اصول پسند

بابر تنویر نے 'ادبِ لطیف' میں ‏مارچ 28, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    ایک پاکستانی عمر کوئ 55 56 سال، (ٹانگ میں فریکچر کی وجہ سے) لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا ایک پاکستانی سرکاری ادارے میں پہنچا۔ اپنی باری کا ٹوکن حاصل کیا اور اپنی باری آنے پر متعلقہ افسر کے پاس پہنچا اور اپنا معاملہ اور متعلقہ کاغذات اسے پیش کیے۔
    سرکاری افسر نے کہا کہ کچھ دیر انتظار کریں۔
    وہ پاکستانی ہال میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا اور یہ انتظار طویل ہوتے ہوتے تقریبا ڈھائ گھنٹے تک جا پہنچا۔ جس کے بعد اس افسر نے اسے بلایا اور کہا کہ آپ کا کام آج نہیں ہو سکتا۔ آپ کل دوبارہ تشریف لے آئیں ۔
    پاکستانی نے اس سے پوچھا کہ کیا کل بھی مجھے اپنی باری کا ٹوکن لے کر اسی طرح انتظار کرنا پڑے گا۔ افسر نے جواب دیا کہ نہیں آپ کل سیدھے میرے پاس آجائیے گا، میں آپ کو متعلقہ افسر کے پاس بھیج دوں گا۔

    خیر وہ پاکستانی دوسرے دن اس افسر کے پاس پہنچ گیا۔ افسر نے کاغذات لیے اور ان پر ایک نوٹ لکھا اور متعلقہ افسر کے پاس بھیج دیا۔

    جب وہ پاکستانی اس افسر کے کمرے میں پہنچا تو وہ افسر ایک خاتون سے بہت خوشگوار انداز سے بات کر رہا تھا۔ یہ بتانا بھی شائد غیر ضروری ہو کہ وہ خاتون چہرے کے پردے سے بے نیاز اور میک اپ کے آڑ میں اپنے اصل چہرہ کو چھپاۓ ہوۓ تھیں۔ بہر حال اس خاتون کا کام کرنے کے بعد اس افسر نے اسی خوشگوار انداز میں اس خاتون کو مخاطب ہوتے ہوۓ کہا کہ آئندہ بھی آپ کو کوئ مسئلہ ہو تو براہ راست میرے پاس تشریف لے آئیں۔ آپ کا کام فورا ہو جاۓ گا۔

    اس کے بعد وہ اس پاکستانی کی جانب متوجہ ہوا مہندی لگی داڑھی، ہاتھ میں لاٹھی ، اس کے چہرے کے تاثرات کچھ ایسے تبدیل ہوۓ کہ جیسے میٹھے بادام کھاتے کھاتے کوئ کڑوا بادام منہ میں آگیا ہو۔

    سپاٹ چہرے کا ساتھ اس نے پوچھا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے، پاکستانی نے کاغذات اس کے آگے رکھ دیے ۔ ایک سر سری نظر ان کاغذات پر ڈال کر پوچھا کہ آپ کے پاس ٹوکن ہے۔ پاکستانی نے کہا کہ جی کاغذات کے اوپر ہی لگا ہوا ہے۔ نمبر دیکھ کر اس افسر نے کہا کہ ابھی تو آپ کا نمبر نہیں آیا۔ بندے نے اسے ساری صورت حال بتائ کہ کیسے وہ کل کافی دیر تک انتظار کرتا رہا اور یہ کہ ٹانگ کی تکلیف کی وجہ سے وہ زیادہ دیر تک بیٹھ بھی نہیں سکتا۔

    اب وہ افسر کچھ ایسے گویا ہوا ۔" دیکھیں جناب میں آپ کی خاطر اپنے اصول نہیں توڑ سکتا" آپ اپنی باری کا انتظار کریں۔ بندے نے کہا کہ دیکھیں محترم مجھے اس افسر نے بھیجا ہے اور اس نے بھیجنے کی وجہ بھی تحریر کردی ہے۔ بہرحال پھر اس نے کہا کہ آپ باہر بیٹھیں میں ابھی آپ کو بلاتا ہوں۔

    پاکستانی سوچتا رہا کہ یہ کیسی اصول پسندی ہے،ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہی شخص اس خاتون سے کہہ رہا تھا کہ آپ براہ راست میرے پاس آجائیں آپ کا کام ہو جاۓ گا۔ اور ایک عمر رسیدہ شخص جو کہ بیمار بھی ہے اس کا کام اور اسکی مدد کرتے وقت اسے اصول یاد آگۓ۔

    آگے کی روداد یہ ہے کہ وہ پاکستانی بھی اس کے دروازے کے باہر ہی کھڑا ہوگیا اور جب اس اصول پسند افسر نے دیکھا یہ تو ٹلتا ہی نہیں تو پھر اس نے اسی ناگواری سے اسے بلایا اور کاغذات پر سائن کردیے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس افسر نے صرف کاغذات چیک کرکے متعلقہ شعبہ کے کلرکس کے پاس بھیجنے تھے۔

    تو دوستو یہ ہے اس افسر کی اصول پسندی کی روداد۔ کیا آپ میں سے کوئ بہن بھائ اس کا سبب بتا سکتا ہے کہ ایک فیشن ایبل خاتون کے لیے تو ان افسروں کے دروازے ہر وقت کھلے رہیں اور ہر اصول بالاۓ طاق رکھ دیا جاۓ اور ایک بوڑھے اور بیمار شخص کی مدد کرتے وقت اصول پسندی یاد آجاۓ۔

    آخر میں شائد یہ بتانے کی ضرورت نہ ہو کہ میں کس پاکستانی کی بات کر رہا ہوں اور متعلقہ سرکاری محمکہ کون سا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    بڑا المیہ ہے۔ افسوس ہوا جان کر۔ جب خوف خدا نہ ہو تو اس طرح کے حالات عام ہی ہوں گے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیں اور اپنی اصلاح کی توفیق دیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,302
    وہ پاکستانی ریاض میں تو نہیں رہتا !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جی!!!!!!!!!!!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. Ishauq

    Ishauq محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,570
    بابر بھائی، یہ المیہ کم و بیش پاکستان کے ہر سرکاری ادارے میں موجود ھے۔ کہیں نوٹ چلتے ھیں تو کہیں تھوڑی سی "ھنسی" سے ھی کام چل جاتا ھے۔
    آپ تو کبھی کبھار ہی ایسی صورت حال کا سامنا کرتے ھونگے۔ مگر ہم پاکستان میں رہنے والے اکثر ایسی صورت حال سے دوچار رہتے ھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,302
    ان کے گھر کسی غریب نے بریانی تو نہیں کھائی !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    یہ آپ کہیں " بوجھو تو جانیں" تو نہیں کھیل رہے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,302
    ویسے اس پر بھی تھریڈ لگانے کو دل کررہاہے یہ بھی بہت اچھا کھیل ہوسکتا ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    بہت افسوس کی بات ہے۔ اسے اصول پسندی بالکل نہیں کہتے۔ یہ بات درست ہے کہ یہاں بھی سرکاری دفاتر میں یہی حال ہے۔
    فریکچر ابھی ٹھیک نہیں ہوا؟ اللہ تعالی آپ کو شفا دے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جی الحمدللہ سسٹر اب کافی بہتر ہو چکا ہے۔ تھوڑی تکلیف باقی ہے۔ ان شاء اللہ وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جاۓ گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں