نیک عمل کی قبولیت کی شرائط

خطاب نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مارچ 21, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. خطاب

    خطاب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 1, 2015
    پیغامات:
    74
    ایک نیک عمل کب "عملِ صالح" بنتا ہے؟
    دین اسلام میں کسی بھی نیک عمل کی بارگاہ خداوندی میں قبولیت کے لئے تین شرائط ہیں:

    1- نیت کا خالص ہونا:
    یعنی جو نیک عمل کیا جا رہا ہے وہ خالص الله کی رضا کے لئے کیا جائے . اس میں کوئی دنیاوی مفاد یا دکھلاوا مقصود نہ ہو
    نبی ﷺنے فرمایا : "بے شک اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے " (صحیح بخاری، کتاب الایمان)
    اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ : روز قیامت ایک عالم ، شہید اور سخی کو جہنم میں پھینکا جائے گا . کیوں کہ دنیا میں انکا نیک اعمال کرنے کا مقصد الله کی رضا نہیں تھا . اصل مقصد دکھلاوا تھا . پس انکی نیت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ان کے اتنے بڑے بڑے اعمال رد کر دیے جائیں گے-(صحیح مسلم)

    2- عقیدہ توحید ہونا:
    مطلب نیک عمل کرنے والے کا عقیدہ شرک کی آلودگی سے پاک ہو - اگر کسی شخص کے عقیدے میں شرک ہو تو اسکا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا چاہے وہ عمل اخلاص کی بنیاد پر ہی کیوں نہ کیا جائے ۔
    قرآن مجید میں ارشاد ہے: : وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
    "ہم شرک کرنے والے کے تمام اعمال برباد کر دیں گے " (الانعام ٨٨ )

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جس نے اسلام لانے کے بعد شرک کیا حتیٰ کہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں میں آجائے۔" (ابن ماجہ،کتاب الحدود،جلد سوم،صفحہ 578، طبع دارلسلام)

    3۔ عمل کا سنت کے مطابق ہونا :
    مطلب جو عمل کیا جا رہا ہے کیا وہ نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق کیا جا رہا ہے نہ کہ کسی کے بنائے ہوئے خود ساختہ طریقہ کے مطابق۔! اگر وہ عمل سنت سے ہٹ کر کسی ا ور شخص کے وضع کردہ طریقے کے مطابق ہے تو وہ بھی الله کے ہاں قابل قبول نہیں -
    نبی ؐنے فرمایا: من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہورد
    "وہ عمل جس پر میرا حکم نہیں ، مردود ہے" ( 7962:صحیح بخاری )
    نیز فرمایا : فمن رغب عن سنتي فليس مني
    "جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ ہم میں سے نہیں۔" (صحیح بخاری)

    صحیح بخاری میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ تین اصحاب رسول ﷺ کو جب نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق خبر ہوئی تو ان تینوں نے سوچا کہ نبی ﷺ اپنے تمام گناہوں کی مغفرت کے باوجود اتنا عمل کرتے ہیں! چنانچہ تینوں نے کھڑے کھڑے عزم کر لیا ۔ ایک نے کہا میں آج کے بعد رات کو کبھی نہیں سوؤں گا بلکہ پوری رات اللہ کی عبادت کرنے میں گزاروں گا ۔ دوسرے نے کہا میں آج کے بعد ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔ تیسرے نے کہا میں آج کے بعد اپنے گھر نہیں جاؤنگا اپنے گھر بار اور اہل و عیال سے علیحدہ ہو جاؤں گا تا کہ ہمہ وقت مسجد میں رہوں۔ نبی ﷺ کو جب انکے اس ارادے کی خبر ہوئی تو آپﷺ سخت غصہ ہوئے۔ حدیث میں الفاظ آتے ہیں: فاحمر وجہ النبی کانما فقع علی وجھہ حب الرمان ” نبی علیہ السلام کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا یوں لگتا تھا گویا سرخ انار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نچوڑ دیا گیا ہے اتنے غصے کا اظہار فرمایا-

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو بلا کر پوچھا کہ تم نے یہ کیا بات کی ؟ کیا کرنے کا ارادہ کیا ؟ پھر نبی ﷺ نے اپنا عمل بتایا کہ : میں تو رات کو سوتا بھی ہوں اور جاگتا بھی ہوں ، نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میرا گھر بار ہے اور میری بیویاں ہیں ۔ میں انہیں وقت بھی دیتا ہوں اور اللہ کے گھر میں بھی آتا ہوں ۔ اور فرمایا : یہ میرا طریقہ اور سنت ہے جس نے میرے اس طریقے سے اعراض کیا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہ ہے ۔
    یعنی جس نے اپنے طریقے پر چلتے ہوئے پوری پوری رات قیام کیا ۔ زمانے بھر کے روزے رکھے اور پوری عمر مسجد میں گزار دی اس کا میرے دین سے میری جماعت سے میری امت سے کوئی تعلق نہ ہو گا ۔!!!! اتنے بڑے بڑے نیک اعمال اور وہ بھی کس کے ؟؟۔۔صحابہ کرام کے۔ جن کو نبیﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔۔ ان کے یہ نیک اعمال اللہ کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ نہ پا سکے، کس وجہ سے۔۔؟؟ صرف ایک وجہ ۔۔عمل کا سنت نبوی ﷺ سے ہٹ کر کرنے کی کوشش کرنا۔۔!! تو پھر سوچیں کہ جو اعمال آج کے دور میں ہندوستان پاکستان کے مولویوں نے تیجے ، قل ، ساتے ، چہلم ، قرآن خوانی ، میلاد وغیرہ کے نام پر گھڑ لئے۔۔۔ وہ کس کھاتے میں جائیں گے۔۔؟؟ کسی صحابی نے اپنے ان غیر مسنون کاموں کو "بدعت حسنہ" کا نام دیکر جاری نہیں رکھا۔۔ بلکہ اپنی اصلاح کی۔۔ مگر وائے افسوس۔۔!! آج کوئی ان چیزوں سے روکے تو اسکو مختلف القابات سے نوازہ جاتا ہے۔۔۔ یہ لوگ اپنے بدعی اعمال کو بدعت حسنہ کا نام دیکر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اور اپنی طرف سے بڑے مخلص ہوکر جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔ اللہ ہی ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔۔ آمین

    غور کیجیے تینوں صحابہ کرم کاعقیدہ بھی ٹھیک اور نیت بھی خالص ، لیکن سنت رسول سے ہٹ کر زیادہ عمل کی کوشش کی تو نبیﷺ نے کہا کے یہ الله کے ہاں قابل قبول نہیں-


    خلاصہ::
    کوئی بھی نیک عمل اس وقت تک اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا جب تک اسمیں تین شرطیں نہ پائی جاتی ہوں!
    ۱۔ عمل کرنے والے کی نیت خالص ہو۔ دکھلوا یا مفاد پرستی مقصود نہ ہو۔
    ۲۔ عمل کرنے والا کوئی شرکیہ عقیدہ نہ رکھتا ہو۔
    ۳۔ کیا جانے والا عمل سنت نبویﷺ کے مطابق ہو۔
     
    Last edited: ‏مارچ 21, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    654
    یہ الفاظ قدر کے سلسلے میں ملتے ہیں ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں