" تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں___!!"

ضیاءرحمن نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏دسمبر 11, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ضیاءرحمن

    ضیاءرحمن محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2008
    پیغامات:
    1,057
    " تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں____!!"

    یہ 1973ء کی بات ھے.. عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی.. ایسے میں ایک امریکی سینیٹر ایک اھم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا.. وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا.. اُسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم "گولڈہ مائیر" کے پاس لے جایا گیا..

    گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سینیٹر کا استقبال کیا اور اُسے اپنے کچن میں لے گئی.. یہاں اُس نے امریکی سینیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائینگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر ' چولہے پر چائے کیلئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وھیں آبیٹھی.. اُس کے ساتھ اُس نے توپوں ' طیاروں اور میزائلوں کا سودا شروع کر دیا.. ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اُسے چائے پکنے کی خوشبو آئی.. وہ خاموشی سے اُٹھی اور چائے دو پیالیوں میں اُنڈیلی.. ایک پیالی سینیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی.. پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سینیٹر سے محو کلام ھو گئی..

    چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پاگئیں.. اس دوران گولڈہ مائیر اُٹھی ' پیالیاں سمیٹیں اور اُنہیں دھو کر واپس سینیٹر کی طرف پلٹی اور بولی.. "مجھے یہ سودا منظور ھے.. آپ تحریری معائدے کیلئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے.."

    یاد رھے کہ اسرائیل اُس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا مگر گولڈہ مائیر نے کتنی "سادگی" سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا.. حیرت کی بات یہ ھے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کردیا.. اُس کا مؤقف تھا اِس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا..

    گولڈہ مائیر نے کابینہ کے ارکان کا مؤقف سُنا اور کہا.. " آپ کا خدشہ درست ھے لیکن اگر ھم یہ جنگ جیت گئے اور ھم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کردیا تو تاریخ ھمیں فاتح قرار دے گی.. اور تاریخ جب کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ھے تو بھول جاتی ھے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا.. اُس کے دستر خوان پر شہد ' مکھن ' جیم تھا یا نہیں.. اور اُن کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا اُن کی تلواروں کی نیام پھٹے پرانے تھے.. فاتح صرف فاتح ھوتا ھے.."

    گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اِس سودے کی منظوری دینا پڑی.. آنیوالے وقت نے ثابت کردیا کہ گولڈہ مائیر کا اِقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا ' اُسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رھے تھے.. جنگ ھوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے.. (یہ بھی ایک عجیب حقیقت ھے کہ امت مسلمہ کو بیسویں صدی میں ٹکڑوں میں تقسیم کردینے میں دو عورتوں کا ھاتھ رھا.. یعنی عربوں کو ختم کرنے میں گولڈہ مائیر کا اور عجم کے مسلمانوں کو شکست دینے میں اندرا گاندھی کا..)

    جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا.. "امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے آپ کے ذھن میں جو دلیل آئی تھی وہ فوراً آپ کے ذھن میں آئی تھی یا پہلے سے حکمت عملی تیار کررکھی تھی..؟"

    گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا چونکا دینے والا ھے.. وہ بولی..

    "میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا.. میں جب طالبہ تھی تو مذاھب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا.. اُنہی دنوں میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سوانح حیات پڑھی.. اُس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا وصال ھوا تو اُن کے گھر میں اِتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کیلئے تیل خریدا جا سکے.. لہٰذا اُن کی اھلیہ عائشہ (صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے اُن کی زرہ بکتر رھن رکھ کر تیل خریدا لیکن اُس وقت بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رھی تھیں..

    میں نے جب واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ھونگے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ھونگے.. لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ھیں ' یہ بات پوری دنیا جانتی ھے.. لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رھنا پڑے ' پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے ' تو بھی اسلحہ خریدیں گے ' خود کو مضبوط ثابت کرینگے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے.."

    گولڈہ مائیر نے اِس حقیقت سے تو پردہ اُٹھایا مگر ساتھ ھی انٹرویو نگار سے درخواست کی کہ اِسے " آف دی ریکارڈ " رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے.. وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ھو سکتی ھے وھاں دنیا کے مسلمانوں کے مؤقف کو تقویت ملے گی.. چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا.. پھر وقت دھیرے دھیرے گزرتا رھا.. یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ھو گیا.. اس دوران ایک اور نامہ نگار ' امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا.. اُس سلسلے میں وہ اُسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا.. اُس انٹرویو میں اُس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بھی بیان کردیا جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تھا.. اُس نے کہا.. "اُسے اَب یہ واقعہ بیان کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ھو رھی ھے.."

    گولڈہ مائیر کا انٹرویو لینے والے نے مزید کہا..

    "میں نے اِس واقعہ کے بعد جب تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا.. کیونکہ مجھے معلوم ھوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا اُس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاھدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا.. وہ بہتَر بہتَر (72) گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے.. یہ وہ موقع تھا جب گولڈ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ھوگیا کہ

    " تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں______!!"....
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 9
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    زبردست۔
    کچھ پانے کے لیےکچھ کھونا تو پڑتا ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ تب ہی مار کھائی جب وہ عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گئے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ہٹ گئے۔

    کیا آپ اس تحریر کا حوالہ دے سکتے ہیں؟ کئی سال قبل بچوں کے رسالہ نونہال میں بھی یہ چھپی تھی مگر مجھے مصنف کا نام یاد نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,470
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,842
    بہت اعلیٰ جی کیا بات ہے۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    صحیح۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,470
    اس بات سے عرب دنیا کو آگاہ کیا جائے...وہ بڑی شاندار عمارات ' برج اور عظیم الشان پلازے بنانے پہ لگے رہے...حوثی باغی اسلحہ جمع کرتے رہے..یہ اونٹ سالم کی سجی سے دسترخوان سجا کر شہرت حاصل کرتے رہے اور اسرائیل ایٹم بم اور میزئل خریدتا رہا...
    ااب بھی وقت ہے واعدوا لھم مااستطعتم کے حکم الہی کی تعمیل کرتے ہوئے دنیا کی طاقتورترین قوم بن جائیں.تاکہ مشکل وقت میں دوسروں کی طرف نہ دیکھنا پڑے.کیونکہ
    تاریخ فتوحات گنتی ہے.....دستر خوان ....نہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    جانے دیں ـ منگلوری بھائی ـ عرب کا کام نہیں اقامت دین ـ یہ تو بس عیش عشرت میں پڑے ہیں ـ
     
  8. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    جو عرب عیش و ارام چھورکر جہاد پر نکلے انہی یہ باغي قرار ديتے ہے رافضيو كے خوف سے شاید غيرت مسلم جاگ جائے
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    مشورے ان کے قابل قبول ہوتے ہیں جن کا کوئی کردار بھی رہا ہو ـ جن کا اپنا کردار صفر ہو ـ ان کی بات اہمیت نہیں ـعربوں کو تو ہم نے کبھی جیم اور مکھن کھاتے نہیں دیکھے ـ یہ تو غلام قوموں کے نخرے ہیں ـ جیسے برصغیر کی قوم ـ ابھی بھی ان کی نسل اسی میں جوان ہو رہی ہے ـ عرب بچارے تو یمانی فول اور تمیس کھاتے ہیں : )

    مجھے لگتا ہے یمن کی مدد بھی اسی وجہ سے کر رہے ہیں کہیں یمنی فول بند نا ہو جائے ـ ابتسامہ ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,447
    بہترین مضمون کیلئے شکریہ
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    آپ تو یوں کہہ رہے ہیں جیسے حوثیوں کو آپ بھگا رہے ہوں؟
    عرب اگر اسرائیل سے فلسطین آزاد نہیں کرا سکے تو ہمارا کشمیر بھی اب تک پنجہ ہنود میں ہے۔ ہم عرب عجم کی بجائے ایک امت بن کر سوچنے لگیں تو اچھا ہے۔
    رہا غیروں کی طرف دیکھنا تو پاکستان بھی نیٹو کا اتحادی رہا ہے، امریکا بہادر بھی نیٹو ممالک کی امداد سے ہی بڑے بڑے فوج آپریشن کر سکا، عربوں نے تو صرف مسلم ممالک سے ہی امداد مانگی تھی۔
    ہمارے ملک میں زلزلہ ، سیلاب آئے آئے یا سیاچن میں فوجی جوان تودوں تلے دب جائیں، شینوک مانگنے ہم امریکا کے پاس جاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,466
    يه فساد كى وجه بھی عرب ممالک کی پاليسياه ہے ہماری ارمی کی طرح يه بھی ان تنظيموه كو جور كر ركھتے تو یہ کفارکے الہ کار نہ بنتے اس گفتگو کا مقصد خارجيت كى سائید لینا نہھی بلکہ حقائق پر غور كرنا ہے
     
  14. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,470
    امت مسلمہ یا امت واحدہ کا تصور اور عرب و عجم کا تصور الگ الگ چیزیں ہیں.
    مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
    کلمہ توحید نے سب کو بھائ بنا دیا ہے ' جغرافیائی حدود کوئ معنی نہیں رکھتیں لیکن لیکن عرب و عجم کا تصور اختلاف السنتکم میں آتا ہے جو قائم رہے گا . اس کے باوجود ہم امت واحدہ ہیں.
    عرب سے ہمارا ایمانی تعلق ہے ہم اس کو طاقتورترین دیکھنا چاہتے ہیں .اس لئے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ سعودیہ کے پڑوس میں ایران' اسرئیل طاقتور ملک سمجھے جاتے ہیں .لیکن سعودیہ طاقتور کیوں نہیں.؟ تیل کی دولت سے مالامال شاہان عرب محمد بن قاسم کی طرح مسلم امہ کے ہیرو کیوں نہیں بن جاتے؟
    اس تناظر میں پاکستان سے موازنہ بھی درست نہیں.الحمدللہ پاکستان عسکری میدان میں صف اول میں ہے.سیلاب و زلزلہ میں مدد الگ چیز ہے جو لینا اور دینا اخلاقی فریضہ ہے..لیکن ایک مسلح گروہ کے مقابلے میں جو کہ دوسرے ملک میں ہے'مدد مانگنا الگ چیز ہے..جس سے دشمن دلیر ہو جاتا ہے .گو یہ درست ہے.
    قوموں کی تقدیر کے فیصلے دسترخوان یا عالیشان محلات میں نہیں بلکہ درسگاہوں اور رزمگاہوں مین ہوتے ہیں.مختصر یہ ہمارے عرب بھائیوں کوعسکری میدان مین بھی سب سے آگے ہونا چاہیے.اور صف اول کی درسگاہیں بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    یہی تو مسئلہ ہے کہ میڈیا ہمیں کچھ باتیں رٹوا دیتا ہے۔ مدد سعودیہ نے نہیں، یمن کی منتخب حکومت نے مانگی تھی سب خلیجی ممالک سے۔ سعودیہ نے صرف مسلم ممالک کا اتحاد تشکیل دینے میں مدد کی۔ سعودیہ اپنی سرحدوں کا دفاع اکیلے ہی کررہا ہے۔ ابھی تک یمن کے ساتھ سعودی باردر پر صرف سعودی گارڈز ہی شہید ہوئے ہیں۔
    جب ترکی اور پاکستان نیٹو کا ساتھ دے سکتے ہیں تو خلیجی ممالک کے اتحاد نے ان کی مدد مانگ کر کون سی بزدلی دکھائی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    پاکستان اور عرب ممالک کی افواج کا موزانہ کرتے وقت ان کی آبادیوں اور رقبوں کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیے ورنہ یہ موازنے بالکل غلط ہوں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,470
    رقبوں کے ساتھ رقیبوں پہ بھی دھیان کی ضرورت ہے.فلسطین کی سر زمین پہ ناجائز ریاست اسرائیل کا رقبہ اور آبادی کچھ زیادہ نہیں لیکن علاقے کا چوہدری بنا ہوا ہے.
    .
    الحمدللہ سعودیہ اپنی سرحدوں کا دفاع خود کر رہا ہے.کرنا بھی چاہیے.خدانخواستہ ضرورت پڑنے پر مسلم امہ سعودیہ اور حرمین کا دفاع کرے گی..لیکن اس کی نوبت نہیں آئے گی.کیونکہ سعودی عرب خود دفاع کے قابل ہےاور آمدہ خطرات کے لئے پیشگی اقدامات بھی کر رہا ہے.فللہ الحمد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,313
    کلمہ توحید کو لوگ بہت آسان لیتے ہیں ـ جب کہ اس کی بنیاد ہی یقین اور صدق پر ہے ـ ادا کرنے میں آسان اور میزان پر بھاری ـ جن کو بھائی بنایا ان کے ایمان میں یہ دونوں چیزیں شامل ہیں ـ جو خارج ہوئے ان کے نزدیک اس کی حیثیت سوائے ایک کلمہ کے کچھ نہیں ـ جغرافیائی حدور بہت اہمیت رکھتی ہے ـ مسلم ہیں وطن ہے سارا جہاں ہمارا کو بنیاد بنا کر اقامت دین کی کوشش کرنے والے اتنی جلدی بھول جاتے ہیںـزمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ـ اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بھی بنانی پڑتی ہے ـ کلمہ توحید کے ساتھ کذب بھی ـ تجدید ایمان کی ضرورت ہے ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    شکر ہے آپ نے یہ تو مانا کہ سعودیہ اپنی سرحدوں کا دفاع خود کر رہا ہے ۔

    [​IMG]
    http://urdumajlis.net/index.php?threads/سعودی-عرب-کی-فوجی-طاقت-کے-متعلق-سی-این-این-کی-رپورٹ.34890/
    اس رپورٹ میں ذکر ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع پر کتنا خرچ کر رہا ہے ۔ اس کے مطابق سعودی فاعی بجٹ امریکا اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا بجٹ ہے۔ امید ہے یہ سالم اونٹوں کے دسترخوان کا بجٹ نہیں ہو گا۔
    مجھے بہت ہی حیرت ے کہ جو لوگ خود دفاع سے منسلک ہیں وہ بھی میڈیا کی پھیلائی ہوئی باتوں کی تحقیق گوارا نہیں کرتے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,498
    یہ بھی میڈیا کے ذریعے پھیلایا گیا سوال ہے کہ سعودیہ فلسطین کے لیے کیا کررہا ہے۔
    حالاں کہ درست سوال یہ ہے کہ فلسطین کے پڑوسی شام، لبنان، مصر اور اردن کیا کرہے ہیں؟ وہ شامی حکومت جو ایران کی مدد سے اپنے ہی ملک پر مسلسل بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا رہی ہے اس نے فلسطین کے لیے کیا کیا؟ لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کیا کر رہی ہے؟ سعودی عرب اپنے پڑوس کا ذمہ دار تھا، اس نے یمن میں اپنی سرحد کے پاس شرارتیوں کا ٹینٹوا دبا دیا۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں