مرویات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور اہل قیاس !

رفیق طاھر نے 'مجلس علماء' میں ‏مارچ 22, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    [GLOW]اہل قیاس اور مرویات سیدنا أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ[/GLOW]​
    امام ذہبی سیر اعلام النبلاء ج۲ ص ۶۶۰ میں رقمطراز ہیں :
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرح دقیق مسائل میں فتوے دیے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور انکے بعد کے لوگوں نے انکی ایسی مرویات پر عمل کیا جو قیاس کے (ظاہر طور) خلاف تھیں ۔ جیسا کہ سب نے انکی اس روایت پر عمل کیا :
    رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کسی عورت کے ساتھ اسکی خالہ یا پھوپھی کو نکاح میں رکھتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ۔
    اور ابو حنیفہ اور شافعی وغیرہ نے انکی روایت "جو بھول کر کھالے وہ اپنا روزہ پورا کرے" پر عمل کیا ۔ حالانکہ ابو حنیفہ کے نزدیک قیاس یہ ہے کہ اسکا روزہ ٹوٹ جائے ۔ لیکن انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی وجہ سے اپنا قیاس چھوڑ دیا ۔
    اور یہ مالک ہیں کہ جنہوں نے کتے کے برتن میں منہ مارجانے پر اسے سات مرتبہ دھونے والی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پر عمل کیا ، حالانکہ انکے ہاں قیاس یہ ہے کہ اسے نہ دھویا جائے کیونکہ انکے ہاں وہ پاک ہے ۔
    بلکہ ابو حنیفہ نے تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی کم تر کی وجہ سے بھی قیاس ترک کر دیا ، قہقہہ والے مسئلہ میں ، محض اس مرسل روایت کی بناء پر !
    انتہى ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں