اقبال کیا علامہ اقبال نزول مسیح کے قائل تھے؟

عفراء نے 'مجلسِ اقبال' میں ‏نومبر 15, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:

    "علامہ نے فرمایا کہ میری رائے میں مسیح اور مہدی کے نزول کا تخیل سراسر غیر اسلامی ہے۔ قرآن حکیم میں ان بزرگوں کی دوبارہ تشریف آوری کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں نزول مہدی کا مطلق ذکر نہیں ہے۔ ہاں، مسیح کی آمد ثانی سے متعلق دو حدیثیں ضرور موجود ہیں مگر جب قرآن میں اس کی آمد ثانی کا کوئی وعدہ نہیں ہے تو لامحالہ ان کو ناقابل اعتماد قرار دینا پڑے گا۔ مسیح اور مہدی کا انتظار کرتے رہنے کے بجائے خود مسلمانان عالم ہی وہ کام کیوں نہ کریں جو وہ مسیح اور مہدی سے متعلق سمجھتے ہیں"

    اقتباس از ملفوظات اقبال (یوسف سلیم چشتی)
    اقبالیات کے سو سال ۔ منتخب مضامین


    اس اقتباس کو اگر سچ مان لیا جائے کہ واقعی علامہ اقبال کی یہی رائے تھی تو حیرت ہوتی ہے کیونکہ قرآن کی کئی آیات سے نزول مسیح کا استدلال کیا جاتا ہے۔اور یہ بات تفاسیر میں موجود ہے۔ لہذا علامہ کے حوالے سے یہ بات ماننے کو جی نہیں چاہتا۔
    بصورت دیگر یوسف سلیم چشتی کی اس بات کا رد کیسے ہو؟ کیا علامہ کی کسی تحریر و تقریر سے اس بات کو غلط ثابت کیا جاسکتا ہے؟
    اہل علم سے درخواست ہے کہ وہ اپنی آراء سےمستفید کروائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اچھے سوالات ہیں، فی الحال اس اقتباس کو سچ نہ ہی مانا جائے یہاں تک کہ خود اقبال کے کام سے شہادت مل جائے۔
    مہدی کے متعلق یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ ایک فرقہ امام منتظر کے انتظار میں ہے دوسرے کے ہاں مہدی کا انتظار ہے ، اقبال نے کس کے بارے میں یہ کہا یہ واضح ہو گا خود ان کے الفاظ سے ، نہ کہ وہ جو یوسف چشتی کہیں، یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اہل السنت والجماعت جس مہدی کی بات کرتے ہیں ان کو دوبارہ نہیں آنا۔ اس لیے لگتا ہے کہ یہ ایک اقلیتی فرقے کے امام منتظر پر تبصرہ ہے۔
    میں ادب کی طالبہ نہیں، اقبال کا کچھ کلام ذہن میں آتا ہے جہاں مہدئ برحق کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔
    دنیا کو ہے اس مہدئ برحق کی ضرورت
    ہو جس کی نگہ زلزلہء عالمِ افکار​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    لیجیے ضرب کلیم سے
    مہدی
    قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
    یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن کو
    مجذوب فرنگی نے بہ انداز فرنگی
    مہدی کے تخیل سے کیا زندہ وطن کو
    اے وہ کہ تو مہدی کے تخیل سے ہے بیزار
    نومیدۂ کر آہوئے مشکیں سے ختن کو
    ہو زندہ کفن پوش تو میت اسے سمجھیں
    یا چاک کریں مردک ناداں کے کفن کو؟

    مہدئ برحق

    سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
    خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار

    پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
    نے جدت گفتار ہے، نے جدت کردار

    ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
    شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار

    دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
    ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں