اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا-پہلی آفت

بابر تنویر نے 'دلوں کی اصلاح و پاکیزگی' میں ‏مارچ 17, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    پہلی آفت

    اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا:


    شرک خواہ معمولی ہو یا عظیم ترین، چھوٹا ہو یا بڑا۔ کیونکہ شکر ظلم عظیم ہے، اور وہ ہر شر و فساد کی جڑو بنیاد ہے، شرک سے دل تاریک اور مردہ ہوجاتا ہے اور تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
    الانعام 125
    فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ[
    سو جو شخص کو اللہ تعالی راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے اور جس کو بے راہ رکھنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کر دیتا ہے ۔ جیسے کوئ آسمان میں چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ ایمان نہ لانے والوں پر ناپاکی مسلط کر دیتا ہے۔

    اور اللہ جل و علہ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
    الانعام 82
    ]الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ[
    جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔

    پس ایسے مومن حضرات جو اپنے ایمان میں سچے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان میں شرک آمیزش و ملاوٹ نہیں کی، انہی کے لیے اللہ رب العالمین کے جانب سے پورا امن اور مکمل ہدایت ہے۔

    اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
    آل عمران 151
    : ]سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَاناً[
    ہم عنقریب کافرووں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئ دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔

    چنانچہ دل کے لیے کسی طرح کی کوئ سلامتی اور کوئ صلاح و بھلائ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی توحید کے بغیر ممکن نہیں، لہذا جس قدر انسان سچی توحید اور درست عقیدہ کا حامل ہوگا اسی قدر اس کا سینہ صحیع سالم اور دل صالح ہوگا۔

    1. دل کی تخلیق کا مقصد ہی یہی ہے کہ یہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے اور اس کی شایان شان اس سے محبت کرے، اور اس کی توحید و یکتائ کا اقرار و یقین کرے، اور اس بات کو بھی عملی طور پر کر دکھاۓ کہ اللہ ہی دنیا کے ہر شے سے بڑھ کر اس کو محبوب ہے، اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر وہی ہستی اس کے نزدیک کامل ترین امید اور نہایت عظیم ہے۔ لہذا دل کی درستی و بہتری اس چیز کے اندر ہے کہ اسے اور اس کے ذریعہ وہ مقصود حاصل ہو جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی معرفت، اس کی محبت اور تعظیم، اور اس کا فساد اس کے برعکس چیزوں میں ہیں، چنانچہ دلوں کی درستی و بہتری اس کے بغیر کبھی بھی ممکن نہیں (مجموع الفتاوی 163۔18
    دلوں کی اصلاح
     
    Last edited: ‏مارچ 22, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بارک اللہ فیک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں