اقبال علامہ اقبال بمقابلہ ڈاکٹر جاوید اقبال

اہل الحدیث نے 'مجلسِ اقبال' میں ‏نومبر 8, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    ہمارے ہاں شخصیت پرستی و شخصیت پسندی کا رجحان کافی زیادہ پایا جاتا ہے۔ لوگ اولاد میں والدین جیسی صفات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ جستجو مزید بڑھ جاتی ہے جب والدین میں سے کوئی معروف شخصیت ہو۔لیکن اکثر اوقات ایسی مماثلت نظر نہیں آتی

    بالکل یہی معاملہ اقبال اور ڈاکٹر جاوید اقبال کے ساتھ بھی ہے۔

    ہمارے ایک استاد ڈاکٹر شبیہ الحسن کہا کرتے تھے
    "شیخ نور محمد کے گھر اقبال پیدا ہوا اور اقبال کے گھر پھر شیخ نور محمد پیدا ہو گیا"

    لیکن میرے خیال میں اقبال کے گھر پیدا ہونے والا سپوت "شیخ نور محمد" بھی نہ بن سکا

    کہاں اقبال اور کہاں ڈاکٹر جاوید اقبال

    کہاں لوگوں کو اسلام کی طرف لانے والا اقبال، اسلام سے محبت کرنے والا اقبال، اسلام کا برصغیر میں علمبردار اقبال اور کہاں سیکولر ڈاکٹر جاوید اقبال

    اس فرق کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر جاوید اقبال کی تحاریر کی جانب ہی نظر دوڑاتے ہیں

    ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں



    "ابا جان سے لوگ گھر پر ہی ملنے آتے۔ ہر شام احباب کی محفل جما کرتی۔ ان کی چارپائی کے گرد بہت سی کرسیاں رکھی ہوتیں اور لوگ ان پر آکر بیٹھ جایا کرتے۔ آپ چارپائی پر لیٹے، ان سے باتیں کرتے رہتے اور ساتھ ساتھ حقہ بھی پیتے جاتے۔ رات کا کھانا نہ کھاتے تھے، صرف کشمیری چائے پینے پر اکتفا کرتے۔ رات گئے تک علی بخش ان کے پائوں دباتا اور اگر میں کبھی دبانے بیٹھتا تو منع کر دیتے اور کہتے ’’تم ابھی چھوٹے ہو، تھک جائو گے۔‘‘

    مجھے خاص طور پر حکم تھا کہ جب بھی ان کے پاس لوگ بیٹھے ہوں اور کوئی بحث مباحثہ ہو رہا ہو تو میں وہاں ضرور موجود رہوں۔ لیکن مجھے ان کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہ ہوا کرتی کیونکہ وہ میری سمجھ سے بالاتر ہوتیں۔ سو، میں عموماً موقع پا کر وہاں سے کھسک جایا کرتا جس پر انھیں بہت رنج ہوتا اور وہ اپنے احباب سے کہتے ’’یہ لڑکا نجانے کیوں میرے پاس بیٹھنے سے گریز کرتا ہے۔‘‘دراصل اب وہ تنہائی بھی محسوس کرنے لگے تھے اور اکثر اوقات افسردگی سے کہا کرتے ’’سارا دن یہاں مسافروں کی طرح پڑارہتا ہوں، میرے پاس آکر کوئی نہیں بیٹھتا!‘‘

    ڈاکٹر جاوید اقبال کی طبیعت ابتداء ہی سے ایک نظریہ سے عاری معلوم ہوتی ہے اور افسوس انہوں نے اپنے والد سے نظریہ تک بھی نہیں لیا۔ بلکہ اقبال انہیں بلند فضاؤں میں اڑانا چاہتے تھے تو وہ سمندری بگلوں کی طرح خود ہی محنت اور لگن سے جی چراتے تھے۔

    ملاحظہ کیجیئے :

    "مجھے مصوری سے بھی دلچسپی تھی لیکن اباجان کو میرے اس شوق کا علم نہ تھا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک تصویر بنائی جو اتفاق سے خاصی اچھی بن گی۔ ان دنوں تایا جان سیالکوٹ سے لاہور آئے ہوئے تھے اور ہمارے ہاں مقیم تھے۔ تایاجان خود انجینئر تھے لیکن جب انھوں نے میری بنائی ہوئی تصویر دیکھی تو بے حد خوش ہوئے۔ فوراً تصویر ہاتھ میں لے کر اباجان کو دکھانے چلے گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے گیا۔ اباجان کو پہلے تو یقین نہ آیا کہ تصویر میں نے بنائی ہے، لیکن جب یقین آگیا تو میری حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے فرانس، اطالیہ اور انگلستان سے میرے لئے خاص طور پر آرٹ کی کتب منگوائیں۔ انھیں خیال تھا کہ دنیا کے بہترین مصوروں کے شاہکاروں کو دیکھ کر مصوری کے لئے میرا شوق بڑھے گا لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جب میری نظر سے مصوری کے شاہکار گزرے تو میں نے اس خیال سے ہمت ہار دی کہ اگر میں ساری عمر بھی کوشش کروں تو ایسی خوبصورت تصاویر نہیں بنا سکتا۔ "

    اسی طرح جناب نے جب اپنے والد سے آلہ موسیقی گرامو فون کی خواہش کی تو اقبال نے کیا کیا؟

    "مجھے موسیقی سے بھی خاصا لگائو تھا۔ لیکن ہمارے گھر میں نہ تو ریڈیو تھا اور نہ گراموفون بجانے کی اجازت تھی کیونکہ اباجان ایسی چیزوں کو پسند نہ کرتے تھے ۔البتہ گانا سننے کا انھیں شوق ضرور تھا، اور اچھا گانے والوں کو جب کبھی گھر بلوا کر ان سے اپنا یا اوروں کا کلام سنتے تو مجھے بھی پاس بٹھالیا کرتے۔ فقیر نجم الدین مرحوم ، اباجان کو اکثر ستار بجا کر سنایا کرتے تھے۔ خود ابا جان کو جوانی میں ستار بجانے کا شوق رہ چکا تھا۔ لیکن جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یورپ گئے تو اپنی ستار کسی دوست کو دے گئے۔ ۱۹۳۱ء میں جب گول میز کانفرنس میں شمولیت کے لیے انگلستان گئے تو اس وقت میری عمر کوئی سات سال کے لگ بھگ تھی۔ میں نے انھیں ایک اوٹ پٹانگ سا خط لکھا اور خواہش ظاہر کی کہ جب وہ واپس تشریف لائیں تو میرے لیے گراموفون لیتے آئیں۔ گراموفون تو وہ لے کر نہ آئے لیکن میرا انھیں انگلستان میں لکھا ہوا خط ان کی مندرجہ ذیل نظم کی شان نزول کا باعث ضرور بنا ؎

    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

    نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

    خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو

    سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر

    اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں

    سفال ہند سے مینا و جام پیدا کر

    میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر

    مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر

    مرا طریق امیری نہیں ،فقیری ہے

    خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں