مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

عفراء نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 25, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
    قانتہ رابعہ​

    "ہر کسی کے بارے میں منہ پھاڑ کے کمنٹس دے دینا، جھٹ سے رائے قائم کر لینا اور فورا کہہ دینا، تمہاری ہزار خوبیوں پر ایک خامی بھاری ہے اور تمہاری ساری خوبیاں اسی ایک خامی کی وجہ سے منہ چھپا کے پیچھے ہوجاتی ہیں، آخر تم کب سمجھو گی کہ تمہاری اس ایک عادت کی وجہ سے کتنے مسئلے خراب ہوجاتے ہیں۔ تمہیں اپنی اصلاح کی بلکہ "رجوع الی اللہ" کی سخت ضرورت ہے۔۔۔" خفگی بھرے لہجے میں ردا نے آمنہ سے کہا جو سر جھکائے مسلسل ٹپ ٹپ آنسو بہانے کے شغل میں تھی۔
    "لیکن میں نے کونسا ایسا جرم کیا تھا جو یہ سب کچھ میرے ساتھ ہوا ۔۔۔؟"
    وہ ابھی بھی بے یقینی کی سی کیفیت میں تھی اتنی معمولی سی بات کا اتنا شدید رد عمل؟ یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
    "ہاں بی بنو تمہارا جرم اس سے بھی سنگین ہے؟ جو مالک لوگوں کے گھروں میں جھانکنے کی اجازت نہیں دیتا وہ لوگوں کے بارے میں تبصروں کی اجازت دے سکتا ہے؟ اللہ نے سننے کے لیے دو کان بولنے کے لیے ایک زبان دی وہ بھی اوپر نیچے کے دو چوکیداروں اور بتیس ہتھیاروں کے درمیان۔۔۔ کہ بولنے سے پہلے احتیاط ۔۔۔ احتیاط ۔۔۔ حد درجہ احتیاط برتو۔ بی بی سب سے مشکل کام دنیا میں اپنی اصلاح اور تزکیہ ہے تم بھی اپنی اصلاح کرو ورنہ ساری زندگی اس بے کار سی عادت کا بھگتان بھگتنا۔۔۔" ردا نے اپنی کتابیں ڈائریاں سمیٹتے ہوئے کہا۔ اٹھتے اٹھتے اس نے ایک نظر آمنہ پر ڈالی۔۔۔ رو رو کر سرخ انگارہ بنی آنکھیں۔۔۔ سوجا چہرہ، بھاری آواز۔۔۔ اس نے دکھ سے سوچا کیا ہوتا جو آج یہ بے ضرر سا جملہ زبان سے نہ نکالتی۔۔۔۔
    چلو اب تم بھی سوگ منانا بند کرو ۔۔۔ دنیا اسی کا نام ہے ہر شر میں سے خیر ڈھونڈتے ہیں شاید اللہ نے تمہاری اصلاح کے لیے یہ تازیانہ لگایا ہو۔۔۔!!
    ردا ردا کے ساتھ اٹھ کر آمنہ بھی گیٹ کی طرف چل دی۔۔۔ دونوں کی وین کا وقت ہوگیا تھا۔
    ہیڈ مسٹریس کے آفس کو دیکھ کر آمنہ کو نئے سرے سے وہ واقعہ بلکہ سانحہ یاد آگیا۔۔۔ اس نے نقاب کے نیچے سے دوبارہ رونا شروع کر دیا۔ اش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ اے کاش!!
    وین میں بیٹھتے ہی وہ واقعہ اپنی جزئیات کے ساتھ اس کے سامنے آگیا۔
    بریک کے بعد آج کلاس روم میں داخل ہی ہوئی تھی کہ ماسی اندر داخل ہوئی، "مس آمنہ جی آپ کو ہیڈ صاحبہ نے یاد فرمایا ہے۔"
    آمنہ اپنا رجسٹر وہیں چھوڑ کے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ماسی کے پیچھے ہی سٹاف روم میں داخل ہوئی۔۔۔ نئی ہیڈ مسٹریس صاحبہ نے ابھی پچھلے ہفتے ہی چارج لیا تھا۔۔۔ آمنہ کا ان سے بہت تفصیلی تعلق نہیں بنا تھا۔۔۔ ہاں شکل و صورت میں وہ ماضی کی ایک سینئیر اداکارہ سے مشابہت رکھتی تھیں۔۔۔ اس نے یہ بات برملا ہنستے ہوئے کہی بھی تھی۔اپنے اب تک کے نامۂ اعمال کو کھنگالتے ہوئے وہ سٹاف روم کی بیک میں بنے آفس میں اخل ہوئی۔۔۔ ہیڈ مسٹریس صاحبہ مسز نعمانی سر جھکائے لکھنے میں مسروف تھیں۔
    "السلام علیکم میم۔۔۔" آمنہ نے انہیں مخاطب کیا۔
    "وعلیکم السلام " بیٹھیے انہوں نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا۔
    چند لمحے دونوں طرف سے خاموشی رہی۔ آمنہ کو چڑ سی ہوئی یہ کیا بات ہے بھلا ، بلوا کے تو کوئی بات تو کریں۔۔۔ ویسے بھی آمنہ اور چپ رہ سکے؟؟ توبہ توبہ۔۔۔ وہ تو شایدہر وقت بولنے کے لیے ہی پیدا ہوئی تھی۔
    آمنہ نے گلا صاف کرنے کی سی آواز نکالی۔۔ بالآخر انہوں نے سر اٹھایا ۔۔۔ قلم ایک طرف رکھا اور کہا۔
    "مس آمنہ آپ غالبا سائنس ٹیچر ہیں۔۔۔"
    "جی۔۔۔" آمنہ نے کہا۔۔۔ (کیا یہ پوچھنے والی بات ہے کیمسٹری کے پیریڈ کے دوران جسے بلایا ہے وہ آرٹس ٹیچر تو ہو نہیں سکتی)۔
    " اور آپ نے غالبا کیمسٹری میں ایم ایس سی بھی کیا ہے؟" انہوں نے آمنہ کو غور سے دیکھتے ہوئے دوسرا سوال کیا ۔
    "جی میم" آمنہ کچھ گڑبڑاتے ہوئے بولی۔ وہ جانتی تھی یہ محض گفتگو کا سٹارٹ ہے۔ ورنہ بات کچھ اور ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔
    "آپ کے ساتھ میں بھی یہ جانتی ہوں کہ بی ایس سی تک اسلامیات کا مضمون لازمی ہے۔۔۔" انہون نے قدرے اونچی آواز میں کہا
    "تو پھر بیٹے آپ کو یہ بھی علم ہوگا کہ اخلاقیات کسے کہتے ہیں۔ " انہوں نے تھیلے سے بلی نکالی۔
    "مارے گئے"۔ دل ہی دل میں آمنہ جز بز ہوئی لیکن خاموش رہی۔ "اور اخلاقیات کی ہی یہ ادنیٰ سی تعلیم یہ ہے کہ خوامخواہ کسی پر کوئی کمنٹس نہیں دیتے۔۔۔ تبصرے نہیں کرتے ۔۔۔ پڑھے لکھے اور ان پڑھ میں یہی تو فرق ہوتا ہے۔۔۔۔ " انہوں نے بات مکمل کی۔
    "میں ۔۔۔ میں آپ کی بات نہیں سمجھی میم"۔ آمنہ واقعی پریشان تھی کہ یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے۔۔۔!

    "آپ نے کل سٹاف روم میں بیٹھ کر کئی لوگوں کے بارے میں ہنسی مذاق میں تبصرے کیے تھے۔۔۔ دکھ یہ نہیں کہ آپ نے میری شکل کسی پرانی اداکارہ سے ملائی دکھ یہ ہے کہ کسی سے بھی ملاتیں کیا علم والوں اور فلم والوں کا آپس میں کوئی کمبی نیشن بنتا ہے؟"
    یہ سن کر آمنہ کے تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔ اس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔۔،۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ پھر بولیں"آئندہ محتاط رہیے گا۔۔۔ علم سے وابستہ لوگ بہت معزز ہوتے ہیں ان کا ان ناچ گانے والیوں سے یا ان کی شکلوں سے حوالہ دینا زیب نہیں دیتا۔۔۔ فرصت میں تعمیری گفتگو کیا کریں۔ آپ کو سوائے میرے نام کے دوسرے حصے خانم کے کچھ اور مشترک لگتا ہے۔۔۔ میں فضول گفتگو کو پسند کرت ہوں نہ کرنے دیتی ہوں۔ " انہوں نے بات سمیٹتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔۔ گویا کہہ رہی ہوں اب جاؤ۔
    " جی اچھا۔۔۔ میم۔۔۔" آمنہ جانتی تھی اس وقت ان دو لفظوں کا منہ سے نکالنا کتنا مشکل کام تھا۔ آفس سے نکلتے ہوئے اسے پھر مڑ کر میڈم کی طرف دیکھنا پڑا جو کوئی کتاب اسے دینا چاہ رہی تھیں۔۔۔۔
    "مجھے امید ہے آپ نے میری باتوں کا برا نہیں منایا ہوگا۔ میری طرف سے یہ کتاب تحفہ ہے ضرور پڑھیے اور رائے دیجیے گا۔"
    "شکریہ۔۔۔" پھنسی پھنسی آواز میں آمنہ نے کہا اور سائنس لیب میں چلی گئی۔۔۔ کون سی کلاس اور کون سے سٹوڈنٹس۔ رو رو کر وہ ہلکان ہوچکی تھی۔
    اب اسی واقعہ بلکہ سانحہ کی باز گشت وین میں اسے سنائی دے رہی تھی۔۔۔ کولیگز تک بھی بات پہنچی تھی۔۔۔ آمنہ کا دل چاہا چلتی وین سے چھلانگ لگا دے۔
    لیکن نہیں۔۔۔! مجھے اپنی عادت کی اصلاح کرنا ہے۔۔۔ اسے ردا کے مشورے کے الفاظ کانوں میں گونجتے محسوس ہورہے تھے۔۔۔۔ میں نے کسی کے بارے میں ایسی بات نہیں کہنی جو اس کے منہ پر نہ کی جاسکے۔۔۔ بھلے اس میں میرا کتنا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔! ون سے اترتے ہوئے اس نے منصوبہ بنایا۔
    کھانے کے بجائے چائے کا بڑا مگ لے کر وہ اپنے کمرے میں آئی۔۔۔ بڑے بڑے الفاظ میں موٹے مارکر سے اس نے چارٹ پر یہی الفاظ لکھے۔
    "مجھے کسی کے بارے میں وہ الفاظ نہیں کہنے چاہییں جو اس کے منہ پر نہ کہہ سکوں۔"
    چارٹ اس نے بیڈ کے سامنے والی دیوار پر چپکا دیا۔۔
    دو نفل پڑھے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔۔۔۔
    اللہ میرے اس کام میں میرا مددگار ہوجا بے شک یہ بہت مشکل کام ہے۔
    صبح جب آمنہ سکول پہنچی تو اس کی طالبات اور کولیگزکے لیے یہ بالکل نئی آمنہ تھی۔
    مدبر باوقار سوبر اور ڈیسنٹ سی۔ اپنے بارے میں یہ تبصرے اس کے کانوں تک پہنچے اور وہ بس ہلکا سا مسکرا دیتی۔ کس کو بتاتی یہ امر دشوار آسان بنانے مین جہاں اس کی دعائیں، اس کی قوت ارادی شامل تھی وہیں پر ہیڈ مسٹریس صاحبہ کی ہر دوسرے تیسرے دن آفس میں بلا کر اس کی تبدیلی پر خوشگور رد عمل بھی ہوتا تھا۔
    ہر شر میں خیر ضرور چھپی ہوتی ہے بس اسے محنت، مشقت اور مسلسل مشق سے ڈھونڈنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    بشکریہ
    ماہنامہ عفت
    اپریل 2015

    کمپوزنگ:عفراء​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 9
  2. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    معاشرے میں پھیلی ایک اخلاقی برائی کو نمایاں کرتی ہوئی خوبصورت تحریر جو سیدھی دل کو لگی۔
    اس کو پڑھ کر بےاختیار اپنی مجلس کو ہدیہ کرنے کا دل کیا۔
    اللہ تعالیٰ مجھ سمیت ہر ایک کو اپنی اصلاح کی توفیق دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  3. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,873
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    شئرنگ کا شکریہ۔ بہت اچھے پیراۓ میں ایک مفید پیغام دیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,122
    جزاک اللہ خیرا
    ہم کچه پڑه کر بهول بهی جاتے ہیں یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے.اللہ ہم سب کی مدد فرمائے اور ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما کر ہمیں دوسروں کی دل آزاری اور اپنی نافرمانی سے بچائے آمین یا رب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  6. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,920
    وایاک
    آمین
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    آمین
     
  11. أبو مجاهد

    أبو مجاهد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2016
    پیغامات:
    57
    ہر شر میں خیر ضرور چھپی ہوتی ہے بس اسے محنت، مشقت اور مسلسل مشق سے ڈھونڈنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    جزاک اللہ خیر بہت موفید بات لکھی ہے الله سبحانه وتعالى ہر ایک کو اپنی اصلاح کی توفیق دے۔ آمين
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں