اقبال اقبال کے وارث کون؟

اہل الحدیث نے 'مجلسِ اقبال' میں ‏نومبر 8, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    اقبال کے نظریہ خودی اور تصور شاہین سے کون واقف نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اقبال کے جنازہ پر سید عطا اللہ شاہ بخاری سے تاثرات کا کہا گیا۔

    سید صاحب نے جواب دیا:

    "اقبال کو نہ ہی قوم سمجھ سکی اور نہ ہی انگریز، اگر قوم سمجھ لیتی تو آج غلام نہ ہوتی اور اگر انگریز سمجھ لیتا تو آج اقبال بستر مرگ پر نہ مرتا بلکہ تختہ دار پر لٹکایا جاتا"

    افسوس کی بات ہے کہ اولاد ہونے کے باوجود اقبال اپنی اولاد کے ثمر سے محروم ہی رہے۔ اقبال نے برصغیر میں مسلمانوں کو اسلام کی طرف راغب کیا اور اقبال کی اپنی اولاد سیکولر ہی رہی۔

    اس کی روشنی میں واضح طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کے وارث ان کی اولاد نہیں بلکہ ان کے نظریہ کو زندہ رکھنے اور اس کی ترویج کے لیے کام کرنے والے پروفیسر عبدالجبار شاکر، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی جیسے لوگ ہیں۔

    جاوید اقبال کی طبیعت کے حوالے سے پہلے ہی گفتگو ہو چکی ہے کہ وہ شروع ہی سے ذرا بےپروا طبیعت کے مالک تھے لیکن ایک حقیقت سے مزید آج پردہ اٹھانا چاہوں گا۔

    میاں یوسف صلاح الدین جو اپنے آپ کو فخر سے اقبال کا نواسہ بتاتے ہیں، کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ طوائفوں میں گھرے رہنے والے، اس ٹولہ کی پاکستان میں سرپرستی کرنے والے ہیں۔

    بطور لطیفہ ایک بات نقل کرتا جاؤں۔ کہا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ ایک بار لاہور سے میاں یوسف صلاح الدین کے مقابلہ میں الیکشن پر کھڑے ہوئے۔ دوران تقریر بٹ صاحب نے عوام سے پوچھا:
    "لوگو تمہیں معلوم ہے کہ اقبال اپنے ماتھے پر ایک ہاتھ رکھ کر کیا سوچتے رہتے تھے؟"

    لوگوں نے کہا کیا سوچتے رہتے تھے؟

    حافظ سلمان بٹ نے جواب دیا:

    "علامہ یہ سوچتے رہتے تھے کہ کس کنجر کو بیٹی دے بیٹھا ہوں"

    یہ بات تو جھوٹ ہے کیونکہ اقبال جب فوت ہوئے تب ان کی بیٹی منیرہ صرف 4 سال کی تھی لیکن یہ المیہ ہے کہ ان کی بیٹی کی شادی ایسے گھر میں ہوئی۔ میں نے اس مسئلہ پر تھوڑی تحقیق کی تو کچھ حقیقت منکشف ہوئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔

    ہوا کچھ یوں کہ اپنی بیوی کی وفات کے بعد، اقبال نے ایک جرمن گورنس رکھ لی تاکہ وہ بچوں کو امور کا خیال رکھ سکے کیونکہ ان دنوں اقبال خود بھی کافی بیمار رہتے تھے۔
    ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں:

    "اماں جان کی وفات کے کوئی دو ایک سال بعد منیرہ کی دیکھ بھال کے لئے اباجان نے ایک جرمن خاتون کو علی گڑھ سے بلوایا، اور وہ ہمارے یہاں رہنے لگیں۔ ہم انھیں،آپا جان، کہا کرتے۔ ان دنوں ہماری گھریلوزندگی میں ایک ترتیب سی آگئی۔ ہم سب، اباجان سمیت، دوپہر اور رات کا کھانا کھانے والے کمرے میں کھایا کرتے۔ منیرہ اور آپاجان، ہر شام اباجان کے پاس بیٹھا کرتیں۔ اباجان جرمن زبان بخوبی جانتے تھے، اس لئے آپا جان، سے جرمن ہی میں گفتگو کیا کرتے، اور منیرہ سے بھی کہتے کہ جرمن زبان سیکھو، جرمن عورتیں بڑی دلیر ہوتی ہیں۔ منیرہ ان دنوں جرمن زبان کے چند فقرے سیکھ گئی تھی، اس لئے وہ بھی ان سے جرمن میں بات چیت کرتی اور خوب ہنسی مذاق ہوتا۔"

    وفات کی رات بھی یہ گورنس جب منیرہ کو اقبال کے بستر سے لینے آئی تو اس نے جانے سے انکار کیا۔ اقبال نے گورنس سے کہا کہ اسے یہاں رہنے دو کیونکہ اسے پتہ چل گیا ہے کہ یہ اس کی اپنے باپ کے ساتھ آخری رات ہے۔

    اس کے بعد علامہ کے بچوں کی پرورش کیسے ہوئی؟ یہ حالات ابھی تک نہیں مل سکے لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ اقبال اپنے بچوں کو وہی شاہین بنانا چاہتے تھے، جس کا انہوں نے تصور کیا لیکن افسوس! اقبال کے گھر شیخ نور محمد بھی نہ پیدا ہو سکا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں