دور حاضر اور خوارج ...کچھ مغالطے -

محمّد علی جواد نے 'فتنہ خوارج وتكفير' میں ‏مئی 27, 2015 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    السلام و علیکم رحمت الله-

    آج کے اس پرفتن دورمیں "خوارج " کی اصطلاح بڑی عام ہوتی جا رہی ہے اور اس کا نشانہ عموماً جہادی تنظیمیں بن رہی ہیں - اگرچہ اسں جہادی تنظیموں میں بھی جہاد سے متعلق عیاضتحادی غلطیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس کی بنا پر گروہوں دور قدیم کے خوارج گروہ سے مناسبت دینا سراسر زیادتی ہے - اصل صورتحال یہ ہے کہ سیکولر طبقے اپنے آقاؤں کے حکم پر ہر صورت جہاد بالسیف کو کالعدم قرار دینے پر تلے ہوے ہیں- اس لئے وہ جہاد کو نا جائز قرار دینے کے لئے کسی جہادی گروہ کے لئے کوئی بھی اصطلاح استمعال کرنے سے دریغ نہیں کرتے -احادیث نبوی میں چونکہ خوارج گروہ کی واضح نشانیاں بیان کی گئیں ہیں جس سے ان کے فسق و فجور انتہائی نمایاں ہوتا ہے اور بعض احادیث نبوی کی رو سے اس گروہ کو قتل کرنا باعث ثواب ہے- اس لئے سیکولر طبقے ان جہادیوں کے لئے "خوارج" اصطلاح بھی اسی بنیاد پر استمعال کرتے ہیں تا کہ نوجوانوں میں جہاد سے نفرت پیدا ہو -اور اب تو اکثر دینی طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ علماء جو "علماء حق" کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں- وہ بھی اس مغالطے کا شکار ہیں کہ دور حاضر کی اکثر جہادی تنظیمیں اپنی باطل نظریات کی بنا پر خوارج گروہ میں ہی شامل ہیں- بالفرض اگر کسی گروہ میں خوارج والی خصوصیات ہیں بھی تو اس بنا پر پورے گروہ کو "خوارج" قرار دینا کہاں کی عقلمندی ہے -دور قدیم میں جہمیہ، معتزلہ، قدریہ ،جبریہ، مرجیہ ، کرامیہ ، اور ان جیسے بے شمار گمراہ فرقے موجود تھے اوران صفات کے لوگ آج بھی موجود ہیں لیکن کسی گروہ کو متعین کرکے انھیں جہمیہ، معتزلہ، قدریہ ،جبریہ، مرجیہ ، کرامیہ نہیں کہا جاتا - لیکن خوارج کی اصطلاح کے لئے ان سیکولر طبقے نے جہادیوں پر اس کا لیبل لگانے کی کامیاب سازش کی ہے- حقیقت یہ ہے کہ باطل فرقوں کی چند ایک صفات سے آپ پورے گروہ کو اس سے متصف نہیں کرسکتے جب تک کہ مجموعی طور پراس گروہ میں وہ خصوصیات ثابت نہ ہو جائیں جو دور قدیم کے باطل گروہوں میں موجود تھیں- جب کہ خوارج سے متعلق اگر احادیث نبوی کو غورو تدبرسے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی "خوارج" تھے - جو حضرت علی رضی الله عنہ کے دورخلافت میں فتنہ بن کر اٹھے اورقرآن کی غلط تفسیر کرتے ہوے حضرت علی رضی الله عنہ اورحضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ پر کفر کا فتویٰ جڑ دیا-

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ کہ دور قدیم کے خوارجی حکومت وقت کو کافر کہنے پر خوارج قرار پاے تھے اور اس بنا پر اگر آجکل بھی کوئی نام نہاد مسلم حکومت یا حاکم وقت کو کافر کہتا ہے تو وہ خوارج گروہ سے ہی تعلق رکھتا ہے- جیسا کہ آج کل کی جہادی تنظیموں کا وطیرہ ہے کہ وہ جمہوری نظام حکومت کو کافر قرار دینے پر تلے ہوے ہیں- پہلی بات تو یہ ہے دور قدیم کے خوارجییوں نے صحابہ کرام رضوان الله اجمعین جیسی عظیم المرتبت شخصیات پرکفرکا فتویٰ لگایا تھا صرف جو بذات خود کفربواح ہے اور ایک ممسلمان کو اسلام سے خارج کردیتا ہے -اکثر اہل سنّت کے علماء کرام بڑی بے جگری سے جہادی تنظیموں پر خوارج ہونے کا الزام دھرتے ہیں لیکن افسوس کہ وہ اسی بے جگری سے اہل تشیع پر کفر فتویٰ لگانے سے گریز کرتے ہیں؟؟جب کہ ہرکوئی جانتا ہے کہ اہل تشیع ہزاروں صحابہ کرام پر کفر کا فتویٰ لگانے والے ہیں تو وہ تو بدرجہ اولیٰ کافر و خارجی ثابت ہوتے ہیں -لیکن ابھی تک اہل سنّت کے علماء میں اہل تشیع کے کفر پراس طرح اجماع نہیں ہوا جیسا کہ قادیانوں کے کفر پرہوا ہے؟؟ -ایسا کیوں ؟؟

    دوسری بنات یہ کہ دور قدیم کے خوارجیوں نے اگر حکومت وقت پر بھی کفر کا الزام عائد کیا تھا تو بہرحال وہ صریحاً غلط تھا- کیوں کہ ایک تو وہ خلفاء کا سنہری دور تھا جس کی خود آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم نے پیشنگوئی کی تھی (پس تم پر لازم ہے کہ تم میری سنت اور خلفائے راشدین میں جو ہدایت یافتہ ہیں کی سنت کو پکڑے رہو اور اسے نواجذ سے محفوظ پکڑ کر رکھو اور دین میں نئے امور نکالنے سے بچتے رہو کیونکہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر ١٢١٩،) - اور خلفاء راشدین کی سنّت پاسداری اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ جب ہم اسلامی ممالک میں نظام خلافت کا نظام ہر صورت رائج کرنے کے لئے کوشاں ہوں- کیوں کہ نظام خلافت ہی عین قرآن و سنّت کے احکامات کے مطابق ہے - چاہے کسی دور میں اس نظام کو سنبھالنے والے فاسق و فاجر ہو کیوں نہ ہوں- جب کہ دوسری طرف مروجہ جمہوری نظام ہو یا آمریت ہو جو کہ طاغوت کے ایجاد کردہ نظام حکومت ہیں-چاہے اس نظام کو سنبھالنے والے نیک لوگ ہی کیوں نہ ہوں- اس کے باوجود ان کی حیثیت کفر و بدعت کی ہے -اگر کچھ نظام ان میں کفربواح ہیں تو کچھ بدعت ہیں -کیوں کہ نظام حکمرانی بھی دین میں شامل ہے اسی لئے دین اسلام کو قرآن میں الله نے صرف دین نہیں بلکہ "الدین القیم" کہا ہے-اور اسلام کے علاوہ الله رب العزت کو کوئی اور دین قبول نہیں- لہذا اگر کوئی ان طاغوتی نظام حکومت کے علمبرداروں پر کفر کا فتویٰ جڑتا ہے تو وہ غلط نہیں - کیوں کہ کفر کا ساتھ دینے والے بھی کافر ہوتے ہیں - جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے -

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ سوره المائدہ ٥١
    اے ایمان والو یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ- وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ ان میں سے ہی ہے
    (یعنی انہی کی طرح کافر ہے) الله ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا-

    (ابھی مضمون جاری ہے اس لئے ممبرز سے درخواست ہے کہ اپنی آراء پیش کرنے کے لئے تھوڑا انتظار کریں- شکریہ)
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    گزشتہ سے پیوستہ -

    ‬‫ایک ‬‫شخص‬‫ توحید ‬‫کا اقرار کرتا ‫ہے‬ ‫مگر‬‫ساتھ‬‫ ہی ‬‫طاغوت ‬‫کی‬‫عبادت‬‫ بھی ‬‫کرتا ‬‫ہے‬‫اس ‬‫کی ‬‫مدد‬‫ ‬‫کرتا ہے اورغیر‫اﷲ کو‬‫ قانون ‬‫ساز‬‫تسلیم ‬‫کرتا ‬‫ہے ‬‫اور‬‫اس ‬‫بات ‬‫کا ‬‫اظہار‬‫بھی ‬‫کرتا ‬‫ہے ‬‫تو‬‫رسول ‬الله صل اللہ علیہ و آ لہ وسلم ‫کے‬‫ زمانے‬‫میں ‬‫اگر‬‫یہ‬‫ ہوتا ‬‫تو‬‫ آپ اس کی ‬‫نماز‬‫ کو ‬‫کبھی ‬‫بھی ‬‫قبول ‬‫نہ ‬‫کرتے- نبی کریم صل اللہ علیہ و آ لہ وسلم کے دور کے مشرک بھی الله رب العزت کی ذات و صفات کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ دور حاضرکے نام نہاد مسلمانوں سے الله کی صفات کو زیادہ جاننے والے تھے - قرآن میں الله رب العزت کا ارشاد ہے کہ :

    قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ سوره یونس ٣١
    کہو تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے اور مردہ کو زندہ سے کون نکلتا ہے اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے سو (یہ کافر) کہیں گے کہ اللہ ہی کرتا ہے- تو کہہ دو کہ پھراس (اللہ) سے ڈرتے کیوں نہیں؟؟

    اس کے باوجود اس دورکے لوگ صرف اس بنا پر کافر قرار پاے کیوں کہ وہ اپنے طاغوتوں کے انکاری نہیں تھے- مسلمان ہونے کے لئے محض الله کی صفات اور اس کے احکمات کا اثبات کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اسی طرح زبان و دل سے طاغوت کا انکار بھی لازم ہے- ورنہ ہم مسلمانوں اور دور قدیم کے کافر و مشرکوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا-

    اس تناظرمیں دیکھا جائے تو ہمارے حکمران دور نبوی کے کافروں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں- توحید کے اقراری ہونے کے باوجود اپنے طاغوتوں کے انکاری بھی نہیں ہیں- تو اس بنا ان کے کفرکی تصدیق کرنے والوں پر خوارج کا الزام کیوں ؟؟ یہ نام نہاد مسلم ممالک کے حکمران ان قرانی آیت کے مصادق ہیں:

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ- لَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِنْ لَا يَشْعُرُونَ -وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِنْ لَا يَعْلَمُونَ-وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ-اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ-أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ سوره البقرہ ١١-١٦
    اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں- خبردار بے شک وہی لوگ فسادی ہیں لیکن نہیں سمجھتے-اور جب انہیں کہا جاتا ہے ایمان لاؤ جس طرح اور لوگ (صحابہ کرام) ایمان لائے ہی-ں تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح بے وقوف ایمان لائے ہیں- خبردار وہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے-اور جب ایمانداروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم توتمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف استہزاء کرنے والے ہیں-الله ان سے استہزاء کرتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی میں حیران رہیں- یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی سو ان کی تجارت نے نفع نہ دیا اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے-

    کفریہ کام کرنے والا بہرحال کافر ہی کہلاتا ہے چاہے وہ اس کو حرام ہی کیوں نہ سمجھتا ہو-اور چاہے وہ عام انسان ہو یا حاکم وقت ہو- جیسے شعائراسلام کا مذاق اڑانے والا اگر اس فعل کو حرام بھی سمجھے تب بھی وہ کافر ہوجائے گا -ارشاد باری تعالیٰ ہے-

    وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ-لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۚ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ سوره توبه ٦٥-٦٦
    اوراگر تم ان سے دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم یونہی بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے- کہہ دو کیا الله سے اوراس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم ہنسی کرتے تھے- بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہو- اگر بالفرض ہم تم میں سے بعض کو معاف کر دیں گے تو بعض کو عذاب بھی دیں گے کیوں کہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں-

    ان آیات سے واضح ہے کہ انسان ایمان لانے کے بعد اپنے کسی بھی عمل کی بنا پر کافر ہوسکتا ہے جس کی دلیل قرآن و احادیث نبوی میں موجود ہو- اسں آیات سے ان لوگوں کی بھی صاف تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ بس ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوگئے ہیں لہذا ہم مسلمان ہیں ہم پر کفر کا فتویٰ مت لگاؤ- جب کہ مسلمان ہونے کی شروط میں سے اہم شرط یہ ہے کہ انسان باعمل ہو - اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ ہر شخص کو بلا تحقیق کافر قراردے دیا جائے - کفر کے فتویٰ لگانے کے مجاز علماء حق ہی ہیں- لیکن اس کے باوجود اس امر پربھی کوئی غور نہیں کرتا کہ جن کے ہاتھ میں دین اسلام کی باگ ڈور ہے یعنی علماء کرام، وہ خود فرقہ واریت مبتلا ہیں جو کہ بذات خود ایک کفر کا کام ہے- کوئی شیعہ ہے تو کوئی سنی ہے- کوئی دیوبندی ہے تو کوئی بریلوی تو کوئی اہل حدیث ہے تو کوئی حنفی، شافعی یا پھر حنبلی ہے- کیا اسلام عقائد کی بنا پر دین کو ٹکڑے کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟؟ الله رب العزت کا تو قرآن میں واضح فرمان ہے کہ:

    إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ سوره الانعام ١٥٩
    جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کئی جماعتیں بن گئے- (اے نبی مکرم) آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ان کا کام الله ہی کے حوالے ہے پھر وہی انہیں بتلائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے-

    دور حاضر کے تناظرمیں دیکھا جائے تو یہی علماء کرام جو متعین لوگوں یا جماعتوں پر کفرکا فتویٰ لگانے کے مجازہیں خود داخلی طور پر شدید فرقہ واریت کا شکار نظر آتے ہیں اور اپنے باہمی عقائد میں ایک دوسرے کے مسلک کے خلاف انتہائی پرتشدد واقع ہوے ہیں اور ایک دوسرے پر ہی کفر کے فتوے عائد کرنے میں تعامل نہیں کرتے- لیکن جب کسی جہادی تنظیم پر خوارج کا فتویٰ لگانے کی باری آتی ہے تو ان کا باہمی اتفاق دیکھنے لائق ہوتا ہے- شاید اس کی وجہ یہی ہی کہ یہ سب جمہوریت زدہ حکومتی سرپرستی کے زیر اثرہو رہا ہے کیوں کہ حکومت کو اپنے آقاؤں سے ڈالر کھرے کرنے ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب ان آقاوں کی دیرینہ خواہش کے مطابق دنیا سے جہاد کو کالعدم قرار دیا جا سکے-اورجمہوریت کے بالمقابل خلافت کے قیام کی کوششوں پر پانی پھیرا جا سکے- اور ظاہر ہے علماء کرام کے خوارجی فتووں (جو کہ حقیقی طور پرغیرمنطقی فتوے ہیں) کے زیر اثران آقاؤں کی دیرینہ خواہش کو حکومت علماء گٹھ جوڑ کے بغیر پورا کرنا ممکن نہیں-

    (ابھی مضمون جاری ہے اس لئے ممبرز سے درخواست ہے کہ اپنی آراء پیش کرنے کے لئے تھوڑا انتظار کریں- شکریہ)
     
  4. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    کشمیر، فلسطین، برما، افغانستان اور عراق و شام کہ مقامی مجاہدین کو کوئی خارجی نہیں کہتا کیونکہ وہ کفار سے پرسرِپیکار ہیں جبکہ ٹی ٹی پی، القائدہ اور داعش کہ جنگجو یقینا خوارج ہیں کیونکہ انہیں مظلوم مسلمان نظر نہیں آتے بلکہ ظالم ’’طاغوتی‘‘ مسلمان ہی نظر آتے ہیں اور ان کی طرف سے کفار کو امان حاصل ہے مگر ان طاغوتی حکومت و عوام کو کوئی معافی نہیں۔
    ایسے کون کون سے علما ہیں جو ان کو خارجی نہیں کہتے؟ ذرا ان کی فہرست بھی مہیا کیجئے اور اگر کسی عالم کو اپنے ہمراہ نہ پائے تو یہی بات ان کہ خوارج ہونے کہ لئے کافی ہو گی کیونکہ دورِ قدیم کہ خورج میں بھی کوئی صحابیِ رسول ﷺ نہیں تھا۔تکفیرِ معین کہ نہ سلف قائل تھے اور نہ ہم ہیں اس لئے کسی شیعہ فرد کی یا پورے شیعہ گروہ کی تکفیر کہ ہم قائل نہیں مگر کفریہ عقائد کی نشان دہی سلف سے لے کر اب تک سب علاما نے کی ہے لہذا وہ عقائد کا حامل جو کوئی بھی ہو کافر ہی ہو گا چاہے خود کو شیعہ کہے یا مسلمان۔۔۔۔
    اس شخص سے آپ کی مراد کون ہے؟ شیخ عبدالعزیز بن بازؒ؟ سعودی حکمران؟ تمام سعودی علما؟ پاکستانی علما و حکومت؟ عراق و شام کہ وہ مسلمان جو داعش کا ساتھ نہیں دے رہے؟ یا کشمیر، فلسطین اور برما کہ ظالم طاغوتی مسلمان؟ اگر میں نے کسی اور لکھنا بھول گیا ہوں تو آپ بتا دیجئے۔۔۔ مگر اس شخص کےبارے میں بتائیے گاضرور۔۔۔
    طاغوت کی آپ کیا تعریف کرتے ہیں؟کیا توحید ربوبیت، الوہیت اور اسماوصفات کہ علاوہ توحید کی یہ چوتھی قسم (توحیدِ طاغوتیت یا جو بھی اس کا نام ہے) سلف کہ ہاں بھی رائج تھی؟
    یہاں آپ نے خود ہی علما کی عظمت کا اقرار کر لیا ہے۔
    توحید کی چوتھی قسم کی بنیاد پر اپنی الگ جماعت بنا کر معصوم لوگوں کہ قتلِ عام کرنے والوں نے کیا دین کہ ٹکڑے نہیں کئے؟
    باہمی بحث و مناظرے کی تاریخ تو 14 سو سال پرانی ہے مگر اپنے مخالفین کا کسی نے بھی قتلِ عام نہیں کیا۔ شیعہ سلف کہ دور میں بھی موجود تھے مگر کسی نے انہیں ان کہ شیعہ ہونے کی بنا پر قتل نہیں کیا۔ یہ روایت خوارج کی ہے وہ اپنے تمام مخالفین کو گمراہ سمجھتے ہیں اور ان کا قتل جائز قرار دیتے ہیں جیسے کہ آج کہ خوارج بھی اسی سفر پر گامزن ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    [QUOTE="اس تناظرمیں دیکھا جائے تو ہمارے حکمران دور نبوی کے کافروں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں- توحید کے اقراری ہونے کے باوجود اپنے طاغوتوں کے انکاری بھی نہیں ہیں- تو اس بنا ان کے کفرکی تصدیق کرنے والوں پر خوارج کا الزام کیوں ؟؟[/QUOTE]
    یعنی امریکہ و روس اور ان کہ کافر حواریوں کو چھوڑ کر پہلے سعودی، پاکستانی اور افغانی طالبان حکمران و فوج کہ خلاف جہاد کرنا چاہیے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اسلام کوکسی فرقے سے جوڑدینااندھیرے میں دیکھنے والی آنکھ کورکھنے کے مترادف ہے
     
  7. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    محترم فہد صاحب -

    میرا یہ مضمون ابھی جاری ہے جو مصروفیت کی بنا پر تھوڑا لیٹ ہوگیا ہے- لیکن پھر بھی میں نے ممبرز سے درخواست کی تھی کہ اپنی آراء مضمون کے اختتام پر پیش کریں تو بہتر ہوگا - لیکن لگتا ہے آپ کو ہماری ان نام نہاد مسلم حکومتوں کی طرح مختلف تنظیموں پر بغیرتحقیق کے خوارجی ہونے کا فتویٰ لگانے کی بڑی جلدی ہے- اچھے برے لوگ تو ہرجہادی تنظیم میں ہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ متعین کرکے ان پر اپنی من معنی فتویٰ بازی شروع کردیں- یہی میرے اس مضمون کا اصل منشاء ہے-

    جزاک الله ھوا خیراً -
     
  8. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    جواد بھائی میں نے آپ کہ مضمون پورا ہونے کا ایک دن انتظار کیاتھا پھر مجھے یہی محسوس ہوا کہ آپ نے اپنا مضمون مکمل کر لیا ہے۔
    آپ تمام امت کو کافر و طاغوت کہ پوجاری قرار دے دیں تو کوئی بات نہیں ہم آپ سے اختلاف کرنے کی جرات کریں تو فتویٰ بازی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ یہاں بات اچھے برے لوگوں کی نہیں ہو رہی بلکہ بری سوچ اور نظریہ کی ہو رہی ہے۔ خارجیت ایک سوچ ہے جو ہر دور میں اسلام کو نقصان پہچانے کہ لئے جنم لیتی ہے۔ یہ نظریہ آپ کی نا م نہاد جہادی جماعتوں کا ہے۔ جنہوں نے جہاد کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    محمد علی جواد صاحب مضمون مکمل ہونے کے انتظارمیں ہیں ـ وقت دیجئے گا ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    گزشتہ سے پیوستہ -

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اﷲ کی شریعت کو پس پشت ڈال کر مخلوق کی شریعت کو قانون عام کا درجہ دینے والے یہ حکمران کفر کے مرتکب کہلانے سے صرف ایک صورت میں بچ سکتے ہیں یا بچائے جا سکتے ہیں اور وہ یہ کہ ’ارجاء‘ کے عقیدے کو امت میں عام کر دیا جائے، جبکہ وہ پہلے ہی بہت عام ہے اور اﷲ کے دشمنوں کا اب تک برسر اقتدار رہنا اسی کا مرہون منت ہے۔اور اس کی ترویج میں ہمارے نام نہاد علماء کا ایک بڑا حصّہ ہے- کیوں کہ اکثر علماء اور ان کے مدارس حکومت وقت کی تنخواہ اور اس کے اخراجات کے مرہون منّت ہیں- اس لئے یہ علماء اس کے زیر اثر ہونے کے ’ارجاءی فتویٰ صادر کرتے ہیں جن کی رو سے حکمران یا کو بھی آدمی عملاً شرک کرتے رہنے سے مشرک نہیں ہوتا صرف اسکا اعتقاد رکھنے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک کلمہ گو شرک اور کفر کا خواہ کوئی کام کرے بس دل میں اسکو صحیح نہ سمجھے اور زبان سے اس کو حلال کہنے کی حماقت نہ کرے تو وہ مسلمان اور موحد ہی گنا جائے گا- یعنی کفر اور شرک کے افعال بھی عام گناہوں کی طرح ایک گناہ ہیں اور محض انکے عملی ارتکاب سے کوئی شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا- جیسے مروجہ جمہوریت کا نفاذ نہ حکومت وقت کے لئے کفر و شرک ہے اور نہ ان علماء وقت کے لئے اس کی ترویج و نفاذ کوئی بڑا گناہ ہے -

    کہتے ہیں کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے اور اسی لئے ’ارجاء سوچ اور نظریہ نے ہمارے اس نام نہاد مسلم معاشرے میں اتنا زور پکڑا کہ وہ مسلمان جو دین اسلام کو ایک خالص دین کی حیثیت سے دنیا میں غالب دیکھنا چاہتے تھے وہ افراط و تفریط کا شکار ہوکرکسی حد تک "خوارجی" سوچ کے حامل بن گئے اگرچہ ان کا منہج دور قدیم کا خوارج سے کسی بھی طور پر مماثلت نہیں رکھتا - البتہ ظاہری طور پر کچھ نظریات ضرور میل کھاتے ہیں- جس کا فائدہ اٹھاتے ہوے - دور حاضر کے بیشترعلما ء نے فاسق و فاجرین حکمرنوں کی موافقت میں ان کو دور قدیم کے خوارج سے ملا دیا- اور اس سب کا اصل فائدہ اب تک اہل مغرب اور یہود و نصاریٰ کو ہوا ہے- وہ کہتے ہیں کہ جس گھر میں یا خاندان میں کوئی قتل ہوا ہو تو تفتیش کے دوران سب زیادہ شک اسی پر کیا جاتا ہے جس کو اس قتل سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہو رہا ہو- اور یہاں بھی یہی صورت حال ہے کہ جن جہادی گروہوں پربغیر تحقیق کے "خوارج" ہونے کے فتوے صادر کیے گئے ان کا سب سے زیادہ فائدہ اب تک اہل مغرب اور سیکولر نظریہ رکھنے والوں نے ہی اٹھایا ہے- اور میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے - اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس فتنہ کو پروان چڑھانے والے کون لوگ ہیں-

    (ابھی مضمون جاری ہے اس لئے ممبرز سے درخواست ہے کہ اپنی آراء پیش کرنے کے لئے تھوڑا انتظار کریں- شکریہ)

    نوٹ: مضمون کے آخری حصّہ میں میں دور حاضر میں جہادی تنظیموں پر خوارج سے متعلق احادیث نبوی کے منطبق کیے گئےغلط مفہوم پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گا - ان شاء الله -
     
  11. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    جناب عکاشہ صاحب - انتظار کرنے کے لئے معذرت -مضمون ابھی تھوڑا باقی ہے ان شاء الله پہلی فرصت میں اس کو مکمل کرنے کے کوشش میں ہوں- پھر آپ کی آراء کا انتظار رہے گا - جزاک الله ھوا خیراً -
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    جی ، پہلی فرصت میں مضمون مکمل کر لیں بہتر ہے ـ اس کے علاوہ یہ بھی بتا دیں کہ جزاک اللہ ھوا خیرا کا کیا معنی ہوگا ؟ او رمزید ایسا لفظ کیا کسی حدیث سے ثابت ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  13. محمّد علی جواد

    محمّد علی جواد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2015
    پیغامات:
    14
    گزشتہ سے پیوستہ -

    جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے دور حاضر میں خوارجی نظریہ درحقیقت کہ ارجائی فتنے کے بنا پر ہی پروان چڑھا- اس کے زیر اثراکثر نام نہاد علماء قرآن کریم میں موجود آیات تحکیم کی غلط تعبیر پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں- تا کہ جہادی تنظیموں کو با آسانی خوارجی قراردیا جا سکے- قران کی آیات تحکیم جن میں ہے کہ:

    (وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ) (المائدۃ: ۴۴)
    (اور جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے موافق فیصلہ نہ کرے سو ایسے لوگ
    کافر ہیں)

    اور فرمایا:
    (وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ) (المائدۃ:۴۵)
    (اور جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے موافق فیصلہ نہ کرے سو ایسے لوگ
    ظالم ہیں)

    اور فرمایا :
    (وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ
    الْفَاسِقُونَ) (المائدۃ: ۴۷)
    (اور جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے موافق فیصلہ نہ کرے سو ایسے لوگ
    فاسق ہیں)

    اکثر علم و فہم سے عاری علماء ان آیات میں غیر الله کا کے احکامات کو قانون بنانے والے حکام کو تین صفات میں تقسیم کرتے ہیں- یعنی جو شخص قوانینِ الہٰی کو بے قدر یا حقیر سمجھ کر یا یہ اعتقاد رکھ کر کہ دوسرے قوانین مخلوق کے حق میں زیادہ اصلاح کار، نفع بخش یا قوانین الہی جیسے ہی ہیں،ان کے ذریعہ فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر اور ملت سے خارج ہے- لیکن جو قوانین الہٰی کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا، لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام کی نا قدری بھی نہیں کرتا ،انہیں حقیر نہیں سمجھتا اور نہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ دوسرا قانون مخلوق کے لئے حکمِ الہٰی سے زیادہ اصلاح کار یا حکم الہٰی جیسا ہے ،بلکہ وہ قوانین الہٰی کے علاوہ کسی متبادل قانون کے مطابق فیصلہ صاحبِ معاملہ کے خوف یا رشوت وغیرہ دنیاوی فائدے کی غرض سے کرتا ہے تو وہ فاسق ہے، کافر نہیں ہے۔ اس کے فسق کے درجات فیصلہ اور وسائل فیصلہ کے پیش نظر مختلف ہوں گے۔ لیکن یہ ان علما ء کی کم فہمی ہے -

    جب کہ یہ تینوں صفتیں ایک ہی موصوف کی بھی ہو سکتی ہیں- اس معنی میں کہ جو اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا (جب کہ وہ ان قوانین کی قدرت بھی رکھتا ہے) تو وہ کفر، ظلم اور فسق تینوں صفات کا حامل ہے - کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کافروں کے لئے ظلم اور فسق کی دونوں صفتیں ایک ساتھ بھی بیان کی ہیں۔ فرمایا:

    (وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ) (البقرۃ: ۲۵۴)
    کافر لوگ ہی ظالم ہیں-

    اور فرمایا:
    إِنَّهُمْ
    كَفَرُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُواْ وَهُمْ فَاسِقُونَ) (التوبۃ: ۸۴)
    بے شک جنہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ
    کفر کیا اور مرگئے وہی فاسق ہیں-

    تاتاری بھی اپنے قانون یاسق کو نافذ العمل رکھنے کا باوجود الله کے قوانین کی تنقیص نہیں کرتے تھے - لیکن پھر بھی وہ کافر قرار پاے- وہ صرف اسی صورت میں مسلمان ہو سکتے تھے جب صرف الله کے نازل کردہ قوانین کو اپنے قیام کردہ علاقوں میں نافذ کرتے -

    لہٰذا ایک حکمران یہ جانتے بوجھتے ہوے کہ ریاست میں الله کا قانون ہی نافذ العمل کرنا فرض ہے وہ حاکم ظالم اور فاسق ہونے کے ساتھ ساتھ کافر بھی کہلاے گا جب تک کہ وہ الله کے قوانین کے مطابق فیصلہ نہ کرنے اورریاست میں اس کے نفاذ کے لئے حتیٰ المکان کوشش نہ کرلے - وگرنہ وہ مسلمان کہلانے کے لائق نہیں -لہذا ارجائی فکر رکھنے والوں کا یہ دعویٰ سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے کہ ایک ریاست کا حکمران صرف اس وقت ہی کافر کہلا سکتا ہے جب تک کہ وہ واضح طور پر الله کا نازل کردہ قوانین کو نافذ العمل نہ سمجھیں - ورنہ دوسری صورت میں ان حکمرانوں کو کافر قرار دینے والا ان ارجائی فکر رکھنے والوں کی نظر میں خارجی ٹہرتا ہے-

    مضمون کا آخری حصّہ ابھی باقی ہے- انتظار کرنے کے لئے معذرت -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. فہد جاوید

    فہد جاوید رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 12, 2015
    پیغامات:
    83
    اللہ سے کرے دور،تو تعلیم بھی فتنہ
    املاک بھی،اولادبھی، جاگیر بھی فتنہ
    ناحق کے لئے اٹھےتو شمشیر بھی فتنہ
    شمشیر ہی کیا نعرہِ تکبیر بھی فتنہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں