غزوہ تبوک کے بارے میں آپ کے احساسات

عائشہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏مارچ 10, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ سب نے غزوہ تبوک کے بارے میں پڑھا ہو گا، اکثر قرآنی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے یا تفسیر پڑھتے ہوئے اس کے واقعات نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ آپ نے یہ بتانا ہے کہ آپ کو اس غزوے کے بارے میں کس بات نے بہت متاثر کیا۔ ایک سے زائد باتیں بھی بتا سکتے ہیں۔ حوالے کی کوئی پابندی نہیں ہم ڈھونڈ لیں گے اگر ضرورت پڑی۔ امید ہے ہم سب اس سلسلے میں حصہ لیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  2. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    جزاک اللہ خیرا
    سورہ توبہ اور غزوہ تبوک کی تفسیر بہت ہی سبق آموز ہے خاص کر جو منافقین کے متعلق آیات ہیں .اپنا ایمان کا جائزہ لینے کے لیے بہتریں آئینہ.
    مجهے اس میں کعب بن مالک کے سچ بولنے کے واقعے نے بہت متاثر کیا اس میں بهی 3باتوں نے
    1.جب غسان کے بادشاہ نے خط بهیج کر اپنے پاس آنے کی دعوت دی اس پر حضرت کعب رضی اللہ عنه نے کہا یہ بهی آزمائش ہے اور خط کو تنور میں جلا دیا.

    2.جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےقاصد نے آکر پیغام دیا کہ تم اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرلو تو کہا کہ طلاق دے دوں یا کیا کروں .
    3.صحابہ اکرام نے نبی صلی اللہ علیہ کے حکم کی پیروی میں کس طرح ان سے قطع تعلق کیا اور پهر اس پر کعب رضی اللہ عنہ کا صبر بے مثال ہے"مفہوم. تفسیر ابن کثیر"
    اللہ تعالی ہمیں بهی اس طرح سچ بولنےاوراس پر قائم رہنے کی توفیق دے آمین یا رب .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    آمین، بہت عمدہ۔ واقعی یہ واقعہ بہت اثر کرتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    اس غزوہ کے موقع پر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کچھ لوگ بلا کسی عذر کے مدینہ میں رہ گۓ۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی بھی تھے جن کے پاس جنگ میں شرکت نہ کرنے کا عذر حقیقی موجود تھا۔ ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ نے کچھ ایسے فرمایا:
    بخاری 2839
    عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ: «إِنَّ أَقْوَامًا بِالْمَدِينَةِ خَلْفَنَا، مَا سَلَكْنَا شِعْبًا وَلاَ وَادِيًا إِلَّا وَهُمْ مَعَنَا فِيهِ، حَبَسَهُمُ العُذْرُ»،
    ترجمہ:
    بے شک کچھ لوگ ہیں جو ہمارے پیچھے مدینہ میں رہ گۓ ہیں ہم نے کوئ پہاڑی اور کوئ وادی سفر میں طے نہیں کی وہ مگر ہمارے ساتھ ساتھ ہیں، انہیں عذر نے روک رکھا ہے۔

    اور مسلم کی حدیث نمبر1911 کچھ ایسے ہے:عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا، إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ، حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ»،
    مگر وہ لوگ تمارے ساتھ اجر میں برابر کے شریک ہیں، انہیں مرض نے روک لیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    اللہ تعالی ہماری نیتوں کو بهی سچا کر دے .آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    غزوہ تبوک میں تین صحابی جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی زبانی جو واقعہ بخاری میں ہے وہ بہت ہی پراثر ہے، یہاں پر پورا واقعہ پڑھ سکتے ہیں۔
    لیکن سبحان اللہ ان تینوں کی توبہ کوجب اللہ نے قبول کیا تو قرآن میں ان کاذکر آیا جو تاقیامت پڑھی جائیں گی۔
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کس قدر عظیم لوگ تھے، اخلاص اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم نیز محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی مثال تھے،
    اب جو ان صحابہ پر بھونکے تو وہ اپنی ہی آخرت تباہ کررہا ہے اور جن کے بارے میں اللہ نے رضی اللہ عنھم کی خوشخبری سنادی ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
    اللہ جل وجلالہ ہمارا حشر بھی ان کے ساتھ کرے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    واقعی، اور اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ اصول پسندی کتنی اہم ہے۔ سامنے چاہے جو بھی ہے اصول شخصیات کے تابع نہیں، پھر افراد بھی ایسے اصول پسند کہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اسے توہین نہیں سمجھا، بخوشی سزا کو پورا کیا تا کہ اللہ کو خوش کر سکیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    ان کا ذکر آیات میں بھی ہے۔بھلا کون سی؟ آیات ایسی ہیں کہ آنکھیں ضرور نم ہوتی ہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْ‌ضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَ‌جٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ۚ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٩١﴾ التوبہ
    نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر نہ ان پر جن کے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد نہ ہوں یعنی) جب کہ خدا اور اس کے رسول کے خیراندیش (اور دل سے ان کے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (91)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    جی یہ اور اس سے اگلی آیات
    غزوے کا پورا منظر سامنے ہو کہ دشمن کی طاقت کا رعب تھا،سفر لمبا تھا، موسم شدید گرم تھا، مزید یہ کہ لشکر اسلام کے وسائل ناکافی تھے ایسے میں کچھ لوگ تھے جو جہاد پر جانے کو بے تاب تھے اور اس بات پر رو پڑے کہ وہ نہ جا سکیں گے

    [QURAN_FONT]وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ ﴿٩٢
    [/QURAN_FONT]
    اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں