٭ پندرہ شعبان کی رات دعا رد نہیں ہوتی : موضوع (من گھڑت)

محمد عامر یونس نے 'ماہِ شعبان المعظم' میں ‏مئی 25, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس منتظر

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2014
    پیغامات:
    901

    پندرہ شعبان کی رات دعا رد نہیں ہوتی :

    سیدنا ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    خَمْسُ لَيَالٍ لا تُرَدُّ فِيهِنَّ الدَّعْوَةُ : أَوَلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، وَلَيْلَةُ الْجُمُعَةِ ، وَلَيْلَةُ الْفِطْرِ ، وَلَيْلَةُ النَّحْرِ .

    ” پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جس میں دعا رد نہیں کی جاتی؛ ۱: رجب کی پہلی رات، ۲:پندرہ شعبان، ۳: جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ، ۴: عید الفطر کی رات، ۵:عید الاضحیٰ کی رات۔۔“

    (تاریخ دمشق لابن عساکر: ج۱۰ص ۴۰۸))


    موضوع (من گھڑت): یہ روایت من گھڑت ہے، کیونکہ ؛

    ۱: اس کا راوی ابو سعید بندار بن عمر الرویاني "کذاب " ہے، جیسا کہ؛
    ٭تاریخ دمشق میں ابن عساکر نے یہ قول نقل کیا ہے: " لا تسمع منه ، فإنه كذاب." (یعنی عبد العزیز النخشبی کہتے ہیں کہ) بندار سے روایت نہ سنو یہ جھوٹا ہے۔

    ۲:اس کا راوی ابراہیم بن ابی یحییٰ اگر "الاسلمی" ہے تو جمہور کے نزدیک "ضعیف و متروک" ہے۔

    ۳: اس روایت کا راوی ابو قعنب بھی مجہول ہے۔

    ۴: نیز ابو قعنب کا سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سماع بھی مطلوب ہے۔

    ۵: اس روایت میں اور بھی علت ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں