جہنم، سانپ اور تصوف

بابر تنویر نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اپریل 6, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    7,313
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    قران کریم فرقان حمید میں متعدد مقامات پر جہنم اور کا ذکر آیا ہے ۔ جو کہ کافرں کے لیے تیار کی گئ ہے۔

    فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ‌ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَ‌ةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِ‌ينَ ﴿٢٤﴾ البقرہ
    لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے (24)

    وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ‌ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٣٩﴾ البقرہ
    اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (39)

    بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ‌ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٨١﴾ البقرہ
    ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے (81)

    إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّـهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ‌ ﴿١٠﴾ آل عمران
    جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے (10)

    مومنین کو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا حکم کچھ ان الفاظ میں دیا گیا:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارً‌ا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَ‌ةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللَّـهَ مَا أَمَرَ‌هُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُ‌ونَ ﴿٦
    مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں (6)

    اور پھر قران ہی میں جہنم سے پناہ مانگنے والوں کو کامیابی کی نوید دی گئ ہے:

    وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَ‌بَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَ‌ةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‌ ﴿٢٠١﴾ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا ۚ وَاللَّـهُ سَرِ‌يعُ الْحِسَابِ ﴿٢٠٢﴾ البقرۃ
    اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو (201) یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے (202)

    اقبال کیلانی حفظہ اللہ نے اپنی کتاب تصنیف " جہنم کا بیان " کے صفحہ 10،11،12 میں جہنم کے بارے میں اختصار کے ساتھ چند احادیث بیان کی ہیں۔

    1-حہنم میں گرایا گیا پتھر 70 سال بعد جہنم کی تہ میں پہنچتا ہے-(مسلم)
    2-جہنم کے ایک احاطہ کی دو دیواروں کے درمیان 40 سال کی مسافت کا فاصلہ ہے-(ابو یعلی)
    3-جہنم کو میدان حشر میں لانے کے لے 4 ارب 90 کروڑ فرشتے مقرر ہوں گے-(مسلم)
    4-جہنم کا سب سے ہلکا عذاب آگ کے دو جوتے پہننے کا ہوگا جس سے جہنمی کا دماغ کھولنے لگے گا-(مسلم)
    5-جہنمی کی ایک داڑھ (بڑا دانت) احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوگی-(مسلم)6-جہنمی کے جسم کی کھال 42 ہاتھ (63 فٹ) موٹی ہوگی-( ترمذی)7-جہنمی کے دونوں کندھوں کے درمیان تیزرو سوار کی 3 دن کی مسافت کا فاصلہ ہوگا-(مسلم)
    8-دنیا میں تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کے برابر جسم دیا جائے گا-(ترمذی)
    9-جہنمی اس قدر آنسو بہائيں کے کہ ان میں کشتیاں چلائی جاسکیں گی-(مستدرک حاکم)
    10-جہنمیوں کو دیے جانے والے کھانے (تھوہر) کا ایک ٹکڑا دنیا میں گرا دیا جائے تو ساری دنیا کے جانداروں کے اسباب معیشیت برباد کردے-(احمد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ)
    11-جہنمیوں کو پلائے جانے والے مشروب کا ایک ڈول (چند لٹر) دنیا میں ڈال دیا جائے تو ساری دنیا کی مخلوق کو بدبو میں مبتلا کردے-(ابو یعلی)
    12-جہنمیوں کے سر پر اس قدر کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا کہ وہ سر میں چھید کرکے پیٹ میں پہنچ جائے گا اور پیٹ میں جو کچھ ہوکا اسے کاٹ ڈالے گا اور یہ سب کچھ (پیٹھ سے نکل کر) قدموں میں آگرے گا-(احمد)
    13-کافر کو جہنم میں اس قدر سختی سے ٹھونسا جائے گا جس قدر نیزے کی انی دستے میں سختی سے گاڑی جاتی ہے-(شرح اسنہ)
    14-جہنم کی آگ شدید سیاہ رنگ کی ہے- (جس میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے گا)( (مالک)
    15-جہنمیوں کو آگ کے پہاڑ "صعود" پر چڑھنے میں 70 سال لگيں گے اترے گا تو پھر اسے چڑھنے کا حکم دیا جائے گا-(ابو یعلی)
    16-جہنمیوں کو مارنے کے لیے لوہے کے گرز اتنے وزنی ہوں گے کہ انسان اور جن مل کر بھی اسے اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے-(ابو یعلی)
    17-جہنم کے سانپ قد میں اونٹوں کے برابر ہونگے اور ان کے ایک دفہ ڈسنے سے کافر 40 سال تک اس کے زہر کی جلن محسوس کرتا رہے گا-(حاکم)
    18-جہنم کے بچھو قد میں خچر کے برابر ہوں گے ان کے ڈسنے کا اثر کافر 40 سال تک محسوس کرتا رہے گا-(حاکم)
    19-جہنمیوں کو جہنم میں منہ کے بل چلایا جائے گا-(مسلم)
    20-جہنم کے دروازے پر عذاب دینے والے 4 لاکھ فرشتے موجود ہونگے جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور سیاہ ہوں گے کچلیاں باہر نکلی ہوں گی سخت بے رحم ہوں گے اور اس قدر جسیم کہ دونوں کندھوں کے درمیان پرندے کی 2 ماہ کے مسافت کا فاصلہ ہوگا-(ابن کثیر)

    یہ ہے وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ آخرت جس کا قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بار بار جہنم کے نام سے ذکر کیا گیا ہے-

    اللہ تعالی مجھے آپ کو اور سب مسلمانوں کا جہنم کی آگ سےمحفوظ رکھے آمین!

    ایک مسلمان کسی بھی دینی بات کی سچائ جاننے کے لیے قران و حدیث سے ہی رجوع کرتا ہے لیکن تصوف اور اہل تصوف کے نزدیک شائد قران و حدیث کے حوالہ جات کافی نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ اپنی طرف سے من گھڑت اور جھوٹی روایات تخلیق کرتے ہیں۔ اسی طرح قران اور صحیح احادیث میں جہنم کے بارے میں ہمیں بہت تفصیل سے بتا دیا گيا ہے۔ لیکن اہل تصوف کے نزدیک یہ معلومات کافی نہیں تھیں۔ کبھی تو کوئ صوفی اپنے مرید کو جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچا نے کا دعوی کر رہا ہوتا ہے اور کبھی دوزخ کو پھونکوں سے بجھانے کی بات کرتا ہے لیکن خواجہ معین الدین ان سب سے الگ ہی بات کر رہے ہیں۔ کتاب وہی "دلیل العارفین"۔اور صفحہ نمبر 59 ، 60 خواجہ معین الدین چشتی جہنم کے بارے میں عجیب و غریب انکشافات کر رہے ہیں۔

    "اس کے بعد حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ (خواجہ معین الدین چشتی) نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے جس دن دوزخ بنائ اسی دن ایک سانپ بھی پیدا فرمایا اور اسے حکم دیا تھا کہ اے سانپ! میں ایک امانت تیرے سپرد کر تا ہوں کو کس محوظ رکھو۔ سانپ نے جواب دیا میں حاضر ہو جو بھی حکم ہوگا اس کی تعمیل ہوگی۔ اللہ تعالی کا حکم آیا کہ منہ کھولو سانپ نے اپنا منہ کھولا۔ اللہ تعالی نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ دوزخ کو پکڑ کر اس سانپ کے منہ میں ڈال دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ پھر اللہ کا حکم آیا کہ اب منہ بند کردو چنانچہ سانپ نے اپنا منہ بند کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دوزخ سات زمینوں کے نیچے اس سانپ منہ میں بند ہے۔ اگر دوزخ سانپ کے منہ میں نہ ہوتی تو تمام کائنات جل کر راکھ ہوجاتی۔ اس کے بعد فرمایا جب قیامت کا دن آۓ گا تو اللہ تعالی فرشتوں کو حکم دے گا کہ دوزخ کو سانپ کے منہ سے نکال لاؤ۔ دوزخ کی ہزار زنجیریں ہوں گي ہر زنجیر کو ایک ہزار فرشتے کھینچیں گے اور ہر ایک فرشتہ اتنا بڑا ہوگا کہ اگر اللہ تعالی حکم دے تو تمام مخلوق کو ایک ہی لقمے میں نگل لے"

    سب سے پہلی بات پر غور فرمائیں کہ یہ دوزخ کا بنانا اور اسے سانپ کے منہ میں رکھنا کہاں پر لکھا ہوا ہے؟ خواجہ معین الدین چشتی کوئ حوالہ ہی عنایت فرما دیتے۔

    دوسری غور طلب بات یہ دوزح کو کھینچنے والے ہزا فرشتے، اور اتنے بڑے کہ ایک فرشتہ ہیں تمام مخلوقات کو ایک ہی لقمے میں نگل لے۔ اب اس کے بعد اس سانپ کےحجم کے بارے میں بھی تصور کیجیے۔ وہ سانپ کتنا بڑا ہوگا کہ جس کے صرف منہ میں ہی ساری دوزخ آگئ اور یہاں ذرا زمین کے حجم پر غور فرمایے۔ کیا یہ سب زمین میں سما سکتا ہے؟

    کیا کوئ اہل تصوف اور ان صوفیاء کو ولی اللہ ماننے والا اس کی وضاحت کرے گا؟
     
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    پیغامات:
    10,324
    آمین
     
    محمد عامر یونس نے شکریہ ادا کیا ہے.
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    پیغامات:
    10,324
    ان کے نزدیک قرآن و حدیث کافی نہیں ! جب تک یہ لوگ اپنی طرف سے تحریف نہ کرے تو تصوف میں کامل تصور نہیں کیا جاسکتا۔
    اللہ بچائے بدعتیوں سے۔
    جزاک اللہ خیرا بہت ہی بہترین شئیرنگ کی ہے۔
    بارک اللہ فی علمک و عملک
     
    محمد عامر یونس نے شکریہ ادا کیا ہے.
  4. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    پیغامات:
    3,873
    آمین
    جزاک اللہ خیرا
     
    محمد عامر یونس اوربابر تنویر نے اس کا شکریہ ادا کیا
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    24,484
    جزاک اللہ خیرا بہت اچھے انداز میں درست اسلامی عقائد کی وضاحت کی گئی ہے۔
     
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    پیغامات:
    7,313
    و ایاکم !
     
    محمد عامر یونس نے شکریہ ادا کیا ہے.
  7. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    پیغامات:
    901
    اللہ تعالی نے اس امت پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کا دین مکمل فرما کر اپنی کامل نعمتیں انہیں عطا فرما دیں ، لہذا جو شخص بھی ایسا کوئی واقعہ نقل کرتا ہے جو کہ شریعت میں موجود نہیں ہے، تو ایسا شخص اللہ تعالی کے فرمان کی تکذیب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خیانت کا الزام لگاتا ہے۔
     
  8. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    پیغامات:
    901
    [​IMG]

    اللہ تعالی کا یہ فرمان :

    { وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ }

    بیشک میرا یہی سیدھا راستہ ہے؛ چنانچہ اسی کی اتباع کرو، دیگر راستوں پر مت چلو، یہ تمہیں اللہ کے راستے سے منتشر کر دیں گے، اللہ تعالی تمہیں اسی بات کی نصیحت کرتا ہے، تا کہ تم متقی بن جاو۔
    [الأنعام : 153]

    اسی طرح اللہ تعالی کے فرمان :

    { وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ }

    اور سیدھا راستہ بتلانا اللہ کے ذمہ ہے اور کچھ ان میں ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔
    [النحل :9]
     
    T.K.H, Bilal-Madni اور بابر تنویرنے شکریہ ادا کیا .
  9. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    پیغامات:
    901
    [​IMG]
    جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے

    (سورة النساء : 115)
     
    T.K.H, ابو ابراهيم اور Bilal-Madniنے شکریہ ادا کیا .

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں