برائیلر مرغی سے گدھے تک

اجمل نے 'مضامين ، كالم ، تجزئیے' میں ‏فروری 23, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    برائیلر مرغی سے گدھے تک

    جب یہ خبر پڑھا کہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں گدھے کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔
    تب یہ عُقدہ کھلا کہ ہمارے حکمراں چند سالوں سے ’ گدھے گدھے‘ کی رٹ کیوں لگاتے رہے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس کا اثر اس کی شخصیت پر پڑتا ہے ۔کہ ہمارے حکمراں کو بڑے بڑے ہوٹلوں میں گدھے کا گوشت کھا کر جو ڈھکار آتا ہے وہ کچھ یوں ہے:

    دھرنا دیتے تو گدھے کے آنے کا خطرہ تھا۔۔۔
    اعتزازعدالتوں کے اختیارات محدود کریں گے تو گدھے آتے رہیں گے۔۔۔چیف جسٹس
    آمریتگدھاہے ۔۔۔ نواز شریف
    برادری کے نام پر کھڑے ہونے والے گدھے ۔۔۔ عمران خان

    لیکن تعجب ہے کہ گدھے کا گوشت کھاکر ان حکمرانوں کی صرف زبان ہی بدلی ہے شخصیت و کردار میں تو کوئی فرق نہیں آیا۔۔۔۔ شاید ان گدھوں کے گوشت میں بھی کچھ ملاوٹ ہے ۔۔۔ورنہ گدھا تو بہت شریف اور انسان دوست جانور ہے لیکن ابھی تک شرافت و انسان دوستی تو ہمارے حکمرانوں کے قریب بھی نہیں پھٹکی۔محنت مشقت کرنا اور دوسروں کا بوجھ اٹھانا گدھوں کا خاص وصف ہے ‘ ہمارے حکمراں تو ابھی تک نہایت ہی کام چور ہیں‘ محنت مشقت کرنا اور دوسروں کا بوجھ اٹھانا تو دور کی بات ہے ‘ گدھے کا گوشت کھاکر یہ اتنے موٹے ہو گئے ہیں کہ اپنا بوجھ بھی اٹھا لیں تو ۔۔۔
    خیر چھوڑیں !دوسرے گدھے کو دیکھ کر ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے والی خوبی تو ان میں آئی ہے نا۔۔۔نہیں سمجھے ! کیا آپ نے نہیں دیکھا ! ہمارے حکمراں مخالف پارٹی کے خلاف کیا خوب ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے ہیں۔اور ووٹ ملتے ہی عوام کو بڑی سنگین دولتّی بھی مارتے ہیں بالکل اصلی گدھے کی طرح جس طرح رنگیلا نے ’’ انسان اور گدھا ‘‘ میں دولتّی مار کر دکھایا تھا۔اور یہی ان کی اصلیت ہے۔جو عوام نہیں سمجھتی۔کیونکہ عوامبرائیلرمرغیکھاتی ہے۔
    اور جیسا کھانا ویسی شخصیت و کردار ۔۔۔لیکن عوام کے کھانے میں کوئی ملاوٹ نہیں ہے‘ اس لئے وہ پوری کی پوری برائیلر مرغی بن گئی ہے اور برائیلر مرغی کی طرح کڑک کرنے کی طاقت بھی کھو چکی ہے۔بالکل ہی بے حِس ہو چکی ہے۔پنجرہ کھلا بھی ہو تو آزادی کی سعی نہیں کرتی۔ہر الیکشن میں انہی حکمرانوں کی غلامی میں جانا پسند کرتی ہے۔اور جب یہ حکمراں سنگین دولتّی مارتے ہیں
    ۔۔۔ ڈالروں کی قیمت بڑھاکر
    ۔۔۔ پیٹرول کی قیمت بڑھا کر
    ۔۔۔ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کرکے
    ۔۔۔ آٹا ‘ چاول و چینی وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ بہران پیدا کرکےمہنگائی پہ مہنگائی بڑھاتے ہیں
    ۔۔۔تو یہ بے حِس عوام صرف اپنی اوپر کیکمائیبڑھانے کی سونچتی ہے۔
    حلال ذرائعے سے اوپر کی کمائی بڑھانے کی فکر کرنا کوئی بری بات نہیں۔
    لیکن آج حلال کے علاوہ جوحرامہاتھ لگے اسے اوپر کی کمائی کا نام دیا گیا ہے۔
    آج لوگوں کو اس حرام اوپر کی کمائی کی زیادہ فکر ہے چاہے اسکے لئے بیوہ‘ یتیم‘ مسکین‘ بوڑھا و لاچار کو کتنا ہی لاچار کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ۔۔۔وقت کے مطابق خواہشات و ضروریات بڑھ گئی ہے‘ اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔ماں باپ بیوی بچوں کی خواہشات پوری کرنی ہے‘اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔بچے کو اعلیٰ انگلش اسکول میں پڑھانا ہے‘ اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔ بیوی کو فیشن ایبل بنانا ہے‘ اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔پوش ایریا میں مکان خریدنا ہے‘اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔مکان کی آرائش و تزین کیلئے‘ اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔اچھی گاڑی کیلئے ‘ اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔سوسایٹی میں ناک رکھنا ہے‘ اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔
    ۔۔۔ مہنگائی بڑھی ہے تو اوپر کی کمائی چاہئے۔۔۔

    آج اکثر کو اس اوپر کی کمائی کی فکر دامن گیر ہے‘ اس کمائی کی حلال یا حرام کی نہیں ‘ الاّ ماشاء اللّٰہ۔
    ہمارے پیارے نبی ﷺ نے چودہ سو برس قبل ہی ہمیں بتا دیا تھا: ” لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا ،جس میں انسان اس بات کی طرف دھیان نہیں دے گا کہ وہ جو مال حاصل کررہاہے؛ حلال ہے یا حرام ۔“(مشکوٰة:۲۴۱)
    مال کے حلال یا حرام ہونے کے طرف آج اکثر کا دھیان ہی نہیں جاتا‘ کھانے کے حلال ہونے پہ بہت توجہ ہے۔جبکہ حرام مال سے حاصل کیا گیا ہر لقمہ حرام ہے‘ ہر کھانا حرام ہے اور” اس (حرام مال) سے نشو ونما پانے والا جسم ، جہنم کی آگ کے زیادہ لائق ہے۔“(ابن کثیر:۱/۲۶۷)
    اب یہ بڑے بڑے مشہور ہوٹلوں میں جاکر گدھے‘ کتے یا خنزیر کھائیں یا ابپنے گھروں حلال ذبیح جانور کا گوشت ‘ اگر حرام مال سے ہے تو بات تو ایک ہی ہے ۔ پھر واویلا کیسا؟ان ہوٹلوں میں ایک وقت میں 20-25 ہزار خرچ کرنے والے کتنے ہیں ‘ جن کی کمائی حلال کی ہوتی ہے ۔
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تو ہمیں حلال پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے اور گدھا‘ کتا ‘ خنزیر اور مردار وغیرہ ناپاک کو حرام کیا ہے۔

    "یَا أَیُّہَا النَّاسُ کُلُواْ مِمَّا فِیْ الأَرْضِ حَلاَلاً طَیِّباً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) سورة البقرة
    ”اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ اورشیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو کہ وہ تمہارے لیے ایک کھلا دشمن ہے“۔

    لیکن حلال پاکیزہ چیزیں حلال کمائی سے ہی کھانا حلال ہے۔
    آج گدھا‘ کتا ‘ خنزیر اور مردار وغیرہ ناپاک کھانے ہاتھ لگانا تو دور کی بات ان کے نام سے ہی کراہت اورگھن محسوس کرنے والے حرام یعنی اوپر کی کمائی کو کتنا مرغوب رکھتے ہیں جبکہ یہ حرام کی کمائی کی حرمت ان حرام کھانوں سے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس سے پورا معاشرہ تباہ ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم سب اپنے معاشرے کی ناسور یعنی اوپر کی کمائی کو ختم کریں۔
    جب حرام یعنی اوپر کی کمائی ختم ہوگی تو کوئی حرام کمانے کیلئے کتا‘ گدھا یا مردار کا گوشت نہیں بیچے گا۔
    ورنہ لوگ حرام کماتے رہیں اور حرام کھاتے رہیں‘ چاہے حرام مال سے حرام یا حرام مال سے حلال پاکیزہ چیزیں کھائیں۔۔۔ بات تو ایک ہی ہے۔
    عوام برائیلر مرغیاں کھا کھا کر بے حِس ہوتی رہے گی ور حکمراں گدھے کھا کھا کر عوام کو دولتّی مارتے رہیں گے ۔
    اور یوں برائیلر مرغی سے گدھے تک کا سفر جاری رہے گا۔
     
    Last edited: ‏فروری 23, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں