اصول پسند

بابر تنویر نے 'ادبِ لطیف' میں ‏مارچ 28, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    ایک پاکستانی عمر کوئ 55 56 سال، (ٹانگ میں فریکچر کی وجہ سے) لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا ایک پاکستانی سرکاری ادارے میں پہنچا۔ اپنی باری کا ٹوکن حاصل کیا اور اپنی باری آنے پر متعلقہ افسر کے پاس پہنچا اور اپنا معاملہ اور متعلقہ کاغذات اسے پیش کیے۔
    سرکاری افسر نے کہا کہ کچھ دیر انتظار کریں۔
    وہ پاکستانی ہال میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا اور یہ انتظار طویل ہوتے ہوتے تقریبا ڈھائ گھنٹے تک جا پہنچا۔ جس کے بعد اس افسر نے اسے بلایا اور کہا کہ آپ کا کام آج نہیں ہو سکتا۔ آپ کل دوبارہ تشریف لے آئیں ۔
    پاکستانی نے اس سے پوچھا کہ کیا کل بھی مجھے اپنی باری کا ٹوکن لے کر اسی طرح انتظار کرنا پڑے گا۔ افسر نے جواب دیا کہ نہیں آپ کل سیدھے میرے پاس آجائیے گا، میں آپ کو متعلقہ افسر کے پاس بھیج دوں گا۔

    خیر وہ پاکستانی دوسرے دن اس افسر کے پاس پہنچ گیا۔ افسر نے کاغذات لیے اور ان پر ایک نوٹ لکھا اور متعلقہ افسر کے پاس بھیج دیا۔

    جب وہ پاکستانی اس افسر کے کمرے میں پہنچا تو وہ افسر ایک خاتون سے بہت خوشگوار انداز سے بات کر رہا تھا۔ یہ بتانا بھی شائد غیر ضروری ہو کہ وہ خاتون چہرے کے پردے سے بے نیاز اور میک اپ کے آڑ میں اپنے اصل چہرہ کو چھپاۓ ہوۓ تھیں۔ بہر حال اس خاتون کا کام کرنے کے بعد اس افسر نے اسی خوشگوار انداز میں اس خاتون کو مخاطب ہوتے ہوۓ کہا کہ آئندہ بھی آپ کو کوئ مسئلہ ہو تو براہ راست میرے پاس تشریف لے آئیں۔ آپ کا کام فورا ہو جاۓ گا۔

    اس کے بعد وہ اس پاکستانی کی جانب متوجہ ہوا مہندی لگی داڑھی، ہاتھ میں لاٹھی ، اس کے چہرے کے تاثرات کچھ ایسے تبدیل ہوۓ کہ جیسے میٹھے بادام کھاتے کھاتے کوئ کڑوا بادام منہ میں آگیا ہو۔

    سپاٹ چہرے کا ساتھ اس نے پوچھا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے، پاکستانی نے کاغذات اس کے آگے رکھ دیے ۔ ایک سر سری نظر ان کاغذات پر ڈال کر پوچھا کہ آپ کے پاس ٹوکن ہے۔ پاکستانی نے کہا کہ جی کاغذات کے اوپر ہی لگا ہوا ہے۔ نمبر دیکھ کر اس افسر نے کہا کہ ابھی تو آپ کا نمبر نہیں آیا۔ بندے نے اسے ساری صورت حال بتائ کہ کیسے وہ کل کافی دیر تک انتظار کرتا رہا اور یہ کہ ٹانگ کی تکلیف کی وجہ سے وہ زیادہ دیر تک بیٹھ بھی نہیں سکتا۔

    اب وہ افسر کچھ ایسے گویا ہوا ۔" دیکھیں جناب میں آپ کی خاطر اپنے اصول نہیں توڑ سکتا" آپ اپنی باری کا انتظار کریں۔ بندے نے کہا کہ دیکھیں محترم مجھے اس افسر نے بھیجا ہے اور اس نے بھیجنے کی وجہ بھی تحریر کردی ہے۔ بہرحال پھر اس نے کہا کہ آپ باہر بیٹھیں میں ابھی آپ کو بلاتا ہوں۔

    پاکستانی سوچتا رہا کہ یہ کیسی اصول پسندی ہے،ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہی شخص اس خاتون سے کہہ رہا تھا کہ آپ براہ راست میرے پاس آجائیں آپ کا کام ہو جاۓ گا۔ اور ایک عمر رسیدہ شخص جو کہ بیمار بھی ہے اس کا کام اور اسکی مدد کرتے وقت اسے اصول یاد آگۓ۔

    آگے کی روداد یہ ہے کہ وہ پاکستانی بھی اس کے دروازے کے باہر ہی کھڑا ہوگیا اور جب اس اصول پسند افسر نے دیکھا یہ تو ٹلتا ہی نہیں تو پھر اس نے اسی ناگواری سے اسے بلایا اور کاغذات پر سائن کردیے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس افسر نے صرف کاغذات چیک کرکے متعلقہ شعبہ کے کلرکس کے پاس بھیجنے تھے۔

    تو دوستو یہ ہے اس افسر کی اصول پسندی کی روداد۔ کیا آپ میں سے کوئ بہن بھائ اس کا سبب بتا سکتا ہے کہ ایک فیشن ایبل خاتون کے لیے تو ان افسروں کے دروازے ہر وقت کھلے رہیں اور ہر اصول بالاۓ طاق رکھ دیا جاۓ اور ایک بوڑھے اور بیمار شخص کی مدد کرتے وقت اصول پسندی یاد آجاۓ۔

    آخر میں شائد یہ بتانے کی ضرورت نہ ہو کہ میں کس پاکستانی کی بات کر رہا ہوں اور متعلقہ سرکاری محمکہ کون سا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    بڑا المیہ ہے۔ افسوس ہوا جان کر۔ جب خوف خدا نہ ہو تو اس طرح کے حالات عام ہی ہوں گے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دیں اور اپنی اصلاح کی توفیق دیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وہ پاکستانی ریاض میں تو نہیں رہتا !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جی!!!!!!!!!!!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    بابر بھائی، یہ المیہ کم و بیش پاکستان کے ہر سرکاری ادارے میں موجود ھے۔ کہیں نوٹ چلتے ھیں تو کہیں تھوڑی سی "ھنسی" سے ھی کام چل جاتا ھے۔
    آپ تو کبھی کبھار ہی ایسی صورت حال کا سامنا کرتے ھونگے۔ مگر ہم پاکستان میں رہنے والے اکثر ایسی صورت حال سے دوچار رہتے ھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ان کے گھر کسی غریب نے بریانی تو نہیں کھائی !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    یہ آپ کہیں " بوجھو تو جانیں" تو نہیں کھیل رہے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ویسے اس پر بھی تھریڈ لگانے کو دل کررہاہے یہ بھی بہت اچھا کھیل ہوسکتا ہے !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت افسوس کی بات ہے۔ اسے اصول پسندی بالکل نہیں کہتے۔ یہ بات درست ہے کہ یہاں بھی سرکاری دفاتر میں یہی حال ہے۔
    فریکچر ابھی ٹھیک نہیں ہوا؟ اللہ تعالی آپ کو شفا دے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جی الحمدللہ سسٹر اب کافی بہتر ہو چکا ہے۔ تھوڑی تکلیف باقی ہے۔ ان شاء اللہ وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جاۓ گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  11. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    ایسے ایک اصول پسند ایک خاتون سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔ ان کے دوست نے دوسرے دوست سے کہا یار تم تو کہتے تھے اسے عورت سے نفرت ہے؟ دوست نے کہا یہ وہ عورت نہیں ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  12. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    شائد "اس" خاتون نے کسی موقعہ پر اس اصول پسند کی خاطر تواضع کر دی ہوگي۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,442
    اللہ ان سرکاری دفاتر کے چکروں سے محفوظ رکھے، الحمد للہ "ایک پاکستانی" کا کام تو دوسرے چکر میں ہو گیا ورنہ ایک اور پاکستانی کو بچی کا پاسپورٹ بنوانے کے لئے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ ویسے جب اس افسر نے پوچھا کہ "آپ کو کیا مسئلہ ہے؟" تو بتانا چاہئے تھا کہ میں وہ پاکستانی ہوں جس کے پاس کوئی سفارشی پرچی نہیں اوپر سے باریش ہوں اور صنفِ کرخت ہونے کی وجہ سے چہرے پر غازہ لگا کر آپ کے اصول و ضوابط پر پورا نہیں اترتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,442
    آپ نے جلدی بھانپ لیا حالانکہ ابھی پورے 18 سوال باقی تھے پھر اعجاز بھائی نے اندازہ لگانا تھا کہ وہ پاکستانی "ابو محمد" ہو سکتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  15. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بجا فرمایا رفی بھائ یہی کرخت حقیقت ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    بابر بھائی اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے اور کسی مشکل میں نہ ڈالے آمین

    سرکاری محکموں کے کیا حالات ہیں مجھ سے بہتر کون جانتا ہے کیونکہ میں خود ایک سرکاری دفتر میں ہی کام کرتا ہوں اور ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    ہمارے پاس جب کوئی بندہ اپنی ضرورت لے کر آتا ہے یا کسی کام سے آتا ہے تو ہم پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ہمیں اُس کام میں کوئی فائدہ ہے یا نہیں مطلب تو سجھ گئے ہوں کہ کس قسم کا فائدہ ۔۔۔۔ اپنا مُفاد دیکھتے ہوئے اپنی زبان کے الفاظ کا نرم اور کرخت کرتے ہیں ۔ جن سے کچھ ملنا ہوا تو اُن کی خاطر داری ایسے کرتے ہیں کہ جیسے وہ کوئی بہت بڑا آدمی ہو اور اُس کے پاس ہم 100 چکر لگانے کو بھی تیار رہتے ہیں کھانا پلانا وغیرہ لیکن جس سے کچھ نہ ملنا ہو اُس کے 100 بار فون آنے پر بھی ہم اِک چکر تک نہیں لگاتے ، افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ہر ارداے کا یہی حال ہے کام اچھا ہو یا بُرا ہر کام کے لیے رشوت مسٹ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    ہمیں ہمارے کام کے لیے تنخواہ ملتی ہے لیکن ہم اُس سے دس گناہ زیادہ کماتے ہیں ، اسی چیز کا شکار میں بھی جاب لگنے کے3 سال تک رہا لیکن جب دیکھا کہ میں حرام کمائی کی طرف گامزن ہوں تو آفس کا کام کرنا چھوڑ دیا ، کیونکہ میں جس پوسٹ پر تھا مجھے وہاں فائل کے اوپر سائن کرنے پڑتے تھے اس لیے اُس فائل ورک کو میں نے چھوڑ دیا ۔ لوگ کس طرح آکر ہمارے سامنے گڑگڑاتے ہیں کئی بار میں بتا نہیں سکتا ہے ، بیوہ عورتیں جو کرایہ نہیں دے پاتیں ہمارا اُن کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا تھا ، میں یہ نہیں کہتا کہ سب ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن میجورٹی لوگ ایسے ہی ہیں۔ بابر بھائی کی بات کہ اگر کوئی خاتون آجائے تو ہمارا رویہ کچھ اور ہی ہو جاتا ہے اور ہم کام فری کرنے کو بھی آمادہ ہو جاتےتھے۔ اصول پاکستان میں ہے ہی کہاں جو کوئی ان اصولوں کو مدِنظر رکھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ایک مرتبہ کہیں ایک موازنہ دیکھا تھا کہ لوگ سرکاری ہسپتال جانا نہیں چاہتے، سرکاری سکول میں بچے پڑھانا نہیں چاہتے لیکن سب سرکاری ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ اسی لیے ہے کہ ایک بار سرکاری ملازمت میں گھس جائیں پھر جو چاہے کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
    سرکاری دفتروں میں کام سے جانے والے انسان کی عزت نفس کا خون ہوتا ہے۔ حساس انسان کے لیے تو بہت ہی تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بات یہ ہے کہ اکثر سرکاری ملازمتیں قابلیت پر نہیں بلکہ بڑوں کو خوش کرکے اور خوش رکھ کے ملا کرتی ہیں۔ اور پھر جو دوسروں کو "خوش" کرتا ہے وہ اپنی "خوشی" کا سامان بھی کرتا رہتا ہے۔ اور یہ سامان فراہم کرنے والے نہ چاہتے ہوئے بھی ہم سب ہوتے ہیں۔
    کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ام محمد کے شناختی کارڈ کی ان کے شہر سے منسوخی کرواکے کراچی میں رجسٹریشن کرانی تھی۔ جب اس علاقے میں شناختی کارڈ کے دفتر گۓ تو اندر بیٹھے ہوۓ کلرک نے کہ آپ باہر بیٹھے ہوۓ اس بندے سے جا کر میرا نام لیں وہ آپ کا کام فورا کروادے گا۔ یہاں سے آپ کا کام ہونا مشکل اے۔ خیر اس کے پاس پہنچے اس بندے نے 150 روپے مانگے او رکہا کہ میرے 50 روپے ہیں اور باقی اندر بیٹھے ہوۓ لوگوں کے ہیں۔ آپ ایک گھنٹے کے بعد آکر اپنے کاغذات لے لیں۔ اور ہوا بھی یہی۔ ایک گھنٹے کے بعد گۓ تو سب کچھ تیار تھا۔ عام آدمی کی مجبوری یہی ہے کہ وہ نا چاہتے ہوۓ بھی اس کرپشن کا حصہ بن جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں