسولؐ اللہ کا اسم مبارک کسی کی نوک زبان پر آتے ہی ان کی آنکھیں بھر آیا کرتیں۔

    اباجان کو انگریزی لباس سے سخت نفرت تھی۔ مجھے ہمیشہ شلوار اور اچکن پہننے کی تلقین کیا کرتے۔ منیرہ بھی اگر اپنے بالوں کو دو حصوں میں گوندھتی تو نا پسند کرتے اور کہتے :’’اپنے بال اس طرح مت گوندھا کرو، یہ یہودیوں کا اندازہے۔‘‘اور اگر میں کبھی غلطی سے اپنی قمیضوں یا شلواروں کا کپڑا بڑھیا قسم کا خرید لاتا تو بہت خفا ہوتے اور کہتے ’’تم اپنے آپ کو کسی رئیس کا بیٹا سمجھتے ہو؟تمہاری طبیعت میں امارت کی بو ہے۔ا ور اگر تم نے اپنے یہ اندازنہ چھوڑے تو میں تمہیں کھدر کے کپڑے پہنوا دوں گا۔’’میرے لیے بارہ آنے گزسے زائد قمیص کا کپڑا خریدنا یا آٹھ روپے سے زائدکا بوٹ خریدنا جرم تھا جس کی سزاخاصی کڑی تھی۔ لیکن اگر انھیں کبھی یہ معلوم ہو جاتا کہ میں آج پلنگ پر سونے کی بجائے زمین پر سویا تو بڑے خوش ہوا کرتے۔

    اپنی زندگی میں صرف ایک بار انھوں نے مجھے سنیما دیکھنے کی اجازت دی ۔ وہ ایک انگریزی فلم تھی جس میں نپولین کا عشق دکھایا گیاتھا۔ مجھے یاد ہے کہ ابا جان کو یہ نہ بتایا گیا بلکہ کہا گیا کہ اس فلم میں نپولین کے حالات زندگی ہیں۔ابا جان دنیا بھر کے جری سپہ سالاروں سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ مجھے اکثر خالد بن ولید ؓاور فاروق اعظمؓ کی باتیں سنایا کرتے۔ ایک دفعہ انھوں نے مجھے بتایا کہ نپولین کے اجداد عرب سے آئے تھے،اور واسکوڈی گاما کو عربوں ہی نے ہندوستان کا راستہ دکھایا۔"


    مطالعۂ اقبال کے سو سال
    علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر و فن پر منتخب مقالات
    (۱۹۰۱ء ۔ ۲۰۰۰ء)
    مرتبین :
    رفیع الدین ہاشمی محمد سہیل عمر وحید اختر عشرت
     
    نصر الباری اورعائشہ نے اس کا شکریہ ادا کیا

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں