کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کا چہلم منایا تھا؟

عائشہ نے 'ماہِ صفر' میں ‏دسمبر 13, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    چہلم حسین : سنت یا بدعت؟ سوچیے اور فیصلہ کیجیے!
    کیا پیارے حسین کے پیارے نانا صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کا چہلم منایا تھا؟
    کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کا چہلم منایا تھا؟
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    Last edited: ‏نومبر 6, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 9
    • متفق متفق x 1
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا بہت ہی اچھا پیغام ہے
    اسی طرح کیا حسین رضی اللہ عنہ نے میلاد منایا تھا ؟
    بریلوی میلاد نہ منانے والے کو وہابی کہہ دیتے ہیں لیکن حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  3. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    رافضی کو اللہ نے ماتم کے عذاب میں مبتلا کیا ہے یہ روتا رہے گا
     
    • متفق متفق x 2
  4. علی رضوان

    علی رضوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2014
    پیغامات:
    18
    بالکل اسی طرح اہل تشیع سے پوچھا جاسکتا ہے کہ انکے کسی امام (جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بعد ہوئے) نے حضرت حسین رض کا ماتم منایا تھا، ایسے ہی جیسے آج یہ لوگ محرم میں مناتے ہیں؟
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. سہیل عارف

    سہیل عارف نوآموز

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2015
    پیغامات:
    3
    کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے چہلم سے منع کیا تھا اگر کیا تھا تو حرام ہے اور ناجائز ہے اور اگر منع نہیں کیا تو تم کیوں منع کرتے ہو کیا شریعت تمہاری محتاج ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  6. سہیل عارف

    سہیل عارف نوآموز

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2015
    پیغامات:
    3
    کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میلاد سے منع کیا تھا ؟؟؟؟؟؟؟÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  7. سہیل عارف

    سہیل عارف نوآموز

    شمولیت:
    ‏نومبر 6, 2015
    پیغامات:
    3
    کس صحابی نے سیرت النبی کانفرنس کی تھی کس صحابی نے ختم حدیث کیا تھا کیا صحابی نے سالانہ جلسے کیے تھے غیر مقلدین کی طرح جواب دیں اور سوچیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟÷÷÷÷÷ سنت یا بدعت کی تفصیل کے ساتھ وضاٍت اور تعریف اپ لوڈ کر دیں تا کہ پتا چلے کہ اآپ کو نظریہ کیا ہے اور ہاں ہر وضاحت پر حدیث اور قراآن سے حوالہ ضرور ہو اپنی طرف سے بونگی نہ ماری جائے ۔۔۔ اور اگر اآپ ضعیف حدیث کی تعریف کسی صحیح حدیث سے کر دیں کہ ضعیف کون سی اور صحیح کون سی ہے تو کرم ہو گا÷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ مجھے انتظار رہے گا
     
  8. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,847
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں چھلم کا نہ پایا جانا اس کے حرام ہونے کی دلیل ہے.
    منع کرنا یا اجازت دینا تو تب ہوتا جب وجود ہوتا بعد میں کیا جانے والا ہر کام جو ثواب یا شریعت یا سنت جان کر کیا جائے وہ بدعت ہے،
    اگر "منع کیا تھا؟" کا قانون بنا لیا جائے تو بڑے نقصان ہوں گے جیسے کیا طواف کے نو چکروں سے منع کیا گیا..؟
    اگر نہیں تو سات کی بجائے نو کیوں نہیں کرتے؟
    کیا ایک رکعت میں تین سجدوں سے منع کیا گیا.؟
    اگر نہیں تو تین کیوں نہیں کرتے کیا.؟
    کیا ظہر کی پانچ رکعتوں سے منع کیا گیا؟
    اگر نہیں تو پانچ کیوں نہیں کرتے..؟
    شریعت میں ایسے فضول پیمانوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور شریعت جو ہم تک پہنچ گئی وہ کافی ہے نئی نئی افتراء بازیوں کی محتاج نہیں ہے.

    Sent from my CHM-U01 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  9. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    واہ جی کیا فقہی بصیرت ہے آپ کی !
    کیا سیر ت النبی کانفرنس کو عید سمجھ کر منایا جاتا ہے ؟ سال میں تو ہر جگہ سیرت النبی کانفرنس مختلف اوقات میں ہوتے ہیں ۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 5, 2015
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مادر ڈے، فادر ڈے اور میلاد عیسی علیہ السلام سےمنع کیا تھااگر کیا تھا تو حرام ہے اور ناجائز ہے اور اگر منع نہیں کیا تو تم کیوں منع کرتے ہو کیا شریعت تمہاری محتاج ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جزاکما اللہ خیرا۔ اللہ مسلمانوں کو سمجھ دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرمسلم قوموں کی نقالی سے منع کیا تھا۔ اور میت کے 3،7،10، 13، 40 دن بعد مخصوص تقریبات کرنا کئی دوسرے مذاہب میں موجود ہے، جب کہ اسلام میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
    مختلف قوموں کے ایسے دن یہاں دیکھے جا سکتے ہیں
    http://www.twoagespilgrims.com/doctrine/why-have-a-ritual-service-40-days-after-death/
    https://valahia.wordpress.com/2009/11/17/the-soul’s-journey-after-death/
    http://hiltonsmortuary.com/articles/bid/189625/Funeral-Customs-Hindu-Funerals
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  13. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاکم اللہ خیرا
     
  14. علی رضوان

    علی رضوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2014
    پیغامات:
    18
    رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں انکی پیدائش کا دن، 63 دفعہ آیا۔ کیا آپ نے کسی ایک سال بھی اپنی پیدائش کا دن منایا؟ کیا رسول ﷺ کے جانثار ساتھیوں یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے ایک دفعہ بھی آنحضرت ﷺ کا میلاد کا دن منایا؟ اور آپ اسکو مناتے ہو تو کیا آپ کا فہم حضور اکرم ﷺ اور صحابہ رض کے فہم سے بھی بڑھ گیا، نعوذ باللہ، العیاذ باللہ؟؟؟؟؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    کیا چہلم یا میلاد وغیرہ منانے سے قرآن یا کسی حدیث کی خلاف ورزی ہوتی ہے… ۔؟؟؟؟

    واضح ہو کہ گیارھویں شریف ، ختم شریف ، قل ، دسواں ، چایسواں یا عرس وغیرہ سب ایثال ثواب کے طریقے ہیں ۔ فوت شدہ کو ایثال ثواب کرنا،
    کھانا سامنے رکھہ کر قرآن پاک پڑھنا، کھانے پر ہاتھہ اٹھا کر دعا مانگنا سب پیارے آقا ﷺ کی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ ہم کھانا سامنے رکھہ کر قرآن پاک کی تلاوت ، ذکر و اذکار پڑھنے کے بعد اس کا ثواب اپنے فوت شدہ عزیز اقارب کو بخشتے ہیں ۔

    میلاد مصطفی ﷺ :
    میلاد میں ذکر مصطفی ﷺ کیا جاتا ہے۔
    آسان لفظوں میں نبی پاک ﷺ کا ذکر ، حسب ، نسب ، آپ ﷺ کی صفات کا ذکر کرنے کے لیئے میلاد کی محفل سجائی جاتی ہے۔

    کیا یہ غیر اسلامی ہے۔۔؟؟؟

    ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ قرآن پاک میں ایک آیت ایسی بھی ہے جس میں خود اللہ رب العزت نے حضور اکرم ﷺ کی آمد ، حسب نسب اور آپ ﷺ کی صفات (تعریفات) صاف واضح لفظوں میں بیان کی ہیں ۔۔!!!!!!


    سورت توبہ آیت ۱۲۸

    [​IMG]
    [​IMG]

    مذکورہ آیت قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ تذکرہ میلاد مصطفی ﷺ حقیقت میں طریقہ خداوندی ہے ۔
    لقد جاءکم رسول میں محبوب ﷺ کی آمد کا ذکر ہے ۔
    من انفسکم میں محبوب کے نسب نامہ کا ذکر ہے۔
    عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف رحیم میں نبی پاک ﷺ کی صفات کا ذکر ہے ۔

    میرے پیارے اسلامی بھائیو۔۔۔ محفل میلاد مصطفی ﷺ میں ان ہی تین چیزوں کا بیان ہوتا ہے ۔

    اب رہا یہ سوال کہ جس طرح آج میلاد مصطفی ﷺ منایا جاتا ہے اس طرح تو کبھی صحابہ رضوان اللہ علیھم کے دور میں نہیں منایا گیا تھا ۔
    ہاں یہ بات درست ہے کہ آج کل کا میلاد مصطفی ﷺ صحابہ کرام کے دور میں نہیں تھا۔ لیکن کیا اس وقت اس طرح میلاد مصطفی منانے کی ضرورت تھی۔۔؟؟؟

    آج کے اس پُر فطن دور میں جب کہ مسلمانوں کے اتنے سارے فرقے وجود میں آچکے ہیں ، میلاد مصطفی ﷺ منانے کی اھمیت بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے ، لیکن یہ کہنا کہ میلاد کسی بھی شکل میں نبی پاک کے زمانہ میں یا اصحابہ کے دور میں موجود ہی نہیں تھا ۔۔ ناانصافی کی بات ہوگی۔

    نبی پاک ﷺ پیر کے دن پیدا ہوئے تھے اور یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ اپنی پیدائش کے دن باقائدگی سے روزہ رکھہ کے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔ جب خود حضور اکرم ﷺ اپنی ولادت کے دن کو ہر ہفتے نہ صرف یاد رکھہ رہے ہیں بلکہ اس دن شکرانے کا روزہ رکھنا بھی معمول بنا چکے ہوں تو کیا ہم حضور ﷺ کے اُمتی ہو کر آپ ﷺ کی ولادت کا دن سال میں ایک مرتبہ بھی نہیں مناسکتے۔۔!!!؟؟؟
    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ میلاد پر روزہ رکھ کر خود خوشی کا اِظہار فرمایا۔
    جشنِ میلاد کی شرعی حیثیت کے حوالہ سے درج بالا دلائل کے ساتھ ساتھ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے یومِ ولادت کی بابت بالتخصیص کوئی ہدایت یا تلقین فرمائی ہے؟ اس کا جواب اِثبات میں ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود صحابہ کرام کو اپنے یومِ میلاد پر اﷲ تعالیٰ کا شکر بجالانے کی تلقین فرمائی اور ترغیب دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے میلاد کے دن روزہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِظہارِ تشکر و اِمتنان فرماتے۔
    مکمل حوالہ جات کے لیئے وزٹ کریں
    یہاں کلک کریں

    صحابہ کرام کا نبی پاک ﷺ سے عشق کسی سے چھپا ہوا نھیں ہے۔ وہ تو ہر دن نبی پاک ﷺ کا ذکر کر کے میلاد مناتے تھے۔

    وقت گذرنے کے ساتھہ ساتھہ اسلام میں مختلف مسالک کی آمیزش کی وجہ سے عاشقان رسول نے اس بات کو محسوس کیا کہ نبی پاک ﷺ سے مسلمانوں کا لگاؤ کم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں ، نبی پاک ﷺ کا جو اعلی رتبہ و مقام اللہ عزوجل نے انھیں عطا کیا ہے اس پر شکوک شبھات پیدا کیئے جا رہے ہیں ، اسی وجہ سے میلاد مصطفی ﷺ منانے کے طور طریقوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں ہوتی گئیں ، جو کہ ایک فطری بات ہے۔

    اب کچھہ ذھنوں میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ کیا دین میں شامل ہونے والی ہر نئی بات بدعت سمجھہ لینی چاہیئے اور اسے جاری رکھنا گناھہ سممجھا جائے یا صرف ایسی بات جو قرآن وحدیٹ کے خلاف ہو اس کو روکا جائے ۔۔۔۔۔!!!!

    اس کو سمجھنے کے لیئے ہمیں صحیح مسلم کی اس حدیث پے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

    حاجة فحث الناس على الصدقة فأبطئوا عنه حتى رئي ذلك في وجهه، ثم إن رجلا من الأنصار جاء بصرة من ورق ثم جاء آخر ثم تتابعوا حتى عرف السرور في وجهه فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:
    «مَنْ سَنَّ فِي الإسلام سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِها بعْدَهُ كُتِب لَه مثْلُ أَجْر من عَمِلَ بِهَا وَلا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، ومَنْ سَنَّ فِي الإسلام سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وزر من عَمِلَ بِهَا ولا يَنْقُصُ من أَوْزَارهِمْ شَيْءٌ»
    1. مسلم، الصحيح، 2 : 705، کتاب الزکوٰة، باب الحث علی الصدقه، رقم : 1017
    2. مسلم، الصحيح، کتاب العلم، باب من سن سنة حسنة او سيئة، 4 : 2059، رقم : 2674

    ترجمہ:
    جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ شروع کیا خود اسے اس کا اجر ملے گا اور ان تمام لوگوں کا اجر بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے اجر میں کسی قسم کی کمی واقع ہو۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ شروع کیا تو اس کے اوپر اس کا اپنا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا بھی جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے گناہ میں کسی قسم کی کمی واقع ہو۔

    اللہ پاک ہم سب کو دین کی صحیح صحیح سمجھہ دے۔ آمین۔
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  16. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جناب ممتاز قریشی صاحب، اس بات کی وضاحت فرما دیجیے کہ چہلم اور سالگرہ منانے سے قران و حدیث کے کس حکم کی موافقت ہوتی ہے؟
    اس بات کی بھی وضاحت فرما دیجیے کہ صحابہ کرام سوئم، دسواں، چالیسواں اور برسی کس طرح منایا کرتے تھے؟


    اس بات کی بھی وضاحت فرما دیجیے کہ یہ ایصال ثواب کس طرح کیا جاتا ہے۔ کیا اس طرح ثواب بخشنے کا طریقہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ سے بھی ثابت ہے؟

    باقی باتیں ان شاء اللہ آپ کا جواب آنے کے بعد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  17. ممتاز قريشی

    ممتاز قريشی نوآموز

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2015
    پیغامات:
    29
    محترم بابر تنویر صاحب۔۔معذرت چاہتا ہوں کہ کچھہ مصروفیات کی وجہ سے جواب لکھنے میں تاخیر ہوئی۔

    قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق فاتحہ ، نظر و نیاز جو مردوں کو ایصال ثواب کے لیئے قرآن پاک کی آیات پڑھہ کر کیا جاتا ہے اور جسے بتعین تواریخ یا بلا تعین تواریخ کیا جائے تو بھی صحیح ہے۔ تعین کی قید یعنی چھلم یا عرس وغیرہ کی قید اس لیئے لگائی گئی کہ اس میں بزرگوں اور عزیز واقارب کی اموات یاد ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کوئی بھی مسلمان پابندی سے ایصال ثواب اپنے پیاروں کو بھیج سکتا ہے۔
    اگر تعین نہ کیا جائے تو پابندی سے ایصال ثواب پہچانا ممکن نہیں ہوسکتا۔

    قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ

    [​IMG]

    ” تو کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتیں مانتے ہو“
    (سورت الانعام 118)

    قرآن پاک کی اس آیت شریف میں صاف واضح لفظوں میں اس بات کا حکم دیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی چیز کھانے سے پہلے اس پر اللہ پاک کا نام لیا جائے اور پھر اسے کھانا چاہیئے۔ آسان الفاظ میں قرآن پاک کی تلاوت جو کہ اللہ کا ہی کلام ہے اس کو کھانے پر پڑھنا کسی بھی طرح غیر اسلامی نہیں ہے۔

    حدیث شریف
    حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” مردہ کی حالت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریاد کرنے والے کی طرح ہوتی ہے۔ وہ انتظار کرتا ہے کہ اس کہ باپ یا ماں یا بھائی یا دوست کی طرف سے اس کو دعا پہنچے اور جب اس کو کسی کی دعا پہنچتی ہے تو دعا کا پہچنا اس کو دنیا مافیھا سے محبوب تر ہوتا ہے اور بے شک اللہ تعالی اہل زمین کی دعا سے اہل قبور کو پہاڑوں کی مثل اجر و رحمت عطا کرتا ہے اور بے شک زندہ کا تحفہ مردوں کی طرف یہی ہے کہ ان کے لیئے بخشش (کی دعا) مانگی جائے۔
    (مشکواہ شریف ص 205)

    اب یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے فوت شدہ عزیز و اقارب کو صرف دعائوں کے ذریعے ایصال ثواب بھیج سکتے ہیں یا دنیا کے مال و ملکیت اور کھانے وغیرہ کی خیرات کر کے بھی ان کی بخشش کی کوشش کی جا سکتی ہے۔۔!!!

    اس بات کو سمجھنے کے لیئے ہمیں بخاری شریف ، ترمذی شریف اور سنن نسائی میں موجود اس حدیث پر غور و فکر کرنا چاہیئے۔

    حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی غیر موجودگی میں ان کی والدہ فوت ہو گئیں تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا ؛ یا رسول اللہ (ﷺ) میری والدہ کا انتقال ہوگیا اور میں ان کے پاس موجود نہیں تھا ، اگر میں ان کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کروں تو کیا انہیں اس کا فائیدہ ہوگا۔
    تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”ہاں“
    حضرت سعد نے عرض کیا ” میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔“
    (بخاری شریف کتاب الوصایا ، ترمذی ابواب الزکواہ ، سنن نسائی کتاب الوصایا)

    اسی قسم کی ایک حدیث ابوداؤد کتاب الزکواہ ، نسائی کلد 2 ص132 ، مشکواہ شریف فضل الصدقہ دوسری فصل میں بھی موجود ہے جس میں حضرت سعد بن عبادہ نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ کنواں سعد کی ماں کے لیئے ہے۔

    اب یہ بات تو ثابت ہو چکی کہ کھانے پر اللہ پاک کا نام لینا کوئی گناہ نہیں ہے اور اپنے فوت شدہ پیاروں کے لیئے ہم مختلف طریقوں سے ایصال ثواب بھی بھیج سکتے ہیں ، اور ان کے بدلے اللہ رب العزت ہمارے پیاروں پر رحم و کرم کر کے ان پر اپنا اجر و کرم بھی بڑھا دیتا ہے۔

    اب ایک اور حدیث شریف پر بھی غور و فکر کرتے ہیں جس میں کھانا سامنے رکھہ کر قرآن پاک پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔۔۔۔!!!

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور شکایت کی کہ اس کے گھر میں ہر شے سے برکت ختم ہوگئی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو آیت الکرسی سے کہاں غافل رہا تو جس کھانے اور سالن پر آیت الکرسی پڑھے گا اللہ تعالی اس کھانے اور سالن پر برکت بڑھا دے گا۔
    (تفسیر در منثور جلد اول ص 323 ، از علامہ جلال الدین سیوطی)

    میرے محترم بھائی۔۔۔ابوداؤد کی ایک حدیث سے بھی کھانے پر ہاتھہ اٹھا کر دعا مانگنا ثابت ہوتا ہے۔

    سرکار دوعالم ﷺ حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر تشریف لائے کھانا آپ ﷺ کے سامنے رکھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھہ اٹھا کر دعا فرمائی ” اے اللہ (عزوجل) سعد بن عبادہ کے گھر والوں کو رحمت اور برکت عطا فرما“ اس کے بعد آپ ﷺ نے کھانا تناول فرمایا۔ (ابوداؤد)

    میں ایک بار پھر یہ واضح کردوں کہ گیارھویں شریف ، ختم شریف ، قل ، دسواں ، چایسواں یا عرس وغیرہ سب ایصال ثواب کے مختلف طریقے ہیں ۔

    اب کوئی یہ اعتراض بھی کر سکتا ہے کے اس کام کے لیئے دن مخصوص کرنا غیر اسلامی ہے۔۔!!!

    یہاں اس بات کو واضح کردوں کہ کسی بھی نیک کام کرنے کے لیئے کوئی بھی دن مقرر کرنا بھی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

    نیک کام کے لیئے دن مقرر کرنے کا ثبوت
    صحیح بخاری اور مشکواہ شریف

    نبی پاک ﷺ ہر ہفتہ کے روز کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر مسجد قباء میں تشریف لے جاتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
    (بخاری شریف جلد اول ص 151، مشکواہ شریف کتاب الوصایا)

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ہر جمعرات لوگوں کو وعظ فرمایا کرتے تھے۔
    (بخاری کتاب الرقاق باب الموعظتہ ساعتہ بعد ساعتہ ، مشکواہ کتاب العلم پہلی فصل)

    آخر میں محترم بابر تنویر صاحب۔۔ آپ سے گذارش ہے کہ ایصال ثواب کے لیئے
    گیارھویں شریف ، ختم شریف ، قل ، دسواں ، چالیسواں یا عرس وغیرہ کس قرآنی حکم یا صحیح حدیث سے غلط ثابت ہوتے ہیں……؟؟

    وہ کو نسی آیت یا کونسی حدیث ہے جس میں صاف واضح لفظوں میں میلاد ، عرس یا چہلم وغیرہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے………؟؟؟؟

    وہ کونسی حدیث ہے جس میں کھانے کے سامنے قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے……؟؟؟

    اللہ پاک ہم سب کو دین کی صحیح صحیح سمجھہ دے۔ آمین۔
     
    • غیر متفق غیر متفق x 1
  18. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    آمین یا رب
    جب قرآن اور حدیث ہی کو بدعت کے لیے دلیل بنا دیا جائے تو ہدایت کہاں سے ملے گی؟؟؟؟؟؟
    کیا اب میلاد منانے کا طریقہ بدل گیا ہے ؟؟؟؟؟
    میلاد میں تو نعتیں پڑهی جاتی تهیں وہ بهی شرکیہ الفاظ سے بهرپور......
    کیک کاٹنے کی بهی کوئی دلیل ہونی چاہیئے ......
    اور مندر میں بهی میلاد منانے کی .......
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جناب ممتاز قریشی صاحب تاخیر سے کوئ مسئلہ نہیں۔ ہمیں آپ کی مصروفیت کا احساس ہے۔
    محترم آپ کے کسی بھی حوالے سے ایصال ثواب کرنا ثابت نہیں ہوتا۔
    جی محترم اللہ تعالی کا نام لینے سے مراد ایک تو کسی جانور کو ذبح کرنے سے پہلے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرنا ہے اور دوسرے کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ یعنی اللہ کا نام لے کر شروع کرنا ہے۔ اس آیت سے قران کی آیات پڑھ کر ایصال ثواب کرنا تو کہیں سے بھی ثابت نہیں ہوتا۔ یہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں ہے۔ اور جو عبادت نبئ کریم صلی اللہ کے بتاۓ ہوۓ طریقے پر نہیں ہے وہ اسلامی نہیں ہے۔
    یعنی کسی کے مرنے کا بعد اس کی طرف سے صدقہ کرنا حدیث سے ثابت ہوا۔ قرآن پڑھ کر ایصال ثواب کرنا نہیں۔
    پھر وہی بات میرے بھائ یہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قران پڑھ کر ایصال ثواب نہیں کیا۔
    لیکن یہ تمام طریقے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے نہیں ہیں۔
    لیکن آپ سوئم، دسواں، چالیسواں اور برسی وغیرہ کبھی نہیں مناتے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  20. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بات منع کرنے کی نہیں ہوتی بھائ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرنے کی ہوتی ہے۔
    آپ مجھے یہ بتا دیں کہ کیا کہیں فجر میں چار سنت اور چار فرض پڑھنے کو منع کیا گیا ہے؟
    کیا ظہر کی نماز میں پانچ رکعت فرض پڑھنے کو منع کیا گیا ہے۔
    نہیں کہیں بھی نہیں۔ یہ ہم صرف اس لیے نہیں کریں گے یہ یہ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے۔
    اور جہاں تک منع کرنے کی بات ہے تو ہمیں دین میں نئ نئ چیزیں ایجاد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور نئ چیزیں ایجاد کرنا بدعت کہلاتا ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے اور ہر ضلالت جہنم کی آگ کی طرف لے جاتی ہے۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 21, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں