شرک اصغر کی چند مثالیں پیش کی جاتیں ہیں :

کارتوس خان نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مئی 15, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    شرک اصغر

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

    (١): ریاکاری انسان اس نیت سے عمل کرے کہ لوگ اس عمل کی بناء پر اس کی تعریف کرنے لگیں بس وہ لوگوں سے صرف اپنی تعریف کروانا چاہتا ہے اور یہ بہت ہی خطرناک گناہ ہے کیونکہ یہ دل کا عمل ہے اس پر ماسوائے اﷲتعالیٰ کے کوئی مطلع نہیں ہوتا اس ریاکاری کی وجہ سے تمام اعمال غارت ہوجاتے ہیںاور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سے ڈرایا ہے۔

    آپ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:
    اخواف ما أخافٍ علیکم الشرک الأصغر۔
    میں تم پر شرک اصغرسے بہت خوف کرتا ہوں (مسند احمد ٥/٤٢٨، سنن ابی داؤد جلد ٤ /٢١٢)

    نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ریاکاری ہے اور ریاکاری اخلاص کے منافی ہے ۔

    (٢): شرک اصغر کی مثالوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی کہہ دے کہ اگر اﷲتعالیٰ اور فلاں شخص نہ ہوتا تو میرے ساتھ اس طرح ہوجاتایا یوں کہہ دے جو اﷲتعالیٰ اور فلاں شخص چاہے اور جو آپ چاہیں تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:

    ''أجعلتنی ﷲ عدلاً بل ماشاء اﷲ وحدہ''
    کیا تو نے مجھے اﷲ تعالیٰ کے ساتھ برابرکردیا بلکہ (آپ یہ کہیں کہ)جو اﷲتعالیٰ اکیلا چاہے ۔

    (٣): شرک اصغر کی ان کے علاوہ بھی مثالیں ہیں جن کو یہاں پر ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے سمجھنے کیلئے اتنی ہی کافی ہیں ۔اب ہمیں چاہیے کہ ہم شرک اکبر اور شرک اصغر سے متنبہ ہوجائیں کیونکہ یہ دونوں گناہ کبیرہ میں سے ہیں اور ان گناہوں سے بچنے کیلئے ہم قرآن وسنت کو مضبوطی سے پکڑلیں اورتوحید کو ثابت کریں۔شرک اور تمام قسم کی بدعتوں سے جو مسلمانوں کے عقائد میں ان کی بے شعوری کی وجہ سے داخل ہوچکی ہیں خلاصی اور چھٹکارا حاصل کرلیں۔

    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 18, 2008
    پیغامات:
    158
    ۔

    ۔
    اسلام علیکم میں ہرگز یہاں رپلائی نہ کرتا مگر ۔۔۔۔۔ پوسٹ کا عنوان ہے شرک اصغر اور اوپر والی روایت میں صاف طور پر بیان بھی ہوگیا ہے کہ شرک اصغر کیا ہے لیکن افسوس کہ جب مثال نقل کرنے کا وقت آیا تو جناب کارتوس صاحب نے اللہ پاک کے برابر ٹھرانے کو شرک اصغر فرمادیا لاحول وال قوۃ ارے ان سے کوئی پوچھے کہ جب اللہ پاک کی زات کے برابر کسی کو جاننا آپ کے نزدیک شرک اصغر ہے تو پھر شرک اکبر کس بلا کا نام ہے ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 16, 2008
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,372
    السلام علیکم !

    جناب آبی ٹوکول صاحب میرا نہیں خیال محترم کارتوس کی پوسٹ میں کوئی ایسی بات کی گئی ہے جو کہ قابل اعتراض ہے ـ انھوں نے تو صرف احادیث بیان کی ہیں‌ ـ اپنی طرف سے تو کوئی بات نہیں لکھی ـ آپ کو پتا نہیں کس پر اعتراض ہے کارتوس خان پر یا احادیث پر ؟؟اگر ایسا ہے تو دلیل کے ساتھ بات کریں تو زیادہ بہتر رہے گا ـ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ ــ وبعد!ـ
    عابی بھائی ـــ
    (٣): شرک اصغر کی ان کے علاوہ بھی مثالیں ہیں جن کو یہاں پر ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے سمجھنے کیلئے اتنی ہی کافی ہیں ۔اب ہمیں چاہیے کہ ہم شرک اکبر اور شرک اصغر سے متنبہ ہوجائیں کیونکہ یہ دونوں گناہ کبیرہ میں سے ہیں اور ان گناہوں سے بچنے کیلئے ہم قرآن وسنت کو مضبوطی سے پکڑلیں اورتوحید کو ثابت کریں۔شرک اور تمام قسم کی بدعتوں سے جو مسلمانوں کے عقائد میں ان کی بے شعوری کی وجہ سے داخل ہوچکی ہیں خلاصی اور چھٹکارا حاصل کرلیں۔

    ہاں جہاں تک بات ہے راہی کے پہاڑ بنانے کی تو یہ الگ بات ہے خیر اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس پر گفتگو کی جائے تو بتادیجئے گا تاکہ آپ کی جانب سے کی گئی تنقید کو الگ ایک تھریڈ میں لگا کر وہاں‌ پر ہم اور آپ اپنی اپنی کہہ لیں اور اپنی اپنی سُن لیں ـــ

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ ـــ

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 18, 2008
    پیغامات:
    158
    محترم جناب عکاشہ صاحب یہ بات‌آپ کی اور کارتوس خان صاحب کی سمجھ میں نہیں آنے والی میں نے اعتراض احادیث پر نہیں کیا مگر احادیث سے جو سرا سر غلط مفھوم کارتوس صاحب نے پیش کیا ہے اس پر کیا ہے کہ بات تو کارتوس خان صاحب شرک اصغر کی فرما رہے ہیں اور اوپر اپنے کلام کے شروع میں انھوں نے سمجھا بھی دیا تھا کہ شرک اصغر کیا ہے؟ مگر افسوس کے شرک اصغر کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے حدیث کے جن الفاظ کو کوٹ کیا وہ شرک اصغر کی نہیں بلکہ شرک اکبر کی مثال ہیں کہ کسی کو بھی اللہ کے برابر سمجھ لینا شرک اصغر نہیں ہوا کرتا ۔
    حیرت ہے ان نام نہاد مبلغین پر کہ جمیع امت کو مشرک قرار دیتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھکتی اور حدیث دانی کا یہ عالم ہے کہ شرک اصغر اور شرک اکبر کا فرق نہیں معلوم ۔ ۔۔
    فاعتبروا یااولی الابصار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  6. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,948
    السلام علیکم ! مجھے بھی لگتا ھے کہ کارتوس بھائی نے کوئی ایسی بات نہیں کی ھے جو کسی کو بری لگے ۔ بلکہ بھائی نے احادیث کے ذریعے سچ بیان کرنے کی کوشش کی ھے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام
    دراصل آپ کو تنقید کارتوس بھائی پر نہیں بلکہ حدیث پر ہے۔ کیوں کہ ایسی احادیث تو آپ لوگ عوام سے چھپاکررکھتے ہو ورنہ یہ تم لوگوں کی پولیں کھول دیتی ہیں۔

    آپ کو میں بے شمار روابط اور دلائل پیش کرسکتا ہوں جن کی روشنی میں یہ شرک اصغر ہے لیکن آپ لوگوں کو حدیث سے کیا واسطہ ؟ اللہ آپ لوگوں کو ہدایت کرے، آمین
    درجہ ذیل عربی دینی ویب سائٹس سے دلائل ملاحظہ ہو:
    عربی تو اتنی پڑھی ہوگی آپ نے۔ اگر نہیں آتی تو پھر کسی سے ترجمہ کروادینا۔

    حوالہ یہاں

    ما شاء الله وشئت،
    جو اللہ چاھے اور آپ چاھیں

    ایک اور ویب سائٹ ملاحظہ ہو:

    حوالہ یہاں

    لولا الله وأنت،
    اگر اللہ نہ ہوتے اور آپ نے ہوتے (تو ایسا ہوجاتا یا نہ ہوجاتا وغیرہ)

    ذرا یہ ویب سائٹ بھی ملاحظہ ہو:
    حوالہ یہاں


    ما شاء الله وشئت"
    جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں
    ، "وما لي إلا الله وأنت
    میرے لئے کوئی نہیں صرف اللہ اور آپ
    " وأعتمد على الله وعليك"...
    اللہ پر اور آپ پر اعتماد ہے۔


    دراصل یہ غیر ارادی الفاظ ہیں۔ انسان کا اعتقاد نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے برابر ہوتا ہے لیکن یہ شرک اکبر کیلئے وسیلہ بننے کا سبب ہیں۔

    محترم میں آپ کو اور کیسے سمجھاؤں۔ بات بات پر ہمارے اوپر وہابی کا فتوی ٹھونس دیتے ہو۔ اللہ آپ کو توحید کی نعمت سے مالامال کرے ۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,948
    جی محترم اعجاز بھائی سے گذارش ھے کہ اس پر ذرا وضاحت کردیں کہ اگر کوئی قصداً یہ نہ کہے مثلاً کوئی یہ کہے کہ "جو اللہ چاھے اور آپ چاھیں" اور خیال یہ ھو کہ اللہ تو چاھتا ھی ھے ساتھ آپ نے بھی چاھا ۔ تو اس مسئلے میں کیا احکامات ہیں ؟


    شکریہ ۔
     
  9. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 18, 2008
    پیغامات:
    158
    اسلام علیکم جناب سید اعجاز شاہ صاحب آپ نے جو جواب پوسٹ کیا اس کے الفاظ آپ ہی کی کے قلم سے کچھ یوں ہیں۔۔ ۔ ۔ ۔
    وعلیکم السلام
    دراصل آپ کو تنقید کارتوس بھائی پر نہیں بلکہ حدیث پر ہے۔ کیوں کہ ایسی احادیث تو آپ لوگ عوام سے چھپاکررکھتے ہو ورنہ یہ تم لوگوں کی پولیں کھول دیتی ہیں۔

    آپ کو میں بے شمار روابط اور دلائل پیش کرسکتا ہوں جن کی روشنی میں یہ شرک اصغر ہے لیکن آپ لوگوں کو حدیث سے کیا واسطہ ؟ اللہ آپ لوگوں کو ہدایت کرے، آمین
    درجہ ذیل عربی دینی ویب سائٹس سے دلائل ملاحظہ ہو:
    عربی تو اتنی پڑھی ہوگی آپ نے۔ اگر نہیں آتی تو پھر کسی سے ترجمہ کروادینا۔

    یہ تھے محترم شاہ صاحب کے وہ الفاظ کہ جن کو تمہید بناکر موصوف نے گفتگو کا آغاز فرمایا ہے ۔ اب ان پر گفتگو کرنے سے پہلے میں آپ سب لوگوں کی دلچسپی اور موضوع کو اصل نفس مسئلہ پر قائم رکھنے کے لیے اپنے محبوب قارئین کی توجہ کو ایک بار پھر کارتوس خان کی اصل پوسٹ کی طرف مبذول کروانا چاہوں گا تاکہ میں یہ ثابت کر سکوں کہ اصل میں نے سوال کیا اٹھایا تھا اور میری پوسٹ کا مقصد کیا تھا؟
    کارتوس خان صاحب نے ایک لڑی شرک اصغر کے عنوان سے متعلقہ فورم پر قائم کی اور شرک اصغر کی تعریف اور وضاحت پر احادیث پیش کیں ۔ اب جو تعریف انھوں شرک اصغر کی پیش کی وہ انھی کے الفاظ میں احادیث کے متن کے ساتھ کچھ یوں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    شرک اصغر

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

    (١):ریاکاری انسان اس نیت سے عمل کرے کہ لوگ اس عمل کی بناء پر اس کی تعریف کرنے لگیں بس وہ لوگوں سے صرف اپنی تعریف کروانا چاہتا ہے اور یہ بہت ہی خطرناک گناہ ہے کیونکہ یہ دل کا عمل ہے اس پر ماسوائے اﷲتعالیٰ کے کوئی مطلع نہیں ہوتا اس ریاکاری کی وجہ سے تمام اعمال غارت ہوجاتے ہیںاور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سے ڈرایا ہے۔

    آپ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:
    اخواف ما أخافٍ علیکم الشرک الأصغر۔
    میں تم پر شرک اصغرسے بہت خوف کرتا ہوں (مسند احمد ٥/٤٢٨، سنن ابی داؤد جلد ٤ /٢١٢)

    نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ریاکاری ہے اور ریاکاری اخلاص کے منافی ہے۔


    اب مدعا اصل میں یہ ہے کہ جو تعریف اور جو وضاحت کارتوس خان صاحب نے احادیث کی روشنی میں شرک اصغر کی بیان کی ہے ہمیں اس سے مکمل اتفاق ہے ۔ اور ہمیں اس سے کوئی اختلاف ہر گز نہیں کیونکہ ریاکاری کیا ہے اس کی بھی وضاحت موصوف نےفرمادی اور ریاکاری کو شرک اصغر کہتے ہیں اسکی وضاحت بھی موصوف نے حدیث کے حوالے سے کردی اب میں تو کیا کسی کو ئی بھی ادنٰی سا مسلمان اس بات سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ شرک اصغر اصل میں ریاکاری ہی کا نام ہے اور ریاکاری کیا ہے؟ اسکی وضاحت اوپر کارتوس صاحب ان الفاظ سے فرما چکے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ریاکاری انسان اس نیت سے عمل کرے کہ لوگ اس عمل کی بناء پر اس کی تعریف کرنے لگیں بس وہ لوگوں سے صرف اپنی تعریف کروانا چاہتا ہے اب آتے ہیں کہ آخر جب ہمیں ان سب باتوں سے اتفاق ہے تو پھر اختلاف کس بات پر ہے؟ تو آئیے وہ بھی عرض کردوں ۔ جہاں تک تو بات تھی کہ ریاکاری کیا ہے اور ریاکاری کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز (یعنی شرک اصغر)سے تعبیرفرمایا ہے تو اس کی وضاحت کارتوس صاحب نے اپنی بات کی ابتداء میں جو فرمائی ہم بھی اس کی تائید کرتے ہیں لیکن جب باری آئی ریاکاری یا شرک اصغر کی مثال نقل کرنے کی تو وہاں پر موصوف نے ٹھوکر کھائی اور وہی اصل میں ہمارا نقطعہ اعتراض ہے ۔
    ناکہ اصل وہ احادیث جو کہ ریاکاری اور شرک کی وضاحت پر آئیں اور ناہی ریاکاری کی وہ تعریف جو موصوف نے فرمائی اس پر ہمارا کوئی اعتراض ہے ہمارا اعتراض ہے تو سراسر اس عبارت پر ہے جو کہ موصوف کی اپنی ذاتی حدیث فہمی یا موصوف کہ مکتبہ فکر کے علماء کی زاتی حدیث دانی کا شاخسانہ ہے اور وہ عبارت موصوف ہی کے الفاظ میں درج زیل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    (٢): شرک اصغر کی مثالوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی کہہ دے کہ اگر اﷲتعالیٰ اور فلاں شخص نہ ہوتا تو میرے ساتھ اس طرح ہوجاتایا یوں کہہ دے جو اﷲتعالیٰ اور فلاں شخص چاہے اور جو آپ چاہیں تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:

    ''أجعلتنی ﷲ عدلاً بل ماشاء اﷲ وحدہ''
    کیا تو نے مجھے اﷲ تعالیٰ کے ساتھ برابرکردیا بلکہ (آپ یہ کہیں کہ)جو اﷲتعالیٰ اکیلا چاہے ۔


    اب موصوف کی اس عبارت میں ہمارے بڑے کیئے گئے الفاط پر میں قارئین کی خصوصی توجہ چاہوں گا اور قارئین کے سامنے شرک کی تعریف اپنے الفاظ میں پیش کروں گا ۔ ۔
    شرک کا لغوی معنٰی :-​
    ساجھی یا حصہ کہ ہیں۔
    اور دلیل ہماری قرآن پاک کی یہ آیت ہے کہ اللہ پاک قران پاک میں فرماتے ہیں کہ ۔۔
    ام لھم شرک فی السموٰت والارض ۔ ۔
    ترجمہ :- کیا ان کا (کہ جن کو یہ مشرک پوچتے ہیں ) زمین و آسمان میں
    کوئی حصہ ہے ۔
    شرک کہ اصطلاحی معنٰی :-
    اصطلاح شریعت میں اللہ پاک کی زات اور صفات دونوں میں کسی کو بھی اللہ کے برابر جان لینا یا مان لینا شرک کہلاتا ہے اور یہی اصل میں شرک ہے کہ جیسا اللہ ہے ویسا کیسی اور کو ماننا اور غیر اللہ کو اللہ پاک کے برابر ٹھرا دینا ۔ ۔ ۔ ۔
    ۔ اور دلیل ہماری قرآن پاک کی یہ آیت ہے کہ ۔ ۔ ۔ ثم الذین کفروا بربھم یعدلون ۔ ۔ ۔المائدہ 1
    ترجمہ :- پھر وہ کافر لوگ(اپنے معبودان باطلہ کو)اپنے رب کے برابر ٹھراتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

    ان توضیحات سے واضح ہوا کہ اللہ کے برابر کسی کو ٹھرانا ہی اصل میں شرک ہے اور یہی حقیقت میں شرک ہے کہ جسے شرک اکبر بھی کہا جاتا ہے کہ کسی کو بھی اللہ پاک کے برابر مان لیا جائے لیکن یہاں طرفہ یہ ہے کہ ہمارے کارتوس بھائی باوجود اس کے کہ انھوں نے یہ واضح کردیا کہ ریاکاری کیا ہے؟ اور ریاکری ہی کو اصل میں شرک اصغر کہتے ہیں لیکن جب باری آئی ریاکاری یا شرک اصغر کی چند مثالیں نقل کرنے کی تو تماشہ یہ کیا کہ شرک اکبر جو کہ حقیقت میں شرک ہے اس کو شرک اصغر کی مثال میں نقل کردیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہی ہمارا اعتراض تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اب آتا ہوں محترم شاہ صاحب کے اس جواب کی طر ف جو کہ موصوف نے ہمارے اعتراض کے جواب میں وارد کیاہے اوپر میں شاہ صاحب کے الفاظ نقل کرچکا ہوں قارئین کی دلچسپی اور بات کی عمدہ طریقے سے وضاحت کے لیے ایک بار پھر نقل کرتا ہوں شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ ۔ ۔۔ ؟ اللہ آپ لوگوں کو ہدایت کرے، آمین
    درجہ ذیل عربی دینی ویب سائٹس سے دلائل ملاحظہ ہو:
    عربی تو اتنی پڑھی ہوگی آپ نے۔ اگر نہیں آتی تو پھر کسی سے ترجمہ کروادینا۔
    شاہ صاحب نے جواب دینے کی بجائے الٹا ہم پر پہلا الزام یہ عائد کیا کہ ہمیں اصل اعتراض حدیث پر ہے نہ کے کارتوس صاحب کی حدیث دانی پر اور وجہ موصوف کے نزدیک یہ ہے کہ ہم اس قسم کی احادیث یعنی جن میں شرک کی وضاحت ہو چھپاتے ہیں امت کے سامنے نہیں لاتے خیر یہ تو شاہ صاحب کا ایک بے بنیاد الزام ہے اس کا جواب دینا سردست مقصود نہیں ۔ ۔ ۔ ہر چند کے میں اس الزام کی تردید ٹھوس شواہد کے ساتھ اپنی اوپر والی عبارت میں کرچکا کہ ہمارا اصل اعتراض کیا ہے ۔ ۔۔ لیکن شاہ صاحب نے چونکہ ہمیں جواب دینے کی خاطر پہلے ہمارے اعتراض کو حدیث پر اعتراض سمجھا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ پھر ہمیں جو جوابات دیئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث کے حوالے سے نہیں ہے یعنی وہ تمام کی تمام عبارات جو کہ شاہ صاحب نے اپنی اس الزام تراشی کے بعد بطور ہمارے جواب کہ نقل کی ہیں یا جن کا حوالہ کوٹ کیا وہ تمام کی تمام انھی لوگوں کی وہی حدیث دانی ہے یا حدیث فہمی ہے کہ جس کی طرف ہم نے پہلے بھی اشارہ کردیا تھا اب شاہ صاحب کو چاہیے تو یہ تھا کہ اگر انھوں نے ہم پر یہ الزام یعنی ۔ ۔ ۔ ۔دراصل آپ کو تنقید کارتوس بھائی پر نہیں بلکہ حدیث پر ہے۔ کیوں کہ ایسی احادیث تو آپ لوگ عوام سے چھپاکررکھتے ہو ورنہ یہ تم لوگوں کی پولیں کھول دیتی ہیں۔

    آپ کو میں بے شمار روابط اور دلائل پیش کرسکتا ہوں جن کی روشنی میں یہ شرک اصغر ہے لیکن آپ لوگوں کو حدیث سے کیا واسطہ
    لگا ہی دیا تھا تو پھر انھے چاہیے تھا کہ اپنی بات کی وضاحت میں یعنی شرک اصغر کی وضاحت اور تعریف پر احادیث نقل فرماتے کیونکہ موصوف نے ہم پر یہ اعتراض فرمایا تھا کہ ہم حدیث کو چھپانے والے اور حدیث پر اعتراض کرنے والے ہیں لہذا اس کے جواب میں موصوف کو خود احدیث کے ہی زریعے ہمارے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دینا چاہیے تھا تاکہ لوگوں پر وہ یہ واضح کرسکتے کہ ہم نے جو اعتراض اہل حدیث حضرات کی حدیث فہمی پر کیا ہے وہ اعتراض اصل میں اہل حدیث پر نہیں بلکہ خود احادیث پر ہی ہے مگر افسوس کہ موصوف ایسا نہ کرسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ صاحب کو چاہیے تو یہ تھا کہ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں تو جو الفاظ انھوں نے نقل کیئے ہیں بالکل وہی الفاظ کسی حدیث سے بھی نقل کریں کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ یہ فلاں فلاں کام شرک اصغر کی مثالیں ہیں اور اگر انھون نے اہسا کسی حدیث کی حوالے سے نقل کردکھایا تو یہ تمام فورم گواہ ہے کہ میں سب کے سامنے آپ سب اہل حدیث لوگوں سے معافی مانگ لوں گا کہ مجھے ہی حدیث سمجھنے میں غلطی لگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وگرنہ شاہ صاحب نے جو جوابات نقل کیے ہیں وہ بجائے جواب ہونے کہ الٹا ہماری بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ لوگو آؤ دیکھو ہماری حدیث دانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 24, 2008
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بہت شکریہ محترم
    آبی ٹوکول
    اتنی تفصیل سے جواب دینے کا بہت شکریہ جناب:)
    بس برادر آپ تھوڑا صبر فرمائیں میرے امتحانات ہورہےہیں۔۔۔
    ویسے حدیث دانی میں تو شیخ الاسلام طاہر القادری صاحب بھی بڑے مشہور ہیں۔خیر
    امید ہے آپ کے ساتھ اچھا وقت گزرے گا۔
    والسلام
     
  11. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    وعلیکم السلام
    محترم توبہ کا وقت آگیا ہے شائد۔
    برادر!!!
    ہم لوگ الحمد للہ حدیث کو سمجھنے کیلئے اپنی عقل نہیں استعمال کرتے جیسے آپ نے کی ہے۔ میرے بھائی!!! ہم لوگ کہتے ہیں:
    اتباع قرآن وسنۃ علی فہم السلف۔
    سلف صالحین نے احادیث کو کیسے سمجھا ہمیں اسی طرح سمجھنا چاھیے۔
    اپنی طرف سے نئے نئے اصطلاحات متعارف کروانا (جیسے شیخ الاسلام صاحب کرتے ہیں) یہ ہمارا کام نہیں !!
    اچھا برادر میں ابھی فقہ حنفیہ کی معتبر کتاب عقیدہ طحاویہ کی شرح سے اگر یہی مفہوم ثابت کردوں تو کیا آپ توبہ نکال لیں گے۔ بہرکیف میرے پاس مقابلہ کیلئے وقت نہیں اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے۔
    محترم
    شرح عقیدہ طحاویہ کی عبارت کو ذرا ٹھنڈے دل سے پڑھیے اور پھر فیصلہ کریں کہ حدیث دانی میں آپ ہم پر ہنس رہے ہیں یا شاید الٹا اپنے اوپر۔۔۔۔ ؟؟

    تفسیر ابن کثیر میں سورہ البقرہ کی آیت 22 کی تفسیر میں امام ابن کثیر نے کئی احادیث پیش کی ہیں جو شرک کے خلاف دلیل پر مبنی ہیں۔
    ان میں سے ایک حدیث وہی مسند احمد کی ہے جو یوں ہے :
    اسی حدیث کی شرح میں ابن ماجہ اور مسند احمد سے ایک اور حدیث بروایت طفيل بن سخبرة (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوتیلے بھائی) امام محترم ابن کثیر نے بیان کی ہے جو کہ یوں ہے:
    طفيل بن سخبرة فرماتے ہیں : میں نے خواب میں چند یہودیوں کو دیکھا اور ان سے پوچھا تم کون ہو؟
    انہوں نے کہا : ہم یہود ہیں۔
    میں نے کہا : تم میں یہ بڑی خرابی ہے کہ تم حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہو۔
    انہوں نے کہا : تم بھی اچھے لوگ ہو لیکن افسوس تم کہتے ہو جو اللہ چاہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) چاہیں۔
    پھر میں نصرانیوں کی جماعت کے پاس گیا اور ان سے بھی اسی طرح پوچھا۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ میں نے ان سے کہا : افسوس تم بھی مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہو ، انہوں نے بھی یہی جواب دیا (یعنی : تم مسلمان بھی بڑے اچھے ہوتے اگر یہ نہ کہتے جو اللہ نے چاہا اور محمد نے چاہا)۔
    میں نے صبح اپنے اس خواب کا ذکر کچھ لوگوں سے کیا۔ پھر دربارِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ خواب بیان کیا۔
    آپ (ص) نے پوچھا : کیا کسی اور سے بھی تم نے اس کا ذکر کیا ہے؟
    میں نے کہا : ہاں
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا :
    «أما بعد فإن طفيلاً رأى رؤيا أخبر بها من أخبر منكم وإنكم قلتم كلمة كان يمنعني كذا وكذا أن أنهاكم عنها فلا تقولوا ما شاء الله وشاء محمد ولكن قولوا ما شاء الله وحده»
    طفیل نے ایک خواب دیکھا اور تم میں نے بعض کو بیان بھی کیا۔ میں چاہتا تھا کہ تمہیں اس کلمہ کے کہنے سے روک دوں لیکن فلاں فلاں کاموں کی وجہ سے میں اب تک نہ کہہ سکا۔ یاد رکھو :
    اب ہرگز "اللہ چاہے اور اس کا رسول چاہے" کبھی نہ کہنا بلکہ یوں کہو کہ "صرف اللہ تعالیٰ اکیلا جو چاہے"۔


    یہ تو تمام مسلمان جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین دعوتِ توحید میں سب سے پہلے "شرک (یعنی شرکِ اکبر)" سے دور رہنے کو کہا گیا تھا جیسا کہ صحیحین کی حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، جو تمہارا خالق ہے ، کسی کو شریک ٹھہرانا۔
    اب وضاحت طلب بات یہ ہے کہ : تفسیر ابن کثیر میں طفيل بن سخبرة کی روایت کردہ حدیث میں کس شرک کا بیان ہوا ہے؟
    شرک اکبر کا یا شرک اصغر کا؟
    اگر اس حدیث میں شرک اکبر کا بیان ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کہا کہ : میں چاہتا تھا کہ تمہیں اس کلمہ کے کہنے سے روک دوں لیکن فلاں فلاں کاموں کی وجہ سے میں اب تک نہ کہہ سکا۔
    حالانکہ شرک اکبر سے روکنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اولین فریضہ تھا چاہے آپ کتنے ہی کاموں میں مشغول رہے ہوں۔

    یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام محمد بن عبدلوہاب اپنی مشہور کتاب "کتاب التوحید" کے باب "قول: ما شاء الله وشئت" میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد باب کے فوائد کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ :
    ہمارے لئے تو محمد بن عبدالوہاب کی یہ تشریح یقیناً قابل قبول ہے۔
    ہاں جس کو اعتراض ہے وہ دلیل کے ساتھ اگر قائل کر دے کہ طفيل بن سخبرة کی روایت میں شرک اصغر مراد نہیں ہے تو اس کو ماننے میں ہمیں بھی یقیناً کوئی تامل نہیں ہوگا۔

    علاوہ ازیں محترم آبی ٹو کول کا یہ قول بھی وضاحت طلب ہے :
    قارئین انصاف سے فرمائیں کہ کیا آبی ٹو کول کا یہ قول بلا دلیل نہیں ہے؟
    کیا محترم آبی صاحب کوئی ایک ایسی حدیث پیش کر سکتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا فرمان درج ہو کہ :
    ریاکاری ہی کو اصل میں شرک اصغر کہتے ہیں

    جبکہ ہم کہتے ہیں کہ : ریاکاری بھی شرک اصغر ہے۔
    "ہی" اور "بھی" میں جو فرق ہوتا ہے وہ اہل علم بخوبی جانتے ہیں۔
    اور اگر "ریاکاری" ہی اصل میں شرک اصغر ہے تو پھر طفيل بن سخبرة کی روایت میں کون سے شرک کو بیان کیا گیا ہے؟

    تین عربی ویب سائیٹ کے حوالوں سے "شرک اصغر" کے متعلق جب علماء کی وضاحت و تشریح بیان کی جاتی ہے تو اس کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے کہ : یہ اہل حدیثوں کی حدیث دانی ہے ۔۔۔۔۔
    اور عجمی آبی ٹو کول صاحب گویا ان عربی علماء سے اس قدر عالم فاضل ہیں (اور بقول خود عربی سے ناواقف رہنے کے باوجود) کہ آپ کا ہر قول بلا دلیل آنکھ بند کر کے قبول کر لیا جائے؟؟

    یہ بھی ملاحظہ فرما لیا جائے کہ :
    عقیدہ پر احناف کی ایک مشہور کتاب " العقیدہ الطحاویہ" ہے جس کی کئی شروحات لکھی گئی ہیں۔ انہی شروحات میں‌ سے ایک شرح الشيخ الدكتور سفر الحوالی کی بھی تحریر کردہ ہے جس میں آپ واضح طور پر فرماتے ہیں :
    أما الشرك الأصغر فهو شرك الألفاظ، وندِّية الألفاظ كـ(الرجل الذي جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما شاء الله وشئت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أجعلتني لله نداً؟

    مزید دیکھئے کہ :
    آبی ٹو کول صاحب اس حدیث ''اجعلتنی ﷲ عدلاً بل ماشاء اﷲ وحدہ'' کو اقتباس کر کے فرماتے ہیں :
    حضرات !!
    یہ تو یہود کا طرۂ امتیاز ہے کہ بعض باتوں کو کھل کر بیان کرتے تھے اور بعض پر انگلی رکھ دیتے تھے۔
    آبی ٹو کول صاحب نے حدیث کے ایک ٹکڑے "اجعلتنی ﷲ عدلاً" کو تو بڑا بڑا کر کے پیش فرما دیا اور حدیث کے دوسرے ٹکڑے "بل ماشاء اﷲ وحدہ" کو صریحاً نظر انداز کر گئے بلکہ مسلسل نظر انداز کئے جا رہے ہیں ۔۔۔۔ کیا ہمیں بتایا جا سکتا ہے کہ : یہ حدیث دانی ہے یا خصلتِ یہود؟؟

    محترم اب کیا خیال ہے ؟
    اللہ کیلئے کچھ سوچیں اسی لئے تو کہتا ہوں ۔۔۔
    اللہ آپ کو توحید کی دولت سے مالامال کرے۔ آمین
     
  12. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 18, 2008
    پیغامات:
    158
    اسلام علیکم محترم شاہ صاحب ! امید کرتا ہوں مزاج گرامی قدر بخیریت ہوں گے ۔ رہی توبہ کے وقت کی بات تو محترم توبہ تو ہم جیسے گناھگاروں کو ہر وقت کرتے رہنا چاہیے اس کے لیے کسی وقت کے آنے کی کوئی قید تو نہیں ہے خیر بحرحال ۔ ۔ ۔ ۔ آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ۔ ۔ ۔ ۔


    محترم شاہ صاحب کیا ہوگیا ہے آپکو ؟ ہم نے آپ سے عرض یہ کی تھی کہ آپ نے جو ہم پر الزامات عائد کیے ہیں نمبر ایک یہ کہ ہم شرک کی مذمت والی احادیث کو چھپانے والے ہیں اور دوسرا یہ کہ ہماری تنقید اصل میں کارتوس صاحب پر نہیں بلکہ احادیث پرتنقید ہے تو ان الزامات کے جواب دیتے ہوئے ہم نے آپ سے عرض کیا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اعتراض حدیث پر ہے تو آپ کوئی ایک ایسی حدیث پیش کریں کہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ پاک کے ساتھ کسی کو بھی برابر ٹھرانے کو شرک اصغر کہا ہو ۔ اب آپ کو چاہیے تھا کہ آپ نے جو ہم پر الزام لگایا ہے اس کی دلیل کے طور پر بہت سی نہیں صرف ایک عدد ہی ایسی حدیث پیش کردیتے کہ جس سے آپ کے قائم کردہ مفھوم پر صراحت کے ساتھ نا سہی کم از کم اشارۃ تو دلالت قائم ہوجاتی مگر افسوس کہ آپ نے دعوے تو ببانگ دہل فرمائے مگر حاصل کچھ نہ آیا آپ دو چار تو کیا کوئی ایک بھی حدیث ایسی نہ پیش کرسکے کہ جس سے یہ ثابت ہوسکتا کہ شرک اصغر کی مثال میں جو الفاظ کارتوس صاحب نے نقل فرمائے ہیں وہ الفاظ حدیث ہی سے اخذ کردہ ہیں ۔ ہائے افسوس مجھے رہ رہ کر آپ لوگوں کی حدیث فہمی پر ترس آرہا ہے کہ جس مسئلہ پر احادیث طلب کی جائیں اس پر تو ایک بھی حدیث نقل نہ فرماسکیں اس کے برعکس جو موضوع زیر گفتگو ہی نہیں اس پر احادیث کی احادیث نقل کرتے چلے جارہے ہیں اور اس پر طُرفہ یہ کہ ان احادیث کو اپنی دانست میں شرک اصغر کی تعبیر میں حمل فرمارہے ہیں ۔ سبحان اللہ ماشاء اللہ ۔ ۔ ۔ محترم جو حدیث آپ نے نقل فرمائی اس میں تو صرف شرک کا بیان ہے نا کہ شرک اصغر کا اور آپ نے اس کو شرک اصغر پر محمول کرنے کی جو وجہ بیان کی ہے ایک تو معاذاللہ وہ نہایت ہی سنگین ہے کہ اس میں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام ہے نعوذباللہ من ذالک (اسے ہم آگے چل کر واضح کریں گے)اور دوسرے وہ آپ کی قیاس کردہ ہے نا کہ حدیث کا بیان ہے تعجب ہے کہ آپ نے ابھی اوپر ہمیں یہ طعنہ دیا ہے کہ ہم احادیث کو اپنی عقل سے سمجھتے ہیں اور یہاں آپ جناب خود عقل سے ہی کام لیکر (حالانکہ یہ محض آپکی عقل ناقص کا کمال ہے کہ آپ ایسا قیاس فرمارہے ہیں )ایک ایسی حدیث جو کہ صرف شرک کی تفھیم میں واضح ہے کے مفھوم کو شرک اصغر پر محمول فرمارہے ہیں جبکہ حدیث میں ایسا کوئی ذکر ہی نہیں حدیث میں تو صرف ان الفاظ کی ادائگی پر ممانعت آئی ہے کہ جن کو سن کر شرک کا شبہ پڑھ سکتا ہے ۔ اور چونکہ شرک نام ہے عقیدے کا عقیدہ عقد سے نکلا ہے کہ جس کے لغوی معنٰی گرہ ہا مضبوط گانٹھ کے ہوتے ہیں اور عرف عام میں کسی بھی شخص کے ذہن میں کسی بھی ذات یا شئے کے بارے وہ مضبوط نظریہ یا تصور جو کہ اس کے دل ودماغ میں گھر کر چکا ہو اور اسے یعنی اس شخص کو آسانی سے اس نظریہ سے ہٹایا نہ جاسکے عقیدہ کہلاتا ہے اور عقیدہ ایک انسان کی باطنی کیفیت کا نام ہے جب تک کوئی بھی انسان اس کی وضاحت خود نہ کردے کسی دوسرے کو اس پر اطلاع ہرگز نہیں ہوسکتی لہذا ثابت یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان صحابی کو منع فرمایا تو وہ حقیقت میں اس وجہ سے منع نہیں فرمایا تھا کہ اس سے پہلے تک تو وہ صحابی بقول آپ کے شرک یا شرک اصغر جیسے جرم کے مرتکب ہوتے رہے تھے بلکہ اس لیے فرمایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ میری تعلیمات پر عمل پیراء میرے یہ صحابہ یقینا شرک جیسی لعنت سے محفوظ ہیں چاہے وہ شرک اکبر کی شکل میں ہو یا شرک اصغر کی شکل میں لیکن چونکہ ان الفاظ کا ظاہر پرانگندہ ذہنوں کو اس طرف موڑ سکتا ہے کہ جس طرف زمانہ جاہلیت کے یہودو نصارٰی نے اشارہ کیا (چناچہ آج کل کے نام نہاد توحید پرستوں کی پرانگندہ ذہنی اور پست خیالی آپ سب لوگوں کے سامنے ہی ہے کہ نام نہاد توحید پرست بات بات پر مسلمانوں پر اسی قسم کے فتوے صادر کرتے ہیں جیسا کہ یہود و نصارٰی نے اس وقت کیے تھے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست نے آج کے دور کے نام نہاد موحدیں کی علمی موشگافیوں کو بھی اللہ پاک فضل سے جان لیا تھا )چناچہ آپ نے اپنے پیارے صحابہ کو کہ جن کی تربیت کا ایک ایک گوشہ آپ ہی کی نبوت کی چھاؤں میں تکمیل پارہا تھا ایسے الفاظ سے منع فرمایا کہ جن سے بظاہر شرک کا شائبہ گذرے اور بیمار ذہن پرانگندہ خیال ہوں (جیسے یھود کے اس وقت ہوئے تھے) وگرنہ صرف اللہ پاک کی زات کے ساتھ کسی بھی غیراللہ کے محض ارادے کو ملا دینے ہی کا نام تو شرک نہیں بلکہ اللہ پاک کی زات کے ساتھ اور صفات کے ساتھ غیراللہ کی جس جس بھی صفت کو اعتقادی طورپر اور حقیقتا برابر ٹھرادیا جائے گا تو وہ شرک ہی ٹھرے گی محض الفاظ کے ظاہر پر اگر شرک کا حکم لگا دیا جائے تو کون ایسا مسلمان ہے کہ جو یہ نہیں جانتا کہ صحابہ بات بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ ۔ یہاں بھی تو جاننے کی صفت کے ساتھ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپس میں ساتھ ملایا گیا ہے اور اس کے علاوہ ہم قرآن پاک کئی آیات کا بھی حوالہ نقل کرسکتے ہیں کہ جن میں خود اللہ پاک نے اپنی نعمت کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نعمت اور اپنے فضل کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے بلکہ اپنی نعمت کو رسول کی نعمت اور اپنے فضل کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فضل گردانا ہے ۔آیات کا ترجمہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔
    سورة الاحزاب میں ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔

    ترجمہ :- اللہ نے اسے نعمت بخشی اور اے نبی تونے اسے نعمت بخشی ۔

    اسی طرح سورہ توبہ میں ارشاد خداوندی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔

    ترجمہ:- انہیں کیا برا لگا؟ یہی نا کہ انہیں دولت مند کردیا اللہ اور اللہ کے رسول نے اپنے فضل سے
    ۔
    اسلامی ذہن رکھنے والے سنجیدہ فکر کے حامی افراد اگراوپر والی آیات کا بغور جائزہ لیں تو انھیں یہ احساس بخوبی ہوگا کہ ہر آیت قرآن و سنت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں پر کس طرح برق بن کر گر رہی ہے اور جن کا خود ساختہ اعتقاد اور ضد یہ ہے کہ کسی کو کچھ دینے کی یعنی عطا کرنے کی صفت اللہ پاک نے اپنے فضل سے کسی نبی اور رسول کو نہیں دی ۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنی خیر منائیں اور خود ساختہ عقائد کے تارعنکبو ت سے باہر آئیں اور آخرت کی فکر کرتے ہوئے تعصب کی عینک کو اتار پھینکیں اور محبوبان خدا کے بغض اور کینے سے اپنے سینے کو پاک کرلیں اور پھر دیکھیں مذکورہ بالا آیات میں اللہ پاک نے کس شان سے اپنے پیارے حبیب کو بھی دولت عطاکرنے والا اور نعمت بخشنے کے وصف سے مزین فرمایا اللہ پاک فرماتا ہے۔
    بے شک اللہ کا بڑا احسان ہو ایمان والوں پر جب بھیجا ان میں ایک رسول انھیں میں سے کہ پڑھتا ہے ان پر آیات اللہ کی اور پاک کرتا ہے انھیں گناھوں سے اور علم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کا اگرچہ تھے اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں ۔۔۔ العمران ۱۶۳
    شرک کے بخار میں آلود و گرفتار

    زہن زرا سوچیں تو سہی کہ انکی بولی قرآن سے کہاں مطابقت رکھتی ہے اور انکا اعتقاد قرٓان سے کہاں موافقت رکھتاہے؟ گناہوں سے پاک کرنا صفت ربانی ہے اور کسی کو علم عطا کرنا بھی قدرت خدا وندی مگر اس نے اپنے فضل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ اختیار عطا فرمادیا کہ وہ قرآن کی آیات پڑھ پڑھ کر لوگوں کو گناھوں سے پاک کرتے ہیں اور علم عطا فرماتے ہیں ۔ اتنے ہی پر رب کی نوازشیں نہیں تھم رہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے کیسے کیسے اختیارات کا قرآن اعلان کر رہا ہے ۔
    قرآن کہتا ہے حضرت عیسیٰ کی زبانی کہ ۔ ۔ ۔ ۔
    ۔میں بناتا ہوں تمہارے لیے مٹی سے پرند کی سی مورت پھر پھونکتا ہوں اس میں تو وہ ہوجاتی پرند اللہ کی پروانگی سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور بدن بگڑے کو اور زندہ کرتا ہوں مردے اللہ کے ازن سے اور میں تمہیں خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو گھروں میں بچا کر آتے ہو تاکہ میں حلال کردوں تم پر باز چیزیں وہ جو تم پر حرام تھیں
    ۔
    سبحان اللہ حضرت عیسٰی جو کچھ فرمارہے ہیں کہ میں خلق کرتا ہوں ، شفا دیتا ہوں مردے جلاتا ہوں،بعض حرام کو حلال کرتا ہوں تم جو کھاتے ہو اور جو گھروں میں بچاتے ہو اسکی خبر دیتا ہوں ۔ اس کی نسبت شرک کے غم میں مبتلا زہن کیا جواب دیں گے؟
    اے مسلمانو پڑھو قرآن اور بار بار پڑھو جن کے ایمان کو شرک کے دیمک نے چاٹ کر برباد کر کے نہ رکھ دیا ہوگا وہ ضرور ان آیات کو پڑھ کر اہلسنت کی حقانیت پر ایمان لے آئے گا اور قرآن کے ان فرمودات عالیہ پر دل وجان سے نچھاور ہوگا۔ دیکھو دیکھو قرآن کس قدر وضاحت سے اہل اسلام کے اس عقیدے پر اپنی مہر تائید ثبت کررہا ہے کہ بلاشبہ رب قدیر نے اپنے انبیاء علیھم السلام کو وہ اختیارات عطا فرمائیں کہ جن کا اظہار خود اللہ پاک اپنے لیے قرآن میں فرماتا ہے ۔اب بتایا جائے کہ اہل سنت کے اس اعتقاد کو ٹھکرا کر قرآن کی حقانیت پر کیسے ایمان لایا جاسکتا ہے؟ کوئی گھر میں کیا کھا رہا ہے اور کیا بچا رہا ہے ؟ غیب کا یہ علم اللہ پاک نے اپنے فضل سے حضرت عیسٰی کو دیا یا نہیں؟اللہ پاک نے مٹی سے پرندہ بنانے کی صلاحیت اور پھر ان میں پھونک مار کر زندہ کرنے کی طاقت اور پھر مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کرنے کی قوت اور مردوں کو زندگی بخشنے کی خوبی کیا یہ سب طاقتیں حضرت عیسٰی کو عطا فرمائیں یا نہیں؟
    قرآن کہتا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    بے شک اللہ اپنے نبی کا مددگار ہے اور جبرائیل اور نیک مسلمان اور اسکے بعد سب فرشتے مدد پر ہیں ۔التحریم۴

    میں پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ کی مدد کے بعد کسی اور مددگار کی ضرورت تھی جو اللہ نے یہاں انکا تذکرہ کیا؟
    پھر قرآن فرماتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔
    اے مسلمانو تمہارا مددگار نہیں مگر اللہ اوراس کا رسول اور وہ ایمان والے جو نماز قائم رکھنے والے زکوة دینے والے اور رکوع کرنے والے ہیں

    یہاں اللہ نے اپنی مدد کے ساتھ ساتھ رسول اور اولیاء وصلحا کی مدد کا بھی بیان فرمایا ہے ۔
    اور وہابی حضرات بس یہ آیت پڑھ پڑھ کر کہ ۔ ۔ ۔ ۔
    اللہ کے سوا کوئی مدد گار نہیں ۔کہف ۱۸ ،۲۶
    قرآن کی آیات کا معاذاللہ تضاد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور صرف ایک قسم کی آیات پر یہود و نصاری کی طرح ایمان لاتے ہیں ۔ جبکہ اہلسنت ماشاللہ دونوں قسم کی آیات پر ایمان لاتے ہیں
    بات بہت دور نکل گئی عرض یہ کر رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان صحابی کو ان الفاظ سے منع فرمانا صرف اور صرف الفاظ کے ظاہر سے پرانگندہ ذہنوں کی پست خیالی کی وجہ سے تھا وگرنہ میرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس الزام سے محفوظ اور پاک ہے جو کہ شاہ صاحب نے اپنی بیمار ذہنی سے حدیث کی فہمی کے نام پر میرے رسول میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد کیا ہے اور وہ الزام شاہ صاحب ہی کی زبانی کچھ یوں ہے ۔ ۔ ۔ ۔
    موصوف نے اپنی دانست میں حدیث کو شرک اصغر کے بیان پر محمول جانتے ہوئےدلیل کے طور پر جو نکتہ آفرینی فرمائی ہے وہ درج ذیل ہے ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ۔ اب وضاحت طلب بات یہ ہے کہ : تفسیر ابن کثیر میں طفيل بن سخبرة کی روایت کردہ حدیث میں کس شرک کا بیان ہوا ہے؟
    شرک اکبر کا یا شرک اصغر کا؟
    اگر اس حدیث میں شرک اکبر کا بیان ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کہا کہ : میں چاہتا تھا کہ تمہیں اس کلمہ کے کہنے سے روک دوں لیکن فلاں فلاں کاموں کی وجہ سے میں اب تک نہ کہہ سکا۔
    حالانکہ شرک اکبر سے روکنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اولین فریضہ تھا چاہے آپ کتنے ہی کاموں میں مشغول رہے ہوں۔

    معاذاللہ ثم معاذاللہ موصوف یہاں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صرف شرک اکبر سے روکنا ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض اولین اور لازمی فریضہ تھا کیونکہ موصوف کی دانست میں صرف
    شرک اکبر ہی ایک ایسا جرم ہے کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فی الفور منع فرمادیتے تھے اس کے برعکس بعض دوسرے منکرات چونکہ چھوٹی قسم کے گناہوں سے تعلق رکھتے تھے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گناہوں کے کاموں کو اپنے سامنے ہوتا دیکھتے رہتے (معاذاللہ) اور جب کوئی مناسب موقع دیکھتے تو پھر منع فرمادیتے اور موصوف نے اپنی اس دانست اور فکر کو شرک اصغر کی بنیاد بنایا ہے
    چونکہ موصوف کے نزدیک شرک اکبر بڑا جرم ہے اور اس کے علاوہ جو بھی منکرات ہیں وہ چھوٹے جرائم میں آتے ہیں لہذا اس قسم کی چھوٹی منکرات(یعنی شرک اصغر) اکثر آپ کے سامنے وقوع پذیر ہوتی رہتیں آپ ان کو روکنا اپنا فرض اولین نہیں سمجھتے تھے بلکہ دوسرے کاموں میں مشغولیت اس قسم کے منکرات (یعنی شرک اصغر)کو روکنے میں ایک عرصہ تک عار بنی رہیں ۔اور موصوف کے نزدیک چونکہ شرک اصغر ایک چھوٹا جرم ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیخ کنی کے لیے زیادہ توجہ نہیں دی بلکہ کچھ عرصہ تک تو یہ چھوٹا جرم یعنی شرک اصغر صحابہ میں روا رکھا لیکن جب یہودیوں نے اپنی بیمار ذہنی کی وجہ سے صحابہ کو طعنہ دیا تو پھر رسول کریں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرک اصغر سے بھی صحابہ کو منع فرمادیا ۔ ۔ ۔ٌلاحوال والا قوۃ الا باللہ ۔ ۔ ۔
    اب اس حدیث دانی پر بندہ انا للہ وانا علیہ راجعون نا پڑھے تو اور کیا کرئے کوئی مجھے بتائے کہ اب میں کیا کروں اوہ خدا کے بندو تم حدیث میں اپنا فہم دکھاتے ہوئے یہ بھی بھول گئے کہ کیا کہہ رہے ہو اور کس کی شان میں کہہ رہے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ الفاظ ہیں تمہارے کہ جو کہ معصوم ہے اور ہر قسم کے گناھوں سے پاک ہے تو کیا کچھ عرصہ شرک اصغر جیسے گناہ پر راضی رہنا خود ایک گناہ نہیں ؟
    جو تم نے اس قبیح گناہ کے فعل پر میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عرصہ تک راضی جانا ۔ ۔ ۔
    قارئین کرام آپ پر واضح ہوگیا ہوگا کہ کس طرح یہ لوگ حدیث کے ساتھ مذاق کرکے پوری امت کو گمراہ کرتے ہیں اور خود بھی گمراہیوں کی اتھاہ گہرایوں میں گرتے چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قرآن و سنے کا صحیح فھم عطا فرمائے ۔ آمین ۔

    جی محترم شاہ صاحب اگر آپ نے دوسرے غیر مقلدین کی طرح اندھی تقلید نہ کرتے ہوئے محترم جناب کارتوس خان صاحب کی اولین پوسٹ کو بغور پڑھا ہوتا تو آپ ہم سے یہ سوال نہ کرتے ۔ ۔چلیئے خیر ہم آپکی منزل پر آپکو پہنچائے دیتے ہیں ۔ ۔ درج زیل الفاظ کارتوس خاں کی پہلی پوسٹ کے وہ الفاظ ہیں کہ جن میں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ریاکاری کو شرک اصغر قرار دیا ہے ہم آپکی سہولت کے لیے ان الفاط کو بولڈ اور نیلے رنگ کے ساتھ نمایاں کرکے لکھتے ہیں ۔ ۔ ۔
    آپ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:
    اخواف ما أخافٍ علیکم الشرک الأصغر۔
    میں تم پر شرک اصغرسے بہت خوف کرتا ہوں (مسند احمد ٥/٤٢٨، سنن ابی داؤد جلد ٤ /٢١٢)

    نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نےفرمایا کہ وہ ریاکاری ہے اور ریاکاری اخلاص کے منافی ہے
    ۔
    امید ہے اب آپ پر واضح ہوگیا ہوگا اور اگر نہیں ہوا تو محترم کارتوس خان سے یہ مطالبہ کیجیئے کہ وہ آپ کو حدیث کا حوالہ بھی ذکر کردیں
    بیشک میں دین کا ایک ادنٰی سا طالب علم ہوں اور میری بات کسی بھی صورت میں دین میں کوئی حجت نہیں اور نا ہی میرا علم آپ کے بیان کردہ عربی علماء کے علم کے برابر ہے ۔ رہی عربی علماء کی عبارات پر ایمان لانے کی بات تو اس ضمن اتنا عرض ہے کہ شاہ صاحب اب یہ معاملہ ہمارے اور آپکے درمیان مختلف فیہ ہے اس لیے خدارا اس میں اپنی بات کی صداقت کی گواہی اپنے گھر سے تو نا دیجیئے بلکہ اول اپنے اہل حدیث ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے خود حدیث ہی سے دیجیئے اور پھر اگر بات نا بن سکے تو ہماری طرف کے کسی مستند عالم کی بات اپنی دلیل کے طور پر پیش فرمایئے ۔



    میرے محترم اول تو عرض یہ ہے کہ میں نے حدیث کے کسی بھی ٹکڑے کو نظر انداز نہیں کیا یہ محض آپ کی خام خیالی ہے اور خلط مبحث کی ایک ناکام کوشش ہے ۔ رہی آپ کی یہ بات کہ میں نے حدیث کے بعض الفاظ کو بعض کے مقابلے میں کیوں بڑا کیا یا حدیث کے ایک حصے ہی پر کیوں زور دیا جبکہ دوسرے حصے پر کچھ نہیں کہا تو عرض ہے میرے محترم یا تو آپ بھولے ہیں یا پھر بھولے بننے کی کوشش کررہے ہیں آپ کا یہ اعتراض اس صورت میں درست ہوتا کہ ہمارے بولڈ کردہ الفاظ کی وضاحت ان الفاظ کے زریعے ہورہی ہوتی کہ جن کو بقول آپکے ہم نے نظر انداز کیا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا ہے ہی نہیں کیونکہ ہم نے جن الفاظ کو بڑ اکیا ہے وہ خود اپنے مفھوم میں واضح ہیں اور اپنی وضاحت میں حدیث کے کسی دوسرے فقرے کے محتاج نہیں یعنی جو مفھوم ہم ان الفاظ سے پیش کر رہے ہیں اس مفھوم میں وہ الفاظ صراحت کے ساتھ واضح ہیں اور حدیث کے کسی بھی دوسرے حصے کی وضاحت کے متقاضی نہیں ہیں اس لیئے ہمارا حدیث کے ان الفاظ کو نظر انداز کرنا یا نا کرنا ایک برابر ہے لیکن قارئین سوچیں گے کہ ہم نے صرف اجعلتنی ﷲ عدلاً یعنی تونے مجھے اللہ پاک کے برابر کردیا کہ الفاظ کہ الفاظ کو ہی کیوں بڑا کیا تو صاف اور سیدھی وجہ ہے کہ ان الفاظ سے شرک اکبر نمایاں ہورہا ہے جبکہ کارتوس خان نے ان الفاظ کو شرک اصغر کی تعریف میں نقل کیا ہے بس یہی ہمارا ان سے اختلاف تھا نہ کہ اصل شرک کیا ہے وغیرہ وغیرہ لہذا ہم نے صرف وہی الفاظ بولڈ کیے کہ جن سے ہمارا مدعا ثابت ہورہا تھا سیکنڈ یہ کہ آپ نے جو دوسرے الفاط ( بل ماشاء اﷲ وحدہ یعنی جیسا صرف اللہ پاک چاہے )کو بولڈ فرمایا ہے تو اس سے آپ کیا ثابت کر پائے ہیں یا آپ نے کونسا تیر مار لیا ہے؟ اگر ہم بھی آپکی طرح دوسرے الفاظ بولڈ کردیتے ہیں تو ان کو بولڈ کردینے سے بھی ہمارا اعتراض جوں کا توں اپنی جگہ قائم رہتا ہے ۔ حالانکہ ان دوسرے الفاظ کو بولڈ کرنا محض عبث اور قارئین کے ذہنوں پر بوجھ کے سوا اور کچھ نہیں ۔ ۔
    فاعتبروا یا اولی البصار
     
  13. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    اسلام علیکم

    آپ نے لکھا

    شرک کہ اصطلاحی معنٰی :-
    اصطلاح شریعت میں اللہ پاک کی زات اور صفات دونوں میں کسی کو بھی اللہ کے برابر جان لینا یا مان لینا شرک کہلاتا ہے اور یہی اصل میں شرک ہے کہ جیسا اللہ ہے ویسا کیسی اور کو ماننا اور غیر اللہ کو اللہ پاک کے برابر ٹھرا دینا ۔ ۔ ۔ ۔
    ۔ اور دلیل ہماری قرآن پاک کی یہ آیت ہے کہ ۔ ۔ ۔ ثم الذین کفروا بربھم یعدلون ۔ ۔ ۔المائدہ 1
    ترجمہ :- پھر وہ کافر لوگ(اپنے معبودان باطلہ کو)اپنے رب کے برابر ٹھراتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

    اللہ کی عبادت میی غیر کو شریک کرن ے کے تعلق سے بھی کچھ وضاحت کریں؟

    شکریہ ۔

    ابو عبداللہ
     
  14. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    جی عابی بھائی۔۔۔ کیسے ہیں بھئی ماشاء اللہ۔۔۔ ماننا پڑے گا کہ علم کے میدان میں جو اٹھے آپ مار رہے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔۔۔ لیکن پتہ نہیں‌ کیوں مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آپ حواس رکھتے ہوئے بھی بدحواسی کا مظاہرہ نادانستہ طور پر کر رہے ہیں یا دانستہ طور پر یہ تو اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔۔۔ المہمم۔۔۔

    ہمارے ایک بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔ اُنہوں نے ایک واقعہ سنایا لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ اگر میں یہ کسی دوسرے کو سناؤں تو اُن کے نام کو صیغہ راز میں رکھوں۔۔۔ واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ پہلے یہ دونوں اشخاص بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے۔۔۔ لیکن نفسا نفسی اور سبقت لے جانے کی خواہش نے دونوں دوستوں میں آپسی رنجشیں پیدا کردیں۔۔۔ اور رنجیشیں اس قدر بڑھ گئیں کے وہ ایک دوسرے کے احترام سے بھی جانے لگے۔۔۔ ایسے میں محترم (ع) کے پڑوسی نے اس بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک شوشہ چھوڑ دیا کہ چھوڑیں محترم (ک) کو یہ خبر سنائی کے آپ کے ہل دلعزیز دوست جو کسی زمانے میں ہوا کرتے تھے کہ ہاں لڑکے کی ولادت ہوئی ہے۔۔۔

    اب ظاہر ہے رنجشوں نے اپنا کام تو دکھانا ہی تھا تو ایسے میں ان کے دوست محترم (ک) نے بغض وعناد اور خواہش پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو فقروں کے جواب سے محفل کو لاجواب کردیا کہ کیا اب ہجروں کے ہاں بھی اولادیں ہونے لگیں۔۔۔ تو اس سارے واقعے سے ہمیں‌کیا سبق لینا چاہئے ؟؟؟۔۔۔
    سوال یہ ہے۔۔۔

    کھلتے ہیں عقد غنچہ کس آہستگی کے ساتھ
    ہوتے ہیں کیا عروسِ چمن سے صبا کے ناز


    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں