زبان یار من ترکی از اقتدار احمد

عائشہ نے 'نثری ادب' میں ‏اپریل 12, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    زبانِ یارِ من ترکی۔۔۔
    اقتدار احمد

    زبان یار من ترکی جناب اقتدار احمد کے سفر ترکی کی روداد ہے جس کے چند اقتباسات اردو مجلس میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ اگر آپ بھی یہ کتاب پڑھ چکے ہیں تو اپنا حاصل مطالعہ شریک کیجیے۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ائرپورٹ کے علاقے سے نکلتے ہی اندازہ ہو گیا کہ ہم مشرق کو پیچھے چھوڑ کر مغرب میں نکل آئے ہیں۔ استنبول کا یہ حصہ یورپ میں ہے اور یورپ ہی لگتا تھا سوائے اس کے کہ صفائی کا وہ اہتمام نہیں اور خوشحالی ویسے امڈی نہیں پڑتی۔ گائیڈ نے مائیک سنبھال کر ہمیں مخاطب کیا۔
    " خواتین وحضرات میں آپ کو جمہوریہء ترکی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ ایک خوب صورت "موزلم" لیکن سیکولر ملک ہے، مصطفی کامل نے جس کی تعمیر کی۔ وہ اتا ترک (بابائے قوم) تھا اور میں بھی اس کا ایک بیٹا ہوں یا پوتا کہہ لیجیے۔"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    استنبول میناروں کا شہر بھی کہلاتا ہے۔ جدھر دیکھیے خوب صورت، سڈول بلندوبالا مینار ہی نظر آتے ہیں۔ اکثر مساجد کی چوکسی کرتے ہیں اور یہی حال گنبدوں کا ہے ایک جیسے شاندار، یکسانیت اور بوقلمونی کا حسین امتزاج، لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس پرانے قسطنطینیہ میں بعض گرجاؤں کے سرے پر بھی گنبدوں کے تاج ہیں۔ کسی نووارد کو یہ پہچان پیدا کرنے میں بڑا وقت لگتا ہے کہ اس کی نظریں مسجد کے گنبد کا طواف کر رہی ہیں یا پرانے کلیسا کے کسی کلس سے الجھ کر رہ گئیں۔ ویسے مساجد کا یہاں کیا شمار مسلم ا دنیا کا کون سا بڑے سے بڑا شہر ہے جو مسجدوں کی تعداد ان کی وسعت اور سربلندی میں استنبول کے مقابلے کا سوچ بھی سکے۔ ہم لاہور کی بادشاہی مسجد لیے لیے پھرتے ہیں اور غالبا اسے دنیا کی سب سے بڑی مسجد بھی کہتے ہیں کیا صرف کھلے صھن کے رقبے کے بل پر؟ بادشاہی مسجد کے مسقف حصہ سے بڑے اللہ کے کئی گھر تو خود لاہور میں موجود ہوں گے۔ اللہ مسجدیں دیکھنے کا شوق دے اور فن تعمیر سے دلچسپی بھی ہو تو کم از کم ایک مہینہ استنبول کی صرف مساجد دیکھنے کے لیے درکار ہے۔ ایک ہفتے میں تو آدی ورطہء حیرت سے ہی باہر نہیں نکل پاتا۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ترک بھائی بھی غالب کی طرح آدھے مسلمان تو ہیں، شراب پیتے ہیں سور نہیں کھاتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    کہنے کو تو استنبول میں مشرق ومغرب گلے ملتے ہیں لیکن یہاں مشرق انکسار کے مارے بچھ گیا اور مغرب اس کی چھاتی پر سوار ہے۔ مغربیت مشرقیت کے سینے پر گویا مونگ دل رہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    ساڑھے آٹھ بجے تو ایک صاحب نے اذان دی جو امریکہ سے تشریف لائے تھے۔ اذان کا وہی امریکی سٹائل جس میں آواز اس کمرے سے باہر نہیں نکلتی جہاں نماز کا اہتمام ہوتا ہے۔
    ہماری اذانیں روح بلالیؒ سے تو پورے عالمِ اسلام میں محروم ہو گئی ہیں دیارِ مغرب میں رسمِ اذاں "بے آواز" بھی ہے۔ ایسے میں مجھے ہمیشہ اپنا پیارا وطن یاد آتا ہے جہاں میناروں کے چاروں طرف نصب عظیم الجثہ لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے قریب واقع مساجد سے جب یکے بعد دیگرے یہ پکار شروع ہوتی ہے تو فضا میں آواز کی تندوتیز لہریں اس قدر ارتعاش پیدا کر دیتی ہیں کہ سننے والوں کے کانوں کے پردے پھٹنے کو آجائیں۔ سامعین کو اذان کا جواب دینے پر بڑے اجر کی نوید ہے لیکن چہارجانب سے چنگھاڑتی آوازیں یوں آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں تو اذان کے کلمات کو جدا جدا کر کے دہرانا یا جواب دینا ممکن ہی نہیں رہتا۔ اپنے یہاں اذان کا یہ بلند و بے ہنگم آہنگ اور وہاں یہ کمزوری و بے جانی یعنی یہاں یہ شورا شوری اور وہاں وہ بے نمکی! خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں!

    (از مشرق کے مسکین اور مغرب )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    یہاں بھی طفل وجواں اور مردوزن چاہے نیم مغربی لباس میں ہوں، اسی مشقت میں مبتلا ہیں جو ہم مشرق کے مسکینوں کا مقدر ہو گئی ہے، ویسے تو انسان پیدا ہی مشقت اٹھانے کے لیے کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے سورۃ البلد میں فرمایا : اور ہم کو قسم ہے باپ کی اور اس کی اولاد کی کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیاہے۔" رشتہ و پیوند نے آدمی کے گلے میں کتنے بھاری طوق اور ہاتھوں پیروں میں کیسی بیڑیاں ڈال دی ہیں۔ وہ ہانپتا کانپتا مہد سے لحد تک کا سفر کیسے کیسے بوجھ اٹھائے پورا کرتا ہے اور اس میں مغرب مشرق کا فرق بس اتنا ہے کہ وہاں اس میں تفریح کا بھی کچھ عنصر داخل کر دیا گیا اور یہاں بوجھوں مرتے انسانوں کو پیشانیوں سے پسینا پونچھنے کی بھی فرصت میسر نہیں۔ یہ زندگی نہیں گزارتے، زندگی انہیں گزارتہ اور اگلی منزل پر جا پٹختی ہے جہاں منکر نکیر اپنے گرز تھامے ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ وہ بھی رہتے اسی دنیا میں ہیں لیکن پھول میں خوشبو کی طرح!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں