{فصل لربك وانحر} کی تفسیر میں ”التمہید“ میں منقول اثر علی رضی اللہ عنہ میں تحریف

کفایت اللہ نے 'مجلس علماء' میں ‏جنوری 19, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    حدیث علی ، تفسیر{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ}تحریف شدہ روایت


    ابن عبد البر رحمه الله (المتوفى463)نے کہا:
    ذكر الأثرم قال حدثنا أبو الوليد الطيالسي قال حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم الجحدري عن عقبة بن صهبان سمع عليا يقول في قول الله عز وجل {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ}قال وضع اليمنى على اليسرى تحت السرة
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے قول {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ:اس سے (نمازمیں) دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پررکھ کر ناف کے نیچے رکھنا مراد ہے۔[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد 20/ 78]

    عرض ہے کہ تمہید کے اس نسخہ میں ’’السرۃ‘‘ (ناف) کالفظ کتاب کے محقق نے اپنی طرف سے بنادیا ہے ۔ اور اصل قلمی نسخہ جس سے نقل کرکے یہ کتاب چھاپی گئی ہے اس میں اس روایت کے اخیر میں ’’السرہ‘‘ (ناف) کا لفظ ہرگز نہیں ہیں۔بلکہ ’’الثندوۃ‘‘ (چھاتی) کا لفظ ہے۔

    ''الثندوۃ''کے معانی چھاتی ہوتے ہیں۔ لسان العرب میں ہے:
    والثندوة للرجل: بمنزلة الثدي للمرأة
    ''ثندوہ''
    مرد کی چھاتی کو کہا جاتا ہے جس طرح عورت کی چھاتی کو ''ثدی'' کہا جاتا ہے[لسان العرب : 1/ 41].

    دیوبندیوں کی ڈکشنری القاموس الوحید میں ہے:
    الثندوہ : مرد کا پستان[القاموس الوحید: 224]
    اور ''تحت الثندوہ'' کا مطلب ’’چھاتی کے نیچے‘‘ ہوتا ہے۔

    اور چھاتی کے نیچے سینہ ہی ہوتا ہے چنانچہ احناف عورت کے لئے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا حکم دیتے ہیں اور ان کی مشہور کتاب ’’الدر المختار‘‘ میں ہے:
    وتضع المرأة والخنثى الكف على الكف تحت ثديها
    اورعورت اور مخنث ہتھیلی کو ہتھیلی پررکھ کر اپنی چھاتی کے نیچے رکھے گی[الدر المختار وحاشية ابن عابدين :1/ 487 نیز دیکھیں: ]

    اسی طرح احناف کی ایک اور کتاب میں ہے:
    وتضع يمينها على شمالها تحت ثدييها
    عورت اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر اپنی چھاتیوں کے نیچے رکھے گی[البحر الرائق شرح كنز الدقائق :1/ 339 ]

    احناف کی درج بالا کتابوں میں عورت کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اپنی چھاتی کے نیچے ہاتھ باندھے جب کی احناف کی کی بعض کتابوں میں یوں کہا گیا ہے کہ عورت اپنے سینے پر ہاتھ باندھے چنانچہ:
    احناف کی مشہور کتاب ’’البحر الرائق‘‘ ہے:
    فإنها تضع على صدرها
    کیونکہ عورت اپنے سینے پر ہاتھ باندھے گی [البحر الرائق شرح كنز الدقائق :1/ 320].

    اسی طرح احناف کی ایک اور کتاب میں ہے:
    وإذا كبر وضع يمينه على يساره تحت سرته والمرأة تضع على صدرها
    اورتکبیرکہنے کے بعد اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنے ناف کے نیچے رکھے گا اور عورت اپنے سینے پر رکھے گی [تحفة الملوك ص: 69۔ نیزدیکھیں:تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:1/ 107،البناية شرح الهداية:2/ 183]۔

    احناف کی ان کتابوں میں یہ کہا گیا ہے کہ عورت اپنے سینے پر ہاتھ باندھے ، جب کہ اس سے قبل مذکورہ کتابوں میں یہ کہا گیا ہے کہ عورت اپنی چھاتی کے نیچے ہاتھ باندھے۔
    ظاہر ہے کہ احناف یہی کہیں گے کہ ان دنوں الفاظ میں معنوی طور پر ایک ہی بات ہے یعنی دونوں کا مطلب یہی ہے کہ عورت اپنے سینے پر ہاتھ باندھے۔

    ہم بھی یہاں پر یہی کہتے ہیں کہ اس روایت میں جو چھاتی کے نیچے ہاتھ باندھنے کے الفاظ ہیں اور دوسری روایات میں جو سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے ان دنوں میں معنوی طور پر ایک ہی بات ہے یعنی دونوں کا مطلب سینے پر ہاتھ باندھنا ہی ہے۔

    الغرض یہ کہ علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی دلیل نہیں ہے بلکہ سینے پر ہاتھ باندھنے کی دلیل ہے کیونکہ اس روایت کے اخیر میں ’’السرۃ‘‘(ناف) کا لفظ موجود ہی نہیں ہے بلکہ صحیح لفظ ’’الثندوۃ‘‘ (چھاتی ) ہی ہے۔ اس بات پر دس دلائل ملاحظہ ہوں:
     
    Last edited: ‏جنوری 19, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    پہلی دلیل: محقق کا اعتراف

    التمھید کے محقق نے حاشیہ میں خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس روایت کے اخیر میں ’’السرۃ‘‘ (ناف) کا لفظ اسی نے بنایا ہے ۔اور اصل قلمی نسخے میں یہاں پر ’’السرۃ‘‘ (ناف) کا لفظ نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ ’’التندوۃ‘‘ کا لفظ ہے:
    چنانچہ جس صفحہ پریہ روایت ہے اسی صفحہ پر حاشیہ میں محقق لکھتاہے:
    (42) التندوۃ : ا -ق ولعلل الصواب ما اثبتہ کما ھی الروایۃ۔
    ’’التندوۃ‘‘ نسخہ استنبول میں ایسا ہے اور نسخہ اوقاف میں ناقص ہے ۔ اورشاید صحیح وہی ہے جو میں نے بنایا ہے جیساکہ اس طرح کی روایت ہے۔[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد 20/ 78 : حاشیہ نمبر 42]

    نوٹ: اس حاشیہ کے ترجمہ میں ہم نے رموز کے مفہوم کا بھی ترجمہ کردیا ہے تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب : انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر :ص 298۔


    ہمارے خیال سے محقق صاحب اصل مخطوطہ یعنی قلمی نسخہ میں موجود اس لفظ کو صحیح طور سے پڑھ ہی نہیں سکے دراصل یہ لفظ ’’الثندوۃ‘‘ (ثاء مثلثہ کے ساتھ) ہے جیساکہ خطیب بغدادی کی روایت آگے آرہی ہے اور ’’الثندوۃ‘‘ کے معنی چھاتی کے ہوتے ہیں ،کما مضی۔
    اورچونکہ مخطوطات اور قلمی نسخوں میں بہت سارے حروف پر نقطے لکھے ہی نہیں جاتے تھے یا لکھے بھی جاتے تھے تو تین نقطے اور دو نقطے کبھی اس طرح لکھ جاتے کہ دیکھنے میں دونوں ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں۔اب اصل قلمی نسخۃ میں ’’الثندوۃ‘‘ کے ثاء پر تین نقطہ واضح نہیں رہا ہوگا اس لئے محقق نے اس حرف پر صرف دو ہی نقطہ سمجھا اوراس بنیاد پر اس نے اس لفظ کو ’’التندوۃ‘‘ (یعنی ’’تاء‘‘ کے ساتھ پڑھا) یا ممکن ہے ناسخ نے ہی اسے واضح طور پر’’التندوۃ‘‘ تاء کے ساتھ ہی لکھا ہو اور چونکہ ’’التندوہ‘‘ (تا کے ساتھ) کا کوئی معنی نہیں ہوتا اس لئے محقق نے اس لفظ کو بامعنی بنانے کے لئے اسے بدل کر ’’السرۃ‘‘ بنادیا۔(نسخوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب: انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر : ص300)

    عرض ہے کہ اگر اصل قلمی نسخۃ میں یہ لفظ ’’التندوۃ‘‘ تھا تو اس کی درست تصحیح یہ ہے کہ حروف میں کوئی تبدیلی کئے بغیر صرف حرف تاء پر ایک نقطہ بڑھا دیا جائے اور اسے ’’الثندوہ‘‘ کردیا جائے ۔ اس کے لئے علاوہ اس میں کسی اور تبدیلی کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ:
    • (الف): ’’التندوۃ‘‘ کے ’’تاء‘‘ پر صرف ایک نقطہ بڑھانے سے یہ لفظ بامعنی بن جاتاہے۔لہٰذا اصل لفظ میں مزید تصرف کا کوئی جواز نہیں ہے۔
    • (ب): صرف ایک نقطہ کے اضافہ کے بعد اصل حروف میں کسی تبدیلی کے بغیر یہ لفظ بامعنی ہوجاتاہے۔لہٰذا حروف بدلنے کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    • (ج): اورایک نقطہ کے اضافہ کے بعد معنی بھی اس روایت کے دیگر طرق میں وارد لفظ کے موافق ہوجاتاہے جیساکہ کی وضاحت جاچکی ہے۔
    • (د): بلکہ خطیب بغدادی کی کتاب ’’موضح أوهام الجمع والتفريق‘‘ میں یہ روایت ٹھیک اسی سند ومتن کے ساتھ ہے اور اس میں واضح طور پر ’’الثندوہ‘‘ کا لفظ موجود ہے ۔ یہ بڑی زبردست دلیل ہے کہ اس روایت میں اصلا یہی لفظ ہے۔
    • (ھ): لغوی اعتبار سے ’’وانحر‘‘ کی تفسیر میں ’’الثندوۃ‘‘ کا لفظ معنوی طور پر مناسب ہے لیکن لغوی اعتبار سے ’’السرۃ‘‘ (ناف) کا ’’وانحر ‘‘ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ وانحر کی تفسیر میں’’السرۃ‘‘ (ناف) کا لفظ لانا حددرجہ مضحکہ خیز ہے۔
    محقق نے آگے یہ کہا ہے کہ ’’جیساکہ روایت ہے ‘‘ ۔ اس سے غالبا محقق کی مراد ابوداؤد وغیرہ کی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی بالاتفاق ضعیف شخص کی روایت ہے۔نہ کہ تفسیر والی کوئی اور روایت ۔کیونکہ علی رضی اللہ عنہ کی تفسیر والی ایسی کوئی روایت کسی بھی کتاب میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ دنیا کے تمام احناف مل کی بھی دنیا کے کسی بھی کونے سے علی رضی اللہ عنہ کی ایسی تفسیری روایت ہرگزہرگز نہیں دکھلاسکتے ۔
    اگر محقق نے تفسیری روایت مراد لی ہے تو اس نے صریح جھوٹ بولا ہے کیونکہ ایسی تفسیری روایت کہیں موجود ہی نہیں ہے ، اور نہ ہی محقق نے کوئی حوالہ دیاہے۔
    اوراگر محقق کی مراد ابوداؤد میں عبدالرحمان بن اسحاق الکوفی بالاتفاق ضعیف شخص کی روایت ہے تو عرض ہے کہ یہ روایت بالاتفاق ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ تفسیری روایت بھی نہیں ہے نیز اس کی سند بھی الگ تھلگ ہے اس کے رواۃ بھی دوسرے ہیں۔ دیکھئے: انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر:ص264 تا 280۔
    لہٰذا اس الگ سیاق اور الگ روایت وہ بھی بالاتفاق ضعیف روایت کی بنیاد پر اس تفسیری روایت میں تبدیلی کرنا کا بہت بڑا عجوبہ ہے۔
    کیونکہ کسی روایت کے الفاظ وغیرہ کی تصحیح کے لئے عین اسی روایت کو اسی سیاق میں اسی سند سے دیگرکتب میں تلاش کیا جاتا ہے پھرکوئی تصحیح کی جاتی ہے۔ اس اصول کے تحت محقق کو چاہئے تھا کہ اس تفسیری روایت کو اسی سیاق اور اسی سند کے ساتھ دوسری کتاب میں تلاش کرتے۔ ایسا کرنے پر انہوں بخوبی معلوم ہوجاتا کہ اس روایت کے دیگر بہت سارے طرق میں صریح طورپر سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ، اس لئے محقق کو اگر لفظ کی تصحیح ہی کرنی تھی تو موصوف صرف اس لفظ کے تاء پر صرف ایک نقطہ اور بڑھاکر اسے ’’الثندوۃ‘‘ کردیتے کیونکہ ایساکرنے سے معنوی طور پر یہ لفظ اس روایت کے دیگر طرق میں وارد لفظ کے موافق ہوجاتاہے۔
    بلکہ خطیب بغدادی میں یہ روایت اسی سند ومتن کے ساتھ ہے اور اس میں واضح طور پر ’’الثندوۃ‘‘ کا لفظ موجودہے۔کماسیاتی۔
    مزید یہ کہ اس روایت میں قرانی لفظ ''وانحر'' کی تفسیر ہے اور لغوی اعتبار سے ''ثندوۃ'' (چھاتی کے نیچے یعنی سینہ) کا مفہوم ''نحر'' (گلے سے نیچے کاحصہ ) سے مناسبت رکھتا ہے ۔لیکن ایک پل کے لئے غور کیجئے کہ ''السرۃ'' (ناف) کا ''نحر'' سے کیا تعلق ہے؟ کہاں ''نحر'' جو جسم کے اوپری حصہ میں ہے اور کہاں ''السرۃ'' (ناف) جو جسم کے نچلے حصہ میں ہے ۔ بھلا ان دونوں میں کیا مناستب ہے؟ ان دونوں میں اس قدر بعد المشرقین کے باوجود نامعلوم کس عقل ومنطق سے محقق صاحب ''وانحر '' کی تفسیر میں ''السرۃ'' (ناف) کا لفظ لے آئے۔

    بہرحال اول تو محقق صاحب اس لفظ کو صحیح طور سے پڑھ نہیں پائے دوسرے یہ کہ اگر انہوں نے غلط ہی پڑھا تھا توبھی تصحیح کرتے ہوئے انہیں اس لفظ کو ”الثندوۃ “ ہی بنانا چاہیے تھا ۔چناں چہ ان کی تحقیق کے بعد اسی کتاب کی ایک دوسرے محقق دکتور عبداللہ بن المحسن الترکی نے بھی تحقیق کی ہے اورانہوں نے اپنے محقق نسخہ میں یہاں” الثندوۃ“ ہی لکھا ہے ۔اورحاشیہ میں تنبیہ بھی کی ہے کہ ان سے پہلے محقق نے اپنے نسخہ میں اسے ”السرۃ“ لکھ دیا ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب: انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر : ص302 تا 304۔
     
    Last edited: ‏جنوری 19, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    دوسری دلیل: ابوالولید اور ان کے شاگرد اثرم ہی کے طریق سے خطیب بغدادی کی روایت


    التمھید میں ابن عبدالبر نے اس روایت کو ابوالولید کے شاگرد الاثرم کے حوالہ سے نقل کیا ہے اور الاثرم ہی سے اسی سند کے ساتھ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اپنی صحیح سند سے بیان کرتے ہوئے کہا:

    أخبرنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن رزقويه حدثنا عثمان بن أحمد بن عبد الله الدقاق حدثنا عبد الله بن عبد الحميد القطان حدثنا أبو بكر الأثرم حدثنا أبو الوليد حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم الجحدري عن أبيه عن عقبة بن ظبيان سمع عليا رضي الله عنه يقول{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ}قال وضع اليمنى على اليسرى تحت الثندوة
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108) کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں) اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھ کر اپنی چھاتی کے نیچے (یعنی سینے پر) رکھنا مراد ہے ''۔[موضح أوهام الجمع والتفريق 2/ 340 حدیث نمبر 379 واسنادہ صحیح، نیز دیکھیں:موضح أوهام الجمع والتفريق 2/ 305 بتحقیق المعلمی ]

    خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی یہ صحیح روایت ابوالولید کے شاگرد اثرم ہی کے طریق سے اور اس میں روایت کے اخیر میں پوری صراحت اوروضاحت کے ساتھ ’’الثندوة“ کا لفظ موجود ہے۔

    اس روایت نے قطعی فیصلہ کردیا ہے تمھید میں منقول روایت کے اخیر میں ’’الثندوة‘‘ ہی ہونا چاہئے۔ والحمدللہ

    واضح رہے کہ التمھید کے قلمی نسخے میں بکثرت غلطیاں واقع ہوئی ہیں جیساکہ خود محقق نے مقدمہ میں اعتراف کیا ہے ۔ اور خطیب بغدادی کی یہ روایت سامنے آنے کے بعد یہ بھی معلوم ہواکہ التمھید میں اس روایت کی سند میں عاصم الجحدری کے اوپر’’عن ابیہ‘‘ کا واسطہ چھوٹ گیا ہے جس کے سبب تمہید والی روایت تحریف شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ منقطع بھی ٹہری ۔
    جب کہ خطیب بغدادی کی اس روایت کا متن بھی سلامت ہے اور سند بھی صحیح ہے ۔ والحمدللہ۔
    سند کے راویوں کی توثیق اور سند ومتن میں اضطراب کے دعوی کی تردید کے لئے دیکھئے ہماری کتاب: انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر : 220 تا 243 ۔
     
    Last edited: ‏جنوری 19, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    تیسری دلیل:حماد کے شاگر موسی بن اسماعیل کی روایت


    تمہید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو حمادبن سلمہ کے ایک اور شاگرد ’’موسی بن اسماعیل ‘‘ نے بھی نقل کیا اور ان کی روایت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ۔ چنانچہ:

    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    قال موسى: حدثنا حماد بن سلمة، سمع عاصما الجحدري، عن أبيه، عن عقبة بن ظبيان، عن علي، رضي الله عنه: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} وضع يده اليمني على وسط ساعده على صدره.
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں) اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے بازو (کہنی سے ہتھیلی تک کے حصہ ) کے درمیان رکھ کر اپنے سینے پررکھنا مرادہے[التاريخ الكبير للبخاري: 6/ 437 ، السنن الكبرى للبيهقي: 2/ 45 واسنادہ صحیح]

    یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تمھید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری روایت میں وہی لفظ درست ہے جو سینے پر ہاتھ باندھنے پر دلالت کرے اور نہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر ۔
     
    Last edited: ‏جنوری 19, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    چوتھی دلیل:حماد کے شاگر موسی بن اسماعیل کی روایت کا ایک اور طریق

    تمہید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو حمادبن سلمہ کے شاگرد ''موسی بن اسماعیل ''کی روایت امام بیہقی نے بھی نقل کی ہے اور اس میں بھی سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ۔ چنانچہ:

    امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
    أخبرنا أبو بكر الفارسي أنبأ أبو إسحاق الأصبهاني أنبأ أبو أحمد بن فارس، ثنا محمد بن إسماعيل البخاري رحمه الله قال: أنبأ موسى، ثنا حماد بن سلمة سمع عاصما الجحدري، عن أبيه، عن عقبة بن ظبيان، عن علي {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} وضع يده اليمنى على وسط ساعده على صدره "
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ اس سے (نمازمیں) اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے بازو (کہنی سے ہتھیلی تک کے حصہ ) کے درمیان رکھ کر اپنے سینے پررکھنا مرادہے [السنن الكبرى للبيهقي: 2/ 45 واسنادہ صحیح]

    یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تمھید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری روایت میں وہی لفظ درست ہے جو سینے پر ہاتھ باندھنے پر دلالت کرے اور نہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    پانچویں دلیل:حماد کے شاگر ’’حجاج بن المنهال الأنماطى‘‘ کی روایت

    تمہید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو حمادبن سلمہ کے ایک اور شاگرد ''حجاج بن المنهال الأنماطى '' نے بھی نقل کیا اور ان کی روایت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ۔ چنانچہ:

    امام ابن المنذر رحمه الله (المتوفى319)نے کہا:
    حدثنا علي بن عبد العزيز، قال: ثنا حجاج، قال: ثنا حماد، عن عاصم الجحدري، عن أبيه عن عقبة بن ظبيان، عن علي بن أبي طالب رضوان الله عليه: " أنه قال في الآية {فصل لربك وانحر}فوضع يده اليمنى على ساعده اليسرى ثم وضعها على صدره "
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108) کی تفسیربیان کرتے ہوئے فرمایاکہ اس سے (نمازمیں) دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کے بازو (کہنی سے ہتھیلی تک کے حصہ ) کے درمیان رکھ کر پھرانہیں اپنے سینے پررکھنا مراد ہے۔[الأوسط لابن المنذر: 3/ 91 رقم1284 واسنادہ صحیح]

    یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تمھید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری روایت میں وہی لفظ درست ہے جو سینے پر ہاتھ باندھنے پر دلالت کرے اور نہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    چھٹی دلیل:حماد کے شاگر حجاج بن المنهال الأنماطى کی روایت کا ایک اور طریق

    تمہید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو حمادبن سلمہ کے شاگرد ''حجاج بن المنهال الأنماطى ''کی روایت امام أبو إسحاق الثعلبي، نے بھی نقل کی ہے اور اس میں بھی سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ۔ چنانچہ:

    امام أحمد بن محمد بن إبراهيم الثعلبي، أبو إسحاق (المتوفى: 427 ) نے کہا:
    أخبرنا عبد الله بن حامد قال: أخبرنا محمد بن الحسين قال: حدّثنا أحمد بن يوسف قال: حدّثنا حجاج قال: حدّثنا حماد عن عاصم الجحدري عن أبيه عن عقبة بن ظبيان عن علي ابن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال في هذه الآية {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ}قال: وضع اليد اليمنى على ساعده اليسرى ثم وضعها على صدره.
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108) کی تفسیربیان کرتے ہوئے فرمایاکہ اس سے (نمازمیں) دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کے بازو (کہنی سے ہتھیلی تک کے حصہ ) کے درمیان رکھ کر پھرانہیں اپنے سینے پررکھنا مراد ہے۔[تفسير الثعلبي : 10/ 310 واسنادہ صحیح]

    یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تمھید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری روایت میں وہی لفظ درست ہے جو سینے پر ہاتھ باندھنے پر دلالت کرے اور نہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    ساتویں دلیل:حماد کے شاگر ’’شيبان بن فروخ“ کی روایت
    تمہید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو حمادبن سلمہ کے ایک اور شاگرد ”شيبان بن فروخ“ نے بھی نقل کیا اور ان کی روایت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ۔ چنانچہ:

    امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
    أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن الحارث الفقيه، أنبأ أبو محمد بن حيان أبو الشيخ، ثنا أبو الحريش الكلابي، ثنا شيبان، ثنا حماد بن سلمة، ثنا عاصم الجحدري، عن أبيه، عن عقبة بن صهبان كذا قال: إن عليا رضي الله عنه قال في هذه الآية {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} قال: " وضع يده اليمنى على وسط يده اليسرى، ثم وضعها على صدره "
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ:اس سے (نمازمیں) اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کے بازو (کہنی سے ہتھیلی تک کے حصہ ) کے درمیان رکھ کر پھرانہیں اپنے سینے پررکھنا مراد ہے۔[السنن الكبرى للبيهقي: 2/ 46 حدیث نمبر2337 واسنادہ حسن]

    یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تمھید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری روایت میں وہی لفظ درست ہے جو سینے پر ہاتھ باندھنے پر دلالت کرے اور نہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    آٹھویں دلیل: حماد کے شاگر '' أبو عمرو الضرير'' کی روایت

    تمہید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو حمادبن سلمہ کے ایک اور شاگرد "أبو عمرو الضرير" نے بھی نقل کیا اور ان کی روایت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ۔ چنانچہ:

    طحاوي رحمه الله (المتوفى321)نے کہا:
    حدثنا أبو بكرة، قال: حدثنا أبو عمرو الضرير، قال: أخبرنا حماد بن سلمة، أن عاصما الجحدري أخبرهم، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، كرم الله وجهه، في قوله: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} قال: " وضع يده اليمنى على الساعد الأيسر، ثم وضعهما على صدره "
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے قول {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108)کی تفسیرمیں فرمایاکہ:اس سے (نمازمیں) دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کے بازو (کہنی سے ہتھیلی تک کے حصہ ) کے درمیان رکھ کر پھرانہیں اپنے سینے پررکھنا مراد ہے۔[أحكام القرآن للطحاوي 1/ 184 حدیث نمبر323 ،صحیح المتن رجالہ ثقات لکن سقط عقبۃ بن ظبیان من السند]

    یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تمھید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری روایت میں وہی لفظ درست ہے جو سینے پر ہاتھ باندھنے پر دلالت کرے اور نہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,018
    نویں دلیل:حماد کے شاگر ''أبو صالح الخراساني'' کی روایت
    تمہید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو حمادبن سلمہ کے ایک اور شاگرد "أبو صالح الخراساني" نے بھی نقل کیا اور ان کی روایت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی صراحت ہے ۔ چنانچہ:

    امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
    حدثنا ابن حميد، قال: ثنا أبو صالح الخراساني، قال: ثنا حماد، عن عاصم الجحدري، عن أبيه، عن عقبة بن ظبيان، أن علي بن أبي طالب رضى الله عنه قال في قول الله:{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ}قال: وضع يده اليمنى على وسط ساعده الأيسر، ثم وضعهما على صدره.
    صحابی رسول علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اللہ تعالی کے فرمان:{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} (الکوثر:2/108 ) کی تفسیرمیں فرمایاکہ: اس سے (نمازمیں) اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ کے بازو (کہنی سے ہتھیلی تک کے حصہ ) کے درمیان رکھ کر پھرانہیں اپنے سینے پررکھنا مراد ہے۔[تفسير الطبري: ت شاكر 24/ 652 ، صحیح المتن بالمتابعات لاجل ابن حمید]

    یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تمھید میں منقول علی رضی اللہ عنہ کی اس تفسیری روایت میں وہی لفظ درست ہے جو سینے پر ہاتھ باندھنے پر دلالت کرے اور نہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں