ماہ رجب کے حوالے سے پیش کی جانے والی یہ روایات ضعیف ، جھوٹی اور باطل ہے :

محمد عامر یونس نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏مئی 2, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    ٭ کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار :

    کشتی نوح میں رجب کے روزے کی بہار" رجب بہت عظمت والا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ اس ماہ نیکیاں دگنی کردیتا ہے، جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا گو یا اس نے ایک سال کے روزے رکھے اور جس نے سات روزے رکھے تو دوزخ کے ساتوں دروازے اس پر بند کردئیے جائیں گے اور اگر کسی نے آٹھ روزے رکھے تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے اور جو دس روزے رکھے لے تو اللہ عزوجل سے جس چیز کو مانگے وہ اسے عطا کرے گا اور جو پندرہ روزے رکھے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے تمہارے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اب اپنے اعمال دوبارہ شروع کرو اور جو اس سے بھی زائد روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ اس پر مزید کرم فرمائے گا اور ماہ رجب ہی میں اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو کشتی میں سوار کروایا تو نوح علیہ السلام نے خود بھی روزہ رکھا اور اپنے ہم نشینوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔"

    (کفن کی واپسی: ص ۷ بحوالہ شعب الایمان ج ۳ ص ۳۶۸ حدیث ۳۸۰۱) موضوع (من گھڑت):

    یہ روایت جھوٹی اور باطل ہے، کیونکہ؛

    ۱: اس میں ایک راوی عثمان بن مطر جو کہ اس روایت کے لیے آفت ہے۔

    ٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر امت کا اجماع ہے۔" (تبیین العجب: ۹۷)

    ٭امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے "منکر الحدیث" کہا ہے۔ (تاریخ کبیر: ۲۵۳/۶) مزید دیکھئے: (تھذیب الکمال: ۱۳۸/۵، تاریخ بغداد: ۲۷۸/۱۱، الضعفاء و المتروکین: ۴۰۷)

    ۲: اس طرح اس کا دوسرا راوی عبد الغفور "کذاب" ہے۔

    ٭اس پر امام ابن حبان، علامہ یثمی، امام یحییٰ بن معین ، امام ابن عدی رحمہم اللہ نے جروح کی ہیں۔ (دیکھئے: ۴۹۵/۲، الکامل: ۳۲۹/۱)

    ۳: جبکہ اس کا ایک راوی عبد العزیز بن سعید"مجہول" ہے۔

    http://zaeefhadees.blogspot.com/2015/04/Rajab-k-Rozoon-ki-Fazilat.html
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 3, 2015
  2. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    ستائیس رجب کے روزہ اور رات کی شب بیداری کا ثواب :

    ٭في رجب يوم وليلة من صام ذلك اليوم وقام تلك الليلة، كان كمن صام من الدهر مائة سنة، وقام مائة سنة، وهو لثلاث بقين من رجب، وفيه بعث الله محمداً صلى الله عليه وسلم

    ’’ رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن روزہ رکھے اور رات کو قیام (عبادت)کرے تو گویا اس نے سو سال کے روزے رکھے اور یہ رجب کی ستائیس تاریخ ہے ۔ اسی دن محمد صلی اللہ تعالی علیہ و اٰلہ وسلم کو اللہ عز وجل نے مبعوث فرمایا۔‘‘

    (کفن کی واپسی : ص۹، بحوالہ شعب الإیمان للبیہقي: ۳۸۱۱)

    ***********************************

    ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ ؛

    ٭ اس کا راوی ہیاج اور اس کا بیٹا خالد "ضعیف " ہے۔


    تفصیل کیلئے دیکھئے:

    تہذیب الکمال (۴۳۷/۷)، تاریخ کبیر (۱۲۴/۸)، الجرح والتعدیل(۱۳۸/۹)، میزان الاعتدال (۲۴۰/۴)، لسان المیزان(۲۶۲/۹)، تاریخ بغداد (۸۰/۱۴)،تقریب التہذیب (۳۳۱/۲)،تبیین العجب (۱۱۷۔ ۱۱۸)

     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 3, 2015
  3. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901


    ٭ جنتی نہر کا نام رجب :

    حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    إن في الجنة نهرا يقال له : رجب ، ماؤه أشد بياضا من اللبن ، وأحلى من العسل ، من صام من رجب يوما واحدا ، سقاه الله من ذلك النهر .

    "جنت میں ایک نہر ہے جس کا نام رجب ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جو ماہِ رجب میں ایک روزہ رکھے اللہ عزوجل اسے اس نہر سے سیراب فرمائے گا۔"

    (کفن کی واپسی ، ص ۵ بحوالہ شعب الایمان ج ۳ ص ۳۶۷ حدیث ۳۸۰۰)

    ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے ،کیونکہ ؛

    ٭ اس روایت کی سند میں دو راوی مجہول ہیں، ایک منصور بن زید اور دوسرا موسی بن عمران مجہول ہیں۔

    ٭بعض محققین نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھئے (الآثار الموضوعة: ۵۹، سلسلة الضعیفة: ۱۸۹۸، المتناهیة: ۹۱۲/۲)

    ٭ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لا یصح و فیه مجاھیل لا ندری من ھم .
    یہ روایت صحیح نہیں اس میں کئی مجہول راوی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں؟ (العلل المتناهیة : ۹۱۲)

    ٭حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے بعض طرق کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے ضعیف ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ (تبیین العجب: ۸۰)

    http://zaeefhadees.blogspot.com/2015/04/Jannat-ki-Neher-Rajab.html
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 3, 2015
  4. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901

    ٭ پانچ بابرکت راتیں :

    خَمْسُ لَيَالٍ لا تُرَدُّ فِيهِنَّ الدَّعْوَةُ : أَوَلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، وَلَيْلَةُ الْجُمُعَةِ ، وَلَيْلَةُ الْفِطْرِ ، وَلَيْلَةُ النَّحْرِ .

    "پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جس میں دعا رد نہیں کی جاتی؛ ۱: رجب کی پہلی رات، ۲:پندرہ شعبان، ۳: جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ، ۴: عید الفطر کی رات، ۵:عید الاضحیٰ کی رات۔"

    (کفن کی واپسی :ص ۶ بحوالہ تاریخ دمشق لابن عساکر: ج۱۰ص ۴۰۸)

    موضوع (من گھڑت): یہ روایت من گھڑت ہے، کیونکہ؛

    ۱: اس کا راوی ابو سعید بندار بن عمر الرویاني "کذاب " ہے، جیسا کہ؛

    ٭تاریخ دمشق میں ابن عساکر نے یہ قول نقل کیا ہے: " لا تسمع منه ، فإنه كذاب." (یعنی عبد العزیز النخشبی کہتے ہیں کہ) بندار سے روایت نہ سنو یہ جھوٹا ہے۔

    ۲: اس روایت کا راوی ابو قعنب بھی مجہول ہے۔

    ۳: جبکہ اس کے ایک اورراوی عبد القدوس کے حالات بھی نہیں ملے۔

     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 3, 2015
  5. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
    ٭ ماہِ رجب کے ابتداء کی دعا :

    جب ماہ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ دعا فرماتے :

    اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.

    "اے اللہ! ہمارے لیے رجب و شعبان میں برکت فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔"

    (شعب الإیمان: ۳۸۱۵)

    ضعیف جدًا(سخت ضعیف): یہ روایت سخت ضعیف ہے۔

    ۱: اس کا راوی زائدہ بن أبی الرقاد "منکر الحدیث" ہے۔ (تهذيب التهذيب:۳۰۵/۳۔ ۳۰۶)

    ٭امام بخاری نے زائدہ کو "منکر الحدیث" کہا ہے۔ (التاریخ الکبیر: ج ۳ ص۴۳۳ح۱۴۴۵ )

    ۲: جب کہ زیاد النمیری "ضعیف" ہے۔ (ميزان الاعتدال:۹۱/۲)

    ٭ جمہور محدثین کرام نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (مجمع الزوائد: ۳۸۸/۱۰)

    ٭علامہ نووی (الأذکار: ص ۱۸۹) ، ابن رجب (لطائف المعارف: ۱۲۱) اور علامہ البانی (ضعیف الجامع : ۴۳۹۵) نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ رحمہم اللہ

     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 3, 2015
  6. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901

    ٭ ماہِ رجب کے روزوں کی فضیلت :


    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

    صَوْمُ أَوَّلِ يَوْمٍ في رجب كفارة ثلاث سِنِينَ وَالثَّانِي كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ وَالثَّالِثُ كَفَّارَةُ سنةٍ ثُمَّ كُلُّ يومٍ شَهْرٍ.

    "رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے ،اور دوسرے دن کا روزہ دوسالوں کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کفارہ ہے ،پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔"

    (فضائل شھر رجب للخلال: ۱۰)


    ضعیف: یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ؛

    ٭فضائل شھر رجب میں اس روایت کی سند کچھ یوں درج ہے:

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطلالاينوسِيُّ أَبُو بَكْرٍ الصَّيْدَلانِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ الْمُقْرِئُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلانِيُّ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانٍ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِي اللَّه عَنْهُمَا

    ٭ اس سند کے روات محمد بن عبد اللہ، أبو جعفر محمد بن أبی سلیم، محمد بن بشر اور ابو عبد اللہ العسقلانی "مجہول" ہیں۔

    لہٰذا جس روایت میں کئی ایک راوی مجہول ہوں ایسی روایت قابل عمل کیسے ہوسکتی ہے؟

     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 3, 2015
  7. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,398
    مفید شیئرنگ کیلئے شکریہ
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,213
    پھر وہی غیر ضروری گرافکس کا استمعال ۔ ۔۔۔ کوشش کریں صرف یونی کوڈ میں ہی مضامین شیئر کریں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. Abu Turab

    Abu Turab رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 2, 2015
    پیغامات:
    21
    حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ماہ رجب کی بدعات اور اس طرح باقی بدعات کے متعلق محدیثین نے روایات کو الگ طور پر موضوعات کی شکل میں پیش کیا ۔ موضوع یعنی من گھڑت روایات ۔ دنیا کا وہ جاہل مزھب ہی ہے جو موضوعات کو حجت مانتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں