عجیب قیدی

ام محمد نے 'گپ شپ' میں ‏مئی 23, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    یہ جن قیدیوں کی بات ہے ہر لحاظ سے ہی عجیب ہیں .ذرا ملاحظہ ہو
    1: یہ قید نہ صرف انکی منتخب کردہ ہے بلکہ اس قید پر وہ خوش وشادمان بهی ہیں.
    2:یہ قیدی کسی چار دیواری میں قیدبهی نہیں آپ کویہ گهر میں ، بازار میں ،ہوٹلوں میں ، گاڑی میں ، ہاسپٹلز میں،باغات میں ،مالز میں ......وغیرہ میں گهومتے نظر آئیں گے .
    3: یہ قید ان کے لیے نہیں بلکہ کبهی دوسروں کے لیے اذیت کا باعث بهی بن جاتی ہے.ان کی مثال حاضر سے دور اور غیر حاضر سے قریب کی ہے.
    کیا ایسے میں ان کو وقت ملتا ہو گا کہ ارد گرد پهیلی ہوئی اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور فکر کریں.
    یقین کریں اس وقت یہ بات واقعی تکلیف دہ کہ مریض کے پاس بیٹهے ہوئے اس کی دل جوئی اور تیمارداری اور اس کی بیماری سے سبق لیتے ہوئے اپنے لیے اللہ کی پناه طلب کرنے کی بجائے اسی قید میں مصروف ہوں.
    اس کے جہاں اور بہت سے دنیاوی اور اخروی نقصانات ہیں وہاں یہ کہ اس قید نے رشتہ داریوں اور تعلقات میں دراڑیں ڈالی ہیں ایکدوسرے کے لیے بہت سی بهلائیوں سے دور ہوں گے ہیں .
    اور بہت بڑے جرم وقت کے ضیاع کے مرتکب ہو رہے ہیں .
    اللہ سب کو ہدایت دے آمین
    سوچیں کہیں ہم تو اس قید میں گرفتار نہیں.
    اور اس قید کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 10
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    فون اور نیٹ کے قیدی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    جی بالکل ٹهیک
    ذرا اس بارے کچه کہیے بهی مجهے تو یہ مسلہ بڑا سیریس لگتا ہےانمول زندگی کے کتنے لمحات فضولیات کی نذر ہو جاتے ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,064
    جزاک اللہ خیر ا۔ نفس کے قیدی ۔۔
    بہت سے لوگ اس قید میں گرفتار ہوتے ہیں ۔ ان قیدیوں کی مثال سب سے عجیب ہے ۔ اس کا اہم سبب ضمیرکا بلکل مردہ ہو جانا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    واقعی ضروری کاموں کے دوران فون اور نیٹ کو محدود کر دینا چاہیے۔لیکن ہر انسان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ مثلا جس کی ترجیح نماز ہے وہ نماز کو توجہ دے گا فون کو نہیں۔خیر کچھ کام جو وقت بچانے کو کر سکتے ہیں:
    دن بھر کے کاموں سے فارغ ہو کر کوئی تفریح کا وقت رکھ لیں جس میں سوشل میڈیا سے لطف اٹھائیں۔
    نماز،کھانے کے وقت، خاندان کے ساتھ وقت گزارتے وقت ٹی وی ،فون اور نیٹ کو دور رکھنا چاہیے۔
    اگر کوئی اور فون میں مصروف ہے تو بعض اوقات سطح کے نیچے بھی دیکھنا چاہیے جہاں سارا منظر مختلف ہوسکتا ہے۔ اسی فون کے اندر مصحف، ڈکشنری، کتاب، ای بک، آڈیو بک جیسی چیز ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے جو مریض کے پاس بیٹھا فون دیکھ رہا ہو وہ عیادت کی دعا ڈھونڈ کر پڑھ رہا ہو۔جس کے کانوں میں ہیڈ فون ہو وہ ایک آڈیو بک سن رہا ہو۔
    میرے خیال میں ہماری قوم کا سارا مسئلہ کم تعلیم اور اسی کی وجہ سے شعور کی کمی ہے، جو نئی ایجادات کا اچھا استعمال جانتے ہیں وہ کم ہیں اور ان کا برا استعمال کرنے والے مثال بن جاتے ہیں، باقی کی قوم جس کے پاس وہ سہولت نہیں ہوتی وہ شک کر کر کے اپنا خون جلاتی رہتی ہے، اتنی دیر میں دنیا کوئی نئی چیز ایجاد کر لیتی ہے تب تک ہمیں پچھلی ایجاد کی افادیت پتہ چل جاتی ہے۔
    ہر دور کی پرانی نسل کا ایک مسئلہ تنگ نظری ہے، اب والے بزرگوں کو بھی باتوں کو گہرائی میں جا کر دیکھنے کی بجائے نیٹ اور فون ہر بڑائی کی جڑ لگتا ہے، حالاں کہ ان دونوں پر اچھے کام ہو رہے ہیں لیکن بہت سے خضر صورت بزرگ ایسے ہیں جو اپنے بچوں پر نہ تو اعتماد کرتے ہیں نہ ان کے مشغلوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، نہ ان کا ساتھ دیتے ہیں نتیجہ یہ کہ بدگمانی کے گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ان کےاچھے کاموں کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، یہان تک کہ بہتان اور تہمت تک بھی چلے جاتے ہیں اور گھٹن پھیلاتے ہیں۔آپ اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں ان کو وقت دیں، نئی ایجادات کو سمجھیں، بچوں کی سرگرمیوں کو سمجھیں۔ پھر اگر وہ کچھ غلط کر رہے ہوں تو ضرور ان کی اصلاح کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    رشتہ داری اور تعلقات والی بات کے متعلق کچھ کڑوی باتیں کہوں گی، جب ہم لوگ ارد گرد کے لوگوں کو نظرانداز کر کےکہیں اور بہت زیادہ مصروف رہنے لگتے ہیں اس کامطلب ہوتا ہے کہ ہمارا ان لوگوں سے تعلق کمزور ہو چکا ہے۔ میرا تجربہ یہی ہے کہ جو تعلق کمزور ہو چکے ہوں ان کو زور زبردستی سے مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ سبب کئی ہو سکتے ہیں مثلا:
    -مفاد یا دکھاوے کے رشتوں میں اخلاص پیدا نہیں کیا جا سکتا
    -حاسد،کینہ پرور، ظالم رشتہ داروں سے وہ دوست بہتر ہوتے ہیں جن سے آپ کا رشتہ اللہ کی خاطرہو
    - ذہنی سطح کا نہ ملنا
    - جنریشن گیپ
    - اور مکافات عمل
    میرے خیال میں مشین رشتہ داریوں کو ختم نہیں کر سکتی، انسانی رویے کرتے ہیں۔
    ہو سکتا ہے آج جو بچے اپنے بڑوں کو نظر انداز کر رہے ہوں انہوں نے اپنے بڑوں کی سرد مہری، ظلم سہہ کر بچپن گزارا ہو ہو؟
    آج جو ایک مریض کو توجہ نہ دے رہا ہو وہ ماضی کا ایسا مریض ہو جسے بے بسی میں چھوڑ کر سب اپنے کاموں میں مگن رہے؟
    بزرگوں کی جو نسل آج نیٹ اور فون کو کوستی نظر آتی ہے ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی اولاد کی بات سننے کی بجائے ٹی وی کی سجی بنی نیوز کاسٹر کی دید کے زیادہ مشتاق ہوتے تھے۔تو اب وقت انہیں وہی لوٹا رہا ہے شکوہ کیسا؟
    علم نفسیات کے مطابق سردمہری اور بے حسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی جڑیں کہیں اور جاتی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  7. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,123
    جزاک اللہ خیرا سسٹر واقعی بعض باتیں ہمارے ہی کیے کا ردعمل ہوتی ہیں .ضرورت اس امر کی ہے نئی نسل پر ہی الزام نہ لگائیں اپنی کوتاہیوں پر بهی نظر رکهیں .اور سب چاہے وہ بزرگ ہوں یا جوان کسی کے عمل کےبدلے میں اپنے عمل کو خراب نہ کریں یہی عقل مندی ہے.
    مجهے ایک ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ اللہ تعالی نے عبادات کے لیے بهی وقت مقرر رکها یہ نہیں کہا کہ ہر وقت سجدہ ہی میں پڑے رہو یا روزے یا دوسری عبادات میں .
    اصل میں خرابی تب ہوتی ہے جب ہم اعتدال سے ہٹتے ہیں اور ہر عادت کا حسن اس کے اعتدال میں ہے .وہی بات کہ نہ کوئی نئی ایجاد بری اور نہ ٹیکنالوجی اصل چیز یہ کہ ہم اس کا استعمال کیسے کرتے ہیں .
    اور بچوں سے تو لگتا ہے کہ دوستی اور دشمنی کی بنیاد یہ کہ کتنا ان کو نیٹ کے لیے ٹائم دیا اور کتنا نہ دیا حالانکہ یہ پابندی بهی اپنے لیے نہیں بلکہ اکثر والدین بچوں کی پڑهائی کے لیے اور ان کی صحت کے پیش نظر ہی لگاتے ہیں.
    ٹهیک کہا ماں باپ بهی کئی دفعہ بچوں کے لیے اچهی مثال نہیں بنتے جو ہم خود کرتے ہیں اس سے ہم دوسروں کوبهی نہیں روک سکتے چاہے وہ ہمارے بچے ہی ہوں .
    اللہ کرے ہم زندگی کی قدر جانیں جو وقت ہمیں آخرت کی تیاری کے لیے ملا ہے اس کو سب کاموں کے ساته آخرت کی تیاری کے لیے ہی لگائیں.اللہ تعالی ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے .آمین یا رب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • متفق متفق x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    [/QUOTE]
    درست کہا آپ نے، صرف فون اور نیٹ نہیں ٹی وی پر بھی کچھ چیک ہونا چاہیے۔ بچوں کو مصروف اس طرح کرنا چاہیے کہ وہ ان چیزوں کو مناسب وقت ہی دیں۔ ہمارے والدین نے پتہ نہیں کیا گھول کر پلایا تھا کہ آج بھی فون پر لمبی بات نہیں ہوتی اور پڑھائی کا وقت کبھی ٹی وی، نیٹ کو نہیں دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    آج ڈاکٹر عاصم بن عبداللہ القریوتی حفظہ اللہ کی پوسٹ دیکھ کر یہ تحریر یاد آ گئی۔
    کہتے ہیں کہ میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو اپنے دوست کے ساتھ بذریعہ فون قرآن دہرا رہا تھا۔ اگر ٹیکنالوجی کو اللہ اطاعت میں استعمال کیا جائے تو یہ استعمال کتنا اچھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    371
    زیادتی ہر چیز کی نقصان دہ ہوتی ہے
    اعتدال میں ہی زندگی کا حسن ہے

    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں