اقبال اقبال اور تحریک آزادئ کشمیر از غلام نبی خیال ۔۔۔ اقتباسات

عائشہ نے 'مجلسِ اقبال' میں ‏فروری 5, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    سیاست کشمیر میں گہری دلچسپی لینے کی اقبال کی لگن اور جذباتی رشتہ کس حد تک مضبوط و مستحکم تھا حفیظ جالندھری نے بھی اس تعلق میں1921ء کا ایک واقعہ قلم بند کیا ہے۔ اس روز حفیظ لاہور میں اقبال کے انارکلی والے مکان میں حاضر تھے۔ وہ کہتے ہیں:
    ’’ میں علامہ کے حضور بیٹھا تھا۔ علی بخش ان کا ملازم ایک چٹ لایا جس پر دو نام لکھے ہوئے تھے۔ خواجہ سعد الدین شال اور سید نور شاہ نقشبندی از سری نگر کشمیر۔ علامہ نے ان کو بلایا، بٹھایا، میں ایک طرف بیٹھا ہوا سنتا رہا۔ گفتگو ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں تھی۔ اس گفتگو کا لب لباب جو میرے قلب پر پیوست ہوا یہ تھا کہ پنجاب اور ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط ہٹانے کے لئے ہندو مسلم بھائی بھائی تو بن رہے ہیں مگر ساری دنیا کی ایک واحد سر زمین جس کو ارضی بہشت قرار دیا جا چکا ہے اس میں بسنے والے ترانوے فیصد مسلمان جن کی تعداد بتیس لاکھ ہے 1846ء سے ہندوؤں، ڈوگروں، سکھوں، برہمنوں اور بودھوں کے پنجے میں جانوروں کی طرح انگریزوں کے زیر شمشیر انتہائی ذلت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ جب بھی انسانیت کی زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں ان پر ظلم و ستم کی تازہ بہ تازہ بارش کر دی جاتی ہے۔‘‘ علامہ نے ان کو اتحاد اور جہاد کا مشورہ دیا۔ وہ چلے گئے۔ میں نے دیکھا کہ علامہ کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    گھنشیام سیٹھی اقبال کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے اقبال کے اس والہانہ عشق وطن کی اس واقعہ سے تصویر کشی کرتے ہیں:
    ’’ 1935ء کے دن تھے۔ میں ان دنوں لاہور میں پڑھتا تھا ۔علامہ اقبال دن دنوں میکلوڈ روڈ پر ایک پرانی سی کوٹھی میں رہتے تھے۔ ان کی میو روڈ والی کوٹھی جاوید منزل بن رہی تھی۔ جب کبھی میں میکلوڈ روڈ سے گذرتا ان سے ملنے کی ادبی خواہش دل میں چٹکیاں لینے لگتی۔ علامہ سے ملنے کی ایک دیرینہ خواہش ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس جانے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی۔ اگرچہ مجھے معلوم تھا کہ ان تک پہنچنے میں کسی طرح کی کوئی دقت نہ ہو گی لیکن مجھ پر علامہ کا اتنا رعب پڑا ہوا تھا کہ دلی خواہش ہوتے ہوئے بھی جانے کی ہمت نہ کر پاتا۔‘‘
    شاید نومبر کا مہینہ تھا۔ جب مشہور افسانہ نگار پریم ناتھ پردیسی مرحوم لاہور آئے اور میرے ساتھ میکلوڈ روڈ پر ٹھہرے۔ ان کے آنے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ہم دونوں جناب بشیر احمد مدیر’’ہمایوں‘‘ اور بیرسٹر شیو نرائن شمیم کو ساتھ لے کر علامہ سے ملنے کے لئے چلے۔
    علامہ بادامی رنگ کا ہرے کنارے والا کشمیری دھسہ اوڑھے حقہ کی نے منہ میں لئے بستر پر گٹھڑی سے بنے تکیے پر ٹیک لگائے نیم دراز تھے۔
    جناب شیو نرائن شمیم نے ہم دونوں کا تعارف کرایا یہ جان کر کہ ہم دونوں کشمیری ہیں وہ بہت خوش ہوئے اور مسکرا کے انہوں نے یہ شعر پڑھا:
    ناظر بڑا مزا ہو جو اقبال ساتھ دے
    ہر سال ہم ہوں شیخ ہو اور شالا مار ہو
    کہنے لگے کہ میں کوئی بار کشمیر ہو آیا ہوں۔ لیکن طبیعت سیر نہیں ہوئی۔ آہ! کیا جگہ ہے!
    سیٹھی نے اقبال کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کے اختتامی لمحوں کی تصویر کشی بھی اسی مضمون میں یوں کی ہے۔ ’’ میں نے آنکھوں میں اجازت مانگی جو مل گئی۔ میرے باہر نکلتے نکلتے علامہ نے کہا۔ وہاں پہنچ کر وہاں کی قومی تحریک کے بارے میں ضرور کچھ لکھنا۔‘‘
    ’’ کوشش کروں گا‘‘ میں نے کہا۔
    بولے’’ میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک کشمیری نوجوان اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور حصول آزادی اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے بے شک مر مٹے۔‘‘
    میں نے کہا’’ لیکن۔۔۔۔۔‘‘
    بولے’’ اس کے بعد کیا کہو گے۔ میں جانتا ہوں۔ یہ باتیں کسی قوم کو بیدار ہونے سے نہیں روکتیں۔ کسی قوم کی آزادی کی راہ میں روڑے نہیں اٹکا سکتیں، غربت، جہالت اور دوسری کمیوں کی آڑ لینا خود اپنی کمزوریوں کا اعتراف کر لینا ہے۔ لیکن یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔‘‘ جب انہوں نے آخری الفاظ کہے تو میں باہر جا چکا تھا۔
    آج سوچتا ہوں انہوں نے کتنی بڑی پیشین گوئی کی تھی۔ کشمیر کے نوجوان آج جاگ چکے ہیں اور اپنے آپ کو دوسروں کے برابر کھڑا کرنے کے لئے کوشاں ہیں مگر اقبال ہمارے درمیان نہیں ہیں۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    اقبال کی محفل میں جو بھی کشمیری بالخصوص کوئی نوجوان کشمیری جاتا وہ وہاں سے مادر وطن کی آزادی اور سرخ روئی کے لئے درس بصیرت لے کر لوٹتا۔ سعادت علی خان نے بھی ایک ایسا واقعہ اس طرح سے تحریر کیا ہے۔
    ’’ ایک طرف کشمیر کے ایک مذہبی تعلیم یافتہ نوجوان بھی بیٹھے ہیں اور علامہ مرحوم کی خدمت میں مالی امداد حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں۔‘‘
    انہیں مخاطب کر کے فرمایا:" تمہارا اس وقت پنجاب میں ہونا اگرچہ درد ناک نہیں تو تعجب انگیز ضرور ہے۔ تم بے کاری کا رونا رو رہے ہو اور تمہارے ہم وطن اپنی آزادی اور حقوق کے لئے طرح طرح کی قربانیاں کر رہے ہیں۔ غربت اور بھوک کی شکایت کرتے ہو۔ اپنے وطن کو واپس چلے جاؤ۔ آزادی کی راہ میں کود پڑو۔ اگر قید ہو جاؤ گے تو کھانے کو ضرور مل ہی جائے گا۔ اور اس گداگری سے بچ جاؤ گے۔ اگر مارے گئے تو مفت میں شہادت پاؤ گے اور کیا چاہتے ہو۔ اگر قرآن نے تمہیں یہ بھی نہیں سکھایا تو تم اور کیا سیکھے ہو؟ اگر کشمیر جانا ہو تو کرایہ کے پیسے میں دیتا ہوں "۔نوجوان نے گردن جھکا لی۔ سب خاموش تھے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
    بهلے لوگ تهے نصیحت کی اور خیر خواہی کی باتیں کرتے بهی تهے اور سن بهی لیتے تهے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وایاک۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں