حقیقت خضر علیہ السلام

عبدالرؤف نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏نومبر 25, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    بسم اللہ رحمٰن الرحیم
    وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون
    جب صرف ایک خالق کائنات کی عبادت کرنا جن و انس کی تخلیق کا اصل مقصد ٹھہرا تو بنی آدم پر فطری طور واجب ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا خالق و مالک مانے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردے اور اسی کے احکامات کی پیروی کرے اسی کو نافع وضار سمجھ کر اسی سے تمام حاجات طلب کرے ۔
    اگرچہ بنی آدم فطرت کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی کو خالق و مالک جان کر اس کی عبادت کرتا تھا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا لیکن وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ اس کا ازلی دشمن شیطان شرک کے مختلف دروازے کھول کر بنی آدم کو خالق حقیقی سے دور کرنے میں کامیاب ہوگیا اور محبت کے نام پر نبیوں ، ولیوں ، صالحین اور بزرگوں وغیرہ کی قبروں پر بڑے بڑے گنبد تعمیر کرنے کی ترغیب دے کر اس کے پاس ہی عبادات انجام دینے ، حاجات مانگنے ، نزر ونیاز پیش کرنے اور جانوروں کو وسیلہ اور تقرب کے نام پر ذبح کرنا ان کے لئے نئے عمل کو سجایا اور اس کو آہستہ آہستہ ان ہی اصحابہ قبور کو نافع وضار ہونے کا تصور دیکر ان ہی کی عبادت کرنے اور مزکورہ اعمال ان کے لئے ہی انجام دینے پر انکو مجبور کرکے شرک و ضلالت کی طرف ان کو گھسیٹا ۔
    اس موضوع پر علماء حق نے کافی کتابیں تصنیف کی ہیں ۔’’ الخضرواثارہ بین الحقیقة والخرافة ‘‘ نام کی کتاب بھی اسی کی ایک کڑی ہے اور مصنف نے اس میں واضح کیا ہے کہ کس طرح خضر علیہ السلام کے نام پر لوگوں کو شرک و بدعات اور دیگر خرافات و توہمات میں ڈھکیل دیا گیا ہیں اور کس طرح لوگوں نے ان کی طرف جھوٹے قصے کہانیاں تیار کی ہے اور بناوٹی کرامات ان کی طرف منسوب کئے ہیں ۔ اس کتاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور غیر عرب لوگوں کے اس کتاب سے استعفادہ کی غرض سے اربی ادب اور نحووصرف میں کافی مہارت رکھنے والے جناب محترم الاستاذ محمد سلیم المدنی حفظہ اللہ نے اس کا اردو ترجمہ سلیس اور آسان الفاظ کے ساتھ کیا ہیں اور امت مسلمہ کے تئین اپنی ایک اچھی خدمت کو انجام دی ہے۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ محمد سلیم المدنی حفظہ اللہ کی ان کاوشوں کو قبول فرما کر اجر عظیم سے نوازے اور لوگوں کو اس کتاب سے زیادہ سے زیادہ استعفادہ کرنے کی توفیق عطا کرئے ۔ آمین !!!!

    الخضرواثارہ بین الحقیقة والخرافة
    تالیف ، احمد بن عبدالعزیذالحصین
    ترجمہ ، محمد سلیم ریشی المدنی
    ناشر ، مکتبہ دارالسلام سرینگر کشمیر
    عناوین
    ۱۔عرض ناشر 1
    ۲۔تمہید مختصر
    ۳۔ مقدمہ
    ۴۔ مقصد تخلیق اور رسولوں کی دعوت
    ۵۔ قرآن میں خضر علیہ السلام کا قصہ
    ۶۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی خضر
    ۷۔ خضر علیہ السلام کے کچھ دوسرے نام
    ۸۔ کیا خضر علیہ السلام نبی ہیں
    ۹۔ منکرین نبوت خضر علیہ السلام کے دلائل
    ۱۰۔ مقرین نبوت خضر علیہ السلام کے دلائل
    ۱۱۔ زیارت قبور
    ۱۲۔ خضر علیہ السلام کے آثار کی طرف منسوب شعبدے
    ۱۳۔ خضر علیہ السلام کے گمان کردہ آثار کی زیارت کرنیوالوں میں سے چند کے ساتھ گفتگو
    ۱۴۔ اللہ تعالی کے انبیاء صرف اللہ کو ہی پکارتے تھے
    ۱۵۔ خضر علیہ السلام کے متعلق جھوٹی احادیث
    ۱۶۔ خضر علیہ السلام اور جبرائیل علیہ السلام و میکائیل علیہ السلام و اسرافیل علیہ السلام کی آپسی ملاقات
    ۱۷۔ حضرت علیؓ کی ان سے ملاقات کا بیان
    ۱۸۔ عمر بن عبدالعزیذ کی ان سے ملاقات​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    عرض ناشر


    قرآن و سنت کی دعوت کو مسخ کرنے کے لئے بہت سی سازشیں کی گئیں ان میں سے ایک خطرناک سازش تصوف کی ایجاد اور ترویج بھی ہیں جس کے زریعے سے قرآن و سنت کی اصل دعوت کو غلط مفہوم میں تبدیل کردیا گیا بقول مولانا مسعود عالم ندوی تصوف افیوم اور گورکھ دھندہ کو پھیلانے کے لئے بہت سے زرائع ہیں اور ان میں سے ایک زریعہ خضر علیہ السلام کی داستان حیات ہیں جس کو شہرت دے کر امت کو کتاب و سنت کی دعوت سے باز رکھنا ہے اس جھوٹی کہانی کے زریعہ امت کو قرآن و سنت کی تعلیم سے ہٹایا گیا اور منہج صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دور کیا گیا ۔
    میرے مشفق استاز محترم محمد سلیم المدنی نے ،، الخضر ،، کتاب کا ترجمہ کر کے عوام میں پھیلی اس گمراہی کے سدباب کے لئے ایک نئی تحقیقی کوشش پیش کی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمارے استاز اور تمام علماء کرام سے زیادہ سے زیادہ دین کا کام لے اور اس سے شرف قبولیت عطا فرمائے آمین !!!

    محمد حنیف وانی مکتبہ دارالسلام سرینگر کشمیر ۔۔۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    تمہید مختصر

    الحمداللہ رب العالمین والصلاتہ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین و بعد !
    رسالہ ،، الخضرواثارہ بین الحقیقة والخرافة ،، تالیف احمد بن عبدالعزیذالحصین کے مترجمہ الاستاز محمد سلیم ریشی نے آج ماضی کے اور اپنے بچپن کے وہ ایام یاد دلادئے جب میں کسی شخص کو سلام کرتا تھا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے بڈھاتا
    تھا تو وہ شخص سختی کے ساتھ میرے ہاتھ کو بھینچ دیاتا تھا اور خاص کر انگوٹھے کی ہڈی کو کئے دفہ ٹوٹتے ٹوٹتے بچی ہے ۔
    میرے استفسار پر جواب ملتا تھا کہ حضرت خضر کے دائیں ہاتھ میں انگوٹھے کی ہڈی نہیں ہے ہمیں انہیں کی تلاش ہے ۔
    اس کے بعد میں سلام کرتے وقت ہی کہ پڈھتا تھا کہ میں خضر علیہ السلام نہیں ہوں تاکہ میرے ہڈیوں کی درگت نہ بنے ۔۔
    پیروں ،فقیروں ،مجذوبوں سے برسوں سنتے چلے آرہے تھے کہ حضرت خضر زندہ ہے ،وہ ولی کامل ہے، وہ ہر مسلمان کو زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ضرور ملتے ہے
    میں اسی پریشانی میں مبتلا تھا کی اللہ صبحان وتعالی نے شرعی علوم پڈھنے کا موقعہ نصیب فرمایا ۔ اور جب یہ موقعہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا یہ فرمان پڈھنے کو ملا کی ابن عمر ؓ روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم
    نے نماز عشاء پڈھنے کے بعد ارشاد فرمایا ،، سنة لایبقی ممن ھو علی وجه الارض الیوم ،، قال ابن عمر ؓ فوھل الناس من مقالة رسول اللہ صلی اللہ وسلم ھذا اراو انحذام قرنه ،،
    ( صحیح بخاری ،کتاب المواقیت ۲۔۸۸ حدیث نمبر ۶۱۰ ،،صحیح مسلم ۱۲۔۹۰ )
    ترجمہ ! کیا تم آج کی رات کو دیکھ رہے ہو ؟ آج کے دن جو زمین کے اوپر جی رہا ہے سو سال تک ان میں سے کوئی باقہ نہ رہے گا ابن عمرؓ فرماتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی اس بات سے لوگ گھبرا گئے جس کا واضح مطلب یہ
    تھا کہ اس سے آپ کی صدی کے خاتمہ کا اعلان تھا !!
    جابر ابن عبداللہ ؓ کی حدیث بھی صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ میں اسی معنی میں ہیں کہ سو سال بعد کوئی ذی روح دنیا میں موجود نہیں رہے گی جو آج کے دن زندہ ہے ۔۔
    ابن الجوزی رحمہ اللہ مذکورہ بالا احادیث کے پس منظر میں تحریر کیا ہیں کہ اسکا مطلب یہ ہے کہ حیات خضر علیہ سلام کے دعویٰ کی پول کھل جاتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی خضر علیہ سلام کی زندگی سے مطعلق سوال پر تعجب کا
    اظہار فرمایا (دیکھئے المنارالمنیف،ص ٦٨) ۔ تو ان بیانات سے میرے دل کو تشفی ہوئی کہ خضر علیہ سلام اس دنیا میں نہیں ہیں ۔ اور اگر ہوتے تو آیت قرآنی (واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما آتیتکم ۔لتؤ منن به ولتنصر نه ) آلعمران ۸۱ کے مطابقا انہیں (خضر علیہ سلام ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا ضروری تھا جو وہ نہ کر سکے تو پتہ چلا کہ وہ زندہ ہی نہیں تھے حاضر کیا ہوتے ! کسی صحابیؓ سے بھی ان کی ملاقات کا کوئی صحیع واقعہ مروی نہیں ہیں ۔ جس کا واضع مطلب یہ ہیں کہ یہ شکم پرست اور ملّا قسم کے لوگوں کی کارستانی ہیں کہ وہ لوگوں کو اس طرح کی داستانیں سنا کر اپنا حلقہ مرید بنانے کے چکر میں رہتے ہیں ۔۔
    عوام میں پھیلے ہوئے اس طرح کے گمراہ کن عقائد سے خبردار کرنے اور عقیدہ کی اصلاح کی خاترخضر علیہ سلام پر تحقیقی مضمون کے لکھنے کی ضرورت عرصہ سے محسوس کرتا رہا ، حالانکہ عربی میں میں نے ایک تحریر بھی اس موضوع پر ترتیب دی ہیں مگر اردو داں حلقہ میں اس کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی تھی ۔۔
    مگر آج استاذ مکرم، محمد سلیم ریشی حفظہ اللہ کا ترجمہ کردہ رسالہ نظر سے گزرا جس نے اس ضرورت کو پوری کرنے کی کوشش کی ۔ یہ ترجمہ سادہ شستہ،سلیس اور عام فہم زبان میں ہے اور ہر کس و ناکس کے سمجھ میں آسکتا ہے جناب خضر کے تعلق سے عوام میں پھیلی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ اس تحریر سے ختم ہوسکتی ہیں ۔انشاءاللہ !!
    میں فاضل مترجم کو اس بہترین کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کے لئے مزید توفیق کی دعا کرتا ہوں اللہ کرے کہ اس کتاب کا مقصد پورا ہوجائے اور اصلاح عقائد کی کوشش بارآور ہوں۔۔
    ھذا ۔ وصلی اللہ وسلم وبارک علی نبیینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین والحمداللہ رب العالمین
    ڈاکٹر عبداللطیف الکندی المدنی ۔۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    مقدمہ


    بسم اللہ الرحمان الرحیم
    الحمداللہ رب العالمین والصلاتہ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ ومن دعابدعوتہ الیٰ یومالدین، اما بعد​
    اس امت کے سلف صالحین کے فہم وادراک کو تمام حالات و معاملات کے سلسلے میں لوگوں کے درمیان پھیلانا اور آم کرنا کتنا جروری ہیں !اور انکے ماضی ہمارے موجودہ دور میں دوبارہ زندہ کرنے کی بھی کتنی اشد ضرورت ہیں تاکہ حق کھل کر ہماری زندگی ،عبادات ، دعوت ،نشونما ، ثقافت ، کردار، اور عمل و جہاد کے طور پرسامنے آجائے ۔ اور جو شخص محاجرین و انصار میں سابقین اولین کی سیرتوں کیہ جانچ کرلے وہ اسلام کے غلبے اور پوری دنیا میں اس کے پھیلاو کے بھید کو پا سکتا ہے اور جب کوئی شخص عالم سلام کے اطراف و اکناف میں آج کل اکثر مسلمانوں کے چال و چلن کو دیکھے تو وہ اسلام سمٹ جانے اور مسلمانوں کی پستی کے راز کو بھی بھانپ سکتا ہیں ۔میں یہ کہہ تو رہا ہوں مگر درد والم میرے دل کو ایسی باتوں سے رستے گھاو دے رہا ہیں جن کا میں نے بعض عربی اور اسلامی ممالک میں مشاہدہ کیا ہے جہاں بدعات و خرافات پھیلے ہوئے ہیں وہیں قبروں اور مزاروں پر بڈے بڈے قبے اور سبز جھنڈے ہیں جن کی خدمت گزار عوام اور نادان لوگوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ یہ ایسے بزرگوں کی قبریں ہیں جو نفع و نقسان کے مالک ہے اور کائنات میں ردوبدل کی قدرت رکھتے ہیں ۔اور جس چیز سے میری دہشت اور زیادہ بڈتی ہے وہ یہ ہے کہ وہاں کچھ ایسی نشانیاں رکھی ہوئی ہے جنکو وہ خضر علیہ سللام کیطرف منسوب کرتے ہے ۔عورتیں ان کو چھو کر قرب حاصل کرتی ہیں اور لوگ قربانی کے جاوروں کے ضریعے انکا تقرب حاصل کرتے ہیں اور ان کی مٹی سے برکت حاصل کرتے ہیں ۔ اور پھر اس سب کے باوجود مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور خود کو اہل سنت والجماعت میں شمار کرتے ہیں ۔ اور جب اس معاملے کا خطرہ بڈا اور اس کا نقسان زیادہ ہے تو میں نے یہ کتاب ان خرافات کے بیان کرنے اور ان کے باطل ہونے کے بارے میں تحریر کی جنکا آم لوگ اعتقاد رکھتے ہیں خصوصا خضر علیہ السلام کے آثار کے سلسلے میں ۔۔
    عظیم صفات اور برتر قدرت والے مولیٰ سے اس بات کی امید کرتا ہوں کہ وہ اس کو قبول فرمائے اور اس کے ذریعے فائدہ پہونچائے بے شک وہ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی
    آل پر اور ان کئ سبھی صحابہ رضوان للہ علیہم پر درود وسلام بھیجے اور برکت نازل فرمائے ۔
    مولف احمد بن عبدالعزیز الحصین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    مقصد تخلیق اور رسولوں کی دعوت

    اللہ تبارک وتعالی نے ہمیں اس اہم حقیقت سے با خبر کیا جس کو ایسی بنیاد مانا جاتا ہے جس پر ہمارا وجود قائم ہیں اور جس کی ہر انسان کی فطرت آواز دے رہی ہے اور جس کی اس کائنات کا ہر ذرہ بزبان حال تصدیق کرتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون(سورہ الذاریات ۵۶ ) ترجمہ ، اور میں جن و انسان کو صرف اسلئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔ اس کائنات پر غورو فقر کرنے والا شخص ۔ جس میں وہ رہتا اور زندگی گزارتا ہے ۔دیکھ سکتا ہیں کہ ہر چیز اسمیں پنیتی ہے اور کسی دوسرے کے لئے اپنے کام انجام دیتی ہے جیسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پانی کے لئے اور زمین نباتات کیلئے نباتات حیوانوں کیلئے اور حیوان انسان کے لئے ، تو پھر انسان کس کے لئے ؟ تو صاف اور سیدھا جواب یہ ہیں کہ انسان اللہ عزوجل کے لئے ۔اس کو پہچاننے کیلئے ۔۔۔ اسکی بندگی کے لئے ۔۔اس یکتا رب کے حقوق انجام دینے کیلئے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ اور یہ بلکل بھی مناسب نہیں کہ انسان زمین با فلک میں کسی دوسرے کے لئے کام کرے ۔کیونکہ تمام جنسوں کو عالموں اللہ تعالی نے اسکے تابع کردیا اور وہ سبھی جنسیں اسی کے لئے اپنے کام انجام دیتی ہیں اور یہ بات بلکل عیاں ہیں ۔۔ تو وہ انسان کے لئے ان چیزوں کی تابعداری کرسکتا ہیں ؟ بلکہ اس کا فطری کام تو یہ ہیں کہ وہ وجود کی روح سے جڈھ جائے اور
    وہ اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی ہے۔ جسکی دنیا میں عبادت کی جاتی ہیں اور وہی آسمانوں کے اوپر بھی معبود ہے اور وہ عرش عظیم کا رب ہیں ۔وہ ایسا غلام اور بندہ بن جائے جو اپنے تمام اعضاء،اپنے ضمیر۔ زندگی اور
    معاملات کے ساتھ عزت وہ عظمت والے مالک الملک کی طرف ہی متوجہ ہو۔ مگر جب یہ انسان تردد میں پڈجاتا ہے اور ایسے معاملات میں گرفتار ہوجاتا ہے جن سے وہ نجات حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالی دنیا میں اس کو اپنے علاوہ دوسروں کی عبادت اور بندگی کرنے کی سزا دیتا ہیں ۔ اور سورج ،چاند ، تاروں ،نہروں ،گائے اور انسانو کی عبادت کرنے لگتا ہیں ۔قبروں کا طواف کرنے لگاتا ہے اور دعاؤں اور نزرونیاز کے ذریعے ان کا قرب حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا ہے اور اپنے خالق و مولیٰ کے احکام بجا نہیں لاتا ۔ جب کہ وہ کہتا ہے (اعبدواللہ مالکم من الٰہ غیرہ) ترجمہ ،، تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمارا کوئی معبود نہیں ،،، اور وہ اپنے اس پرانے اور اولین وعدے کو بھول گیا جس کو قدرت کے قلم نے انسان کی فطرت میں لکھ دیا ہیں اور اس کو انسانوں کی تبیعتوں میں اس وقت سے کندہ کیا ہے جب سے اسنے سروں میں محفوظ کرنے والی عقلیں، سینوں میں دھڈکنے والے دل اور آفاق و قرآن میں رہنمائی کرنے والی نشانیاں رکھی ہیں ۔اللہ کا فرمان (وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذريتهم وأشهدهم على أنفسهم ألست بربكم ۖ قالوا بلى ۛ شهدنا )
    سورہ الاعراف ١٧٢ ۔۔ ترجمہ ،، اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت نکالی اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں" اور یہیں سے رسولوں علیہم السلام کی دعوت اور کتابوں کے نازل کرنے کا مدعا و مقصد اس قدیم و اولین عہد و پیمان کی یاد دلانا اور اندھی تقلید ، و ثنیت اور غفلت کے غبارکو ختم کرنا تھا ۔
    اور یہی ہر رسول مبعوث کی پہلی پکار تھی ۔ فرمان باری تعالی ،، ( إن هذه أمتكم أمة واحدة وأنا ربكم فاعبدون ٩٢سورة الأنبياء) ترجمہ ،،یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو،،
    اسلام آدم علیہ السلام سے لیکر محمد صلی اللہ علہ وسلم تک پورے کا پورا یکتا اللہ کی طرف دعوت دینے کا نام ہے ۔ اور سبھی انبیاء علیہم السلام اللہ تعالی کے اولین تابعدار ہیں ۔ اور سبھی انبیاء ، صالحین اور ان کے آثار کی اقتداء کرنے والے ہدایت یافتہ ہیں ۔ اور اس کائنات میں یکتا اللہ کی عبادت کرنا ہی انسان کا پہلا فریضہ ہیں جیسے کہ سبھی الٰہی بیغامات نے اس چیز کو واضح کر دیا ہے ۔ سو جب انسان اپنی زندگی کا صفر اپنے کام کو سمجھتے ہوئے اللہ کے راستے پر چلتے ہوئے طے کرلے اور صحیح طریقے پر گزارے تو وہ اپنے اندر اطمینان اور سکون محسوس کرے گا ،خوش رہے گا اور اپنے وجود کے مقصد کو پورا کرے گا ۔ اللہ تعالی اس کو دنیا میں قلب سلیم اور ایسے خوددار نفس سے سرفراز کرے گا جو اللہ تعالی سے قریب ہونے کیلئے ہر اس وسیلہ کو ٹھکرائے گا جس سے اللہ راضی نہ ہو ۔۔ پھر نیک بندہ روز قیامت جنت کی نعمتوں سے متعلق کئے گئے وعدے کا انتظار کرتے ہوئے بہترین حالت اور ضمیر کے سکون کے ساتھ زندگی گزار لے گا۔۔لیکن وہ لوگ جن کی عقلیں خراب ہوچکی ہے اور دل اندھے ہوچکے ہیں ۔ تو وہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے عہد و پیمان کو توڈ دیتے ہے ۔ تو بے شک اللہ تعالیٰ کی وعید و سزا وہاں جہنم میں ان کا انتظار کررہی ہوگی اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔۔اللہ تعالیٰ کا فرمان (( والذين ينقضون عهد اللـه من بعد ميثاقه ويقطعون ما أمر اللـه به أن يوصل ويفسدون في الأرض أولئك لهم اللعنة ولهم سوء الدار ٢٥سورة الرعد )) ترجمہ :: اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے۔۔کیونکہ وہ لوگ نہ جان پائے اور نہ سمجھ پائے کہ یہی تو وہ عہد و پیمان ہے جسکی بناء پر دنیا و آخرت اور جنت و جہنم کو پیدا کیا گیا ، اور اسی وجہ سے سچ ہونے والی سچ ہوگی اور واقع ہونے والی واقع ہوگی اور اسی سلسلے میں موازین گاڈ دی جائینگی اور نامہ اعمال جمع کئے جائینگے ۔ اور اسی بارے میں تو بدبختی اور سعادت حاصل ہوگی اور اسی کے اعتبار سے تو نور تقسیم ہوگا ،،
    اللہ تعالی فرماتا (( ومن لم يجعل اللـه له نورا فما له من نور ٤٠ سورہ النور )) ترجمہ :: اور جسکے لئے اللہ نور نہیں بنائے گا اس کے لئے کوئی نور نہیں ہوگا ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    قرآن کریم میں خضر علیہ السلام کا قصہ !


    ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نے بنواسرائیل میں ایک عظیم خطبہ دیا جس میں انہونے لوگوں کو وعظ و نصیحت کی یہاں تک کی ان کی اآنکھیں آنسوؤں سے بہہ پڈیں اور دل پسیج گئے یہ واقعہ قیطیوں کی ہلاکت اور موسیٰ ع لیہ السلام کے دوبارہ مصر لوٹ آنے کے بعد کا ہے ۔ تو کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! کیا آپ دنیا میں کسی ایسے شخص کو جانتے ہے جو آپ سے زیادہ جاننے والا ہو ؟ تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی جانکاری کے مطابق اور انکو اپنے پیغمبر (موسیٰ علیہ السلام ) سے احکام ونواہی حاصل کرنے پر ابھارنے اور ترغیب دینے کی خاطر فرمایا کہ،، نہیں،، اللہ تعالی نے ایسے کہنے پر ان کی تادیب کی کیونکہ انہونے حتمی علم کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کیا (یعنی اللہ اعلم نہیں کہا ) اللہ تعالی نہی انہیں بتلایا کی دو دریاوں کے سنگم ( مجمع البحرین ) کے پاس اس کا ایک بندہ ہے جسکے پاس ایسا علم ہے جو ( جیسا) کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس نہیں ہیں ۔ اور ایسے الہاماتہیں جو ذہن و قیاص سے بعید ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام علم میں زیادتی کی رغبت وجہ سے اس اللہ کے بندے سے ملنے کیلئے بے چین ہوئے ۔ تو انہونے اللہ سے اس کی اجازت دینے کی درخواست کی ۔ اللہ تعالی نے انکو اس جگہ کی معلومات عطا کیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی زادراہ کیلئے ساتھ لی ۔ اور انکو بتایا گیا کہ جب مچھلی کھو جائے تو وہ ہمارا بندہ اسی جگہ ملے گا ۔ موسیٰ علیہ السلام چلدئے اور اس کو پالیا اللہ تبارک وتعالی نے ان دونوں کا قصہ سورہ کہف میں یوں بیان کیا ہیں :
    وإذ قال موسى لفتاه لا أبرح حتى أبلغ مجمع البحرين أو أمضي حقبا ﴿٦٠﴾ فلما بلغا مجمع بينهما نسيا حوتهما فاتخذ سبيله في البحر سربا ﴿٦١﴾فلما جاوزا قال لفتاه آتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هذا نصبا ﴿٦٢﴾
    قال أرأيت إذ أوينا إلى الصخرة فإني نسيت الحوت وما أنسانيه إلا الشيطان أن أذكره ۚ واتخذ سبيله في البحر عجبا ﴿٦٣﴾ قال ذلك ما كنا نبغ ۚ فارتدا على آثارهما قصصا ﴿٦٤﴾ فوجدا عبدا من عبادنا آتيناه رحمة من عندنا وعلمناه من لدنا علما ﴿٦٥﴾ قال له موسى هل أتبعك على أن تعلمن مما علمت رشدا ﴿٦٦﴾ قال إنك لن تستطيع معي صبرا ﴿٦٧﴾ وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا ﴿٦٨﴾ قال ستجدني إن شاء اللـه صابرا ولا أعصي لك أمرا ﴿٦٩﴾ قال فإن اتبعتني فلا تسألني عن شيء حتى أحدث لك منه ذكرا ﴿٧٠﴾ فانطلقا حتى إذا ركبا في السفينة خرقها ۖ قال أخرقتها لتغرق أهلها لقد جئت شيئا إمرا ﴿٧١﴾ قال ألم أقل إنك لن تستطيع معي صبرا ﴿٧٢﴾ قال لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا ﴿٧٣﴾ فانطلقا حتى إذا لقيا غلاما فقتله قال أقتلت نفسا زكية بغير نفس لقد جئت شيئا نكرا ﴿٧٤﴾ قال ألم أقل لك إنك لن تستطيع معي صبرا ﴿٧٥﴾ قال إن سألتك عن شيء بعدها فلا تصاحبني ۖ قد بلغت من لدني عذرا ﴿٧٦﴾ فانطلقا حتى إذا أتيا أهل قرية استطعما أهلها فأبوا أن يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد أن ينقض فأقامه ۖ قال لو شئت لاتخذت عليه أجرا ﴿٧٧﴾ قال هذا فراق بيني وبينك ۚ سأنبئك بتأويل ما لم تستطع عليه صبرا ﴿٧٨﴾ أما السفينة فكانت لمساكين يعملون في البحر فأردت أن أعيبها وكان وراءهم ملك يأخذ كل سفينة غصبا ﴿٧٩﴾ وأما الغلام فكان أبواه مؤمنين فخشينا أن يرهقهما طغيانا وكفرا ﴿٨٠﴾ فأردنا أن يبدلهما ربهما خيرا منه زكاة وأقرب رحما ﴿٨١﴾ وأما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة وكان تحته كنز لهما وكان أبوهما صالحا فأراد ربك أن يبلغا أشدهما ويستخرجا كنزهما رحمة من ربك ۚ وما فعلته عن أمري ۚ ذلك تأويل ما لم تسطع عليه صبرا ﴿٨٢﴾

    یہ وہ سب کچھ ہے جو قرآن کریم میں جو موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے قصے میں سے وارد ہوا ہیں ہم ان آیات مبارکہ اور اس حدیث مباک سے جسکو ہم نے پچھلے صفحات میں بیان کیا کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو اپنے زات اقدس کے تئین ادب کی کیفیت سکھانے کا ارادہ کیا ۔ کیونکہ جب ان سے اہل ارض کے سب سے زیادہ جاننے والے اور علم والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہونے علم کو حقیقی علم والے( یعنی اللہ ) کی طرف منسوب نہیں کیا اسی وجہ سے اسکو (موسیٰ علیہ السلام کو) اپنے بندو میں سے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتلایا جسکے پاس ایسا علم ہیں جس سے موسیٰ علیہ السلام بے خبر ہیں ۔ اور یہ جو ملاقات ہوئی اس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انسان کا علم بہت ہی کم ہیں جب اس کا موازنہ اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ کیا جائے اور بے شک جو طریقہ کار خضر علیہ السلام لیکر آئے وہ اس شریعت و طریقہ کارکی بلکل بھی مخالفت نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا ۔
    اگر چہ اللہ تعالی نے اپنے نبی خضر علیہ السلام کو ایک خاص علم سے نوازا اور اس علم کو اسکے لئے کھول دیا ۔ اور وہ کشتی کو چھیدنے لڈکے کے قتل اور دیوار کو تعمیر کرنے کے واقعات سے ظاہر ہوا جن سے موسیٰ علیہ السلام حیران ہوئے کیونکہ وہ ان کے اسباب سے ناواقف تھے ۔ اور اگر چہ اس کام کی اصل مشروع تھی اور اب تک فقہ اسلامی میں اسکا کچھ حصہ مکرر و ثابت ہے لیکن اسکے وقوع پزیر ہوتے وقت موسیٰ علیہ السلام پر اس کا سبب ظانہ ہوسکا ۔حالانکہ وہ کوئی تعجب چیر معاملہ نہیں تھا کیونکہ اننیاء علیہم السلام صرف وہی جانتے ہے جو اللہ تعالیٰ انہیں سکھا دیتا ہیں ۔اور خضر علیہ السلام نے جو کچھ بھی کیا وہ صرف کوئی الہام، تصو ، خالی پلاؤ ، یا صرف کوئی اندازہ نہیں تھا بلکہ انہونے جو کچھ بھی کیا اسمیں اللہ تعالیٰ کے حکم اور فرمان کا دخل تھا ۔لیکن اسلام اور مسلمانوں کے بدخواہ۔ جو کہ فصاد اور کجراووَں کے عقائد کواپنا تے ہیں جنہوں نے کہ توحم اور خرافات کی زندگی جینے کی آدت بنالی ہے ۔ من چاہے کشف اور جوٹھے تصوف کے دعویدار ہیں ۔ انہونے یہی من بنالیا اور اس پر ڈٹے رہے کہ خضر علیہ السلام کو ایک دیومالاوَں والی کہانیوں کا کوئی کردار یا پھرکوئی افسانوی کردار بنا لیں۔ انہوں نے اس کی شخصیت کو وہی ، الہام ، عقائد اور شریت کا ماَخد و مصدر بنا لیا ۔ انہونے خضر علیہ السلام کے سلسلے میں وارد نصوص میں تبدیلی و تحریف کی اور انکے معالی ومطالب اور انکے اہداف سے کھلواڈ کیا مگر اللہ تبارک تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل دے رہا ہے اور انکی تاک میں ہیں !!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    سنّت نبویہ میں بھی خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آیا ہیں !


    پہلی حدیث ::::
    ۱ ۔امام بخاری رقمطراز ہیں : عبیداللہ بن عبداللہ ابن عباس۔ رضی اللہ انھما سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انکے ( ابن عباس) اور حربن قیس الفزاری کے درمیان صاحب موسیٰ علیہ السلام کے متعلق آوازیں اونچی ہوگئیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ وہ خضر ہیں انکے پاس سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ابن عباس نے انہیں بلایا اور کہا۔ بیشک میں اور میرا یہ ساتھی ( حربن قیس الفزاری ) موسیٰ علیہ السلام کے اس ساتھی کے بارے میں جھگڈ رہے ہیں جس سے ملنے کے لئے اسنے اللہ سے راستہ پوچھاتھا ( تو ابی بن کعب ) کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت بیان کرتے ہوئے سنا تھا؟ انہونے کہا: ہاں ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناہیں : ایک دن حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ ( دنیا میں ) کوئی آپ سے بھی بڑھ کر عالم موجود ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے پاس وحی بھیجی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر ہے ( جس کا علم تم سے زیادہ ہے ) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دریافت کیا کہ خضر علیہ السلام سے ملنے کی کیا صورت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان سے ملاقات کی علامت قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم اس مچھلی کو گم کر دو تو ( واپس ) لوٹ جاؤ، تب خضر سے تمہاری ملاقات ہو گی۔ تب موسیٰ ( چلے اور ) دریا میں مچھلی کی علامت تلاش کرتے رہے۔ اس وقت ان کے ساتھی نے کہا جب ہم پتھر کے پاس تھے، کیا آپ نے دیکھا تھا، میں اس وقت مچھلی کا کہنا بھول گیا اور شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر بھلا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا، اسی مقام کی ہمیں تلاش تھی۔ تب وہ اپنے نشانات قدم پر ( پچھلے پاؤں ) باتیں کرتے ہوئے لوٹے ( وہاں ) انھوں نے خضر علیہ السلام کو پایا۔ پھر ان کا وہی قصہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں بیان کیا ہے۔( باب حدیث الخضرمع موسی علیھما السلام ،ح،۳۴۰۰ )

    دوسری حدیث :::
    سعید بن جنیر لہتے ہیں کہ میں نے اب عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : کہ نوف البکالی گمان کرتا ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو خضر علیہ السلام کے ساتھی تھے وہ بنو اسرائیل والا موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی دوسرا موسیٰ ہے ۔ تو انہونے کہا : کہ وہ دشمن خدا جھوٹ بولتا ہیں ۔ ابی بن کعب ؓ نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دے رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا لوگوں میں کون زیادہ جاننے والا ہیں ؟ تو انہونے جواب دیا کہ میں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب نازل کیا کیونکہ انہونے علم کو اس کی طرف نہیں لوٹایا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : کیوں نہیں ! دو سمندروں کے سنگم کے پاس ہمارا ایک بندہ ہیں جو آپ سے زیادہ جانتا ہیں ، موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا : اے میرے رب ! مجھے اس تک کون پہونچائے گا ؟ اور کبھی کبھار سفیان نے یہ الفاظ کہے : اے میرے رب میری اس سے ملاقات کیسے ہوسکتی ہیں ؟ رب نے فرمایا کہ آپ ایک مچھلے لے لیں اور اس کو کسی ٹوکری میں رکھدیں ۔
    جہاں کہیں آپ مچھلی کو لاپتہ پائیں تو وہ (ہمارا بندہ ) وہی پر ہوگا موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لیکر ٹوکری میں رکھدی پھر وہ اور ان کا غلام یوشع بن نون چلدئے ، یہاں تک کی جب وہ دونو ایک چٹان کے پاس پہونچے تو وہ لیٹ گئے موسیٰ علیہ السلام پر نیند کا غلبہ ہوا اور مچھلی مچل کر نکل آئی اور سمندر میں جاگری اس نے سمندر میں اپنا راستہ سرنگ کی ماند بنا لیا اللہ تعالیٰ نے مچھلی پر پانی کے بہاؤ کو رکدیا تو (پانی) ایک کمرے کے جیسے ہوگیا : پھر وہ دونو باقی ماندہ دن و رات چلتے رہے یہاں تک کہ صبح نمودار ہوئی ۔ انہونے ( موسیٰ علیہ السلام ) نے اپنے غلام سے کہا : ہمارا ناشتہ لے آؤ تحقیق ہمیں ہمارے اس صفر سے تھکاوٹ محسوس ہوئی ۔موسیٰ علیہ السلام نے تب تک تھکاوٹ محسوس نہیں کی جب تک انہونے اس جگہ کو پار نہیں کیا جسکا اللہ تعالیٰ نے انکو حکم دیا تھا ۔ ان کے غلام نے ان سے عرض کیا : کیا آپ کو یاد ہیں جب ہم نے چٹان کے پاس پناہ لی تھی تو میں آپکے سامنے مچھلی کا ذکر کرنا بھول گیا اور شیطان نے ہی مجھکو اسکا زکر کرنا بھلا دیا ۔ اس مچھلی نے عجیب طرح سے سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا : موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : وہی تو وہ جگہ ہے جہاں کا ہم نے ارادہ کیا تھا۔ تو وہ دونو اپنے قدموں کے نشان ڈھونڑتے ہوئے واپس پلٹے ۔ یہاں تک کہ چٹان کے پاس پہونچے تو اچانک وہاں کوئی شخص لپڑے میں لیٹا دکھائی دیا موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا تو اس نے سلام کا جواب دیا پھر کہا : تماری زمان پر سلام کہاں سے آئی ؟ انہونے کہا میں موسیٰ ہوں : انہونے کہا بنو اسرائیل کے موسیٰ ؟ انہونے جواب دیا : ہاں ۔ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے اس میں سے کچھ اچھی باتیں سکھادیں جو علم آپ کو عطا کیا گیا ہے ۔ تو انہونے فرمایا اے موسیٰ علیہ السلام ! بے شک میرے پاس اللہ کے عطا کردہ علم میں سے ایسا علم ہے جو اس نے مجھے سکھایا آپ اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور آپ کے پاس اللہ کے عطا کردہ علم میں سے ایسا علم ہے جو اس نے آپ کو سکھایا میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : کیا میں آپ کے ساتھ ہولوں ؟ انہونے فرمایا آپ میرے ساتھ رہنے کو رداشت نہیں کرپائیںگے۔ اور کیسے آپ ایسی چیز کو برداشت کر پائینگے جسکے بارے میں آپ کے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : امرا، تک توہ دونوں سمندر کے ساحل تک چلنے لگے پھر ایک کشتی ان کے پاس سے گزری انہونے نے اس سے ( کشتی والوں سے ) بات کی کہ وہ انکو بھی سوار کرلیں ۔ انہونے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا تو انکو بغیر اجرت کے سوار کیا ۔ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو ایک چڑیا آکر کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی ۔ اور سمندر میں ایک یا دو مرتبہ چونچ ماری ۔ خضر علیہ السلام نے ان سے کہا : اے موسیٰ ! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں سے اسی قدر حاصل کیا ہے جتنا کہ اس چڑیا نے اپنی چونچ کے ضریعے اس سمندر میں سے کم کیا ہے۔ اچانک انہونے ( خضر علیہ السلام ) کلہاڑی اٹھالی اور کشتی کے ایک تختے ہو کھینچ لیا موسیٰ علیہ السلام ابھی گھبراہٹ بھی ظاہر نہ کرپائے تھے کہ انہونے سامنے والی سمت کا ایک تختہ اکھاڑلیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : ارے! یہ کیا کردیا ؟ ایک ایسی جماعت جنہونے ہمیں بغیر اجرت کے سوار کیا آپ نے انہی کی کشتی کا برا چاہا پس تم نے انکو ڈبو دینے کیلئے اس کو چھید ڈالا۔ البتہ تحقیق آپ نے ایک سخت کام انجام دیا ہے ۔ انہوں ( خضر علیہ السلام ) نے کہا : کیا مینے آپ سے نہیں کہا: کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر پائیں گے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : آپ مجھے میری بھول پر مواخزہ نہ کیجئے ، اور میرے معاملے میں مجھ پر سختی کیجئے ۔ یہ پہلی بات موسیٰ علیہ السلم سے بھول کی وجہ سے ہوئی ۔ جب وہ دونو سمندر سے نکلے تو ان کا گزر ایک ایسے لڑکے کے پاس سے ہوا جو بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ لیا اور اسکو اکھاڑلیا ۔ ( سفیان نے اپنی انگلوں کے اطراف سے ایسے اشارہ کیا گویا وہ کسی چیز کو کاٹ رہے ہوں ) موسیٰ علیہ السلام کہہ اٹھے : کیا آپ نے کسی پاک نفس کو بغیر کسی وجہ کے مارڈالا ؟ آپ نے تو بہت ہی برا کام کیا ہے ۔ انہونے فرمایا ۔ کیا مینے آپ سے نہیں کہا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرپائینگے۔ انہونے ( موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھوں تو آپ مجھے اپنا ہمسفر نہ بنائیں ۔ بے شک آپ میری طرف سے عزر کو پہنچ گئے پھر وہ دونو چل دئے یہاں تک کہ وہ ایک بستی والوں کے پاس آئے ۔ ان دونو نے ان سے کھانا مانگا تو انہونے نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا ۔ انہونے اس بستی میں ایک دیوار پائی جو جھک کر گراہی چاہتا تھا۔ انہونے (راوی نے) اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارا کیا ۔ اور سفیان نے ایسے اشارہ کیا جیسے وہ کسی چیز کو نیچے سے اوپر کی طرف چھو رہے ہوں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا : ایسی قوم جن کے پا ہم آئے تو انہونے ہمیں کھانا نہیں کھلایا ، ناہی ہماری مہمان نوازی کی مگر آپ ہے کہ انکی دیوار ٹھیک کردی اگر آپ چاہتے تو یہ کام کرنے پر ان سے اجرت لے سکتے تھے انہوں ( خضر علیہ السلام ) نے فرمایا : یہ میری اور آپ کے درمیان جدائی ہے عنقریب میں آپ کے سامنے ان باتوں کی حقیقت ووضاحت بیان کرونگا جس پر آپ صبر نا کرسکے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم چاہتے ہیں اگر موسیٰ علیہ السلام صبر کرلیتے تو اللہ تعالیٰ ان دونو کے زیادہ حالات و واقعات ہم پر بیان کرتا ۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے کاش وہ صبر کرلیتے تو اللہ تعالیٰ ہم پر ان دونو کا واقعہ بیان کرلیتا ۔ اور پھر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ انکے پیچھے ایک بادشاہ آرہا تھا جو ہر اچھی کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا ، اور رہا لڑکا تو وہ کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے پھر سفیان نے کہا میں نے اس حدیث کو ان سے دو مرتبہ سنا انہی سے یاد کیا۔ سفیان سے پوچھا گیا آپ نے اس کو عمرو(بن دینار) سے سننے سے پہلے حفظ کیا یا کسی اور انسان سے اسکو محفوظ کیا ؟ تو انہونے جواب دیا : میں کس سے اسکو محفوظ کرسکتا ہوں ؟ کیا میرے بغیر عمرو سے کسی نے اس کو روایت کیا ہے ۔ بلکہ میں نے اس کو انہی سے دو یا تین مرتبہ سنا اور انہی سے یاد بھی کرلیا ۔ ( صحیح البخاری ، کتاب التفسیر، باب : قوله (فلمابلغامجمع ) ۔ح : ۴۷۲۶)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55

    نام اور کنیت


    اہل علم نے خضر علیہ السلام کے نسب میں اختلاف کیا ہیں ، اور اس سلسلے میں بہت سارے اقوال ہے ۔ اور وہ سب کے سب اقوال ایسے ہیں جن میں سے کسی ایک جو حتمی طور کے ساتھ نہیں لیا جاسکتا ۔ اور اس سلسلے میں توقف کرنا ہی زیادہ محفوظ ہے۔ ہاں البتہ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب المعارف فی التاریخ میں بیان کیا ہے کہ خضر کا نام بلکاں بن مسلکان ہے۔ ابن کثیر بھی اسی رائے کو مانتے ہیں اور یہی مشہور ہے ۔
    خضر علیہ السلام کے کچھ دوسرے نام بھی بیان کئے گئے ہیں جیسے کہ
    ۱۔ اِلیا ،۲۔ المعمر، ۳۔ أزمیا اور ۴۔ خضرون
    ان کی کنیت ابو العباس بیان کی گئی ہے اور یہ سبھی نام جو خضر علیہ السلام کے بیان کئے گئے ہیں انکی کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے دل مطمئن ہوسکے اور اعتبار نام سے ہی نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کان سورہ کہف میں زکر نہیں کیا بلکہ ایک نیک آدمی کے بطور ان کا ذکر کیا ۔
    سید قطب ( فی ظلال القرآن ) میں فرماتے ہیں : اور ہم پے در پے رونما ہونے والے ایسے واقعات کا سامنا کرتے ہیں جن کا ہم کوئی راز نہیں جان پاتے ۔ اور ان کے تئین ہمارا وہی موقف ہوتا ہیں جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کو موقف رہا ۔ بلکہ ہم تو یہ بھی نہیں پہچان پاتے کہ وہ کون ہیں ؟ جو یہ سبھی تصّرفات انجام دے رہے ہے۔؛؛
    قرآن کریم نے ہمیں ان کے نام کے ساتھ کوئی سروکار نہیں رکھا ۔ اس پیچیدہ فضا کی تکمیل کے لئے جو ہمیں گھیرے ہوئے ہے ۔اور اس کے نام کی کیا قیمت ہوسکتی ہے ؟ اس کا تو یہ مقصد ہوتا ہے کہ وہ الہیت کی بلند ترین حکمت کو انجام دے۔
    خضر ان کو لقب دیا گیا جیسے کہ ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛؛ در حقیقت ان کو خضر نام اس لئے دیا گیا کہ وہ ایک بنجر زمین کے ٹکڑے پر بیٹھ گئے تو اچانک وہ حصّہ سبزہ سے لہلہانے لگا ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    کیا خضر علیہ السلام نبی ہے ؟

    جمہور علماء امت نے خضر علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں اختلاف کیا ہے بعض علماء نے کہا کہ وہ نبی ہے اور بعض نے کہا کہ وہ اولیاء میں سے ولی ہے یعنی نبی نہیں ہے ۔۔
     
  10. عبدالرؤف

    عبدالرؤف رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 4, 2014
    پیغامات:
    55
    منکرین نبوت خضر علیہ السلام کے دلائل !


    ( جن علماء امت نہے کہا ہے کہ خضر علیہ السلام نبی نہیں ہے وہ کہتے ہے کہ وہ ایک ایسے بندے تھے جو نیک اور الہام کیا جانے والا عالم تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم خاص عبدیت اور بہترین صفات کے ساتھ زکر کیا ہے مگر ان چیزوں کے ساتھ یہ بیان نہیں کیا کہ وہ نبی یا رسول ہے اور اس قصّہ کے آخر میں ان کا یہ فرمان ( وما فعلتة عن امری) تو یہ اس بات پر دلالت کرتے ہے اور ایسا امبیاء کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ ( واوحیٰ ربک الٰی النحلِ ) ترجمہ : اور آپ کے رب نے شہد کی مکھیوں کیطرف وہی کی ۔ ایسے ہی فرمایا ( واوحی نا الیٰ امِ موسیٰ) ترجمہ : ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وہی کی اور ظاہر سی بات ہے کہ نہ تو شہد کی مکھیاں اور نا ہی موسیٰ علیہ السلام کی ماں نبی ہوسکتے ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کی طرف وہی کی بلکل اسی طرح جس طرح اللہ تعالیٰ نے خضر علیہ السلام کی حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہونے کیا (( وما فعلتة عن امری )) ترجمہ : اور مینے یہ سب کچھ اپنی طرف سے نہیں کیا ،، علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں امبیاء کی کرامت تو متواتر احادیث و آیات کی بناء پر ثابت ہے اور صرف کوئی منکر بدعتی یا فاسق ہی انکار کر سکتا ہیں ۔ پس وہ آیتیں جو مریم علیھا السلام کے پاس گرما میں سرمائی پھلوں کی موجودگی اور سرما میں گرمائی پھلوں کی موجودگی پر دلالت کرتی ہے اور جو کچھ ان کے ہاتھوں وقوع پزیر ہوا جیسے کہ انہونے سوکھے کھجور کے درخت کو ہلایا تو اس میں رسیلے پھل نمودار ہوئے حالانکہ وہ نبیہ نہیں ہیں اسی طرح خضر علیہ السلام کے ہاتھوں کشتی کا تختہ اتھاڑنا ، لڑکے کو قتل کرنا اور دیوار کو کھڑا کرنے کے واقعات بھی ہے ۔
    تفثیر القرطبی ۔۔۔۔۔۔۔ ابوالقاسم القشیری اپنے رسالہ ،، القشیریة ،، کے باب ، اثبات کرامات الاولیاء ،، میں رقمطراز ہیں ،، خضر علیہ السلام نبی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ولی تھے ،، علامہ یافعی اپنی کتاب ،، نشرالمحاسن العالیة ،، میں فرماتے ہیں باوجود یہ کہ سبھی عارفین اور جمہور کے نزدیق ،، خضر علیہ السلام ،، ایک ولی ہیں نہ کی نبی ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں