نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلسطین میں؟؟؟

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جنوری 30, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,203
    چند ماہ قبل ہماری ملاقات جنگ عظیم میں شامل ایک بوڑھے مسلمان فوجی سے ہوئ۔ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کی یہ مسجد عثمان تھی اور وہ بوڑھا ہمیں جنگ عظیم کی تفصیلات سنا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب ہماری پلٹن فلسطین میں پہنچی تو ہم چند مسلمان فوجیوں نے کہا کہ قسمت سے آۓ ہیں تو چلو اس سرزمین انبیاء کی تھوڑی بہت سیر اور واقفیت حاصل کر لیں۔ ہم نکل کھڑےہوۓ، گائیڈ ہمارے ساتھ تھا۔ وہ ہمیں مقامات مقدسہ دکھانے کے لیے مختلف جگہ لے گیا۔ ایک جگہ اس نے ہوا میں معلق ایک بہت بڑا پتھر دکھایا۔ یہ پتھر زمین سے تھوڑا اوپر ہوا میں معلق نظرا آتا تھا۔ جو تقریبا ایک مرلہ زمین کے خطے جتنا بڑا تھا۔ اور لگتا تھا کہ اس کو فرش کو کوئ خفیہ سپورٹ دی گئ ہو لیکن بظاہر نظر نہ آرہی تھی۔ اس پتھر کی طرف اشارہ کرتے ہوے گائیڈ نے ہم سے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا :" جانتے ہو یہ کیا ہے؟" ہم نے کہا :" ہمیں تو کچھ نہیں معلوم، آپ ہی بتائين۔" وہ نہایت ہی عقیدت اور تقدس بھرا انداز بنا کر کہنے لگا:" یہ بڑا سا پتھر زمین کا حصہ تھا، لوگ اس پر چلتے اور پھرتے اور آتے جاتے تھے۔ گویا یہ عام گزر گاہ میں زمین کے برابر واقع تھا۔ اس پتھر کی خصوصیت اور خوبی یہ تھی کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تھا اور ان کے گزرنے سے اس کے پاؤں کا نشان اس پر رہ گیا، جو آج تک اس پر ابھرے ہوے نقش کی صورت میں موجود ہے۔ مسلمان اس پاؤں کے نشان کی بہت تعظیم کرتے تھے اور اسے متبرک جانتے ہوۓ اس سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ چونکہ اس راستہ کہ جس کا یہ حصہ تھا سے یہودی عسائی بھی گذرتے تھے۔ جب یہودیوں کا جوتا یا پاؤں اس پر پڑتا اس پتھر کو بہت تکلیف ہوتی اور وہ تڑپ کر رہ جاتا۔ ایک عرصہ تو وہ یہ ماجرا دیکھ کر صبر کرتا رہا کڑھتا رہا، اور بالآخر اس نے اللہ کے حضور بڑی عاجزی سے گڑگڑا کر یوں دعا کی:

    " اے پروردگار!۔۔۔۔۔ میں تیری حقیر اور کمزور مخلوق اتنی طاقت نہیں رکھتی کہ اس پلید یہودیوں، عیسائیوں کو تیرے نبی کے نقش قدم پر اپنے پلید پاؤں رکھنے سے روک سکوں، مجھ سے اب مزید یہ ماجرا دیکھا نہیں جاتا۔ لہذا میری حالت پر رحم کرتے ہوۓ مجھے ان کی دست برد سے محفوظ رکھ اور کوئ ایسی سبیل پیدا کردے کہ ان کے پاؤں میرے اوپر نہ آئيں کہ میں بہت بڑی مقدس اور متبرک امانت کا بوجھ اٹھاۓ ہوۓ ہوں۔"

    اللہ تعالی نے اس پتھر کی دعا قبول کر لی اور اس کو زمین سے اکھاڑ کر ہوا میں معلق کر دیا۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ اب بھی ہوا میں معلق ہے اور جب تک اللہ کی مرضی ہوگی یونہی رہے گا ۔ مجاور جو قریب ہی کھڑا ہماری باتیں سن رہا تھا فوری بولا :" یہ شخص بالکل سچ کہہ رہا ہے، بلکہ اس کی تفصیل ابھی مزید بھی ہے اگر کہو تو سناؤں؟

    " نہیں بابا جی! ہم فوجی لوگ ہیں، ہم نے ابھی اور بھی زیارتیں کرنی ہیں اور آج ہی اپنی بیرکوں میں واپس پہنچنا ہے" ہم نے اس کی کہانی شروع کرنے سے پہلے ہی جواب دے دیا۔

    اب گائیڈ ہمیں وہاں موجود قبروں اور آستانوں کی تفصیلات بتانے لگا۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کا اس مزار نما عمارت کہ جس میں یہ بڑا پتھر معلق تھا کا مجاور ہمیں معصوم اور مسکین صورت بناۓ ہماری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھے جارہا ہے۔ ہم نے گائیڈ سے پوچھا ۔: یہ کیا کہنا چاہ رہا ہے؟" تو اس نے جواب دیا کہ :" یہ کہنا نہیں چاہتا بلکہ آپ سے قدم شریف کے پتھر کی زیارت کا نذرانہ اور ہدیہ مانگ رہا ہے، آپ اسے کچھ دے دیں کہ ان کی روزی کا یہی بس ایک ذریعہ ہے"

    ہم سب نے مل کر کچھ پیسے اکٹھےکرکے اس کو دے دیے، جس سے وہ بہت خوش ہوا اور ہمیں بدؤوں کی طرح سلام کرتے ہوۓ چلا گیا۔

    جب فوجی بابا یہاں تک پہنچا تو میں نے ٹوکتے ہوۓ کہا

    "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم یہ مانتے ہیں کہ آپ فلسطین گۓ، زیارات کیں، نقش قدم دیکھا وغیرہ وغیرہ، لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آ‏ئ۔۔۔۔۔ اس کی وضاحت فرمادیں۔"

    بابا جی جن کی کمر جھک چکی تھی، نظر کمزور تھی اور لاٹھی ہاتھ میں تھی، انہوں نے ہمیں دیکھتے ہوۓ پوچھا

    بیٹا!۔۔۔۔۔۔۔وہ کونسی بات ہے؟"

    میں نے کہا " " بابا جی یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فلسطین میں اپنی پوری زندگي میں ایک مرتبہ بھی نہیں گۓ تو پھر ان کا قدم وہاں کیسے پہنچ گیا اور پھر پتھر پر کیسے نقش ہوگیا!؟؟

    بابا جی میری بات کاٹتے ہوۓ حیرانگي سے فورا کہنے لگے:

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری زندگی یعنی اپنی وفات تک فلسطین کے علاقے میں بالکل نہیں گۓ!!؟

    میں نے کہا :" بالکل نہیں۔ سارا ذخیرہ احادیث کھنگال لیں یا تاریخ پڑھ لیں، ایسی کوئ بات سرے سے موجود نہیں"

    صرف اتنا ہے کہ آپ براق کے ذریعہ بیت المقدس اور پھر وہاں سے آسمانوں پر چلے گۓ۔

    بابا جی فکر مند ہوکے بڑبڑانے لگے : " پھر نقش قدم وہاں کیسے لگ گیا؟"

    میں نے کہا :" بابا جی یہی تو ہم پوچھ رہے ہیں" بابا جی یہ کہتے ہوۓ چل پڑے کہ :" میرے پاس ٹائم نہیں ہے کیونکہ میں نے ابھی کسی اور مسجد میں جا کر صدا لگانی ہے اور ان تبرکات کی باتیں مسجدوں میں مجھ سے لوگ تو بہت شوق اور عقیدت سے سنتے ہیں اور میری مدد بھی کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! پھر کچھ سوچ کر کہنے لگا کہ تقریبا 60 سال ہونے کو ہیں میں نے بھی آج تک اس پہلو پر غور نہیں کیا تھا۔

    مقام صد افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی کتنی ہی داستانیں بنا دی گئيں ہیں کہ جن میں مختلف چیزوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جاتی ہے اور ذرا بھی خیال نہیں کیا جاتا کہ اللہ کا قہر اور غضب نازل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ان جھوٹے قصے کہانیوں پر تھوڑا سا بھی تنقیدی نظر سے غور کیا جاۓ تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ کیونکہ اس سے قبل تو حقیقت خرافات کے دبیز پردے میں چھپی ہوئ ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عقیدے کے اعتبار سے ایک نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ ایسے قصے کہانیوں سے کتنے ہی ضعیف الاعتقاد اور دین اسلام سے لاعلم اور جاہل توہم پرست مسلمان ان کو سچ جان کر ان سے حاجت روائ کے عقائد وابستہ کرکے اپنے گلشن توحید کو برباد کر بیٹھتے ہیں۔

    کتاب میٹھی میٹھی سنتیں یا۔۔۔۔۔؟ از ابن لعل دین

    صفحہ 294 تا 297۔
     
    Last edited: ‏جنوری 30, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,161
    اللہ ہدایت دے، بیت المقدس کی ایک چٹان کے بارے میں بہت قصے مشہور ہیں اصل بات یہ ہے کہ :
    "۔۔۔بیت المقدس کی چٹان ہوا میں معلق نہیں کہ اس کے ہرطرف خلاء ہو بلکہ وہ ابھی تک پہاز والی جانب سے پہاڑ کے ساتھ ملی ہوئ ہے اوروہ اپنے پہاڑ کے ساتھ چمٹی ہوئ ہے پہاڑ اورچٹان دونوں عادی اورکونی اسباب کے ساتھ اپنی جگہ پرقائم ہيں اور یہ اسباب سمجھ میں بھی آنے والے ہیں ، پہاڑ اورچٹان کی حالت بھی کائنات کی دوسری اشیاء کی طرح ہی ہے ۔
    لیکن ہم اللہ تعالی کی قدرت کا انکارنہیں کرتے کہ وہ فضاء میں کائنات کی کسی چيزکا کوئ جزء پکڑکرمعلق کردے ، اورپھرسب کی مخلوقات تواللہ تعالی کی قدرت سے فضاء میں قائم ہیں جس کا ذکراوپر بھی گذر چکا ہے ۔قوم موسی جس نے ان کی شریعت عمل کرنا چھوڑ دیا تواللہ تعالی نے ان پرطورپہاڑکو اٹھا دیا جو کہ اللہ تعالی کی قدرت سے معلق تھا ، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :{ اورجب ہم نے تم سے وعدہ لیا اورتم پر طورپہاڑ کواٹھا کرکھڑا کردیا اور کہا کہ جو ہم نے تم کو دیا ہے اسے مضبوطی سے تھام لو اور جوکچھ اس میں ہے اسے یادکرو تاکہ تم بچ سکو } البقرۃ ( 63 ) ۔

    اورفرمان باری تعالی کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

    { اوروہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ اٹھا کرسائبان کی طرح ان کے اوپرمعلق کردیا اوران کو یقین ہوگيا کہ اب ان پر گرا ( اورہم نے کہا ) کہ جو کتاب ہم نے تم کودی ہے اسے مضبوطی سے تھام لواور اس میں جوکچھ احکام ہیں انہیں یاد کروتوقع ہے کہ تم اس سے متقی بن جاؤ‎ گے } الاعراف ( 171 )۔

    لیکن یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جوچٹان بیت المقدس میں ہے وہ ہر جانب سے فضاء میں معلق اورپہاڑسے کلی طور پرعلیحدہ نہیں بلکہ ایک طرف سے پہاڑکے ساتھ منسلک اورچمٹی ہوئ ہے ۔

    واللہ تعالی اعلم ."
    حوالہ
    http://islamqa.info/ur/3000

    اور محدثین کے نزدیک جتنی روایات میں آیا ہے کہ یہ چٹان ہوا میں لٹکی ہوئی ہے وہ موضوع یعنی جھوٹی ہیں
    ومن الأكاذيب المشهورة أنه لما أراد النبي صلى الله عليه وسلم العروج صعد على صخرة بيت المقدس وركب البراق فمالت الصخرة وارتفعت لتلحقه فأمسكتها الملائكة، ففي طرف منها أثر قدمه الشريف، وفي الطرف الآخر أثر أصابع الملائكة عليهم السلام، فهي واقفة في الهواء قد انقطعت من كل جهة لا يمسكها إلا الذي يمسك السماء أن تقع على الأرض، سبحانه وتعالى".
    وقال ابن القيم رحمة الله عليه في كتابه نقد المنقول: " وكل حديث في الصخرة فهو كذب مفترى ".
    ثم إن الواقع المشاهد يكذب دعوى تعلقها بين السماء والأرض إذ لو كانت كذلك لرآها الناس، فإن ذلك مما لا يخفى.
    http://fatwa.islamweb.net/Fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=5002
     
    Last edited: ‏جنوری 30, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    جعلی تصویر [​IMG]
    اصل تصویر[​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,161
    یہ پتھر فلسطین والا نہیں، یہ سعودیہ میں ہے یہاں مجلس پر ہی بات ہوئی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,161
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,203
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں